1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابیہ کی دعاء پر فوت شدہ بیٹے کا دوبارہ زندہ ہونا

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از تعلیم, ‏اکتوبر 04، 2018۔

  1. ‏اکتوبر 04، 2018 #1
    تعلیم

    تعلیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 02، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    حیاۃ الصحابہ (ج دوم ص615) میں لکھا ہے کہ ایک صحابیہ کا بیٹا فوت ہوگا ، لیکن پھر صحابیہ نے دعا کی تو وہ فوت شدہ بیٹا دوبارہ زندہ ہوگیا ، اس واقعہ کی کیا حقیقت ہے۔

    حیاۃ الصحابہ (ج دوم ص615) زیر عنوان : صحابہ کرام کے شہدا میں زندگی کے آثار
     
  2. ‏اکتوبر 04، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    حیاۃ صحابہ جلد دوم ص 615 " پر صحابیہ کے بیٹے کا واقعہ یہ لکھا ہے :
    ــــــــــــــــــــ
    حضرت عبداللہ بن عون کہتے ہیں: حضرت انس ؓ نے فرمایا: میں نے اس اُمّت میں ایسی تین باتیں پائی ہیں کہ وہ اگر بنی اسرئیل میں ہو تیں توکوئی اُمّت ان کا مقابلہ اور ان کی برابری نہ کرسکتی۔ ہم نے کہا: اے ابوحمزہ! وہ تین باتیں کیا ہیں؟ انھوں نے فرمایا: ایک مرتبہ ہم لوگ صُفَّہ میں حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک مہاجر عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو کہ بالغ تھا۔ حضور ﷺ نے اس عورت کو (مدینہ کی) عورتوں کے سپرد کردیا اور اس کے بیٹے کو ہمارے ساتھ شامل کردیا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ مدینہ کی وبامیں مبتلاہوگیا اور چند دن بیمار رہ کر فوت ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس کی آنکھیں بند کیں اور ہمیں اس کا جنازہ تیار کرنے کا حکم دیا۔ جب ہم نے اسے غسل دینا چاہا تو حضورﷺ نے فرمایا: جاکر اس کی والدہ کو بتادو۔ چناںچہ میں نے اسے بتادیا۔ وہ آئی اور بیٹے کے پیروں کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے دونوں پائوں پکڑ کر اس نے یہ دعامانگی: اے اللہ! میں اپنی خوشی سے مسلمان ہوئی اور میرے دل کا میلان بتوں سے
    بالکل ہٹ گیا۔ اس لیے میں نے انھیں چھوڑاہے، اور تیری وجہ سے بڑے شوق سے میں نے ہجرت کی۔ اور مجھ پر یہ مصیبت بھیج کر بتوں کے پوجنے والوںکو خوش نہ کر اور جو مصیبت میں اٹھا نہیں سکتی وہ مجھ پر نہ ڈال۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں: ابھی اس کی والدہ کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ اس کے بیٹے نے اپنے قدموں کو ہلایا اور اپنے چہرے سے کپڑاہٹایا (اور زندہ ہوکر بیٹھ گیا) اور بہت عرصہ تک زندہ رہا یہاں تک کہ حضورﷺ کا انتقال ہوگیا اور اس کے سامنے اس کی ماں کا بھی انتقال ہوا۔ پھر آگے اور حدیث ذکرکی جیسے کہ ہم عن قریب ذکرکریںگے۔
    https://archive.org/details/Hayat-us-sahabaR.aurdu-3/page/n614
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ واقعہ امام بیہقیؒ نے "دلائل النبوۃ "(دلائل النبوة للبيهقي - ج 6 ص52 )
    میں درج ذیل اسناد اور متن سے نقل فرمایا ہے :

    أخبرنا أبو عبد الرحمن: محمد بن الحسين السلمي، حدثنا أبو أحمد:
    محمد بن محمد بن أحمد بن إسحاق الحافظ، حدثنا أبو الليث سهل بن معاذ التميمي بدمشق، حدثنا أبو حمزة إدريس بن يونس، حدثنا محمد بن يزيد بن سلمة، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبد الله بن عون، عن أنس، قال:
    أدركت في هذه الأمة ثلاثا لو كانوا في بني إسرائيل لما تقاسمتها الأمم، لكان عجبا، قلن: ما هن يا أبا حمزة؟ قال: كنا في الصفة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم
    فأتته امرأة مهاجرة ومعها ابن لها قد بلغ، فأضاف المرأة إلى النساء، وأضاف ابنها إلينا، فلم يلبث أن أصابه وباء المدينة، فمرض أياما ثم قبض، فغمضه النبي صلى الله عليه وسلم وأمر بجهازه، فلما أردنا أن نغسله، قال: يا أنس ائت أمه، فأعلمها، قال: فأعلمتها، فجاءت حتى جلست عند قدميه فأخذت بهما، ثم قالت: اللهم إني أسلمت لك طوعا وخلعت الأوثان زهدا، وهاجرت إليك رغبة، اللهم لا تشمت بي عبدة الأوثان، ولا تحملني من هذه المصيبة ما لا طاقة لي بحملها، قال: فو الله ما تقضى كلامها حتى حرك قدميه، وألقى الثوب عن وجهه، وعاش حتى قبض الله رسول صلى الله عليه وسلم، وحتى هلكت أمه.))

    دلائل النبوۃ ج6ص51 )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن اس کی اسناد منقطع ہے ،حافظ ابنِ کثیر فرماتے ہیں :
    ((قال البيهقي: وقد روى من وجه آخر مرسل. يعني فيه انقطاع بين ابن عون وأنس بن مالك، ))
    یعنی اس کے راوی عبد الله بن عون کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع و ملاقات کا شرف نہیں ملا ،اسلئے یہ روایت منقطع ہے "( البدایۃ والنہایۃ )
    اور منقطع روایت ضعیف اور ناقابل حجت ہوتی ہے ،​
     
    Last edited: ‏اکتوبر 04، 2018
    • علمی علمی x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 04، 2018 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جزاکم اللہ خیرا۔
    یہ آپ نے اچھا کیا کہ اس واقعہ کی حقیقت بیان کردی اب ان شاء اللہ بہت سے لوگ سرچ کرکے بھی اس واقعہ کی حقیقت معلوم کرسکتے ہیں ۔
    انقطاع کی بات امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے ۔
    امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327) فرماتے ہیں:
    سمعت أبي يقول جماعة بالبصرة قد رأوا أنس بن مالك ولم يسمعوا منه منهم ابن عون [المراسيل لابن أبي حاتم ت قوجاني: ص: 113]

    اور حیاہ الصحابہ میں اس سے قبل ایک اور حوالے سے یہ واقعہ منقول ہے ، اسے ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے اورانہیں کے طریق سے بیہقی نے روایت کیا ہے اور دونوں کے یہاں سند میں صالح المری موجود ہے جو جھوٹے قصے بیان کرتا تھا ملاحظہ ہو ابن ابی الدنیا اور اور امام بیہقی کے الفاظ:
    حدثنا خالد بن خداش بن عجلان المهلبي، وإسماعيل بن إبراهيم بن بسام، قالا: نا صالح المري، عن ثابت البناني، عن أنس بن مالك، قال: " عدت شابا من الأنصار فما كان بأسرع من أن مات، فأغمضناه ومددنا عليه الثوب، فقال بعضنا لأمه: احتسبيه، قالت: وقد مات؟ قلنا: نعم، قالت: أحق ما تقولون؟ قلنا: نعم، فمدت يديها إلى السماء، وقالت: اللهم إني آمنت بك، وهاجرت إلى رسولك، فإذا أنزلت بي شدة شديدة دعوتك، ففرجتها، فأسألك اللهم لا تحمل علي هذه المصيبة اليوم. قال: فكشف الثوب عن وجهه فما برحنا حتى أكلنا وأكل معنا [من عاش بعد الموت لابن أبي الدنيا ص: 12]

    وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأنا الحسين بن صفوان حدثنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثنا خالد بن خداس بن عجلان المهلبي وإسماعيل بن إبراهيم بن بسام قالا حدثنا صالح المري عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال عدت شابا من الأنصار فما كان بأسرع من أن مات فأغمضناه ومددنا عليه الثوب قال بعضنا لأمه احتسبيه قالت وقد مات قلنا نعم قالت أحق ما تقولون قلنا نعم فمدت يديها إلى السماء وقالت اللهم إني آمنت بك وهاجرت إلى رسولك فإذا نزلت بي شديدة دعوتك ففرجتها فأسألك اللهم لا تحمل علي هذه المصيبة اليوم قال فكشف الثوب عن وجهه فما برحنا حتى أكلنا وأكل معنا [دلائل النبوة ـ للبيهقى 6/ 51]

    اسے بیان کرنے والا صالح المری ہے ۔
    اس پر بہت سارے محدثین نے جرح کی ہے اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ جھوٹے اور من گھڑت قصے بیان کرتاتھا ۔
    امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)فرماتے ہیں:
    فظهر في روايته الموضوعات التي يرويها عن الأثبات واستحق الترك عند الاحتجاج [المجروحين لابن حبان، تزايد: 1/ 372]

    محمد بن طاهر ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى507)فرماتے ہیں:
    صالح بن بشير المري وهو متروك الحديث [معرفة التذكرة لابن القيسراني: ص: 98]
     
    • علمی علمی x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں