1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت حسین رضی اللہ عنہ پریزیدبن معاویہ کا رونا اور پسماندگان کی ہرخواہش پوری کرنا بسندصحیح

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏نومبر 16، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏نومبر 21، 2013 #21
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    امام غزالی رح اپنی کتاب الاحیاء العلوم میں لکھتے ہیں - "یزید بن معاویہ رح ایک نیک اور عادل حکمران تھے -جو ان کو فاسق و فاجر سمجھتا ہے وہ صریح غلطی پر ہے -

    امام غزالی رح صوفی مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور صوفی شیعہ مذہب سے کافی متاثر ہیں اور جس طرح اہل تشیع اپنے آپ کو حضرت علی و حسین رضی الله عنہ کی آل سمجھتے ہیں اس طرح صوفی بھی اہل بیت سے اپنا خوصوصی تعلق بتاتے ہیں - اب جب کہ ایک صوفی کا یہ فرمان ہے کہ یزید بن معاویہ رح کو فاسق و فاجر کہنا سخت غلطی اور گمراہی ہے - تو اس کا مطلب ہے کہ حقیقت وہ نہیں جو بیان کی جاتی ہے- حقیقت کچھ اور تھی -
     
  2. ‏دسمبر 26، 2013 #22
    قمرالزمان

    قمرالزمان مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    اورہاں علی رضی اللہ عنہ کے مخالفت کو آپ کیا نام دیتے ہیں یہ بھی بتانا نہ بھولئے گا۔
    سردست علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کا ایک حوالہ ملاحظہ فرمالیں:

    امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
    حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا بُويِعَ لِعَلِيٍّ أَتَانِي فَقَالَ : إنَّك امْرُؤٌ مُحَبَّبٌ فِي أَهْلِ الشَّام ، وَقَدِ اسْتَعْمَلْتُك عَلَيْهِمْ ، فَسِرْ إلَيْهِمْ ، قَالَ : فَذَكَرْت الْقَرَابَةَ وَذَكَرْت الصِّهْر ، فَقُلْتُ : أَمَّا بَعْدُ فَوَاللهِ لاَ أُبَايِعُك ، قَالَ : فَتَرَكَنِي وَخَرَجَ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ إلَى أُمِّ كُلْثُومٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا وَتَوَجَّهَ إلَى مَكَّةَ ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ رحمه الله فَقِيلَ لَهُ : إنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ تَوَجَّهَ إلَى الشَّامِ ، فَاسْتَنْفِرَ النَّاسَ ، قَالَ : فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَعْجَلُ حَتَّى يُلْقِيَ رِدَاءَهُ فِي عُنُقِ بَعِيرِهِ ، قَالَ : وَأَتَيْت أُمَّ كُلْثُومٍ فَأُخْبِرَتْ ، فَأَرْسَلتْ إلَى أَبِيهَا : مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعُ ، قَدْ جَاءَنِي الرَّجُلُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَتَوَجَّهَ إلَى مَكَّةَ ، فَتَرَاجَعَ النَّاسُ.[مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 11/ 133 واسنادہ صحیح ]

    اس روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے بیعت نہیں کروں گا۔
    اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔[/quote]


    ان کا موقف تھا کہ جس کے متعلق بھی اختلاف ہوگا، تو ان کی بیعت نہیں کی جائے گی۔ لہذا انہوں نے حضرت علی، حضرت عبداللہ بن زبیر اور عبد الملک کی بیعت نہیں کی، اور معاویہ کی بیعت تب کی جب حضرت حسن نے اس سے صلح کر لی۔ اور یزید کی بیعت تب کی،اس وقت یزید کا کوئی مخالف نہ تھا۔

    وكان عبد الله بن عمر في تلك المدة امتنع ان يبايع لابن الزبير أو لعبد الملك كما كان امتنع ان يبايع لعلي أو معاوية ثم بايع لمعاوية لما اصطلح مع الحسن بن علي واجتمع عليه الناس وبايع لابنه يزيد بعد موت معاوية لاجتماع الناس عليه ثم امتنع من المبايعة لأحد حال الاختلاف إلى ان قتل بن الزبير وانتظم الملك كله لعبد الملك فبايع له حينئذ فهذا معنى قوله لما اجتمع الناس على عبد الملك وأخرج يعقوب بن سفيان في تاريخه من طريق سعيد بن حرب العبدي قال بعثوا إلى بن عمر لما بويع بن الزبير فمد يده وهي ترعد فقال والله ما كنت لأعطي بيعتي في فرقة ولا امنعها من جماعة

    اور آپ کی یہ "شہادت حسین رضی اللہ عنہ پریزیدبن معاویہ کا رونا اور پسماندگان کی ہرخواہش پوری کرنا بسندصحیح""

    یہ روایت بسند صحیح نہیں بلکہ سخت منقطع ہے " وقال المدائني " مدائنی 224 ھ میں وفات پاگئے اور حافظ ذہبی 673 ھ میں پیدا ہوئے۔

    خدا کے لیے لوگوں کو گمراہ کرنا بند کریں اور یزید کی حمایت و وکالت میں صحابہ پر بہتان نہ باندھیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 26، 2013 #23
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    آپ صاحب علم معلوم ہوتے ہیں۔ مجھے زیادہ علم نہیں۔ لیکن علماء کی صحبت میں اتنا تو سیکھ ہی لیا ہے کہ آپ جس بات کو بنیاد بنا کر روایت میں انقطاع پیش کر رہے ہیں، وہ بذات خود غلط ہے۔ کیونکہ صاحب تصنیف کی کسی کتاب سے نقل کردہ روایت معتبر تسلیم کی جاتی ہے۔ یزید کی مخالفت میں دور حاضر میں کوئی سا بھی لٹریچر تحریری ، تقریری اٹھا کر دیکھ لیجئے، معلوم نہیں کیوں خاص اس معاملے میں جذبات کو عقل و نقل پر ترجیح دی جاتی ہے، ہر شخص ہی غصے اور جذبات میں جھاگ اڑاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بھئی علمی اختلاف ہے، آرام سے بات کر لیجئے۔ اپنی بات دلائل سے رکھ دیں، دوسرے کی ٹھنڈے دل سے سن لیں، اس کی ٹھیک ہو تو مان لیجئے، ٹھیک نہ لگے تو اس کی تردید کر دیجئے احسن انداز میں۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ شوق تردید میں علم الحدیث کے اصولوں کی پروا ہے نہ اہل علم کا کوئی احترام۔

    ایک بات کا جواب دیا جا چکا ہے تو وہی بات دہرانے سے کیا حاصل؟ جواب کا جواب دیجئے؟ شوق تردید میں کچھ نہ کچھ لکھ ڈالنے ہی کو جواب سمجھنا بھی عجیب ہے۔ اب ملاحظہ کیجئے کہ جو اعتراض آپ یہاں کر رہے ہیں، محترم شیخ کفایت اللہ صاحب اس کا پہلی ہی پوسٹ میں جب مفصل جواب دے چکے ہیں، تو اعتراض دہرانے سے آپ کا مقصد کیا ہے؟

     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 07، 2016 #24
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46


    امام غزالی نے تو احیاء العلوم میں اور بھی بہت کچھ بولا ہے وہ بھی مانتے ہے یہ صوفی تھے صوفی شیطان کو لعن نہیں کرتا تو یزید تو انسان تھا اس سے یہ قیاس کرنا کہ وہ یزید کااچھا مانتے تھے پھر اور بھی باتیں مان لیں جو اس میں لکھی ہیں .
    میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو
     
  5. ‏اکتوبر 07، 2016 #25
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    یزید کا رونا سیاسی تھا اس کو کوئی غم نہیں تھا اور یہ سب اچھی طرح جانتے ہے کہ یہ سیاسی لوگ کیسے خود مرواتے ہے پھر روتے ہے اگر یزید کے رونے کو غم اور اس کی بے گناہی مانے گے اور یہ کہ اس نے یہ قتل نہیں کروایا تو پھر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی ان کو کنواں میں نہیں ڈالا تھا کیوں کے وہ اس سے بھی شدت سے روئے تھے (سوره یوسف )

     
  6. ‏اکتوبر 08، 2016 #26
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    یہ هے علم الکلام کی ادنی سی مثال کہ اپنے قیاس کو ، شک کو آیت قرآنی کے مصداق سمجہیں ۔ چلو بهئی سمجها تو سمجها اب اپنے اس قیاس کو بصورت وسوسہ دوسرے انسانوں کے قلوب میں داخل کرنیکی جستجو میں رہیں !
     
  7. ‏اکتوبر 09، 2016 #27
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    مجھے کوئی شک نہیں ہے میں نے قرآن سے مثال پیش کی ہے کہ بھائیوں کا یہ رد عمل قرآن بتا رہا ہے تو یہ کوئی بعید نہیں کہ اقتدار کے بھوکے خود مراواکر ڈرامہ کر رہے ہوں اور ویسے بھی اس کی سند کون سی صحیح ہے اس قسم کی تاریخ روایت کا جھانسہ عام لوگوں کو کیونکہ وہ اصول کی ا ب بھی نہیں جانتے یا انہوں نے کون سا تحقیق کرنی ہے عمرو بن دینار سے روایت کرنے والوں میں ابراہیم بن محمد نام کا کوئی بھی روایت کرنے والا نہیں ہے اور جس کو ابرہیم بن محمد بن جعفر اس روایت میں بنا کر پیش کیا ہے وہ عمرو بن دینار سے روایت کرنے والوں میں شامل ہی نہیں ہے یہ کون سا مجہول راوی ہے جس کا پتا ہی نہیں ہے اس کو زبردستی ابراہیم بن محمد بن جعفر بنا دیا گیا ہے صرف یزید کو نیک کرنے کے لیے کہ وہ بڑا غم زدہ تھا۔ سنابلی صاحب نے لکھا ہے کہ جس طبقے میں مشہور راوی ہوتا ہے اسی کو لیا جاتا ہے یہ اصول کہاں ہے دوسری بات اہل شام کی فوج کو معصوم ثابت کرنا تھا تو اہل شام الزام کے متعلق پانچوں روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں مھدی بن ابی مھدی دو ہیں ایک العبدی ہے اس نے عکرمہ سے روایت کیا اور اس نے عبیداللہ سدوسی سے دوسرے نے ہشام بن یوسف سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کے اساتزہ میں عبدالملک بن الذماری کا نام نہیں ہے اور نہ ان کے تلامذہ میں یعقوب الفسوی کا نام ہے تو اپنے لئے تو اساتذہ اور تلامذہ کی فہرست کو دلیل بنایا جا رہا مگر کوئی اگر اس بنیاد پر کہہ کہ ابرہیم بن محمد کے اساتذہ میں کسی عمرو بن دینار کا نام نہیں اور نہ عمرو بن دینار کے تلامذہ میں ایسا کوئی نام ہے تو یہ اصول غلط ہے اس فہرستوں میں کم از کم معروف تلامذہ اور شاگردوں کے نام ضرور ہوتے ہیں مجہول کے نام نہیں ہوتے اور بقول سنابلی صاحب کے ابرہیم بن محمد مشہور راوی ہے تو اس کا عمرو بن دینار کے تلامذہ میں شامل نہ ہونا اس کی دلیل ہے کہ یہ کوئی مجھول ابراہیم بن محمد ہے جس کو یزید کی محبت میں ابراہیم بن محمد بن جعفر بنا دیا گیا ہے۔ اللہ ہدایت دے
     
  8. ‏نومبر 15، 2016 #28
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس طرح کے ملتے جلتے موضوعات پر فورم پر دونوں طرف سے اتنا لکھا جا چکا ہے ، اور اس تکرار کے ساتھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید کچھ نئی بات سامنے نہ آئے ، لہذا کم از کم اس فورم کی حد تک اس موضوع پر بات بالکل نہ کریں ، اور جتنے بھی احباب اس قسم کی بحثوں میں شریک رہے ، میری ان سے گزارش ہے کہ دیگر اہم اور مفید موضوعات میں بھی اپنا حصہ ڈالیں ، لوگوں اور بھی بہت سارے مسائل کی حاجت ہے ، چاروں طرف اسلامی تاریخ کے متنازعہ مسائل کو بکھیرنے کی بجائے ، عوام کو پیش آمدہ مسائل کے حل کی طرف توجہ کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں