1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح بخاری پر اعتراضات کا منہ توڑ جواب : مصری عالم شیخ محمد حسان کی زبانی!!

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏ستمبر 05، 2015۔

  1. ‏ستمبر 05، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    صحیح بخاری پر اعتراضات کا منہ توڑ جواب : مصری عالم شیخ محمد حسان کی زبانی!!



    صحیح بخاری پر امت کا اجماع ہے اسکے خلاف زبان ترازی کرنے والوں کے لیے لحمہ فکریہ ! مصری عالم شیخ محمد حسان کی زبانی!!

    ======================================

    دنیا کے سب سے بڑے امام حدیث امام بخاری رحمہ اللہ ہیں ، اور حیرت اس بات کی ہے کہ آج کل کے دور میں جھوٹ بولنے والوں نے اپنی حدیں پار کر دی ہیں ، جو کہ رب کعبہ کی قسم صحیح بخاری کا نام تک نہیں جانتے ، واللہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ صحیح بخاری کا پورا نام بتائیں واللہ وہ آپکو نہیں بتا پائیں گے ، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ بخاری کا پورا نام کیا ہے تو وہ کہیں گے کہ مجہے نہیں پتا ، مگر اتنے بڑے امام کے بارے میں زبان ترازی کرتے ہوۓ شرم محسوس نہیں کرتے ، صرف دو ہفتے پہلے کی بات ہے کہ اسی قسم کے کچھ لوگ میرے ساتھ بیٹھے ہوۓ تھے ، اور اپنے انگلی کے اشارے سے کہتے ہیں کہ یا شیخ کیا آپ لوگ صحیح بخاری پر ایک نظر اور نہیں ڈالیں گے ؟ میں نے کھا جناب آپ ہی بتا دیں کہ صحیح بخاری کون تھے ؟ تو کہتے لگے کہ وہ حدیث کی کتاب ہے ، میں نے کہا انکا نام کیا ہے ، کہتے ہیں کہ صحیح البخاری ، میں نے کہا نہیں انکا اصلی نام کیا ہے تو کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتا ، میں نے کہا کیا آپ سند اور متن کا فرق بتا سکتے ہیں تو کہتا ہے نہیں میں نے ان چیزوں کو نہیں پڑھا ہوا ، الله ، تو کیا آپ ان قوائد اور شرطوں کا ذکر کر سکتے ہیں جو امام بخاری رحمہ الله تعالی نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حدیثیں جمع کرنے کے لیے رکھی تھیں جواب دیا کہ نہیں ! تو پھر تم اس چیز سے کیوں انکار کرتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟ یا یہ آج کل کا سٹائل ہے ؟ اصولوں پر حق بات پر اور ارکان پر طعن کرنا ، تاکہ جاہلوں کی شان اعلی ہو بس ، میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی دلیل دو تو کہتا ہے کہ یہ کیا حدیث ہوئی کہ سورج عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے ، یہ کیا بکواس ہے (استغفر الله ) میں نے کہا اعوذ بالله ، میں نے کہا اس چیز میں آپکا اعتراض کیا ہے تو کہتا ہے کہ سورج کہاں ہے اور وہ کیسے وہاں جا کر سجدہ کرے ، اور اپنی عقلی دلائل پیش کرنے لگا ، تو میں نے کھا کہ یہ حدیث صحیح بخاری میں نہی صحیح مسلم میں ہے ، اب ان کی جہالت مزید واضح ہوئی ، اور وہ ہمارے نزدیک صحیح بخاری سے کم نہیں ہے !!

    اور یہ حدیث صحیح مسلم سے ابی زر سے روایت ہے جو کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے لی تھی کہ

    عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:

    قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ: «أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ؟»، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ العَرْشِ

    مسلم میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ اللہ کو علم ہے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔ آپ نے فرمایا یہ عرش تلے جاکر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر اس سے اجازت طلب کرتا ہے وقت آرہا ہے کہ اس سے ایک دن کہہ دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا۔

    یہ حدیث صحیح ہے مگر یہ لوگ اس میں بھی اپنا عقلی فلسفہ جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور ہم عقل کی قدر و قیمت اور شان میں کمی کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں - مگر ہم الله کے بجائے عقل کی عبادت نہیں کرتے ، اور نہ ہی عقل کو طاغوت بنا کر اس کے حکم کی بوجا کرنے لگ جاتے ہیں اور قرآن او سنت کی واضح آیتوں پر عقل کو تحکیم کی اجازت دیتے ہیں ، سجود قرآن سے ثابت ہے مگر ہم اس سجدے کی کیفیت نہں جانتے ،


    أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ 18 الحج

    پھر میں نے اسے کھا کہ تم لوگ خود عقل اور منطق کی تردید کرتے ہو ، کہتا ہے وہ کیسے ؟ کیا تم لوگ اس کمرے کے بابر نظر ڈال سکتے ہو ؟ کہتا ہے نہیں ، میں نے کھا کہ یہ عقلی منطق ہے ؟ کہتا ہے ہاں ، میں نے کھا ٹھیک ہے پھر اسی منطق سے میں تم سے بات کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ تم اس وقت اپنی عقل سے اس وقت اور کمرے کے باہر کیا ہو رہا ہے اس کا تعین نہیں کر سکتے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوۓ جس کا اقرار تم نے ابھی کیا ہے تو پھر کیسے اپنی محدود عقل کا استعمال وقت اور مکان کے لحاظ سے کر سکتے ہو اس چیز میں جس کی کوئی حدود نہیں اور جو لا معروف ہے وقت اور مکان کے لحاظ سے . تو تمہیں یہ کرنا چاہئیے کہ تم مکمل طور پر نبی کے سامنے جھک جاؤ اور ہتھیار ڈال دو نبی سے غیب کا علم حاصل کرتے ہوۓ کیوں کہ تمہاری عقل غیب کو سمجھنے سے قاصر ہے وقت اور مکان کے لحاظ سے ، جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیں

    پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس روشنی کا انکار کرتے ہو جو اس بلب سے نکل رہی ہے کہتا ہے نہیں ، اور کیا تم اس بات کا اپنی عقل سے انکار کرتے ہو کہ اس بلب کے پیچھے تاریں ہیں جن میں کرنٹ ڈور رہاہے جو پھر اس بلب میں روشنی ڈالتا ہے کہتا ہے کہ نہیں ، میں نے وہ کیسے ؟کیا تم نے اپنی عقل استعمال کرتے ہوے اس کرنٹ کو دیکھا ہے جو ان تاروں میں ڈور رہا ہے ؟ پھر کیا اس کا مطلب یہ ہو کہ اگر ہم کوئی چیز عقل سے نہیں دیکھتے اور ہاتھوں سے نہیں پکڑتے تو وہ چیز غیر موجود ہے ؟ اور اس کی بہت ساری دلیلیں ہے اور اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت سارے لوگ بغیر کسی فہم کے اہل علم کے قاعدوں اور اصولوں کی سمجھ کے بغیر اور الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی کیا مراد ہے انکے دل شبہوں سے بھرے ہوۓ ہیں اور وہ اب عقل اور فہم کے دعوے دار بن کر اسلام کے اصولوں اور ثابت اور ٹھوس ارکان اور عقیدوں پر طعن کرتے ہیں ، اور ایسی بہت سی مثالیں ٹی وی اور سٹیٹ لائٹ چنلز پر آپکو ملیں گی ہزاروں کی تعداد میں جو احادیث کی تھوہیں کرتے ہیں جو کہ نہ الله اور نہ ہی اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی بات اور اسکا صحیح مفھوم سمجھنے سے قاصر ہیں ، جیسے کہ کوئی آپ سے رمضان کے دنوں میں دو سگرٹوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر پانچ سے ٹوٹ جاتا ہے ،اور اور جیسے کہ کوئی کہے کہ اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو اسکو ایک قبلہ دینا ٹھیک ہے مگر دو دینا حرام ہے ! یہ کیا مذاق ہے اور یہ کیا فضول باتیں ہیں ، ایسے لوگ عقلانی ہونے کے دعویدار بن کر الله کے دین سے متعلق سطحی اور نادان سوچ کا اظھار کر تے ہیں !! شعرہے کہ علیم کا علم اورعاقل کی عقل کے درمیاں اختلاف چھڑ جاتا ہے کہ کون زیادہ شرف والا ہے - علم نے کھا میں شرف حاصل کر چکا ہو اور عقل نے کھا کہ مجھے الرحمن مجھ سے معروف ہے علم نے کھا کہ الله نے تمہاری تفصیل قرآن میں کہاں دی ہے ؟ عقل کو پھر یقین آگیا کہ علم اس کا ماسٹر ہے سید ہے پھرعقل نے علم کا ماتھا چوما اور چل پڑا بندےکے پاس دلیل ہونا ضروری ہے ---

    سلف الصالحین کی سمجھ سے دلیل لینا لازم ہے ،جس طرح سے صحابہ ان باتوں کا فہم لیتے تھے ، اور ابو بکر عمر اور عثمان اور علی کے فہم سے رضی الله عنہ . ایک بندہ فلسفہ جھاڑتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ آدمی تھے اور ہم بھی آدمی ہیں ، امیرے بھائی چپ کرو . کیا تم صدیق سے برابری کرتے ہو ؟اور عمر کی برابری کرتے ہو ؟ رب الکعبه کی قسم ایسا شخص واقعی جنونی ہے ، صدیق کی برابری کرتا ہے !! عمر ابوبکر علی اور ابن مسعود اورمعاذ اور مصب کی برابری کرتے ہو ؟ ایسا بندہ دیوانہ ہے !!مگر اگر کوئی یہ کہنا چاہے کہ وہ ہماری طرح سے آدمی تھے جنہوں نے اپنی جانیں مال اور روحیں اور خوں اس دین کی نصرت میں بہائے اور اللہ کے لیے اور ہم بھی ان کی طرح سے آدمی ہیں اور ہمیں بھی انکی طرح سے جدوجہد کرنی چاہئیے تو یہ بہت اچھی بات ہے ، اور پھر ایسی بات کو ہم اپنی سر آنکھوں سے سنیں گے مگر اگر آپ اس بات کے دعویدار ہیں کہ آپ قرآن و سنت کو جدید ترین علم اور انٹرنٹ اور موڈرن زمانے کی تہذیب کے ساتھ سمجھتے ہیں اور آپ اب حقیقت اور معرفت کا ساتھ علم رکھتے ہیں جو علم آپ کو دستیاب ہے اور جواصحاب کو نہیں دستیاب تھا لہذا آپ اصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اعلی ہیں یہ وحی کے خلاف اپنی حدیں پار کرنا ہے ،،، وہ مسلمان کوجو الله سے ڈرنے والا ہو اس کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ الله کے دین سے متعلق بات کرے بغیر علم کے ، کیا خالی علم حاصل کرنا کافی ہے ؟ نہیں کافی ! امام بخاری ایک اور چیپٹر کر عنوان یہ لکھتے ہیں ، باب الفہم فی علم ، علم کا فہم حاصل کرنا ، لہذا علم کافی نہیں ہے الله اور اسکے رسول کے قول کی دلیل کا فہم بھی ہونا ضروری ہے
    ---------------------
    دعاؤں میں ضروریادرکھئےگا


    >فخرے بی بی عائشہ رضی الله عنہا<

     
  2. ‏ستمبر 05، 2015 #2
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    وہ کتنا بڑا خوش نصیب ہے کہ جب اسکے سامنے صحیح حدیث آتی ہے تو کہتا ہے ۔ آمنا و صدقنا ۔اور ۔سمعنا و اطعنا۔ اسی طرح وہ کتنا بد نصیب ہے جو حدیثوں پر عمل کے بجاے انہیں ٹھکرا دیتا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 05، 2015 #3
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    ماشاء اللہ، بہترین۔۔۔۔۔

    منکرینِ حدیث کے سامنے ہم جیسے عامی بھی دفاعِ حدیث کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں لیکن علماء کی شان واقعی نرالی ہوتی ہے۔ اللھم زد فزد
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 05، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ایک مثال ہمارے آج کے جدید دور سے :

    سائل : اللہ (سبحانه و تعالى) آپکو سلامت رکھے ۔

    سائل کہتا ہے ، "ائے ہمارے شیخ ، کچھ لوگوں کا حدیث قدسی کے بارے میں کہنا ہے کہ :

    'ائے میرے بندے ،میں بیمار تھا اور تم نے میری عیادت نہیں کی …… " یہ مبہم معاملات میں سے ہے اور اسے چھوڑ دینا واجب ہے ۔ تو اس بارے میں آپکی کیا نصیحت ہے ؟"

    شیخ صالح الفوذان (اللہ اُن ہے محفوظ رکھے ) کا جواب :

    اسے چھوڑو ؟؟؟؟؟ میں اللہ (سبحانه و تعالى)پناہ مانگتا ہوں ! اس شخص کا مطلب یہ ہے ہمیں مبہم آیات اور حدیث کو چھوڈ دینا چاہیے ؟ نہیں ۔ ہم اُنکو نہیں چھوڑتے، تاہم ہم اسے دوسرے حدیث اور آیات کے ساتھ انکی وضاحت کرتے ہیں۔ ہم اسے چوڑ نہیں سکتے ۔ ہم انکو صحیح و مستند حوالہ دیتے ہے اور ہم اسکی وضاحت کرتے ہیں تاکہ انکے صحیح وضاحت ہوجائے ۔ تاہم ، یہ پچیدہ جہالت ہے ، اس شخص کو نہیں معلوم ! اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ روایت اگے کہتی ہے ، میں آپ(اللہ) کی عیادت کیسے کرسکتا ہوں جبکہ آپ سارے جہاں کے رب ہیں ؟ اللہ (سبحانه و تعالى)فرماۓ گا ، " بشک میر فلاں فلاں بندہ بیمار تھا اور تم اس کی عیادت نہیں کی، اور اگر تم اس کی عیادت کرتے تو تم اُس کے پاس مجھے پاتے۔"

    تو یہ حدیث کا ایک حصہ دوسرے حصے کی وضاحت کرتا ہے۔ تاہم، اس شخص ( جسنے اس طرح اسکا جواب دیا) کو وہ نہیں جانتا ۔ وہ مسکین (علم میں غریب) ہے ۔ اور میرے بھایئوں یہ ایک فتنہ کہ آج ایسے لوگ ہیں جو علم کا دعوی تو کرتے ہیں مگر انکو علم کہ بنیادی کا سرے سے پتا نہیں ۔ وہ لوگوں کے سامنے اہل علم کی روپ میں آتے ہیں مگر ان کا علم ضعیف و ناقص ہوتا ہے ۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اے میرے بھایئوں، علم کو علماء اور اسکے مستند اصولوں کے بغیر نہیں سیکھنا چاہیے ۔ اور یقنا علماء نے انتھک محنت کی ہے، ہر ایک چیز کو بڑے باریک بینی سے دیکھا اور جانچا ہے تب جا کہ علم کے اصول جامع اور مستحکم ہوئے ہیں ۔ اور درست صرف یہی ہے کہ علم علماء سے لیا جائے نہ کہ خود اکیلے کتابوں سے ۔ علم کو علماء سے سم کے لو، (یعنی علماء کی صحبت اختیا کرو) اور کتابیں صرف اوذار ہیں ، اور جو لوگ لوگوں کو تربیت دیتے ہیں کتابوں کے ذریعے وہی علماء ہیں ۔تو پس اگر آپ کتابیں لو اور آپکو انکے طریقہ استمعال کا پتا نہیں تو آپ آپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ہلاک کر دوگے ۔ پس اصول ہونا ضروری ہے ، جیساکہ کہا جاتا ہے ، " تو جس کسی کے پاس اصول نہیں ہے، وہ جواب تک نہیں پہنچ سکتا -




    پس محظ عربی زبان یا اسکے ترجمے، اپنے منطق، تہذیب و روایات ، خواہشات یا سمجھ وغیرہ کی بنیاد پر دین اسلام کو سمجھنا باطل ہے اور ہمیں دین کو اسکے اصلی معنوں میں سمجھنے کے لئے علماء سے رجوع کرنا ہوگا جیسا کہ قرآن و سنّت کا حکم ہے۔

    بطور مثال حضرت عمر ررضی الله عنہ کے دور کےایک شخض کا واقعہ جسنےا پنے سمجھ و فہم سے دینی معاملات و احکامات کی تشریح کرنے کی کوشش کی:

    سُلیمان بن یاسر سے روایت ہے کہ :

    قبلہ غنیم کا صبیغ ابن اصل نامی ایک شخص مدینہ آیا اور اسکے پاس کتابیں تھیں- اور اس نے لوگوں سےمتشابحات ( وہ معاملات جن کی قرآن نے وضاحت نہیں کی ہے) کے بارے میں سوالات شروع کر دیے – یہ خبر عمر رضی الله عنہ تک پہنچی- تو عمر رضی الله نے کجھور کی کچھ شاخیں اکھٹا کیں – پس جب عمر رضی الله اس شخص کے پاس پہنچے اور اسکے ساتھ بیٹھ گئے تو اس سے سوال کیا " کون ہو تم؟ اس نے کہا : " میں عبداللہ صبیغ ہوں ، عمر رضی الله نے کہا : " میں عبداللہ (الله کا بندہ) عمر ہوں- اور پھر عمر رضی الله نے اسے ان کجھور کی شاخوں سے مارنا شروع کر دیا ، اور عمر رضی الله نے اس شخص کو تب تک مارا جب تک اسکا سر پھٹ گیا اور اسکا چہرہ خون سے سرخ ہو گیا- اس نے (صبیغ) نے کہا: یا امیر المومنین بس کیجئے ، الله کی قسم جو (گند) میرے کھوپڑی میں تھا وہ نکل گیا

    (شرح اصول الاعتقاد لالکائی(3/٦٣٥-٦٣٦) اور اور شیخ خالد دھوئ از ضفیری کے مقالات، نیز دیکھئے سنن دارمی (عبداللہ ہاشم یمنی، ١/١٥،# ١٤٦)


    http://forum.mohaddis.com/threads/علماء-کرام-سے-علم-کے-حصول-کی-ضرورت-اور-اہمیت.26146/page-2#post-210009
     
    Last edited: ‏جنوری 06، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں