1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

شیعہ کا ایک علمی اعتراض

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جولائی 01، 2017۔

  1. ‏جولائی 01، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    شیعہ کا ایک علمی اعتراض، اہل سنت کے لئے لمحہ فکریہ
    ابوالوفا محمد حماد اثری
    اہل سنت سچ دلیل سے بات نہیں کرتے، انہوں نے تعصب کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے، اسی باعث علم سے دور ہیں، سارا دن شیعہ پہ اعتراضات کرتے رہتے ہیں، بھائی ! کبھی ان کو پڑھ بھی لیا کریں،شیعہ میں بڑے پائے کے اہل علم اور اہل دلیل پائے جاتے ہیں،
    قوت استدلال میں شاید ہی کوئی سنی ان کا ثانی ہو اور ہاں ! شیعہ پہ اعتراض سے قبل اپنی چار پائی کے نیچے ۔۔۔پھیر ا کریں ، ایک شیعہ دوست نے حدیث پیش کی ہے، جو اہل سنت کی کتابوں میں ہے اور ہے بھی صحیح ، لیکن اہل سنت ہیں کہ اسے مان کے نہیں دتے۔
    براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :
    خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ، وَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً، فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ» فَقَالُوا: حِينَ لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ إِلَّا كَذَا وَقَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عَمْرَةً؟ قَالَ: «انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ فَافْعَلُوا» قَالَ: فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانًا، فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ: مَنْ أَغْضَبَكَ أَغْضَبَهُ اللهُ قَالَ: «وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ بِالْأَمْرِ فَلَا أُتْبَعُ»
    رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے، ہم بھی ان کے ساتھ تھے، ہم نے حج کا احرام باندھ لیا، مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : جن کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لے، میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، صحابہ نے کہا : ہم نے تو حج کا احرام باندھا ہے یارسول اللہﷺ!فرمایا: جو کہہ رہا ہوں وہ کیجئے !صحابہ نے پھر وہی بات کی تو غصے میں عائشہ کے پاس آگئے،عائشہ نے ان کا غصہ دیکھا تو کہا : آپ کو کس نے غصہ دلایا اللہ اس کو غصہ دلائے ؟فرمایا:کیوں نہ غصے ہوں، میں ایک حکم دیتا ہوں اور صحابہ مان کے نہیں دیتے۔''
    (السنن الکبری للنسائی : 9946)
    یہ حدیث اصول حدیث کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے، اس کی صحت پر بہت سے قرائن موجود ہیں، مثلا :
    ابواسحاق سبیعی مدلس ہیں، امام نسائی (ذکر المدلسین : ص 122) ابو زرعہ عراقی (المدلسین :نص 4) ابن حجر (طبقات المدلسین : 91نص )
    نے مدلس کہا ہے،
    علائی نے کثیر التدلیس (جامع التحصیل : ص:245)
    اور اما م داراقطنی نے کہا ہے کہ
    ربما دلس
    اکثر تدلیس کر جاتے ہیں ۔
    (الالزامات والتتبع : 2621)
    یہ ایک صریح قرینہ ہے اس کی صحت پر ، خود علمائے اہل سنت وضاحت کر چکے کہ کثیر التدلیس کی حدیث مقبول نہیں ہوتی، اب جو مقبول نہیں تو یقینا وہ صحیح ہو گی، کیوں کہ ایک وقت میں کسی حدیث کا ایک ہی نام ہو سکتا ہے ، دو دو نام تو نہیں ہوسکتےنا،ہیں جی !
    دوسرا اور اہم قرینہ اس کی صحت کا یہ ہے کہ ابو اسحاق سبیعی آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے ۔
    حافظ ذہبی (من تکلم فیہ فہو موثق :نص 396)
    العلائی : (مختلطین :نص 35)
    اور نہیں معلوم کہ ابوبکر بن عیاش نے ان سے قبل از اختلاط سماع کیا یا بعد از اختلاط؟
    مختلط کی روایت تو اہل سنت کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے اور یہ ثابت ہے کہ دو اور دو جمع چار ہوتے ہیں، یعنی دو اہم خوبیاں ابو اسحاق سبیعی میں پائی جاتی ہیں، اختلاط اور تدلیس ، پس ضعیف جمع ضعیف ۔ضعیف جمع ضعیف مل کر حدیث حسن صحیح قرار پائی ۔مولف
    پس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ ماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ کو بددعا دی تھی ، اہل سنت نہیں مانتے تو نہ مانیں ۔ویسے بھی دلیل ان علم سے کوروں کو کہاں ہضم ہوتی ہے۔ہیں جی!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں