1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح البخاری کی راویت کا تحقیقی جائزه.

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏ستمبر 15، 2017۔

  1. ‏ستمبر 15، 2017 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    صحیح البخاری کی راویت کا تحقیقی جائزه.
    .
    "حدثنا علی بن عبدالله بن جعفر حدثنا معن بن عیسی حدثنا ابی بن عباس بن سهل عن ابیه عن جده قال کان للنبی صلی الله علیه وسلم فی حائطنا فرس یقال له اللحیف."
    (صحیح البخاری, کتاب الجهاد باب ۴۶ ح ۲۸۵۵.)
    "قال محمد بن ابی بکر بن ابی عیسی المدینی هذا حدیث صحیح" تفصیل آخر
    .
    اعتراض:
    اس روایت پر بعض حضرات اعتراض کرتے هیں کے جناب اس کی سند میں ابی بن عباس راوی جو کے ضعیف هے
    جس پر محدثین نے جرح کی هے.
    حافظ ذهبی نے میزان الاعتدال ج ۱ ص ۷۸ پر نقل کرتے هیں:
    "ضعفه لابن معین, احمد بن حنبل منکر الحدیث, وقال نسائی والدولابی لیس بالقوی امام بخاری لیس بالقوی, دارقطنی ضعیف, مصنفوا تحریر تقریب ضعیف وساجی ضعیف. وقال عقیلی له احادیث لا یتابع علی شیء منها."
    (تهذیب التهذیب لابن حجر ج ۱. التعدیل والتجرح ابوولید للباجی ج ۱ ص ۳۹۹ رقم ۱۱۱؛ الکامل لابن عدی ج ۲ ص ۲۱۸. ضعفاء للنسائی رقم ۲۸۴, طبقات لابن سعد ج ۵ ص ۳۱۱, ۳۱۲ لم یذکر فیه جرحا واتعدیلا. والکمال للمزی ج ۲ ص ۲۵۹.)
    .
    الجواب:
    اس پر جو جرح ضعیف ولا یتابع علی کی تو وه جرح مفسر نهیں اس هی وجه سے تو حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب ج ۱ میں فیه ضعف کها هے.
    نوٹ:
    ایک راوی هے اشعث بن سوار الکندی الکوفی جو کے مختلف فیه راوی اور جمهور نے اسکو ضعیف بتایا هے.
    (دیکھے توضیح الکلام پر ایک نظر از حبیب الله ڈیروی ص ۲۷۴, ۲۷۵.)
    اس پر بهی عقیلی نے لایتابع علیه کی جرح کی اور دوسروں نے ضعیف کی جرح کی.
    مگر حنفی حضرات نے اسکا جواب یه دیا کے یه جرح مفسر نهیں زیعلی نے اسکی راویت کی سند کو جید بتایا مسلم نے متابعت میں راویت لی ابن معین نے ثقه بتایا لهذا یه راوی حسن الحدیث هے. ان کے الفاظ هیں.
    "فحدیثه حسن ولا شک لا جرم... اسناد انه جید"
    (فتاوی رضویه ج ۱۴ ص ۵۲۴, ۵۲۳, و حاشیه تقریب التهذیب از احمد رضا خان ص ۸۲, ۸۳ ط دارالنعمان. نیز حنفی حضرات اسکو ثقه اور اسکی حدیث کو قابل احتجاج کهتے هیں دیکھے احمد عثمان کی اعلاء السنن ج ۴ ص ۴۵ نیز ج ۱ ص ۲۵۰, شرح معانی الآثار ج ۱ ص ۲۷۴.)
    .
    جب زیعلی کے حکم سے حسن الحدیث هوسکتا هے تو حاکم ابن القیم ذهبی وغیره کے کهنے سے تو پهر بالاولی حسن الحدیث هوگا.
    نیز یاد رهے کے عقیلی متشدد بهی هے. لهذا عقیلی کی جرح سے راوی ضعیف نهیں هوگا.
    باقی رها منکر الحدیث کهنا تو عرض هے کے منکر الحدیث کا لفظ امام احمد کی ایک خاص اصطلاح هے جس سے راوی ضعیف نهیں بلکه احمد سے تفرد مراد لیتے هیں تفصیل دیکھے.
    (توضیح الکلام ص ۴۵۴, ۴۵۵, احسن الکلام ج ۱ ص ۲۳۹, نیز توضیح الکلام ص ۱۶۹, ۱۷۰ ط جدید. نیز شفا العلیل بالفاظ وقواعد الجرح وتعدیل ص ۳۱۰, ۳۱۱. وغیرهم )

    جرح لیس بالقوی کا جواب:
    اس روای پر محدثین میں سے بخاری الدولابی و نسائی وغیره نے "لیس بالقوی کی جرح بیان کی.
    مگر ان میں سے تو دولابی کی جرح مردود, وجه اسکی یه هے کے وه خود متکلم فیه هے جیسا علامه البانی نے بیان کیا هے. اور ابن یونس نے ضعیف بتایا هے زبیر علیزئی صاحب کهتے هیں قول راجح میں ضعیف هے.
    (الحدیث شماره ۴۹, ص ۳۴.)
    بهرحال لیس بالقوی عموم جرح پر دلالت نهیں کرتا اس سے صرف درجه کامله کی نفی مراد هوتی هے الایه کے کوئی قراینه صارف موجود هو. بلکه بعض نے تو اس لفظ کے متعلق یه بتایا هے کے لیس بالقوی کا لفظ "صدوق" کیلئے استعمال هوتا هے. ان کے الفاظ هیں.

    "یطلق لیس بالقوی علی الصدوق.

    (التذنیب از مولانا امیر علی حنفی ص ۲۴. مزید تفصیل کیلئے دیکھے توضیح الکلام از ارشاد الحق اثری ص ۱۶۹ نیز ۲۱۸, یزید بن معاویه پر الزامات کا تحقیقی جائزه از کفایت الله سنابلی ص ۶۳۴ و ۶۳۵. النصیحه للبانی ص ۱۸۳, التنکیل للمعلمی ص ۲۳۲, نور العنینن للزبیر علی زئی ص ۸۳, غیث الغمام للکهنوی ص ۱۵۸, الموقظه للذهبی ص ۸۲. الکفایه للخطیب ۲۳, مجموع الفتاوی ج ۲۴ ص ۱۵۴ وغیره.)
    .
    لهذا بخاری کا لیس بالقوی بتانا اور پهر خود اس سے احتجاج کرنا یه بتاتا هے کے یه راوی بخاری کے نزدیک حسن الحدیث هے.
    کیونکه بخاری نے اس سے صحیح میں روایت لی اور احتجاج کیا.
    (رجال صحیح البخاری للکلاباذی رقم ۹۹. رجال صحیحین ص ۱۴, ۱۵ ت ۹۶.)
    محمد بن طاهر المقدسی نے بتایا هے کے بخاری نے حماد بن سلمه سے استشهاد روایت لی تو ثقه هے.
    جب استشهاد روایت سے راوی ثقه هے تو احتجاج سے بالاولی ثقه هے.!
    نوٹ:
    بعض حضرات کی تصریح کے مطابق امام بخاری جس راوی کے متعلق لیس بالقوی کهتے هیں اس سے مراد ضعیف هوتا هے.!
    (الموقظه للذهبی ۸۳.)
    بهرحال بخاری نے احتجاج کر کے بتا دیا کے بخاری کے نزدیک یه راوی احتجاج کے قابل هے.
    .
    ۲: ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا هے.
    (کتاب الثقات ج ۴ ص ۵۱.)
    .
    ۳: دارقطنی نے اسکو قوی بتایا هے. اور اس کے متعلق دارقطنی کهتے هیں تکلموا فیه. ومرۃ ضعیف
    (اکمال تهذیب الکمال المغلطائی حنفی رقم ۳۲۴ ج ۱ ص ۳۹۹. من تکلم وهو موثق رقم ۱۲. سوالات الحاکم للدارقطنی ۲۸۴, الالزامات ص ۲۰۳. )
    حنفی حضرات احمد تهانوی صاحب کهتے هیں که ایک هی محدث سے جرح وتعدیل میں اختلاف کی صورت میں اعتبار توثیق کا هو گا.
    (انهاء السکن ص ۱۰۵.)
    اس سے قطع نظر یه بات صحیح هے کے نهیں عرض هے که اس میں تطبیق یوں دی جاسکتی هے کے دارقطنی اسکو فی نفسه قوی کهتے هیں.
    .
    ۴: حاکم نے اسکی حدیث کی تصحیح کی
    (اکمال تهذیب الکمال المغلطائی حنفی رقم ۳۲۴ ج ۱ ص ۳۹۹.)
    .
    ۵: ابن عدی نے یکتب حدیثه کها.
    (الکامل لابن عدی ج ۲ ص ۲۱۸.)
    .
    ۶: ذهبی کهتے هیں
    "عدۃ ضعفوۂ...وقد احتج البخاری."
    (الکاشف ۲۲۹.)
    وقال ذهبی فی المغنی ص ۳۲, رقم ۲۲۸ وثق...
    وقال ذهبی نے میزان لاعتدال ج ۱ ص ۷۸. میں جرح نقل کرنے کے بعد اپنا فیصله کیا کے یه راوی "حسن الحدیث." هے.
    وذکر ذهبی فی من تکلم فیه وهو موثق ص ۳۲ رقم ۱۲.
    اس میں بهی انهاء السکن کا حواله یاد رهے. بهرحال یه راوی ذهبی کے نزدیک حسن الحدیث تو ضرور هے ان شاءالله والله اعلم
    .
    ۷: ترمذی نے اسکی حدیث کو حسن بتایا هے.
    (جامع ترمذی حدیث ۲۲۹۷. و نسخه ترمذی مع التحفه ج ۳ ص ۲۵۴.)

    .
    ۸: شیخ الاسلام ثانی ابن القیم نے اسکو ایک جگه ثقه اور دوسری جگه حسن الحدیث بتایا هے.
    (جلاء الافهام ص ۵۵ و ۳۵۵, وفی نسخه ص ۲۰ و ص ۲۱۴. ومترجم نسخه از قاضی سلیمان منصورپوری ص ۳۶, ص ۲۵۸.)
    .
    ۹: محمد بن ابی بکر بن ابی عیسی المدینی اپنی "کتاب اللطائف من علوم المعارف" میں اس راوی کی راویت کے متعلق کها:
    "وهذا حدیث صحیح."
    (کتاب اللطائف من علوم المعارف, جزء السابع, باب ذکر نوع آخر وهو ان یکون فی الاسناد بین الرجل وابیه واحد, رقم ۵۲۷ بحواله الشامله.)


    .
    مختصرا تعارف محمد بن ابی بکر بن ابی عیسی المدینی:
    علامه ذهبی نے اسکے متعلق سیراعلام النبلاء جزء الحادی والعشرون ص ۱۵۲ تا ۱۵۹ میں کها:
    "الامام العلامه الحافظ الکبیر الثقه شیخ المحدثین"
    نیز کهتے هیں
    "کان حافظ المشرق فی زمانه"
    یه جناب امام سمعانی صاحب الانساب کے استاد هیں خود سمعانی انکے متعلق کهتے هیں:
    "ثقه صدوق"
    نیز المتکلمون فی الرجال للسخاوی رقم ۱۴۱ ص ۱۲۲. میں نقل کر کے یه بتا دیا کے یه جرح وتعدیل سے هیں انکے قول پر اعتماد کیا جائے گا. نیز دیکھے "ذکر من یعتمد قوله فی الجرح والتعدیل للذهبی رقم ۶۲۲.
    .
    دوسرا جواب:
    اهل مغازی کے هاں یه بات معروف هے که یهی "اللحیف" گهوڑا جس کا زیر نظر روایت میں ذکر هے. ربیعه بن ابی البراء نے حضرت محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم کو هدیه دیا تها. ابن حجر کے الفاظ هیں:
    "ذکر غیر واحد من اهل المغازی انه اهدی لرسول الله صلی الله علیه وسلم."
    که بهت سے اهل مغازی نے ذکر کیا هے که اللحیف گهوڑا ربیعه نے رسول الله صلی الله علیه وسلم کو تحفه دیا تها.
    (الاصابه ج ۱ ص ۲۰۴.)
    یه خارجی قرینه بهی اس روایت کا موید هے. مزیه یه که اس حدیث کا تعلق احکام سے نهیں بلکه صرف اس بات سے هے که حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کے ایک گهوڑے کا نام اللحیف تها. ابن حجر نے ابی کی متابعت کا ذکر کرتے هوئے لکهتے هیں:
    "وانضاف الی ذلک انه لیس من احادیث الاحکام فلهذه الصورۃ المجموعیه حکم البخاری بصحته."
    (النکت علی ابن الصلاح ج ۱ ص ۴۱۸.)
    "اسی کے ساتھ یه بات بهی شامل کیجئے که یه احکام کی احادیث میں سے نهیں. اس مجموعی صورت کی بناء پر امام بخاری نے اسکو صحیح قرار دیا هے."
    .
    قلت: همارے نزدیک اسکی متابعت صحیح نهیں وجه یه هے که عبدالمهین راوی جو کے سخت ضعیف هے متابعت میں بهی چل نهیں سکتا.
    .
    خلاصه کلام:
    یه راویت صحیح یا حسن الحدیث هے اور اسکی تائید خارجی قراینه میں کرتا هے اور ابی بن عباس راوی صدوق حسن الحدیث هے. والحمدالله
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں