1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح اسلامی عقیدہ (سوال و جواب)

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از جلال Salafi, ‏اپریل 16، 2019۔

  1. ‏اپریل 16، 2019 #1
    جلال Salafi

    جلال Salafi مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    س:اللہ نے ہمیں کس لیے پیدا کیا ہے؟
    ج:اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
    دلائل قران سے

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِالذاریات56
    میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں

    تفسیر مکہ:
    اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب و مطلوب ہے کہ تمام انس وجن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادہ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت و اطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت باز پرس ہوگی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔

    تفسیر تیسیر القران:
    [٤٨] عبادت کا وسیع مفہوم :۔ ساری کائنات میں جن اور انسان ہی تکالیف شرعیہ کی مکلف مخلوق ہے۔ ان کو میں نے دوسروں کی بندگی کے لیے نہیں بلکہ اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے کہ میں ہی ان کا خالق ہوں۔ اب اگر یہ مجھے اپنا خالق تسلیم کرنے کے باوجود بندگی دوسروں کی کرنے لگیں تو ان کی حماقت کی کوئی حد ہے؟ اور دوسرے جب وہ خالق ہی نہیں تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ بندگی کے مستحق یا معبود بن بیٹھیں۔ واضح رہے کہ عبادت کا مفہوم محض ارکان اسلام کی بجا آوری نہیں ہے جیسا کہ عوام میں مشہور ہوچکا ہے۔ بلکہ غلام ہر وقت اپنے مالک کا غلام ہے۔ اگر مالک نے کچھ کاموں پر اس کی ڈیوٹی لگا دی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالک اسے کوئی دوسرا کام کرنے کو کہہ نہیں سکتا۔ یا ملازم ڈیوٹی کے طے شدہ کام کے علاوہ دوسرے کام سے انکار کا حق رکھتا ہے۔ لہذا بندہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کا بندہ ہے اور اسے ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف رہنا چاہئے۔

    تفسیر سعدی:
    وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیائ ورسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے وہ اللہ کی عباد ہے جو اس کی معرفت اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے اور یہ چیز اللہ کی معرفت ہے وابستہ ہے بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہوگی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہوگی یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ نے مکلفین کو پیدا کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ ان سے کوئی ضرورت تھی۔

    تفسیر تیسیر الرحمن:
    (23) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ میں انہیں اپنی عبادت کا حکم دوں، ورنہ مجھے ان کے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ شو کانی لکھتے ہیں کہ اوپر کی آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کریم پڑھ کر نصیحت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے، اسی کی تائید میں یہ بات کہی گئی ہے، یعنی چونکہ انسانوں کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت کرنا ہے، اس لئے آپ بہرحال انہیں نصیحت کرتے رہئے اور ان کی تخلیق کا یہ مقصد مشرکین مکہ سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ آپ کی نصیحت قبول کریں۔
    تفسیر اشرف الحواشی:
    ف 9 اس سے معلوم ہوا کہ جن وا انس کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ان کو عبادت و طاعت کا مکلف بنایا جائے تاکہ فرمانبردار کو ثواب اور نافرمان کو سزا دی جائے پھر جو لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور پیغمبروں کی شریعت پر عمل پیرا نہیں ہوتے، وہ اپنی زندگی کے مقصد سے غافل ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اصل چیزتوحید کی راہ اختیار کرنا ہے۔ اس بنا پر حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا لفظ آیا ہے اس سے مراد توحید ہے۔ امام ابن تیمیمہ فرماتے ہیں کہ عبادت ایک جامع لفظ ہے اور بہت وسیع فمہوم کا حامل ہے یعنی ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے) اسے عبادت کہا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے۔ ” حتی کہ انسان جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے وہ بھی موجب اجر ہے۔ (فتح البیان وغیرہ)


    حدیث سے
    كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ
    بَابُ اسْمِ الفَرَسِ وَالحِمَارِ
    2856صحیححَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ يَحْيَى بْنَ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟»، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ؟ قَالَ: «لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا»

    کتاب: جہاد کا بیان
    باب : گھوڑوں اور گدھوں کا نام رکھنا
    ترجمہ : ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن آدم سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالحوص نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے عمروبن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کربیٹھیں گے ۔ ( اورنیک اعمال سے غافل ہوجائیں گے )
    تشریح: یہاں گدھے کا نام عفیر مذکور ہے‘ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔ حدیث ہذا سے شرک کی انتہائی مذمت اور توحید کی انتہائی خوبی بھی ثابت ہوئی۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں مذکور ہے کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے جو شخص بحالت شرک دنیا سے چلا گیا‘ اس کے لئے جنت قطعاً حرام ہے۔ وہ ہمیشہ کے لئے نار دوزخ میں جلتا رہے گا۔ صد افسوس کہ کتنے نام نہاد مسلمان ہیں جو قرآن مجید پڑھنے کے باوجود اندھے ہو کر شرکیہ کاموں میں گرفتار ہیں بلکہ بت پرستوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ جو قبروں میں دفن شدہ بزرگوں سے حاجات طلب کرتے‘ دور دراز سے ان کی دھائی دیتے اور ان کے ناموں کی نذر نیاز کرتے ہیں اور ایسے ایسے غلط اعتقادات بزرگوں کے بارے میں رکھتے ہیں جو اعتقاد کھلے ہوئے شرکیہ اعتقادہیں اور جو بت پرستوں کو ہی زیب دیتے ہیں مگر نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کو برباد کردیا ہے ھداھم اللہ الی صراط مستقیم توحید و شرک کی تفصیلات کے لئے تقویۃ الایمان کا مطالعہ نہایت اہم اور ضروری ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 16، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں