1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏جنوری 09، 2017۔

  1. ‏جنوری 09، 2017 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,551
    موصول شکریہ جات:
    410
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    محترم شیوخ حضرات کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے؟

    محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بہت برے القاب سے تاریخ میں بیان کیا گیا ہے؟ اور کیا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہہ کر قتل کیا تھا کہ ہم تمہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصاص میں قتل کر رہے ہیں اور ان کے بیٹے اپنے والد کے لئے ہمیشہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کے گناہ بخش دے؟

    اسکی تحقیق درکار ہے
     
  2. ‏جنوری 09، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس سوال کا جواب تفصیل طلب ہے ، جس کیلئے فی الحال وقت نہیں ،
    صحابہ کرام ؓ کی عظمت و کمال کے پیش نظر اجمالاً درج ذیل فتوی میں ( واقعہ ۔۔ اور ۔۔ عقیدہ ) کےمطابق معاملہ بتادیا گیا ہے ؛

    محمد بن أبي بكر بريء من دم عثمان "رضي الله عن الجميع"
    تاريخ الفتوى :10 شعبان 1423 / 17-10-2002
    السؤال :
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه إلى يوم الدين أما بعد ،،،،
    السؤال هو : هل صحيح أن الصحابي "محمد بن أبي بكر" قتل الخليفة الثالث "عثمان بن عفان" رضي الله عنه وأرضاه وما كان دوره بالفتنة إن وجد ؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    الجواب
    الفتوى :
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أما بعد:
    فمحمد بن أبكر الصديق من صغار الصحابة إذ ولدته أمه أسماء بنت عميس في طريقها من المدينة إلى مكة في حجة الوداع، وقد تربى في حجر علي بن أبي طالب رضي الله عنه، لأنه كان تزوج أمه.
    قال ابن عبد البر : كان علي يثني عليه ويفضله، وكانت له عبادة واجتهاد، ولما بلغ عائشة قتله حزنت عليه جداً، وتولت تربية ولده القاسم ، فنشأ في حجرها فكان من أفضل أهل زمانه. انتهى
    وكان محمد بن أبي بكر أخذ على عثمان وخرج عليه، والصحيح انه لم يقتله ولم يشترك في قتله، بل إنه لما دخل على عثمان في الدار ذكره بمكانته من أبيه، فخرج عنه نادماً على فعله.
    قال ابن كثير في البداية والنهاية: فقال: أي عثمان مهلاً يا ابن أخي فوالله لقد أخذت مأخذاً ما كان أبوك ليأخذ به، فتركه وانصرف مستحيياً نادماً، فاستقبله القوم على باب الصفة فردهم طويلاً فدخلوا، وخرج محمد راجعاً. انتهى
    وقد ذكرت بعض الروايات أن محمد بن أبي بكر شارك في قتل عثمان أو قتله، فقال ابن كثير بعد ذكرها: والصحيح أن الذي فعل ذلك غيره، وأنه استحى ورجع حين قال له عثمان: لقد أخذت بلحية كان أبوك يكرمها، فتندم من ذلك وغطى وجهه ورجع، وحاجز دونه فلم يقدر، وكان أمر الله قدراً مقدوراً، وكان ذلك في الكتاب مسطوراً. انتهى
    والله أعلم.
    المفتـــي: مركز الفتوى

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فتوی کا لنک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جنوری 09، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں