1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور اہل بیت نبی

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20


    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور اہل بیت نبی

    شیخ الاسلام رحمہ اللہ اپنا ایک منگولی کے ساتھ پیش آیا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ لوگ جب دمشق آئے اور ہمارے ان سے بعض مناظرے وغیرہ ہوہئے تو ایک منگولی نے مجھ سے پوچھا:
    آپ کا یزید کے متعلق کیا موقف ہے؟
    میں نے اس سے کہا کہ ہم نہ اس سے محبت کرتے ہیں، نہ اس پر لعن طعن کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ رجل صالح تو تھا نہیں کہ ہم اس سے محبت کریں اور برا ہم کسی مسلمان کو تعیین کے ساتھ کہتے نہیں ہیں۔
    تو وہ کہنے لگا کہ : کیا تم اس پر لعنت نہیں کرتے ؟ بھلے وہ ظالم ہو؟ بھلے وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل ہی کیوں نہ ہو؟
    میں نے کہا کہ جب حجاج اور اس کے امثال ظالموں کا ذکر آئے تو ہم اللہ کے قرآن کے مطابق یہی کہتے ہیں کہ الا لعنۃ اللہ علی الظالمین، لیکن ہم تعیین کے ساتھ کسی پر لعنت کرنا پسند نہیں کرتے، یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، بعض علماء نے حجاج پر لعنت کی ہے، ہمارے نزدیک مگر احسن قول یہ ہے کہ ہم تعیین کے ساتھ لعنت نہ کرنے کو احسن فعل گردانتے ہیں ۔
    البتہ جس نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، یا ان کے قتل پر معاونت کی یا ان کے قتل پر راضی ہوا، تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، لا یقبل اللہ منہ صرفا ولا عدلا ۔
    کہنے لگا: کیا تم اہل بیت سے محبت نہیں کرتے ہو؟
    عرض کیا : اہل بیت کی محبت کو ہم فرض و واجب سمجھتے ہیں حضور! اس پر اجر ملے گا، ہمارے نزدیک صحیح مسلم میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غدیر خم میں خطبہ دیتے ہوئے کہا تھا، لوگو!میں آپ کے پاس اپنے اہل بیت کو چھوڑے جاتا ہوں اور اہل بیت کے سلسلے میں اللہ سے ڈر جائیے گا۔
    ارے منگول! ہم تو ہر نماز میں کہتے ہیں کہ اللہم صل علی محمد، اللہ محمدﷺ اور ان کی آل پر رحمت کا نزول فرما، جیسے ابراہیم اور ان کی آل پر فرمایا تھا۔
    تب وہ مجھ سے کہنے لگا کہ جو لوگ اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں، ان کے متعلق جناب کے خیالات کیا ہیں؟
    عرض کیا: جو ان سے بغض رکھتا ہے، اس پر اللہ اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار پڑے۔
    پھر میں نے اس سے پوچھا کہ آخر کو یہ سوالات کرنے کی نوبت جناب کیوں آئی؟
    وہ کہنے لگا کہ سنتے تھے، اہل دمشق ناصبی ہوتے ہیں، تب میں نےایک دم بلند آواز سے کہا : جھوٹ بولا ہے کسی نے، اللہ کی لعنت اس جھوٹے پر، رب ذوالجلال کی قسم! دمشق میں کوئی ناصبی میں نے نہیں دیکھا، اگر دمشق میں سیدنا علی کی شان میں کوئی گستاخی کا ارتکاب کرتا تو مسلمان اس کا گریبان پکڑ لیتے، البتہ پرانے زمانوں میں بنو امیہ کے بعض لوگ سیدنا علی سے عداوت رکھتے تھے، مگر آج تو ایسا یہاں کوئی نہ ہے۔
    مجموع الفتاوی: 4/488
    اس واقعہ میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اہل بیت سے محبت روز روزشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے، اور اہل ایمان کے دلوں میں ٹھنڈ پڑجاتی ہے، یقینا شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے انسانیت کو محبت اہل بیت کا درس بڑی جراء ت کے ساتھ دیا ہے، نہ کہیں مداہنت کا شکار ہوئے اور نہ مصلحت بیان حق میں آڑے آئی، بلکہ وہ تو محبت اہلبیت کا واحد سزاوار مسلک اہل سنت کو سمجھتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ ناصبی اگر سیدنا علی کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ان کے خلاف قرآن و حدیث سے استدلال لے آئے تو رافضی اس کا جواب تک نہیں دے پائیں گے، یہ شرف اللہ نے اہل سنت کو بخشا ہے کہ وہ ان کا جواب بھی دیں گے اور ان کو لاجواب بھی کردیں گے۔ فرماتے ہیں :
    اگر ایک ناصبی ایک رافضی سے سوال کردے کہ
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو نعوذ باللہ کافر و فاسق تھے، انہوں نے ریاست کے لئے قتال کیا تھا، دین کے لئے قتال نہیں کیا تھا، انہوں نے اہل ملت کو قتل کیا اور جمل و صفین اور حروراء میں امت محمدﷺ کا قتل عام کیا، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سیدنا علی نے کسی ایک کافر سے بھی قتال نہیں کیا، مسلمانوں ہی سے لڑتے رہے، یا اس جیسا کوئی دوسرا نواصب والا سوال کردے۔
    تو کسی کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ ان باتوں کا جواب دے سکے، البتہ اہل سنت کو یہ اعزاز مولائے کریم نے بخشا ہے کہ وہ ان نواصب کو جواب دے سکیں گے، کیوں کہ اہل سنت تمام سابقین الاولین سے محبت کرتے ہیں۔
    مجموع الفتاوى (4/ 468)
    اللہ، کیا فراست بھرا تجزیہ کیا ہے، بعض اساتذہ فرمایا کرتے ہیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو پڑھنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوسکتا، اور یہ بات ہم نے واقعتا آزما لی ہے، ابن تیمیہ ہر باطل کے سامنے ننگی تلوار تھے، ابن تیمیہ حق کا پرچم، ابن تیمیہ اہل سنت کی آواز اور ابن تیمیہ سلف کے فہم کے پہریدار تھے، شاید یہی وجہ ہے کہ تمام باطل گروہوں کے ہاں مبغوض آپ ہیں، اہل بدعت کو ابن تیمیہ ایک آنکھ نہیں بھائیں گے، کیوں کہ انہوں نے باطل کے استدلال کا قلع قمع کر دیا ہے۔ اور ان کو دفاع پر مجبور کر دیا ہے۔
    تیری قامت کی درازی کا گلہ ہے سب کو
    ورنہ شہر میں لوگوں سے تیرا جھگڑا کیا ہے۔
    امام رحمہ اللہ کے اکثر تجزیات کی طرح مذکورہ بالا تجزیہ بھی سو فیصد نشانے پر پڑا ہے، بخدا! ہم نے اپنی زندگی میں یہ بات آزما لی ہے کہ اہل بیت یا صحابہ سے محبت کا دعوی صرف اہل سنت کا سچا ہے، رافضی نہ اہل سنت سے محبت رکھتا ہے نا صحابہ سے، اسی طرح ناصبی نہ اہل سنت سے محبت رکھتا ہے، نہ صحابہ سے۔
    #ھفتہ_مدح_اھلِ_بیت
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں