• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ کفایت اللہ سنابلی کی کتاب پر ’’ناچیز‘‘ کا ’’ عرض ناشر‘‘

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
فروعی مسائل میں عوام کا رویہ بالعموم دو طرح کی انتہاءوں کا شکار ہے ۔ ایک انتہاء افراط کی ہے اور دوسری تفریط کی۔ اعتدال کا موقف ان دونوں کے بیچ کا ہے ۔
فروعی مسائل کے حوالہ سے ایک انتہاء تو شدت پسندی کی ہے ۔ شدت پسندی یہ ہے کہ ان فروعی مسائل کو شریعت میں ان کے مقام سے آگے بڑھا کر انہیں محبت و نفرت اور ولاء و براء کا معیار بنا لیا جاتا ہے ۔ ان مسائل میں اختلاف کو ڈسکس کرنے لہجہ علمی نہ رہ کر مناظراتی بن جاتا ہے ۔ اس قسم کے مسائل میں جب لہجہ علمی اور تحقیقی ہونے کے بجائے مناظراتی رخ اختیار کرتا ہے تو اخلاق و آداب اور عدل و انصاف کے سارے اصول بھلا دیے جاتے ہیں ۔ پھر بات کفر و بدعت کے الزامات تک پہنچ جاتی ہے ۔ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد ہی نہیں علماء کہلانے والا ایک اچھا خاصہ طبقہ بھی اس شدت پسندی کا شکار ہے ۔ احناف میں جہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ انہیں چند مسائل کی بنیاد پر جماعت اہل حدیث اور علماء اہل حدیث پر غیر مقلدیت ، شعیت حتیٰ کہ قادیانیت تک کے الزام لگائے جاتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھا کربات یہودیوں کے ایجنٹ اور وکٹوریہ کی اولاد جیسے بے ہودہ طعنوں تک پہنچائی جاتی ہے وہیں علماء سلف کے توسع سے ناواقف اہل حدیث عوام کی بھی ایک منحرف طبقہ ان مسائل کی بنیاد پر عدل کی حدود کو پھلانگ جاتا ہے ۔ احناف کے پیچھے نماز کے عدم جوازیا ان کی تکفیر وغیرہ کے فتوے اسی شدت پسندانہ ذہنیت کا مظہر ہیں ۔ دونوں مسالک کے علماء اثبات اس رویہ کی مذمت کرتے ہیں ۔
فروعی مسائل میں دوسرا منحرف رویہ تفریط کا ہے ۔ یہ رویہ پہلے رویہ سے زیادہ خطرناک ہے ۔ سیکولرازم کے پھیلاؤ نے ہمارے یہاں دین پسند طبقہ میں ایک سوچ کو بہت شدت کے ساتھ بڑھاوا دیا ہے ۔ عبادت کو معاملات سے کمتر جاننے کی سوچ ۔ اس سوچ سے متاثر ایک بڑا طبقہ دین میں سیاسی ، سماجی ، معاشی معاملات کے مقابلہ میں نماز ، روزہ ، حج جیسی عظیم عبادات کو کمتر اور حقیر سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان عبادات کے متعلق مختلف مسالک میں پائے جانے والے اختلافات پر بحث و مباحثہ اور تحقیق کو امت کے اتحاد کے لیے نقصاندہ تصور کرتا ہے ۔ ان عظیم سنتوں کو فروعی مسئلہ بول کر ان کی اہمیت کو کم جتانے کی کوشش کرتا ہے ۔
اس ذہمیت کے فروغ کی ایک وجہ دین کے معاملات میں فروع اور اصول کی تقسیم بھی ہے ۔ دین میں اصول اور فروع کی تقسیم صحابہ اور سلف کے زمانہ میں نہیں پائی جاتی تھی ۔ اس تقسیم کا استعمال سب سے پہلے متکلمین نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت جس میں امام ابن تیمیہ کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے دین میں اصول اور فروع کی تقسیم کا پسند نہیں کرتی ۔ البتہ اصطلاح میں ان الفاظ کے متعین معنیٰ موجود ہونے کی وجہ اس ان کا استعمال ہمارے لیے ایک فنی مجبوری ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ فروع کے لفظ میں ایک طرح کا ہلکا پن پایا جاتا ہے۔ حالانکہ اصطلاح میں اس کا استعمال دین کے نہایت اہم امور پر ہوتا ہے۔اس لفظ کے استعمال کی وجہ سے ان امور کے غیر اہم یا کم اہم ہونے کی ذہنیت کو بڑھاوا ملتا ہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس کا سب سے اہم پہلو تو یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ نمازکا ہے ۔ نماز دین کے ارکان میں شہادتین کے بعد دوسرے درجہ کا رکن ہے ۔انسان دنیا میں اللہ کی بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور نماز اس بندگی کی معراج ہے ۔ اللہ کے سامنے اپنی بندگی کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ اللہ کے یہاں کسی بھی عبادت کی قبولیت کے لیے سنت کی اتباع ایک لازمی شرط ہے ۔ اور زیر نظر کتاب نماز کی ایک سنت کے حوالہ سے بحث کرتی ہے ۔
اس مسئلہ کی اہمیت کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ اہل حدیث اور احناف کے درمیان امتیازی اختلافی مسائل میں سے ایک ہے ۔ ان امتیازی مسائل کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف کچھ مسائل نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی حیثیت دین کے دو الگ الگ مناہج کے نمائندہ کی ہے ۔ ایک منہج تحقیق و اتباع کا ہے اور دوسرا منہج تقلید و جمود کا ۔ ان مسائل سے یہ طے ہوتا ہے کہ بندہ اپنی پوری زندگی میں علم و تحقیق کا راستہ اپنانا چاہتا ہے یا جموداور تقلید کا ۔ لہذا ان مسائل میں بحث و تحقیق کی اہمیت دیگر مسائل سے زیادہے ۔ جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی کی تفضیل کا مسئلہ اپنے آپ میں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ۔ لیکن اس کی اہمیت کا اصل پہلو یہ ہے کہ اس مسئلہ کے پیچھے دو الگ الگ فکر و عقیدہ اور اصول ومنہج کے دو الگ الگ نظام موجود ہیں جن کی نمائندگی یہ مسئلہ کرتا ہے ۔
قیام میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا مسئلہ اہل حدیث اور احناف کا یہاں امتیازی اختلافی مسائل میں سے ایک ہے ۔ اس معاملہ میں جہاں اہل حدیث کی کوشش یہ ہوتی ہے دلائل کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابت کی جائے وہاں احناف کی ساری کوششوں کا مرکز "اپنے امام کا مسلک" صحیح ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اہل حدیث کے پاس نبی کے علاوہ کوئی امام ایسا نہیں جس کے لیے انہیں تعصب برتنے کی ضرورت ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ان کی محبت اور لگاؤ ہر طرح کے لاگ لپیٹ اور تعصب سے پاک ، سچی اور خالص ہے ۔ اور یہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ اس قسم کے مسائل میں بحث و تحقیق سے دونوں طرف کے مسالک کی ذہنیت ، سنت سے ان کے تعلق اور لگاؤ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی محبت اور وابستگی جانچی جانی چاہیے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی کے سینئر علماء میں سے ہیں ۔ آپ کی حیثیت صرف سینٹر کے اسٹاف کی نہیں بلکہ آپ سینٹر کے علمی اور دعوتی کاموں کے نگراں اور رہنما ہیں ۔ آپ کی رہنمائی کو ہم اپنے لیے سعادت اور اللہ کا بہت بڑا انعام سمجھتے ہیں ۔
اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی نے بہت مختصر وقت میں اپنے علمی اور دعوتی سرگرمیوں کی وجہ سے علمی اور عوامی دونوں سطحوں پر اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔ اپنے اس مختصر سفر میں اس منزل تک پہنچنے میں ہمارے علماء اور اسٹاف کی محنتوں کے ساتھ ساتھ ان سارے لوگوں کے کا بڑا رول ہے جنہوں نے اس سفر کے مختلف پڑاؤ پر ہمارا علمی ، مالی ، جسمانی یا زبانی کسی بھی طرح کا تعاون کیا ہے ۔ اس "عظیم کتاب " کی اشاعت کے موقع پر میں اسلامک انفارمیشن سینٹر کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔اور سینٹر کے عالم اسٹاف کی حیثیت سے محترم برادر زید پٹیل صاحب کا شکر گذار ہوں جن کی انتھک کوششوں ، محنتوں ، حوصلہ افزائیوں اور مشوروں نے ہمیشہ ہمارے جذبوں کا ساتھ دیا ہے ۔ اور دین کی خدمت کے لیے ہمیں اسلامک انفارمیشن جیسا بڑا اسٹیج فراہم کیا ۔
اللہ اپنے کلمہ کی سربلندی کے ہمارے دلوں کو حوصلہ ، ہمارے حوصلوں کو عمل کی محنت اور ہماری محنتوں کو قبولیت کے شرف سے نوازے ۔
سرفراز فیضی
اسلامک انفارمیشن سینٹر ، ممبئی
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 

makki pakistani

سینئر رکن
شمولیت
مئی 25، 2011
پیغامات
1,323
ری ایکشن اسکور
3,040
پوائنٹ
282
فروعی مسائل میں عوام کا رویہ بالعموم دو طرح کی انتہاءوں کا شکار ہے ۔ ایک انتہاء افراط کی ہے اور دوسری تفریط کی۔ اعتدال کا موقف ان دونوں کے بیچ کا ہے ۔
فروعی مسائل کے حوالہ سے ایک انتہاء تو شدت پسندی کی ہے ۔ شدت پسندی یہ ہے کہ ان فروعی مسائل کو شریعت میں ان کے مقام سے آگے بڑھا کر انہیں محبت و نفرت اور ولاء و براء کا معیار بنا لیا جاتا ہے ۔ ان مسائل میں اختلاف کو ڈسکس کرنے لہجہ علمی نہ رہ کر مناظراتی بن جاتا ہے ۔ اس قسم کے مسائل میں جب لہجہ علمی اور تحقیقی ہونے کے بجائے مناظراتی رخ اختیار کرتا ہے تو اخلاق و آداب اور عدل و انصاف کے سارے اصول بھلا دیے جاتے ہیں ۔ پھر بات کفر و بدعت کے الزامات تک پہنچ جاتی ہے ۔ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد ہی نہیں علماء کہلانے والا ایک اچھا خاصہ طبقہ بھی اس شدت پسندی کا شکار ہے ۔ احناف میں جہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ انہیں چند مسائل کی بنیاد پر جماعت اہل حدیث اور علماء اہل حدیث پر غیر مقلدیت ، شعیت حتیٰ کہ قادیانیت تک کے الزام لگائے جاتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھا کربات یہودیوں کے ایجنٹ اور وکٹوریہ کی اولاد جیسے بے ہودہ طعنوں تک پہنچائی جاتی ہے وہیں علماء سلف کے توسع سے ناواقف اہل حدیث عوام کی بھی ایک منحرف طبقہ ان مسائل کی بنیاد پر عدل کی حدود کو پھلانگ جاتا ہے ۔ احناف کے پیچھے نماز کے عدم جوازیا ان کی تکفیر وغیرہ کے فتوے اسی شدت پسندانہ ذہنیت کا مظہر ہیں ۔ دونوں مسالک کے علماء اثبات اس رویہ کی مذمت کرتے ہیں ۔
فروعی مسائل میں دوسرا منحرف رویہ تفریط کا ہے ۔ یہ رویہ پہلے رویہ سے زیادہ خطرناک ہے ۔ سیکولرازم کے پھیلاؤ نے ہمارے یہاں دین پسند طبقہ میں ایک سوچ کو بہت شدت کے ساتھ بڑھاوا دیا ہے ۔ عبادت کو معاملات سے کمتر جاننے کی سوچ ۔ اس سوچ سے متاثر ایک بڑا طبقہ دین میں سیاسی ، سماجی ، معاشی معاملات کے مقابلہ میں نماز ، روزہ ، حج جیسی عظیم عبادات کو کمتر اور حقیر سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان عبادات کے متعلق مختلف مسالک میں پائے جانے والے اختلافات پر بحث و مباحثہ اور تحقیق کو امت کے اتحاد کے لیے نقصاندہ تصور کرتا ہے ۔ ان عظیم سنتوں کو فروعی مسئلہ بول کر ان کی اہمیت کو کم جتانے کی کوشش کرتا ہے ۔
اس ذہمیت کے فروغ کی ایک وجہ دین کے معاملات میں فروع اور اصول کی تقسیم بھی ہے ۔ دین میں اصول اور فروع کی تقسیم صحابہ اور سلف کے زمانہ میں نہیں پائی جاتی تھی ۔ اس تقسیم کا استعمال سب سے پہلے متکلمین نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت جس میں امام ابن تیمیہ کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے دین میں اصول اور فروع کی تقسیم کا پسند نہیں کرتی ۔ البتہ اصطلاح میں ان الفاظ کے متعین معنیٰ موجود ہونے کی وجہ اس ان کا استعمال ہمارے لیے ایک فنی مجبوری ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ فروع کے لفظ میں ایک طرح کا ہلکا پن پایا جاتا ہے۔ حالانکہ اصطلاح میں اس کا استعمال دین کے نہایت اہم امور پر ہوتا ہے۔اس لفظ کے استعمال کی وجہ سے ان امور کے غیر اہم یا کم اہم ہونے کی ذہنیت کو بڑھاوا ملتا ہے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس کا سب سے اہم پہلو تو یہ ہے کہ زیر بحث مسئلہ نمازکا ہے ۔ نماز دین کے ارکان میں شہادتین کے بعد دوسرے درجہ کا رکن ہے ۔انسان دنیا میں اللہ کی بندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ اور نماز اس بندگی کی معراج ہے ۔ اللہ کے سامنے اپنی بندگی کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ اللہ کے یہاں کسی بھی عبادت کی قبولیت کے لیے سنت کی اتباع ایک لازمی شرط ہے ۔ اور زیر نظر کتاب نماز کی ایک سنت کے حوالہ سے بحث کرتی ہے ۔
اس مسئلہ کی اہمیت کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کا مسئلہ اہل حدیث اور احناف کے درمیان امتیازی اختلافی مسائل میں سے ایک ہے ۔ ان امتیازی مسائل کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف کچھ مسائل نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی حیثیت دین کے دو الگ الگ مناہج کے نمائندہ کی ہے ۔ ایک منہج تحقیق و اتباع کا ہے اور دوسرا منہج تقلید و جمود کا ۔ ان مسائل سے یہ طے ہوتا ہے کہ بندہ اپنی پوری زندگی میں علم و تحقیق کا راستہ اپنانا چاہتا ہے یا جموداور تقلید کا ۔ لہذا ان مسائل میں بحث و تحقیق کی اہمیت دیگر مسائل سے زیادہے ۔ جیسے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی کی تفضیل کا مسئلہ اپنے آپ میں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ۔ لیکن اس کی اہمیت کا اصل پہلو یہ ہے کہ اس مسئلہ کے پیچھے دو الگ الگ فکر و عقیدہ اور اصول ومنہج کے دو الگ الگ نظام موجود ہیں جن کی نمائندگی یہ مسئلہ کرتا ہے ۔
قیام میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا مسئلہ اہل حدیث اور احناف کا یہاں امتیازی اختلافی مسائل میں سے ایک ہے ۔ اس معاملہ میں جہاں اہل حدیث کی کوشش یہ ہوتی ہے دلائل کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابت کی جائے وہاں احناف کی ساری کوششوں کا مرکز "اپنے امام کا مسلک" صحیح ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اہل حدیث کے پاس نبی کے علاوہ کوئی امام ایسا نہیں جس کے لیے انہیں تعصب برتنے کی ضرورت ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ان کی محبت اور لگاؤ ہر طرح کے لاگ لپیٹ اور تعصب سے پاک ، سچی اور خالص ہے ۔ اور یہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ اس قسم کے مسائل میں بحث و تحقیق سے دونوں طرف کے مسالک کی ذہنیت ، سنت سے ان کے تعلق اور لگاؤ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی محبت اور وابستگی جانچی جانی چاہیے ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی کے سینئر علماء میں سے ہیں ۔ آپ کی حیثیت صرف سینٹر کے اسٹاف کی نہیں بلکہ آپ سینٹر کے علمی اور دعوتی کاموں کے نگراں اور رہنما ہیں ۔ آپ کی رہنمائی کو ہم اپنے لیے سعادت اور اللہ کا بہت بڑا انعام سمجھتے ہیں ۔
اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی نے بہت مختصر وقت میں اپنے علمی اور دعوتی سرگرمیوں کی وجہ سے علمی اور عوامی دونوں سطحوں پر اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔ اپنے اس مختصر سفر میں اس منزل تک پہنچنے میں ہمارے علماء اور اسٹاف کی محنتوں کے ساتھ ساتھ ان سارے لوگوں کے کا بڑا رول ہے جنہوں نے اس سفر کے مختلف پڑاؤ پر ہمارا علمی ، مالی ، جسمانی یا زبانی کسی بھی طرح کا تعاون کیا ہے ۔ اس "عظیم کتاب " کی اشاعت کے موقع پر میں اسلامک انفارمیشن سینٹر کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔اور سینٹر کے عالم اسٹاف کی حیثیت سے محترم برادر زید پٹیل صاحب کا شکر گذار ہوں جن کی انتھک کوششوں ، محنتوں ، حوصلہ افزائیوں اور مشوروں نے ہمیشہ ہمارے جذبوں کا ساتھ دیا ہے ۔ اور دین کی خدمت کے لیے ہمیں اسلامک انفارمیشن جیسا بڑا اسٹیج فراہم کیا ۔
اللہ اپنے کلمہ کی سربلندی کے ہمارے دلوں کو حوصلہ ، ہمارے حوصلوں کو عمل کی محنت اور ہماری محنتوں کو قبولیت کے شرف سے نوازے ۔
سرفراز فیضی
اسلامک انفارمیشن سینٹر ، ممبئی
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
[
سکھائے کس نے فیضی کوآداب ہنر مندی

بہت خوبصورت طریقے سے موازنہاورنسبت بتا دی ھے
ماشاءاللہ۔
 
Last edited by a moderator:
Top