1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صالحین کے لیے لفظ "عارف باللہ" کا اطلاق

'عملی تصوف' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏مارچ 03، 2012۔

  1. ‏مارچ 03، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    [video=youtube;0aqy1UZFDj8]http://www.youtube.com/watch?v=0aqy1UZFDj8&feature=youtu.be[/video]​
     
  2. ‏مارچ 05، 2012 #2
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    بنیادی بات یہ ہے کہ کیاکوئی شخص خود کو عارف باللہ کہتاہے جوفلاتزکواانفسھم کی آیت پڑھی جائے
    یادوسرے لوگ کہتے ہیں
    تودوسرے لوگ توفضیلۃ الشیخ سماحۃ الشیخ ومعالی الشیخ اورپتانہیں کیاکیاشیخ بولتے ہیں اس کے علاوہ دیگر القاب وآداب بھی عرض کئے جاتے ہیں۔کیایہ تزکیہ نہیں ہے؟
    صاف اورسیدھی بات یہ ہے کہ سائل کا سوال ہی غلط ہے۔ کوئی شخص خود کو عارف باللہ نہیں کہتا۔دوسرے لوگ کہتے ہیں دوسروں کے کہنے سے کسی شخص پر کوئی حکم کیسے لگایاجاسکتاہے۔
     
  3. ‏مارچ 05، 2012 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم بھائی!
    ﴿ فلا تزکوا أنفسكم ﴾ میں أنفسكم سے مراد اپنا تزکیہ بھی ہے اور دوسرے مسلمانوں کا بھی، لہٰذا دونوں کی ہی ممانعت ہے۔ اور مفتی صاحب نے بھی اس سے عمومی تزکیہ ہی مراد لیا ہے (خواہ اپنا ہو یا کسی اور کا۔) ویڈیو سے شیخ صاحب کے عربی الفاظ سن کر دیکھ لیں۔

    جیسے آیت کریمہ ہے: ﴿ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۔۔۔ ١١
    کہ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ۔۔۔ ترجمہ مولانا مودودی﷫
    یہاں بھی أنفسكم سے مراد دیگر مسلمان بھائی ہیں، کیونکہ کوئی اپنے آپ کو الزام نہیں دیتا۔

    امام قرطبی﷫ نے سورۃ النجم کی درج بالا آیت کریمہ ﴿ فلا تزكوا أنفسكم ﴾ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس﷜ کا قول نقل فرمایا ہے: ما من أحد من هذه الأمة أزكّيه غير رسول اللهﷺ ۔۔۔ الجامع لأحكام القرآن
    کہ میں پوری امت میں سے نبی کریمﷺ کے سوا کسی کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔
    علاوہ ازیں سورۃ النساء کی آیت کریمہ ﴿ ألم تر إلى الذين يزكون أنفسهم بل الله يزكي من يشاء ﴾ کی تفسیر میں مفسرین نے اس نکتے کو نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے!

    صحیح بخاری میں حدیث مبارکہ بھی ہے: أن رجلا ذكر عند النبي ﷺ فأثنى عليه رجل خيرا ، فقال النبي ﷺ: « ويحك ، قطعت عنق صاحبك - يقوله مرارا - إن كان أحدكم مادحا لا محالة فليقل: أحسب كذا وكذا ، إن كان يرى أنه كذلك ، والله حسيبه ، ولا يزكي على الله أحدا » ۔۔۔ صحيح البخاري
    کہ نبی کریمﷺ کے پاس ایک صاحب کا تذکرہ کیا گیا تو اس کے متعلق ایک صحابی نے اچھے کلمات کہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تجھ پر افسوس، تونے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی (یہ بات آپ نے بار بار فرمائی) اگر تم میں سے کوئی کسی کی تعریف کرنا ہی چاہے تو کہے کہ میں فلاں کو ایسا اور ایسا گمان کرتا ہوں اگر وہ اُسے واقعی ایسا خیال کرتا ہے، اور اللہ ہی اس (کے اچھے برے اعمال کو جانتے ہیں اور وہی اس) کا حساب لینے والے ہیں۔ وہ اللہ پر کسی کا تزکیہ نہ کرے۔‘‘

    لہٰذا کسی کو عارف باللہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟
     
  4. ‏ستمبر 14، 2012 #4
    qureshi

    qureshi رکن
    جگہ:
    نہ تو زمیں کیلئے نہ آسماں کیلئے
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2012
    پیغامات:
    233
    موصول شکریہ جات:
    392
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    سبحان اللہ کیا بات آپ کے فہم کی- اور فضیلۃ اشیخ اللہ اکبر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں