1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت حسین کی خبریں جرح و تعدیل کے میزان میں

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏اکتوبر 07، 2015۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 13، 2015 #11
    MD. Muqimkhan

    MD. Muqimkhan رکن
    جگہ:
    نئی دہلی
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2015
    پیغامات:
    245
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    اس پورے مضمون میں ایک بات انتہائی ناگوار لگ رہی ہے کہ ہر جگہ حسین حسین حسین حسین (رضی اللہ عنہ) کی رٹ ہے. کہیں بھول کر بھی رضی اللہ عنہ نہیں لکھا گیا. صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس طرح لینا کہ جیسے کوئی ہمجولی ہو بہت برا لگتا ہے. سچ کہوں تو خون کھولتا ہے
     
  2. ‏اکتوبر 13، 2015 #12
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    @اسحاق سلفی بھائ جان میں نے ایک اسکین اپلوڈ کیا ہے اسکا جواب دے دیں

    جزاک اللہ خیر
     
  3. ‏اکتوبر 13، 2015 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ؛
    محترم بھائی ؛
    یہ روایت جو آپ نے امام ابو نْعَیم ؒ ( أحمد بن عبد الله الأصبهاني (المتوفى: 430هـ)
    کی کتاب ’’ معرفۃ الصحابہ ‘‘ سے نقل کی ہے ،اسے ابو نعیم سے بہت پہلے۔۔امام احمد بن حنبلؒ
    نے ’’ مسند ‘‘میں دو جگہ نقل فرمایا ہے۔جو درج ذیل ہے :
    امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں :
    حدثنا عبد الصمد بن حسان، قال: أخبرنا عمارة يعني ابن زاذان، عن ثابت، عن أنس قال: استأذن ملك المطر أن يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فأذن له، فقال لأم سلمة: " احفظي علينا الباب، لا يدخل أحد "، فجاء الحسين بن علي، فوثب حتى دخل، فجعل يصعد على منكب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له الملك: أتحبه؟ قال النبي صلى الله عليه وسلم: " نعم "، قال: فإن أمتك تقتله، وإن شئت أريتك المكان الذي يقتل فيه، قال: فضرب بيده فأراه ترابا أحمر، فأخذت أم سلمة ذلك التراب فصرته في طرف ثوبها، قال: " فكنا نسمع يقتل بكربلاء " (مسند احمد 13794 )
    یعنی سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :کہ ایک دن بارش کے فرشتے نے نبی اکرم سے حاضری اجازت طلب کی۔۔آپ ﷺ نے اسے آنے کی اجازت دی ۔اور آپ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ ؓ کو فرمایا کہ آپ دروازے کی نگرانی کریں ،کوئی اندر نہ آئے۔
    اتنے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ (جو ابھی چھوٹے بچے تھے ) دوڑتے ہوئے آئے اور نبی مکرم ﷺ کے مبارک کندھے
    پر چڑھ گئے ۔یہ صورت حال دیکھ کر اس فرشتہ نے کہا کہ کیا آپ اس سے بہت محبت کرتے ہیں ؟
    پیغمبر کریم ﷺ نے فرمایا :ہاں (میں اس سے محبت کرتا ہوں )
    یہ سن کر اس فرشتے نے کہا : آپ کی امت اس کو قتل کردے گی ۔اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں ،جہاں انکو قتل کیا جائے گا ۔تو ملک المطر نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا،اور سرخ رنگ کی مٹی آپ کو دکھائی۔(یعنی وہ سرخ مٹی والا علاقہ ہوگا )
    تو سیدہ ام سلمہ ؓ نے وہ مٹی اپنے کپڑے میں محفوظ کرلی ،اور سیدنا انس فرماتے ہیں کہ :ہم لوگوں سے سنتے ہیں کہ سیدنا حسین ؓ کربلاء میں قتل کئے گئے ۔‘‘
    مسند احمد کی تحقیق میں علامہ شعیب نے اس حدیث کے تحت لکھا ہے کہ :
    ( إسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الإمام أحمد: يروي عن ثابت عن أنس أحاديث مناكير.
    وأخرجه الطبراني في "الكبير" (2813) ، وأبو نعيم في "دلائل النبوة" (492) ، والبيهقي في "دلائل النبوة" أيضاً 6/469 من طريق عبد الصمد بن حسان، بهذا الإسناد. وانظر (13539) .

    یعنی اسکی سند ضعیف ہے ،اس کو روایت کرنے میں ’’ عمارة بن زاذان ‘‘ منفرد ہیں ،اور امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں :
    کہ ’’ عمارة بن زاذان ‘‘ ثابت کے واسطہ سے جناب انس سے منکر روایات بیان کرتا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت کی قلت اور اپنی بیماری کے سبب مختصراً لکھا ہے ، وگرنہ اس روایت کی تخریج پر تفصیلی مواد موجود ہے
    میرے لئے صحت و شفاء کی دعاء ضرور کردیں ،
    والسلام علیکم
     
    Last edited: ‏اکتوبر 14، 2015
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 13، 2015 #14
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    وعلیکم السلام ورحتہ اللہ وبرکاتہ

    اللہ آ پ کی تکلیفوں کو دور کرے اور آ پ کو جلد سے جلد ٹھیک کر دے آ مین
     
  5. ‏اکتوبر 22، 2016 #15
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46


    عبد الله بن نجي بنون وجيم مصغر بن سلمة الحضرمي الكوفي أبو لقمان صدوق من الثالثة
    یہ راوی متکّلم فی ہے اور اس قسم کے راویوں کی روایت کم از کم حسن ہوتی ہے اور متعدد محدثین نے اس روایت کو یا اس روایت کے تمام طرق کو جمع کر کے حسن کہا ہے
    (١) ناصر الدین البانی سسلسلہ الصیحیحہ
    (٢) شیخ شعیب
    (٣) اسد سلیم
    تو صرف ایک جرح سے کوئی روایت ضعیف نہیں ہو جاتی ہے .
    دوسری بات ایک مجاہد جانتا ہے کہ جنگ کے محاذ پر اس کی شہادت بھی ہو سکتی ہے مگر پھر بھی وہ جاتا ہے کیونکہ اس کے شامل حال الله کی راہ میں قربان ہونا ہوتا ہے تو حسین رضی اللہ عنہ کا جانا اسی قبیل سے تھا ورنہ قرآن میں الله نے فرمایا کہ ہم تم کو جانوں کے نقصان سے آزمائین گے تو کیا مومن الله کی راہ میں جان دیتا ہے کیا یہ خودکشی ہو گی (نعوذ باللہ )الله سب کو ہدایت دے .
     
  6. ‏نومبر 15، 2016 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس طرح کے ملتے جلتے موضوعات پر فورم پر دونوں طرف سے اتنا لکھا جا چکا ہے ، اور اس تکرار کے ساتھ لکھا جا چکا ہے کہ شاید کچھ نئی بات سامنے نہ آئے ، لہذا کم از کم اس فورم کی حد تک اس موضوع پر بات بالکل نہ کریں ، اور جتنے بھی احباب اس قسم کی بحثوں میں شریک رہے ، میری ان سے گزارش ہے کہ دیگر اہم اور مفید موضوعات میں بھی اپنا حصہ ڈالیں ، لوگوں اور بھی بہت سارے مسائل کی حاجت ہے ، چاروں طرف اسلامی تاریخ کے متنازعہ مسائل کو بکھیرنے کی بجائے ، عوام کو پیش آمدہ مسائل کے حل کی طرف توجہ کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں