1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صبح کی نیند (نماز کے بعد کی نیند) رزق میں کمی کا باعث ۔ حدیث کی تحقیق

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از saeedimranx2, ‏جنوری 18، 2019۔

  1. ‏جنوری 18، 2019 #1
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    صبح کی نیند (یعنی نماز کے بعد کی نیند)رزق میں کمی کا باعث بنتی ہے
    (مسند شہاب قضاعی١/ ٧٣, حلیة الاولياء ٩/ ٢٥١)
    حلیة اولیاء میں یہ روایت مندرجہ ذیل سند سے ہے:​
    حدثنا عبد الله بن محمد بن جعفر، من أصله , ثنا الحسن بن علي بن نصر الطوسي، ثنا محمد بن أسلم، ثنا حسين بن الوليد، ثنا سليمان بن أرقم، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن عثمان بن عفان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصبحة تمنع بعض الرزق»

    یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں سلیمان بن ارقم ہے جو کہ سخت ضعیف , متروک ہے.
    جبکہ مسند شہاب میں اس کی سند منددجہ ذیل ہے:
    - أخبرنا تراب بن عمر، أبنا عبد الله بن محمد بن المفسر، ثنا أحمد بن علي بن سعيد المروزي، ثنا يحيى بن عمر البزاز، ثنا إسماعيل بن عياش، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة، عن محمد بن يوسف، عن عمرو بن عثمان بن عفان، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الصبحة تمنع الرزق»
    یہ طریق بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ سخت ضعیف ہے اور بعض محدثین نے اسے متروک بھی قرار دیا ہے.
    مزید برآں اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہے جو کہ شامی ہے اس کے بارے میں محدثین کا اتفاق ہے کہ یہ جب غیر شامی راویوں کے حوالے سے کچھ بیان کرے تو وہ ضعیف ہے. جبکہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ مدینہ کے رہنے والے تھے.
    ضعیف راویوں کی تفصیل
    اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ
    یہ عثمان بن عفان کی آل کا غلام ہے۔
    ابن سعد نے کہا کہ منکر احادیث بیان کرتا ہے قابل احتجاج نہیں۔
    منقول ہے کہ زہری نے اسحق کو ایک روایت بیان کرتے ہوئے سنا :نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تو زہری نے ان سے کہا اے ابن ابو فروہ اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کرے تم اللہ کے بارے میں کیسی جرات کا مظاہرہ کر رہے ہوکیا تم حدیث کی سند بیان نہیں کرتے ہو۔تم ایسی حدیثیں بیان کررہے ہو جن کا کوئی سرپیر نہیں ہے۔
    معاویہ بن صالح نے یحیی بن معین کے حوالے سے کہا کہ اس کی حدیث مضبوط نہیں. ابن ابی مریم نے یحیی بن معین کے حوالے سے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں.
    امام بخاری نے انہیں متروک قرار دیا گیا ہے۔
    امام احمد نے ان کی روایات نقل کرنے سےمنع کیا ہے۔
    شیخ جوزجانی فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے نزدیک اسحاق بن ابو فروہ کے حوالے سے روایت کرنا جائز نہیں۔
    امام ابو زرعہ رازی نے کہا کہ متروک ہے.
    ابو حاتم رازی نے کہا کہ متروک ہے.
    نسائی نے کہا کہ متروک ہے.
    اسماعیل القاضی نے علی کے حوالے سے کہا کہ منکر حدیث ہے۔
    عمرو بن علی نے کہا کہ ذاہب الحدیث ہے.
    بزّار نے کہا کہ ضعیف ہے۔
    ابن شاہین نے کہا کہ ضعیف ہے۔
    الساجی نے کہا کہ ضعیف ہے۔
    دارقطنی نے کہا کہ متروک ہے.
    ابن حبان نے اس کا ذکر المجروحین میں کیا ہے اور کہا ہے کہ اسناد کو مقلوب کر دیتا ہے اور مرسل کو مرفوع کردیتا ہے.
    ابن عدی نے اس کے حوالے سے تمام روایات نقل کر کے فرماتے ہیں کہ میں جو روایات ذکر کی ہیں ان کی اسانید اور بعض روایات کےمتن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔
    ابن عمار نے کہا کہ ضعیف ذاہب ہے۔
    ابن خزیمہ نے کہا کہ اس کی حدیث قابل احتجاج نہیں ہے۔
    خلیلی نے کہا کہ سخت ضعیف ہے، اس پر مالک نے کلام کیا ہے اور شافعی نے اسے ترک کیا ہے۔
    ذہبی کہتے ہیں کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا کہ جس نے ان کا ساتھ دیا ہو یہ ضعیف و متروک ہے.
    ابن حجر نے کہا کہ چوتھے طبقہ کا متروک راوی کہا ہے
    (طبقات ابن سعد 7/ 523ح2082, تاریخ الکبیر1/ 387ح1260, ضعفاء الصغیر ص21 ح20, ضعفاء العقیلی1/ 102ح119الجرح والتعدیل 2/ 227ح792,علل ابن ابی حاتم فہرست 7/ 265,ضعفاء النسائی ص 154 ح 49, کشف الاستار احادیث 377, 2251, 596, 1777, المجروحین 1/ 142ح54, الکامل ابن عدی 1/ 530ح154, سنن دارقطنی 1/ 320 اور 4/ 113, ضعفاء دارقطنی ص143 ح 94 ,علل دارقطنی 1/ 305 اور 9/ 327, تہذیب الکمال 2/ 446ح367,الکاشف 1/ 237ح308, میزان الاعتدال1 /344ح 769 (اردو 1/ 270ح769), المغنی 1 /109ح566, دیوان الضعفاء, ص 27ح338, تذہیب التہذیب 1/ 329ح368, تہذیب التہذیب 1/ 227ح448, تقریب التہذیب 1/ 147ح371)
    سلیمان بن ارقم , ابو معاذ البصری
    ابو بکر ابن ابی خیثمہ نے ابن حنبل کے حوالے سے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں.
    عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے والد کے حوالے سے کہا کہ اس کی حدیث سیدھی نہیں اور میں نے اس کے حوالے سے حدیث روایت نہیں کرتا.
    عباس الدوری اور دارمی نے یحیی بن معین کے حوالے سے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں.
    عمرو بن علی نے کہا کہ یہ ثقہ نہیں منکر روایات بیان کرتا ہے.
    ابن عمار نے کہا کہ ضعیف ہے.
    بخاری نے کہا کہ اسے انہوں (محدثین) نے ترک کر دیا ہے.
    مسلم نے کہا کہ منکر الحدیث ہے.
    ابو زرعہ رازی نے کہا کہ ضعیف الحدیث ذاہب الحدیث ہے.
    ترمذی نے کہا کہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے
    ابو حاتم رازی , ترمذی, نسائی اور ابن خراش نے کہا کہ ضعیف ہے .
    ابو داود اور دارقطنی نے کہا کہ متروک ہے.
    ابن حبان نے کہا کہ مقلوب خبریں بیان کرتا ہے اور ثقہ راویوں کے حوالے سے موضوع روایات کرتا ہے.
    ابن عدی نے کہا کہ عام طور پر اس کی روایات کی متابعت نہیں کی جاتی.
    ذہبی نے کہا کہ واہی الحدیث ہے, ضعیف متروک ہے.
    ابن حجر نے کہا کہ ساتویں طبقہ کا ضعیف راوی ہے.
    تاريخ يحيى بروايت الدوری 2 / 228، تاريخ دارمی ص138 ح401، علل احمد 2/ 67ح1570 اور 2/ 393 ح2756 ، تاريخ الكبير 4 / 2ح 1756، ضعفاء الصغيرص54 ح 142,الکنی مسلم ص 776ح3165،سؤالات آجری2/ ص195 ح1578, جامع ترمذی حدیث 53، المعرفة والتاریخ3/ 35، ضعفاء النسائی ص190 ح 246، ضعفاء العقيلي2 /122ح599، الجرح والتعديل 4 / 100ح 450، علل ابن ابی حاتم 2/ 618ح644, المجروحين 1/ 413ح404 ، الكامل لابن عدی4/ 228ح734، ضعفاء دارقطنی ص224 ح 248، علل دار قطنی7/ 415, 8/ 361 اور 9 /11 ، تاريخ بغداد10 / 18ح4565، تاريخ دمشق 22/ 179ح2649، تہذیب الکمال11/ 351ح2491 ، تذہيب التہذيب4/ 125ح2524 ، الكاشف1/ 456ح268، ميزان الاعتدال3/ 279ح3430(اردو3/ 274ح3430) ، المغنی 1 /423 ح 2560، ديوان الضعفاء ص170 ح 1728، تہذیب التہذیب3/ 8ح2970 , تقریب التہذیب2 /300ح2547)​
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 18، 2019
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 19، 2019 #2
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    النّهْيُ عَنِ النَّوْمِ عِنْدَ الصَّبَاحِ
    صبح کے وقت سونے کی ممانعت


    سلسلة الأحاديث الضعيفة و الموضوعة للألباني

    ٣٠١٩ - قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الإمَامِ أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ حَدَّثَنَا «إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ» عَنِ « ابْنِ أَبِي فَرْوَةَ » عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ »


    ترجمہ: صبح کے وقت سونا رزق کو روکتا ہے۔

    تخريج: زوائد مسند أحمد لعبد الله بن أحمد بن حنبل (المتوفى: ٢٩٠ھ)؛ شرح مشكل الآثار للطحاوي (١٠٧٤) (المتوفى: ٣٢١ھ)؛ الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (في ترجمة ١٥٤- إسحاق بن عَبد اللَّه بن أبي فروة أبو سليمان المديني مولى لآل عثمان بن عفان) (المتوفى: ٣٦٥ھ)؛ جزء ابن غطريف الجرجاني (٤٢) (المتوفى: ٣٧٧ھ)؛ حديث أبي الحسن السكري (١٨) (المتوفى: ٣٨٦ھ)؛ أبو الحسن ابن الحمامي (المتوفى: ٤١٧ھ)؛ حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبي نعيم الأصبهاني (المتوفى: ٤٣٠ھ)؛ مسند الشهاب للقضاعي (٦٥) (المتوفى: ٤٥٤ھ)؛ شعب الإيمان للبيهقي (٤٤٠٢) (المتوفى: ٤٥٨ھ)؛ المشيخة الكبرى لقاضي المارِسْتان (٦٣) (المتوفى: ٥٣٥ھ)؛ الفردوس بمأثور الخطاب للديلمي (٣٨٦٨) (المتوفى: ٥٠٩ھ)؛ تاريخ دمشق لابن عساكر (في ترجمة ١٦٣١ - الحسين بن الوليد أبو علي؛ و ٥٣٧٦ - عمرو بن عثمان بن عفان) (المتوفى: ٥٧١ھ)؛ العلل المتناهية في الأحاديث الواهية (١١٦٢) و الموضوعات لابن الجوزي (المتوفى: ٥٩٧ھ)؛ الثاني من معجم شيوخ الدمياطي (٩، ١٠، ١١) (المتوفى: ٧٠٥ھ)؛ (ضعيف جداً)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: اس سند کے راوی ابن ابی فروہ کا نام اسحاق بن عبد اللّٰہ ہے اور وہ متروک ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے۔
    [مترجم: اسماعیل بن عیاش کے متعلق حافظ ابن حجر کہتے ہیں: اپنے شہر والوں سے روایت کرنے میں صدوق ہے اور دوسروں سے روایت کرنے میں مخلط (اختلاط والے) ہے].
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ اس سند میں اسماعیل بن عیاش کو اضطراب ہو گیا ہے، اسماعیل بن عیاش نے کبھی یہ حدیث ابن ابی فروہ سے (جیسا کہ عبد اللہ بن امام احمد اور ابن عدی کی سند میں ہے)، کبھی ( إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) سے (جیسا کہ طحاوی وغیرہ کی سند میں ہے) اور کبھی (عن رجل - قد سماه - عن محمد بن يوسف عن عمرو بن عثمان ابن عفان عن أبيه) سے روایت کی ہے (جیسا کہ عبد اللہ بن امام احمد کی دوسری سند میں ہے).

    اس حدیث کو ابن عدی نے درج ذیل سند سے انس رضی اللّٰہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے:

    قَالَ ابن عدي: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنا يُونُس بْنُ عَبد الأَعْلَى حَدَّثَنا ابْنُ وَهَبٍ قَالَ وَ أَخْبَرَنِي مَسْلَمَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ «رَجُلٍ» عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبد اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ أَن النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم قَالَ: « إِنَّ الصُّبْحَةَ تَمْنَعُ بَعْضَ الرِّزْقِ »

    اس روایت کے بعد ابن عدی کہتے ہیں کہ سند میں جس کا نام نہیں بتایا گیا وہ ابن ابی فروہ ہے، ابن ابی فروہ کو اس سند میں اختلاط ہو گیا ہے، اور یہ حدیث اسی سے معروف ہے۔
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: ابن عدی رحمہ اللّٰہ نے ایسا ہی کہا ہے، ان کی بات پر پہلی سند رد کر رہی ہے۔ ابن ابی فروہ کا نام اسحاق بن عبد اللّٰہ ہے اور وہ متروک ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے۔ شعب الایمان میں بیہقی رحمہ اللّٰہ نے بھی یہی کہا ہے کہ اس سند میں اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فروہ کو اختلاط ہو گیا ہے۔ (اصل میں اختلاط اسماعیل بن عیاش کو ہوا ہے).

    اس حدیث کو ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں ( اور ابن غطریف وغیرہ نے ) درج ذیل سند سے روایت کیا ہے:

    قال ابن غطريف: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا «سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ» عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ »


    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند بہت زیادہ ضعیف ہے، سلیمان بن ارقم متروک ہے۔

    [مترجم: ابن عدی اور بیہقی رحمہما اللّٰہ نے کہا ہے کہ ہیثم بن خارجہ نے کبھی عن یوسف بن عثمان کہا ہے اور کبھی عن یوسف بن محمد کہا ہے۔
    میں کہتا ہوں کہ بعض سندوں میں محمد بن یوسف ہے اور بعض میں یوسف بن محمد ہے]۔

    نوٹ: میں نے شیخ البانی رحمہ اللّٰہ کے کلام کو آسانی سے سمجھانے کے لئے اوپر نیچے کیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 22، 2019 #3
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    جزاک اللہ۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس محنت کا اجر خاص دے۔ امین
     
  4. ‏جنوری 22، 2019 #4
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    آمين
     
  5. ‏جون 21، 2019 #5
    zahra

    zahra مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 04، 2018
    پیغامات:
    144
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    jazak Allah nice sharing thanks
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں