1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ پریزیدبن معاویہ کا رونا اور پسماندگان کی ہرخواہش پوری کرنا بسندصحیح

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏نومبر 16، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏نومبر 18، 2013 #11
    ابن ابو حمادسلفی

    ابن ابو حمادسلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2013
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    کفایت اللہ صاحب ذرا بغاوت کرنے والے یعنی باغی کا شرعی حکم بتلا دے۔
    اور اس کے بعد بیٹھ کر سوچئے کہ یزید کو بےگناہ ثابت کرنے کے معاملہ میں کس کس کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا ہے۔
    دوسری بات یہ کہ آپ نے کہا کہ
    اب نا معلوم کہ مخالفت میں شامل نا ہونے سے آپ کیا مراد لے رہے ہیں۔اگر یہ کہ یہ حضرات یزید کے حمایتی ہے تو اس کا ثبوت چاہئے اور یقینا یہ حضرات اور خصوصا حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ یزید کے حمایتی قطعا نہ تھے اگر آپ اسی البدایہ والنھایہ میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یزید کے لشکر کے خلاف نہ لڑنا کی وجہ بھی بتلادیتے تو معاملہ صاف ہوجاتا مگر کچھ تو ہے جس کی پردہ دری ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 19، 2013 #12
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ہم نے امام ذہبی کے مجموعی طرزعمل کے بات نہیں کی ہے بلکہ ’’بعض‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے میری تحریر دوبارہ پڑھیں ۔
    اور بعض کے مدح وذم میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے موضوع روایات استعمال کی ہیں یہ ایسی حقیقت ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔
    کیا امام ذہبی رحمہ اللہ نے یزید کوشرابی کہنے میں موضوع روایات نہیں استعمال کی ہیں ؟؟
    اسی طرح کیا امام ابوحنیفہ کے مدح میں امام ذہبی رحمہ اللہ نے موضوع روایات نہیں پیش کی ہیں؟؟

    رہی بات امام ذہبی رحمہ اللہ کو رگڑا لگانے کی تو واللہ ہم نے ایسا کچھ نہیں لکھا اور ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔
    ہم امام ذہبی رحمہ اللہ کے اس شاذ طرزعمل کو امام ذہبی رحمہ اللہ کا تساہل مانتے ہیں کہ انہوں نے ان روایات سے استدلال کرنے میں تساہل سے کام لیا ہے ۔ اوربعض مقامات پر ہر عالم سے تساہل ہوجاتاہے ۔ بلکہ بعض کی تصحیح وتضعیف میں تو بہت زیادہ تساہل ہوتاہے۔
    امام ذہبی رحمہ اللہ کے تساہل کی زبردست دلیل یزید سے متعلق ان کی یہ وضاحت ہے کہ ہم نہ یزید کو برا کہتے ہیں اور نہ اس سے محبت کرتے ہیں ۔
    اگر امام ذہبی رحمہ اللہ نے تساہل کے بغیر پوری تحقیق سے کام لیا ہوتا تو سکوت کی بات نہ کرتے بلکہ بات یا تو ذم کی ہوتی یا مدح کی ہوتی ۔

    اورجو انصاف کی بات آپ نے کی ہے ہم تو اسی کو انصاف مانتے ہیں کہ جو بات ثابت شدہ ہو اسے لیا جائے اورجو بات ثابت نہ ہو اسے رد کردیا جائے ۔
    ورنہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ جب امام ذہبی رحمہ اللہ یزید کو قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے پہلے لشکر میں شامل مانیں ، اس بات کو غلط کہا جائے حالانکہ اس بات کی دلیل موجود ہے بلکہ یہ بات اجماع امت کے موافق ہے ۔
    اور دوسری طرف امام ذہبی کے حوالہ سے یزید کو شرابی بتلایا جائے جو بے دلیل بلکہ جھوٹی روایات پرمبنی بات ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 19، 2013 #13
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    بھائی بغاوت کا شرعی حکم میں کیا بتاؤں خود صحابی رسول عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے حوالے سے ملاحظہ فرمالیں:
    امام بخاري رحمه الله (المتوفى 256) نے کہا:
    حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتْ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ[صحيح البخاري: 18/ 10 رقم 7111]۔
    نافع روایت کرتے ہیں کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں اوربچوں کو اکٹھا کیا اورکہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ : ہروعدہ توڑنے والے کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا،اورہم اس (یزید) کی بیعت اللہ اوراس کے رسول کے موافق کرچکے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ اس سے بڑھ کر کوئی بے وفائی ہوسکتی ہے کہ ایک شخص کی بیعت اللہ اوراس کے رسول کے موافق ہوجائے پھر اس سے جنگ کی جائے ، تم میں سے جوشخص یزید کی بیعت توڑے گا ، اوراس کی اطاعت سے روگردانی کرے گا تو میرا اس سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا۔


    مخالف میں شامل نہ ہونے کا مطلب یزید کی بیعت نہ توڑنا ہے یہ بات اوپر پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے پھر نا معلوم آپ کو اس میں کون سا ابہام نظر آتاہے؟
    رہی بات حمایتی کی تو حمایتی سے آپ کی کیا مراد ہے یہ آپ کی تحریر سے واضح نہیں ہے اگر حمایتی سے مراد یزید کی بیعت اور اس پراستقامت ہے تو بلاشبہ یہ حضرات یزید کے حمایتی تھے ابن عمررضی اللہ عنہ تو حد درجہ حمایتی تھے جیساکہ بخاری کی مذکورہ حدیث سے واضح ہے۔
    اوراگرحمایتی سے آپ کی مراد کچھ اور ہے تو یہ آپ سمجھا کریں ہماری بحث سے اس کا کیا تعلق ؟؟؟
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 19، 2013 #14
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    پہلے آپ مجھے صحیح سندوں سے اہل مدینہ کے ان ناموں کی فہرست پیش کردیں تو یقینا میں بیٹھ کرسوچوں گا۔ اور اپنی سوچ سے آپ کو بھی آگاہ کروں گا۔
    بڑی مہربانی ہوگی اگر صحیح سندوں اہل مدینہ کے مخالفین کا نام پیش کردیں ۔
    بارک اللہ فیک۔


    اورہاں علی رضی اللہ عنہ کے مخالفت کو آپ کیا نام دیتے ہیں یہ بھی بتانا نہ بھولئے گا۔
    سردست علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کا ایک حوالہ ملاحظہ فرمالیں:

    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا بُويِعَ لِعَلِيٍّ أَتَانِي فَقَالَ : إنَّك امْرُؤٌ مُحَبَّبٌ فِي أَهْلِ الشَّام ، وَقَدِ اسْتَعْمَلْتُك عَلَيْهِمْ ، فَسِرْ إلَيْهِمْ ، قَالَ : فَذَكَرْت الْقَرَابَةَ وَذَكَرْت الصِّهْر ، فَقُلْتُ : أَمَّا بَعْدُ فَوَاللهِ لاَ أُبَايِعُك ، قَالَ : فَتَرَكَنِي وَخَرَجَ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ إلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا وَتَوَجَّهَ إلَى مَكَّةَ ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ رحمه الله فَقِيلَ لَهُ : إنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ تَوَجَّهَ إلَى الشَّامِ ، فَاسْتَنْفِرَ النَّاسَ ، قَالَ : فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَعْجَلُ حَتَّى يُلْقِيَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِ بَعِيرِهِ ، قَالَ : وَأَتَيْت أُمَّ كُلْثُومٍ فَأُخْبِرَتْ ، فَأَرْسَلتْ إلَى أَبِيهَا : مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعُ ، قَدْ جَاءَنِي الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَتَوَجَّهَ إلَى مَكَّةَ ، فَتَرَاجَعَ النَّاسُ.[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 11/ 133 واسنادہ صحیح ]

    اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے بیعت نہیں کروں گا۔
    اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 19، 2013 #15
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    جب اشعار کی رسم ڈال ہی دی گئی ہے تو یزید کے رونے پر ایک شعر میں بھی نذر کرتا ہوں

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہونا
     
  6. ‏نومبر 19، 2013 #16
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا! کفایت اللہ بھائی!

    اللهم انفعنا بما علمتنا وعلمنا ما ينفعنا وزدنا علما
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 19، 2013 #17
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    اہل سنت والجماعت کا شروع سے یہی موقف رہا ہے
    ناصبیت شیعت کا رد عمل ہے۔ اللہ تعالی ان دونوں فرقوں کے تعصب سےاہ ایمان کی حفاظت فرمائے۔
    ایک طبقہ فکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے ضمن میں یزید کو مغفور سمجھتا ہے۔
    سوال یہ ہے کہ کیا اس حدیث کا اطلاق اس جہاد میں شامل ہونے والے کی پوری حیات کو شامل ہے ؟
    ایک شخص اس لشکر میں شریک ہوتا ہے لیکن اس کے بعد کا عمل ،وہ کوئی کبیرہ گناہ کرتا ہے، ظلم کرتا ہے، اسلام یا اسلامی تشخص کا نقصان پہنچاتا ہے،جو کچھ کرتا ہے کیا وہ سب معاف سمجھا جائے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 19، 2013 #18
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اگر یہ بات تساہل ہے تو اہل سنت و الجماعت پوری متساہل ٹھہری صرف فیض عالم اور اس کے چند اور دوست ہی صحیح ٹھہرے ۔جو بات آپ کے مطلب کی ہو وہ بالکل ٹھیک اور جو خلاف ہو تساہل ۔ یہ متساہل بھی آپ نے اب کہا ہے جب میں نے پوسٹ کی ورنہ تو یزید کے دفاع میں امام ذہبی کے خلاف جو باتیں آپ نے کی ہیں اس سے امام ذہبی متساہل نہیں متشدد لگتے ہیں ۔
     
  9. ‏نومبر 20، 2013 #19
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    ہمارے معاشرے میں اکثریت جن میں رافضیوں کے علاوہ اہل سنّت کی بھی ایک بڑی تعداد ہے (معذرت کے ساتھ) ان کو یہ فکر کھاے جاتی ہے کہ ہم جنّت میں جائیں یا نہ جائیں لیکن یزید بن معاویہ رهمللہ کو جنّت میں جانے نہیں دیں گے - اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے پہلے یزید بن معاویہ کو قاتل حسین رضی الله عنہ بنایا گیا - پھر شرابی کبابی اور پھر کافر قرار دے دیا گیا تا کہ کوئی اشکال باقی نہ رہے ان کے جنّتی ہوںے کی -کیوں کہ یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ انسان چاہے کتنے بھی برے اعمال کرتا رہے اگر مسلمان کی حیثیت سے فوت ہوتا ہے - تو آخری ٹھکانہ تو جنّت ہے چاہے عذاب بھگت کر ہی جائے - اور ہمارے رافضی اور اہل سنّت کی اکثریت کو یہ منظور نہیں -کہ یزید بن معاویہ رهمللہ اور حضرت حسین رضی الله عنہ جنّت میں اکھٹے رہ سکیں -اسی لئے سالوں سے یہ فسانے گھڑے جاتے رہے ہیں کہ یزید بن معاویہ رهمللہ سے بڑھ کر کوئی فاسق فاجر اور کافر نہیں - اور شاید اسی لئے ان کو زبردستی قسطنطنیہ کے پہلے معرکے سے خارج قرار دیا جاتا ہے کہ کہیں جنّتی نہ قرار پائیں -لیکن یہ بیچارے یہ نہیں سوچتے کہ اگر وہ قسطنطنیہ کے پہلے معرکے میں شریک نہیں تھے تو دوسرے یا تیسرے معرکے میں تو بہر حال شریک تھے - اور کافروں کے خلاف ایک مرتبہ کا جہاد کرنا بھی ان کو جنّتی بنا سکتا ہے
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 21، 2013 #20
    ابن ابو حمادسلفی

    ابن ابو حمادسلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2013
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    ایک انتہائی اہم بات کہ یزید کو اہلسنت والجماعت نا ہی کافرسمجھتی اور نا ہی ملعون۔
    ایک انتہائی سادہ اور صاف الفاظ میں جب اہلسنت والجماعت کا نظریہ یزید کے متعلق موجود ہے تو پھر کیوں معاملہ کو پیچیدہ در پیچیدہ کیا جارہا ہےاور وہ نظریہ یہ ہے کہ ہم نا ہی یزید کے برائی کرتے ہے اور نا ہی اس سے محبت کرتے ہے( آج کل کی زبان میں اچھا نہیں سمجھتے) ہے۔
    کفایت اللہ صاحب نے امام ذہبی کا حوالہ دیا اس میں بھی اسی چیز کی صراحت ہے۔
    باقی جو لوگ یزید کو گالیں دیتے ہیں، بلا وجہ تو یقینا غلطی کرتے ہیں۔
    مگریہ بھی خیال رہے کہ اگر ایک شخص اٹھ کر یزید کو کو ایک برگزیدہ انسان، خلیفۃ المسلمین اور امیر المؤمنین وغیرہ نا صرف سمجھنا شروع کرے بلکہ اسکا پرچار بھی کرے تو پھر یقینا
    '' ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے ''
    کے مصداق کے نتیجہ میں یزید کے شخصیت پر انگلی بھی اٹھے گے اور اس کے کردار پر بھی بات ہوگی۔لہٰذا یزید کو اگر اہلسنت والجماعت کے نظریہ کے مطابق مانا جائے تو کوئی اختلاف نا ہوگا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں