1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے تفسیری اقوال امام ابو جعفر النحاس رحمہ اللہ کی نظر میں

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اپریل 02، 2019۔

  1. ‏اپریل 02، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    851
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    "صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تفسیری اقوال امام ابو جعفر النحاس رحمہ اللہ کی نظر میں"

    امام أبو جعفر أحمد بن محمد بن إسماعيل النحاس رحمہ اللہ (المتوفی : ٣٣٨ھ) فرماتے ہیں :

    إذا تكلم صحابي في آية ولم يعلم أحد من الصحابة رضي الله عنهم خالفه لم يسع مخالفته لأنهم أعلم بالتنزيل والتأويل.

    "جب ایک صحابی کسی آیت کی تفسیر بیان کریں اور ان کی مخالفت دوسرے صحابہ میں سے کسی سے معلوم نہ ہو تو ایسی تفسیر کی مخالفت کی بالکل گنجائش نہیں ہوتی کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تنزیل و تفسیرِ قرآن کو زیادہ جاننے والے تھے."

    (الناسخ والمنسوخ للنحاس : ٦٨٧، طبع مكتبة الفلاح الكويت)

    اسی طرح فرماتے ہیں :

    تفسير الآية إذا جاء عن صحابي لم يسع أحد مخالفته ولاسيما إذا كان مع قوله سبب نزول الآية.

    "جب کسی آیت کی تفسیر صحابی سے ثابت ہو جائے تو اس میں کسی کے اختلاف کی گنجائش نہیں، خصوصاً جب ان کے قول کے ساتھ سبب نزول کا بھی بیان ہو."

    ( أيضا : ٧١١)

    ایک جگہ ایک تفسیری قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

    إذا تكلم أحد من المتأخرين في معنى آية من القرآن قد تقدم كلام المتقدمين فيها فخرج عن قولهم، لم يلتفت إلى قوله.

    " جب کوئی متأخر کسی قرآنی آیت کی تفسیر بیان کرے جس کی تفسیر متقدمین کر چکے ہوں اور یہ متأخر ان کی مخالفت کرے تو اس کے قول کی طرف بالکل التفات نہیں کیا جائے گا."

    (الناسخ والمنسوخ للنحاس : ٤٢٣ )

    ایک آیت کی تفسیر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں چونکہ کسی دوسرے صحابی نے اس پر انکار نہیں کیا لہذا یہ اجماع کے باب سے ہے."

    ( الناسخ والمنسوخ : ٢١٩)

    اسی طرح ایک تفسیری قول ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں ہمارے علم کے مطابق صحابہ و تابعین اور فقہاء میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کی، صرف بعض متاخرین نے یہ بات کہی ہے جو اجماع سے نکلے ہیں.
    ( أيضا : ٤٢٣)

    ✍️ الانتقاء : حافظ محمد طاهر بن محمد
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عامر عدنان
    جوابات:
    4
    مناظر:
    105
  2. نسیم احمد
    جوابات:
    1
    مناظر:
    66
  3. ابن داود
    جوابات:
    2
    مناظر:
    123
  4. محمد فیض الابرار
    جوابات:
    0
    مناظر:
    74
  5. ابو حسن
    جوابات:
    0
    مناظر:
    94

اس صفحے کو مشتہر کریں