1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شہر کی کنجیاں.

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از Bint e Rafique, ‏اگست 06، 2017۔

  1. ‏اگست 06، 2017 #1
    Bint e Rafique

    Bint e Rafique رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2017
    پیغامات:
    130
    موصول شکریہ جات:
    23
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    (شہر کی کنجیاں)

    ہجرت کے پندرہویں سال حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کے قائدیں حضرتِ عمرو بن عاص، شرجیل بن حسنہ(1) اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کو مقدس سر زمیں کے حکمرانوں کی طرف روانہ کیا تا کہ وہ شہر کی کنجیاں ان قائدیں کےسپرد کر دے لیکن حکمران پادری جعفروینوس نے شہر کی کنجیاں ان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا: : ہم نے اپنی مذہبی کتاب میں وہ اوصاف پڑھے ہیں جن کا حامل شخص اس شہر کی کنجیوں کا مالک بنے گا،لیکن ہم وہ اوصاف تمھارے اندر نہیں پا رہے ،اس لیے شہر کی کنجیاں تمھارے حوالے نہیں کی جا سکتیں۔
    یہ جواب سن کرعمائدین اسلام نے عمر بن خطاب الفاروق رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام بیجھا کہ اے امیر المومنین! آپ خود تشریف لائیں، کیوں کہ سرزمینِ مقدس کے حکمران نے شہر کی کنجیاں ہمارے حوالے کرنے سے الکار کر دیا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ آپ کا اجازت نامہ ملے بغیر اس سے کسی قسم کی نوک جھوک کریں۔
    حالات سے واقفیت کے بعد حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے غلام کے ہمراہ سفر پر روانہ ہو گئے۔ راستے میں باری باری کبھی خود سوار ہوتے اور کبھی غلام کو سواری کے جانور پر بٹھاتے، اور کبھی دونوں پیدل چلنے لگتےتا کہ سواری کا جانور تھکاوٹ سے آرام پالے
    دورانِ سفر شام کی سرحد کے قرب پہنچے تو راستے میں دور دور تک کیچڑ تھا۔ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ اس کیچڑ کو پیدل عبور کرتے۔
    امام حاکم ، طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔ادھر حضرتِ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھےجو کیچڑنما سمندری راہ پر امیر المومنین کے استقبال کے کیے تشریف لائے تھے۔ حضرتِ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔جب یہ کیچڑ نما سمندری راہ حائل ہوئی تو اونٹنی سے اُترے اپنے جوتے نکال کے کندھے پر رکھےاور اونٹنی کی لگام اپنے ہاتھ میں تھامی، پھر اونٹنی کو پکڑے ہوئے کیچڑ نما سمندری راستے پر خود کو ڈال دیا۔
    حضرتِ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر عرض کیا: امیر المومنین! کیا آپ یہ کام کر رہے ہیں ؟ جوتے کندھے پر، زمامِ سواری ہاتھ میں اور اونٹنی کے ساتھ اس کیچڑ نما زمین میں؟ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ، کیونکہ ملک شام کے باشندگان سے آپ کا سامنا ہو نے والا ہے۔
    حضرتِ عمر بن خطاب الفاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا؛
    ۔"آہ! اے ابو عبیدہ !اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے ایسا کہا ہوتا تو میں اُسے امتِ محمد ﷺ کے کیے نشانِ عبرت بنا دیتا!ہم ذلیل و خوار لوگ تھے تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے ہمیں عزت وشان سے نوازا،اب اگر ہم اسلام کو چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے عزت وشان کے متلاشی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں پھر ذلیل و خوار کر دے گا"۔(المستدرک حاکم (62،61/1)۔اس کی سند صحیح ہے)۔
    پھر حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سواری پر بیٹھے اور تھوڑی دور جا کر اپنی باری ختم ہوتے ہی اُتر گئے اور غلام سوار ہو گئے۔ لشکرِ اسلامی کے خواہش تھی کہ جب وہ فلسطین کے حکمران کے پاس پہنچیں تو اس وقت سواری کی باری حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ کی ہولیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور سفر کے آخری حصے میں سواری کی باری غلام کی آ پڑی،چنانچہ غلام نے سوار ہو کر اور امیر المومنین نے پیدل چل کر آخری منزل طے کی۔
    جب یہ مبارک قافلہ مقدس سر زمین فلسطین کے حاکم کے دربار میں جلوہ افروز ہوا تو اس نے حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ کے کپڑے بڑے غور سے دیکھے اور نہایت اطمیناں سے شہر کی کُنجیاں ان کے حوالے کر دیں،پھر حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا:۔
    ۔"" ہاں تم ہی وہ شخص ہو، جس کے اوصاف ہم نے اپنی کتابِ مقدس میں پڑھ رکھے ہیں، ہماری کتابِ مقدس میں لکھا ہوا ہے کہ وہ شخص جو مقدس سر زمینِ فلسطین کی کنجیوں کا مالک ہوگا، اس ملک میں پیدل داخل ہوگا جبکہ اس کا غلام سوار ہوگا اور اس کے کپڑوں میں سترہ پیوندلگے ہوئے ہوں گے""۔
    حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب کنجیوں کو اپنے ہاتھ میں لیا تو سجدے میں گر گئے اور کافی دیر تک روتے رہے۔ آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا:۔
    ۔"" میں اس لیے رو رہا ہوں کیوں کہ مجھے خوف ہے کہ دنیا تمھارے لیے تم سرنگوں ہو جائے گی تو تم ایک دوسرے کو اجنبی سمجھنے لگوں گے(تمھارے اندر سے اسلامی اخوت و مودت ختم ہو جائے گی ) اس وقت آسمان والے بھی تمھیں نظر انداز کر دیں گے""۔
    (سنہرے اوراق،صفحہ۔291 :)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں