1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعہ كا عقیدہ تحريف قرآن

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن خلیل, ‏جولائی 04، 2012۔

  1. ‏جولائی 04، 2012 #1
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 04، 2012 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    السلام علیکم۔۔۔
    حافظ صاحب!۔ اگر موضوع کا نام شیعہ کا عقیدہ تحریف قرآن کی بجائے۔۔۔ ایرانیوں کا عقیدہ تحریف قرآن ہوتا تو زیادہ مؤثر نتائج سامنے لاتا۔۔۔ کیونکہ شیعہ ایران کے علاوہ جہاں جہاں آباد ہیں وہ صرف خود کو فرقہ ظاہر کرتے ہیں لیکن اسی فرقے کو مذہب کی شکل میں انہوں نے ایران میں نافذ کر رکھا ہے۔۔۔ ٹہنیاں کاٹنے کی بجائے اگر جڑ پر حملہ کیا جائے تو زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔۔۔ وہ اس لئے اگر کوئی اہل تشیع جو کسی دوسرے ملک میں بستا ہو اور وہ ان کتابوں کو مانتا ہو تو پھر فرقہ نہیں بلکہ دین اسلام کے خلاف ایک دوسرے مذہب کا پیروکار بن جائے گا جیسے قادیانی حضرات۔۔۔
     
  3. ‏جولائی 04، 2012 #3
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    بھائی ایران پورا شیعہ سے ہی تو بھرا پڑا ہے آپ نتائج کو سامنے لانے ہمارے علم میں بھی اضافہ ہوگا اور انکی خرافات بھی کھل کر سامنے اجینگے
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 06، 2013 #4
    طارق راحیل

    طارق راحیل مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2011
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    692
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏فروری 06، 2013 #5
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ١۔ اسرائیل نے شیعہ عناصر کی نگہداشت کرلی ہے انہوں نے فلسطینی وجود کا خاتمہ کرنے کے لئے اُن کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے اور حماس اور جہاد کی تحریکوں کے لئے اندرونی سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے (ضابط اسرائیلی من المخابرات، صحیفہ معاریف، الیھودیہ فی تاریخ ٨\٩\١٩٩٩)۔


    ٢۔ آمل تحریک کا ضمنی پروگرام مسلح فلسطینیوں کے وجود کا خاتمہ ہے اس اعتبار سے وہ ایک بنیادی دھمکی ہے جو شیعہ معاشرہ کے امن کے لئے خطرہ ہے (توفیق مدنی کتاب آمل وحزب اللہ صفحہ ٨١)۔۔۔


    ٣۔ ہمارا یہ دعوٰی نہیں کے ہم ایران کا حصہ ہیں ہم لبنان وایران اور ایران کو لبنان سمجھتے ہیں۔
    (ابراھیم الامین {احد قیادیی الحزب} جریدہ النھار تاریخہ ٥\٣\١٩٨٧)۔۔۔


    ٤۔ اور حتی کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اصلاح انسانیت اور تہذیبوں میں انصاف قائم کرنے آئے تھے وہ بھی کامیاب نہیں ہوئے (نعوذ باللہ)۔ (الخمینی، مختبارات من احادیث وخطابات الامام الاخمینی ٢\٤٢)۔۔۔


    ٥۔ حزب اللہ کسی بھی ایسی فوجی کاروائی میں شریک نہیں ہوگی جس کا مقصد قدس شریف کو آزاد کرانا ہو (حسن نصراللہ، جریدہ الانباہ، عد ٨٦٣٠، ٢٧\٥\٢٠٠٠ء)۔۔۔


    ٦۔ ایران خارجی حکومتوں کیلئے دھمکی کی نمائندگی نہیں کرسکتا، اور نہ صیہونی نظام کے لئے کوئی خطرہ ہے۔ (رئیس ایران، محمود احمدی لحاد، جریدہ الشرق الاوسط عدد ١٠١٣٦، تاریخ ٢٩\٨\٢٠٠٦)۔۔۔


    ٧۔ کسی روز بھی شیعہ کو اسرائیل کا دشمن نہیں دیکھا گیا۔ (السفاح شارون {رئیس وزراء اسرائیل} مذاکرات شارون صفحہ ٥٨٣)۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • لسٹ
  6. ‏فروری 06، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اس نے سلمان رشدی کے خلاف فتوٰی دیا تھا مرتد ہے اور واجب القتل۔۔۔
    اس عقیدے کے حامل کے لئے علماء کرام کیا فتوٰی صادر فرمائیں گے؟؟؟۔۔۔
     
  7. ‏فروری 06، 2013 #7
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    کیا شیعہ نے کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کا فریضہ ادا کیا ہے؟؟؟۔۔۔

    رافضی شیعہ ہمیشہ سے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کا ہتھیار اور ان کی ملی وحدت میں زہر آلودہ خنجرکی حیثیت ہی رکھتے ہیں اور آج تک ان کا کردار ایک جیسا ہی ہے عیسائی ہمیشہ سے اسلامی حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے انہیں استعمال کرتے آرہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں ہم تمام شیعہ رافضیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ صرف ایک شیعہ لیڈر کا نام بتادیں جس نے کوئی ملک یا علاقہ فتح کرکے اسلامی مملکت میں شامل کیا ہو؟؟؟۔۔۔

    اُمت اسلامیہ کے خلاف شیعہ رافضیوں کی بدترین خیانتیں!۔
    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ رافضی شیعہ کی دینی ولاء اور محبت “قم“ کے مذہبی لیڈروں کے ساتھ ہے اور ان کے سیاسی وابستگی صرف اور صرف حکومت تہران کے ساتھ جس شخص نے ان زیریلے کیڑوں کے اقوال پڑھے سنے ہوں وہ یہ تلخ حقیقت پالیتا ہے۔۔۔

    اس بات کی اہم ترین توثیق مصری صدر نے عربی چینل کو ٨\٤\٢٠٠٦ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کی مصری صدر کہتے ہیں کہ شیعہ کی ولاء اور دوستی ایران کے ساتھ ہے اسی طرح اردن کے بادشاہ عبداللہ نے بھی شیعی ہلال احمر کے قیام سے ڈرایا ہے انہوں نے شیعی ہلال احمر کے قیام پر خبردار کیا جو اپنی کاروائیاں عراق میں کررہا ہے ار لبنان میں حزب اللہ کی شکل میں عمل پیرا ہے سعودی عرب کے وزیر خارنہ جناب سعود الفیصل نے بھی عراقی معاملات میں ایرانی دخل اندازی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ یہودیوں کے وزیر اعظم شیرون نے ایک مذاکرے کے دوران واضح اعلان کیا کہ مجھے آج دور دور تک اسرائیل کا دشمن کوئی شیعہ دکھائی نہیں دیتا (دیکھئے مذاکرات شیرون صفحہ ٥٨٣)۔۔۔
    شیرون کے اس اعلان میں ہمیں اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف سخت ترین فوجی ایکشن کیوں نہیں لیتا جیسا کہ وہ مجاہد تنظیم حماس کے لیڈروں کے خلاف پوری دنیا میں سخت گیر رویہ اپنائے ہوئے ہے اسرائیل کے حماس کے خلاف درندگی کی مشہور ترین مثالیں شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر عبدالعزیز الرنتیسی، یحٰیی عیاش کے خلاف مجرمانہ حملے ہیں جس میں یہ قائدین جام شہادت نوش فرماگئے۔۔۔

    اس طرح اسرائیل نے ڈاکٹر مشعل کو بھی قتل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اللہ تعالٰی انہیں اپنی رضا اور خوشنودی کے مطابق اعمال کرنے کی توفیق سے نوازے آمین۔۔۔

    میں اس موضوع کو تفصیل سے بیان نہیں کروں گا بلکہ شیعہ کی بدترین خیانتوں کی طرف اشارہ کروں گا اور جو حضرات تفصیل کے خواہش مند ہوں ان کے لئے تفصیلات کے مصادر اور مراجع ذکر کروں گا۔۔۔

    لیجئے شیعہ کی بدترین تاریخ، اسلام اور اہل اسلام کے خلاف خیانتوں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔

    ١۔ شیعہ رافضیوں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف خیانت کی تو انہوں نے ان کی شدید مذمت کی اور اُن کے افعال وکردار سے براءت کا اعلان کیا (حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شیعہ رافضی کی مذمت میں خطبہ دیکھیں، نہج البلاغہ، محمد عبدہ، صفحہ ١٤٨، خطبہ ٦٩)۔۔۔

    ٢۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خیانت ڈھکی چھپی نہیں، ایک شیعہ رافضی نے ان کی ران میں زہر آلود خنجر مارا (جس سے وہ بعد میں فوت ہوگئے) اور شیعہ حسن کو مذل المومنین (مومنوں کو رسوا کرنے والا) کا لقب دیا۔۔۔ (کیونکہ انہوں نے اپنے نانا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی کے مطابق مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کروادی تھی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی تھی جو شیعہ رافضیوں کو کسی صورت گوارہ نہ تھی)۔ (دیکھئے مجلسی کی کتاب بحار الانوار ٤٤\٢٥، اور امام طبری کی کتاب لا دلائل الامامۃ صفحہ ٦٤)۔۔۔

    ٣۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ان کی خیانت عالمی شہرت یافتہ ہے انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بےشمار خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی، جب آپ رضی اللہ عنہ ان کی دعوت پر کوفہ پہنچ گئے تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی لیکن پھر انہی کے خلاف ہوگئے اور آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا (دیکھئے شیعہ مؤلف کی کتاب عیسان الشیعہ ١\٣٢ مؤلفہ محسن امین) حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بدعہدی اور خیانت معلوم ہونے پر انہیں بدعا دی تھی (دیکھئے مفید کی کتاب الاشاد ٢\١١-١١١)۔۔۔

    ٤۔ ہارون رشید کے عہد حکومت میں شیعہ رافضی وزیر علی بن یقطین نے بددیانتی کرتے ہوئے پانچ سو سنی مسلمانوں کو قید خانے کی چھت گرا کر قتل کردیا (دیکھئے نعمت اللہ جزائری کی کتاب، الانوار النعمانیہ)۔۔۔

    ٥۔ فاطمیوں کا عہد حکومت اہل سنت کے مذہب کو مٹانے اور شیعہ مذہب کی نشرواشاعت کے لئے خیانتوں اور بددیانتوں سے بھرا پڑا ہے (تفصیل کے لئے عماد حسین کی کتاب خیانات الشیعہ واثرھا فی ھزائم الامۃ الاسلامیۃ صفحہ ٤٧ دیکھیں۔۔۔

    ٦۔قرامطہ نے حجاج کرام کو قتل کرکے ان کو اموال لوٹ لئے اس طرح وہ حاجیوں کے خون اور مال کو اپنے لئے حلال سمجھ کر لوٹتے رہے (تفصیل کے لئے مذکورہ بالاکتاب کا صفحہ ٦٣ ملاحظہ کریں)۔۔۔

    ٧۔ بوھری فرقے کی خیانتیں اور سنی مسلمانوں پر ان کا ظالمانہ تسلط (حوالہ سابق کا صفحہ ٧٣ دیکھیں)۔۔۔

    ٨۔ رافضی وزیر مؤید الدین ابی طالب محمد احمد علقمی نے سخت بدیانتی کرتے ہوئے تاتاریوں کو عباسی حکومت کے دارلحکومت بغداد میں داخل ہونے پر مدد دی اور مسلمانوں کے قتل وغارت میں شریک ہوا (تفصیل کے لئے عماد حسین کی کتاب خیانات الشیعہ واثر ھا فی ھزائم الامہ الاسلامیہ کا صفحہ ٨١ دیکھیں، نیز شیخ سلمان عودہ کی کتاب دور الشیعہ فی سقوط بغداد علی آبدی التتار ملاحظہ کیجئے)۔۔۔

    ٩۔ جب تاتاری دمشق میں داخل ہوگئے تو رافضی شیعہ نے ان کی اطاعت قبول کرکے ان کی حکومت میں خدمات انجام دیں (تفصیل کے لئے شیخ عماد حسین کی مذکورہ بالا کتاب کا صفحہ ٩٢ دیکھیں)۔۔۔

    ١٠۔ ہلاکو جب حلب میں فوجیں لے کر داخل ہوا اور اس نے بےشمار مسلمان شہید کردیئے تو اس دوران شیعہ رافضیوں نے ہلاکو کی فرمانبرداری اختیار کرلی اور اس کے خلاف جنگ سے دستبردار ہوگئے (حوالہ سابق کا صفحب نمبر ٩٧ ملاحظہ کیجئے)۔۔۔

    ١١۔ نصیر الدین الطوسی رافضی نے سنی مسلمانوں کے قتل وغارت میں بھرپور گھناؤنا کردار کیا (حوالہ سابق صفحہ ١٠١ ملاحظہ فرمائیں) مسلمانوں کے اموال قبضے میں لے لئے اور ان کی فکری اور نظریاتی میراث کو ختم کرکے رکھ دیا۔۔۔

    ١٢۔ شیعہ کی خیانتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے اُمت اسلامیہ کے عظیم مجاہد اور ہیروصلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کی سازش کیں (اللہ تعالٰی نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کرانے کا شرف حضرت عمر فاروق عمر رضی اللہ عنہ کو دیا اور پھر دوبارہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اس نے بیت المقدس کو یہودیوں سے آراد کرایا لیکن یہ دونوں عظیم ہستیاں شیعہ امامیہ کے نزدیک کافر ہیں، تفصیل کے لئے عماد حسین کی کتاب کا صفحہ ١٠٩ دیکھیں)۔۔۔

    ١٣۔ شیعہ نے سنی مسلمانوں کی سابقہ حکومت کو ختم کرنے کے لئے عیسائیوں سے مکمل تعاون کیا اور ان کے خفیہ ایجنٹ کا کردار ادا کیا (مذکورہ بالا کتاب کا صفحہ ١١٧ دیکھیں)۔۔۔

    ١٤۔ شیعہ اثناعشریہ امامیہ کی تنظیم آمل الشیعہ لبنان میں عیسائیوں کے ساتھ مل کر سنی مسلمانوں کے خلاف بدکرداری میں ملوث ہے (حوالہ سابق کا صفحہ ١٤٥ دیکھیں)۔۔۔

    ١٥۔ صفوی شیعی حکومت نے عثمانی حکومت کی یورپ میں فتوحات کا بائیکاٹ کیا اور عثمانی حکومت کے خلاف عیسائیوں کے ساتھ مل کر سازشوں کے کئی جال بننے (دیکھئے کتاب الصفویون والدولہ)۔۔۔

    ١٥۔ شیعہ امامیہ خلیجی ممالک میں بےشمار خیانتوں کی مرتکب ہے جیسا کے وہ عراق میں عیسائیوں کے ساتھ اتحاد کرکے سنی مسلمانوں کے خلاف مجرمامہ کاروائیاں کررہے ہیں اور اس میں ان کے علماء جیسے سیستانی اور الحکم ہیں ان کی مکمل حمایت انہیں حاصل ہے (دیکھئے عماد حسین کی کتاب خیانات الشعہ صفحہ ١٦٧)۔۔۔

    امریکی سفیر اور عراق میں امریکی حاکم پال بریمر کی کتاب عراق میں فیصلہ کن سال میں شیعہ کے گھناؤنے کردار کے متعلق بعض نہایت خطرناک اعترافات شامل ہیں اس نے لکھا ہے کہ کس طرح عراقی تباہی اور شکست میں شیعہ امامیہ نے عیسائیوں کا بھرپور ساتھ دیا (حوالہ سابق صفحہ ٧٦)۔۔۔

    پال بریمر لکھتا ہے ابھی تک بہت سارے شیعہ رافضی امریکیوں پر سخت غضباک ہیں کہ وہ عراق میں قتل وغارت بند کررہا لیکن اس کے باوجود شیعہ قائدین مثلا آیہ اللہ العظمی السیستانی وغیرہ نے اپنے پیروکاروں کو عیسائی اتحاد کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ تعاون عراق کو آزاد کرانے کی ابتداء سے ابھی تک جاری ہے اور ہم بھی ان کے تعاون کو کھونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔۔۔

    اس طرح عراق میں اسلامی انقلاب کی مجلس اعلٰی کے لیڈر عبدالعزیز الحکیم کے بارے میں لکھتا ہے!۔

    مجھے عبدالعزیز الحکیم نے کہا جبکہ وہ اپنی رنگین عینک سے مجھے دیکھ رہا تھا جناب سفیر محترم! آپ نے فرمایا کہ عنقریب اس نئے لشکر کی قیادت فوجی افسر کریں گے تو وہ افسر کون ہوں گے؟؟؟۔۔۔

    میں نے اس کا عربی لقب لے کر کہا!۔
    جناب میرا وعدہ ہے کہ پہلے لشکر کا قائد شیعہ رافضی ہوگا۔۔۔ یقینا امریکی اتحادی فوجوں کے سربراہ نے یہ وعدہ پورا کردیا ہے۔۔۔ (دیکھئے کتاب کا صفحہ ٨٢)۔۔۔

    پال بریمر مزید لکھتا ہے کہ السیستانی امریکی افواج کا بڑا قریبی ساتھی ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ وہ اعلانیہ امریکی فوج کے ساتھ مل کر کام کرے اس لئے امریکی لیڈر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس کی امریکی خدمات پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں (دیکھئے امریکی سفیر کی کتاب کا صفحہ ٢١٣)۔۔۔

    عراق پر قبضہ کے فوری بعد آیۃ اللہ العظمٰٰی نے شیعہ کے مخصوص ٹی وی چینل پر اعلان کیا کہ وہ امریکی اتحاد کے ساتھ ہرگز تعاون نہیں کرے گا اور اس کے ساتھ کاروائیوں میں شریک نہیں ہوگا۔۔۔ لیکن میں نے اس پر دباؤ نہیں ڈالا کیونکہ میں اس کے ساتھ خصوصی انفرادی میٹنگ کرنا چاہتا تھا لہذا اس میٹنگ میں تمام شکوک وشبہات دور ہوگئے السیستانی یقینا عالم اسلام اور عالم عرب کے حالات سے بخوبی واقف ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اعلانیہ طور پر امریکی غاصب فوجیوں کے ساتھ تعاون کرسکے۔۔۔ ١٩٢٠ء کی کچھ تلخ یادیں بھی موجود ہیں حالانکہ وہ ان میں شریک ہی نہیں تھا اس لئے اسے دو جانب کا خیال رکھ کر چلنا پڑتا ہے اسے مقتدٰی الصدر جیسے جذباتی احمق سے بھی بچنا ہے اور ہمارے ساتھ تعاون بھی کرنا ہے لیکن بہرحال السیستانی ہمارے ساتھ کام جاری رکھے گا اور ہم اہداف باہم تقسیم کرکے حاصل کرلیں گے۔۔۔

    رافضیہ کے نفاق اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی دشمنی اور دھوکہ دہی کو مزید سمجھنے کے لئے پال بریمر کا یہ بیان پڑھیں وہ کہتا ہے۔۔۔

    جس دوران عربی اور مغربی ذرائع ابلاغ السیستانی کے امریکی اتحاد کے ساتھ اختلاف اور علیحدگی کی خبریں نشر کررہے تھے عین اس وقت میں اور السیستانی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے شہری معاملات کے انتظام وانصرام میں مصروف تھے عراق میں امریکی اتحادی فوجوں کے ساتھ السیستانی کا یہ تعاون پورا عرصہ جاری رہا۔۔۔

    موسم گرما کی ابتداء میں تمام شکوک وشبہات ختم ہوگئے جب السیستانی نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں نے امریکی اتحاد کے ساتھ کسی دشمنی کی بناء پر اپنے مؤقف کا اعلان نہیں کیا بلکہ آیت اللہ کا خیال ہے اور اتحادی فوجوں کے ساتھ سرعام تعاون کی بجائے خفیہ دوستانہ تعلقات زیادہ مفید ہیں اور ہماری مشترکہ کوششوں کے لئے نفع بخش ہیں اگر اعلانیہ اتحاد کیا گیا تو مسلمانوں کے بہت سارے لوگ ہمارے خلاف ہوجائیں گے اور ہمارا اعتماد ختم ہوجائے گا، لہذا ہ اسی طریقے سے آپ سے تعاون کریں گے جیسے بےشمار شیعہ رافضی اور کمیونسٹ سنی کررہے ہیں یا جیسا کہ شیعہ کے علماء آپ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔۔۔

    اتحاد کے ساتھ اختلاف اور عداوت کا اعلان کرتا ہے جبکہ اندر خانے ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتاہے امریکی فوجوں کے ساتھ عراق پر قبضہ جمانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے تاکہ بعد میں اپنا حصہ وصول کرسکے، شیعہ کا یہ خطرناک کردار کوئی تعجب خیز چیز نہیں ہے ان کے آباؤ اجداد بھی اسی طرح کے گھناؤنے کردار ادا کرتےرہے ہیں جیسا کہ ابن علقمی نے کیا تھا جیسا کے موجودہ دور میں ان کے لیڈر عبدالمجید خوئی، محمد الباقر الحکیم، اور اعلی السیستانی عراق میں کررہے ہیں یہ بدکردار شیعہ مسلمان ممالک پر کفار کے لئے قبضہ کے لئے اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔۔۔ واللہ المستعان۔۔۔


    واللہ اعلم۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 09، 2013 #8
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    میں یہ تو نہیں جانتا کہ اس تھریڈ میں جو حوالے دیئے گئے ہیں تحریف قرآن کے عقیدے کے بارے میں ان کی صحت کیا ہے مگر آپ حضرات کی خدمت میں تحریف قرآن کے حوالے سے قرآن کے بعد اصح ترین کتاب صحیح بخاری سے چند اقتباسات پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں امید ہے قبول فرمائیں گے شکریہ

    حضرت عمر نے خطبہ دیتے ہوئے کہا
    إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب فكان مما أنزل الله آية الرجم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقرأناها وعقلناها ووعيناها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل والله ما نجد آية الرجم في كتاب الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيضلوا بترك فريضة أنزلها الله،‏‏‏‏ ‏‏
    ترجمہ از داؤد راز
    بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا، ان میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اپنے زمانہ میں) رجم کرایا۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کربیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں۔
    صحیح بخاری :کتاب المحاربین : حدیث نمبر : 6830
    یعنی حضرت عمر کا عقیدہ تھا کہ آیت رجم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی جسے حضرت عمر نے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا لیکن بعد میں یہ آیت قرآن میں موجود نہیں تھی !!! ہیں نہ حیرت کی بات

    فقال إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وأنزل عليه الكتاب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فكان فيما أنزل آية الرجم‏.‏
    ترجمہ از داؤد راز
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے بر آمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا۔ اس قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی۔
    صحیح بخاری :کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ : حدیث نمبر : 7323
    یہاں بھی یہی بات کہ آیت رجم قرآن میں تھی مگر اب نہیں !!!!! آئیں آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں جب حضرت عمر نے قرآن میں آیت رجم کو نہ پاکر کیا ارادہ کیا

    قال عمر لولا أن يقول الناس زاد عمر في كتاب الله‏.‏ لكتبت آية الرجم بيدي‏
    ترجمہ از داؤد راز
    عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر لوگ یوں نہ کہیں کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اپنی طرف سے بڑھا دیا تو میں رجم کی آیت اپنے ہاتھ سے مصحف میں لکھ دیتا۔
    صحیح بخاری :کتاب الاحکام : باب: اگر قاضی خود عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ایک امر کا گواہ ہو تو کیا اس کی بنا پر فیصلہ کر سکتا ہے؟
    اب اس طرح کا جو ارادہ کرلے اس کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بقول حضرت عمر آیت رجم اللہ نے قرآن میں نازل کی تھی اورجیسے حضرت عمر نے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد بھی رکھا تھا لیکن بعد میں یہ آیت قرآن میں موجود نہیں تھی اس کی کیا وجہ تھی اس پر مومنون کی ماں حضرت عائشہ نے روشنی ڈالی ہےکچھ اس طرح

    لقد نزلت آيةُ الرَّجمِ ، ورضاعةُ الْكبيرِ عشرًا ، ولقد كانَ في صحيفةٍ تحتَ سريري ، فلمَّا ماتَ رسولُ اللهِ صلَّى الله عليْهِ وسلَّمَ وتشاغلنا بموتِهِ ، دخلَ داجنٌ فأَكلَها.
    الراوي: عائشة أم المؤمنين المحدث:الألباني - المصدر: صحيح ابن ماجه - الصفحة أو الرقم: 1593
    خلاصة حكم المحدث: حسن


    عن عائشة أم المؤمنين قالت : لقد نزلت آية الرجم والرضاعة فكانتا في صحيفة تحت سرير فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم تشاغلنا بموته فدخل داجن فأكلها
    الراوي: القاسم بن محمد و عمرة المحدث:ابن حزم - المصدر: المحلى - الصفحة أو الرقم: 11/235
    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    ''ام المومنین عائشہ سے روایت ہے رجم کی آیت اور بڑ ے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت تھی اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے موجود تھیں۔ جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا اور ہم آپ کی وصال میں مشغول تھے تو گھر کی پلی ہوئی بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔ "
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 09، 2013 #9
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آیت رجم اور بڑے آدمی کو دس بار دودھ پلا کر رضائی بیٹا بنانے کی آیت ایک کاغذ پر لکھی ہوئی تھی اور یہ کاغذ یعنی قرآنی آیات لکھا ہوا کاغذ ان کے پلنگ کے نیچے رکھا ہوا تھا ( کیا قرآنی آیات کو اس طرح پلنگ کے نیچے رکھنا جائز ہے جبکہ ہم برصغیر کے لوگ تو قرآن کی آیات کو اس طرح پلنگ کے نیچے رکھنا قرآن کی بے ادبی میں شمار کرتے ہیں ) گھر کی پلی ہوئی بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی اس وجہ سے یہ دونوں آیات قرآن میں شامل نہیں ہوئی
    انا للہ وانا الیہ راجعون
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 6
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 25، 2013 #10
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891


    اگر آپ کو اس تھریڈ میں دئے گئے حوالوں کی صحت کا معلوم نہیں تھا تو خاموش رہنا چاہئے تھا۔ نا کہ غیر متعلق بحث شروع کرتے۔ آپ کو اہل سنت کی کتب میں تحریف قرآن کا عقیدہ نظر آتا ہے تو اہل سنت کا عقیدہ تحریف قرآن کے نام سے علیحدہ دھاگا کھول لیجئے اور وہاں اعتراضات کیجئے بصد شوق۔

    آپ کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے کہ صحیح بخاری سے ثابت ہے کہ آیت رجم پہلے تلاوت کی جاتی تھی اور بعد میں قرآن میں نہیں لکھی گئی کیونکہ اسے بکری کھا گئی تھی۔
    پہلی بات بالکل درست ہے کہ آیت رجم قرآن میں موجود تھی، اس کی تلاوت کی جاتی تھی، لیکن یہ بات غلط ہے کہ اس کے قرآن میں نہ لکھے جانے کی وجہ بکری کا کھا جانا تھا۔ یہ اہل تشیع کا عمومی بہتان ہے جو کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں۔

    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    نیز:
    لہٰذا اہل سنت کا یہ مشہور عقیدہ ہے کہ قرآنی آیات میں نسخ ہے۔ اور وہ تین طرح کا ہے:

    1۔ جس کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہوں، جیسے رضاعت میں دس گھونٹ
    2۔جس کی تلاوت منسوخ ہو لیکن حکم باقی ہو، جیسے رضاعت میں پانچ گھونٹ اور شادی شدہ زانی مرد وعورت کیلئے سنگسار کا حکم
    3۔جس کا حکم باقی نہ ہو لیکن اس کی تلاوت باقی ہو۔

    آپ ناسخ منسوخ کے عقیدہ میں ہم پر اعتراضات کر سکتے ہیں اور اس سے اختلاف رکھ سکتے ہیں (حالانکہ تفسیر قمی میں قرآن میں ناسخ منسوخ کے عقیدہ کا اثبات کیا گیا ہے)۔ لیکن اس عقیدہ کا موجودہ قرآن کریم کی صحت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر رجم کی آیت تھی اور تلاوت اٹھا لی گئی، تب بھی اور اگر آپ کے عقیدے کے مطابق رجم کی آیت تھی ہی نہیں، تب بھی، ہمارے نزدیک قرآن کہلانے کا حق دار فقط وہی ہے جو آج مصحف میں موجود ہے۔ موجودہ قرآن جس حالت میں ہے یہی ہمارے نزدیک قرآن ہے اور بالکل مکمل ہے۔


    آپ تو دھاگے کے تعلق سے یہ بتائیے کہ اصول کافی میں جو سترہ ہزار آیات کا تذکرہ ہے وہ کون سا قرآن ہے؟
    وہ قرآن کون سا ہے جو آپ کے امام غار میں لے گئے ہیں؟
    مصحف فاطمہ کا کیا ہوا جو موجودہ قرآن سے تین گنا بڑا ہے؟
    موجودہ قرآن تو وہ ہے جو آپ کے نزدیک نعوذباللہ مرتدین اور منافقین نے جمع کیا ہے، کمال ہے آپ ایک ایسے قرآن پر ایمان لے آئے ہیں جس کے جامعین آپ کے نزدیک مسلمان بھی نہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 7
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں