1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم پر امام ابوزرعہ رازی کے اعتراضات کا جائزہ

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏مئی 12، 2017۔

  1. ‏مئی 13، 2017 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تیسری حدیث:
    امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
    ’’سألت أبازرعۃ عن حدیث رواہ ابن عیینۃ عن عمر بن سعید بن مسروق عن أبیہ عن عبایۃ بن رفاعۃ بن رافع بن خدیج عن رافع بن خدیج، قال: أعطی النبيﷺ أبا سفیان -یوم حنین- و صفوان بن أمیۃ و عیینۃ بن حصن و الأقرع بن حابس مائۃ من الإبل …… إلخ․فقال أبو زرعۃ: ہذا خطأ،رواہ الثوري، فقال: عن أبیہ عن ابن أبي نعم عن أبي سعید الخدري عن النبيﷺ․ و ہذا الصحیح․ قلت لأبي زرعۃ: ممن الوہم؟ قال: من عمر․‘‘ (العلل، رقم: ۹۱۶)
    امام ابوزرعہ کے کلام کا خلاصہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوسعید خدری کی مسند سے ہے۔ حضرت رافع بن خدیج کی مسند سے نہیں۔ اسے مسند رافع سے بیان کرنا عمر بن سعید ثوری کی غلطی ہے۔ صحیح سفیان ثوری کی روایت ہے۔
    گویا دو بھائیوں کا باہم اختلاف ہوا، امام سفیان ثوری نے اسے حضرت ابوسعید خدری کی سند سے بیان کیا اور عمر ثوری نے مسند رافع سے بیان کیا۔ عمر بن سعید ثوری ثقہ ہیں۔ (التقریب، رقم: ۵۵۱۲)
    امام ابوزرعہ کی وہم شدہ روایت صحیح مسلم (حدیث: ۱۰۶۰، دارالسلام ترقیم: ۲۴۴۳) میں ہے۔سفیان ثوری کی روایت صحیح بخاری (حدیث:۳۳۴۴، ۴۶۶۷، ۷۴۳۲) میں ہے۔
    ابو احوص سلام بن سلیم نے ثوری کی متابعت کی ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۱۰۶۴)
    حضرت رافع کی حدیث کی تصحیح امام مسلم کے علاوہ درج ذیل محدثین نے بھی کی ہے:
    2۔ امام ابوعوانہ: (اتحاف المہرۃ لابن حجر: ۴۸۲/۴، رقم: ۴۵۴۶)
    3۔ امام ابن حبان: (صحیح ابن حبان: ۱۵۸/۷، رقم: ۴۸۰۷، التقاسیم: ۸۳/۷،۸۴)
    اس لیے امام ابوزرعہ کے مقابلے میں ان ائمہ کی رائے زیادہ وقیع معلوم ہوتی ہے۔ و اﷲ اعلم
    تنبیہ: امام ابوزرعہ کا عمر بن سعید بن مسروق کی سند کو سفیان ثوری کی سند کی وجہ سے معلول قرار دینا درست نہیں کیوں کہ دونوں حدیثوں کا سیاق مختلف ہے۔ عمر ثوری کی حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اﷲﷺ نے حنین وغیرہ کے مالِ غنیمت میں سے چھ سرداروں کو سو سو اونٹ مرحمت فرمائے اور سفیان ثوری کی حدیث میں ہے کہ حضرت علی نے مالِ غنیمت کے طور پر یمن سے خام سونے کی ڈلی بھیجی جسے رسول اﷲﷺ نے چھ سرداروں میں تقسیم کیا تو قریشی ناراض ہوگئے اور ایک خارجی نے آ کر توہینِ رسالت کی۔ گویا یہ علیحدہ علیحدہ دو مستقل واقعات ہیں۔​
     
  2. ‏مئی 13، 2017 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    چوتھی حدیث:
    امام ابوزرعہ سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمان کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں ربیعہ پر اختلاف ہوا۔ بشر بن مفضل نے یوں بیان کیا:
    ’’عن عمارۃ بن غزیۃ عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سوید الأنصاري عن أبي حُمید الساعدي أو عن أبي أسید الساعدي عن النبيﷺ أنہ قال: ((إذا دخل أحدکم المسجد فلیسلم و لیقل: اﷲم افتح لي أبواب رحمتک․ و إذا خرج فلیقل: اللّٰہم إني أسألک من فضلک․))‘‘
    اسے سلیمان بن بلال یوں بیان کرتے ہیں:
    ’’عن ربیعۃ عن عبدالملک بن سعید بن سُوید عن أبي حمید و أبي أسید عن النبيﷺ․‘‘
    امام ابوزرعہ نے فرمایا:
    ’’عن أبي حمید و أبي أسید کلاہما عن النبيﷺ أصح․‘‘(العلل لابن أبي حاتم، رقم: ۵۰۹)
    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ربیعہ بن ابی عبدالرحمان سے دو شاگردوں نے بیان کیا: 1 عمارۃ و عنہ بشر بن مفضل، 2 سلیمان بن بلال۔ بشر نے عمارہ سے بیان کرتے ہوئے صحابی کے بارے میں شک کا اظہار کیا کہ یہ حدیث حضرت ابوحمید ساعدی سے مروی ہے یا حضرت ابواُسید ساعدی سے، جب کہ سلیمان بن بلال اس حدیث کو دونوں صحابہ سے بیان کرتے ہیں۔ امام ابوزرعہ کے نزدیک سلیمان کی روایت اصح ہے۔
    دیگر مضعّفین:
    2۔ امام ابن ابی حاتم:
    ’’عمارہ بن غزیہ سے روایت کرنے میں بشر بن مفضل کی مخالفت کس راوی نے کی ہے؟ اما ابوزرعہ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ میرے خیال میں ان کے پاس وہ حدیث نہ تھی۔‘‘
    ازاں بعد یحییٰ بن عبداﷲ بن سالم کی حدیث اپنی سند سے ذکر کی جس میں وہ سلیمان کی متابعت اور بشر کی مخالفت کر رہے ہیں، یعنی وہ دونوں صحابہ کرام سے روایت کر رہے ہیں۔ امام ابن ابی حاتم نے فرمایا: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بشر بن مفضل سے غلطی ہوئی ہے۔(العلل لابن أبي حاتم، رقم: ۵۰۹)
    گویا انھوں نے بھی امام ابوزرعہ کی تائید کی ہے۔
    3۔ امام بزار: بشر بن مفضل کی روایت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    ’’ہم کسی ایسے راوی کو نہیں جانتے جو یہ حدیث اس سے بہتر سند سے رسول اﷲﷺ سے بیان کرے۔ یقینا وہ متعدد اسانید سے مروی ہے۔ ہم نے یہ حدیث عمارہ بن غزیہ کے ضعف کی وجہ سے ذکر کی ہے۔ ہم نے اسے حضرت ابوحمید اور حضرت ابواُسید سے بیان کیا ہے، اگرچہ وہ (حدیث) ان دونوں (صحابہ) کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے کیوں کہ وہ دونوں رسول اﷲﷺ سے بہت کم روایت کرتے ہیں۔‘‘
    (البحر الزخار: ۱۷۰/۹، رقم: ۳۷۲۰)
    ازاں بعد ابوعامر عقدی کی حدیث بیان کی جس میں وہ ان دونوں صحابہ سے اکٹھا بیان کرتے ہیں۔ گویا امام بزار کے نزدیک اس حدیث کو دو صحابہ سے بہ طورِ شک بیان کرنا عمارہ بن غزیہ کا وہم ہے، ان کے شاگرد بشر بن مفضل کا نہیں۔ جب کہ امام ابوزرعہ اور امام ابن ابی حاتم کے نزدیک بشر کا وہم ہے۔
    مصحّحین:
    1۔ امام مسلم: انھوں نے سلیمان بن بلال کی روایت اصول میں ذکر کی ہے اور بشر بن مفضل کی روایت متابعت میں ذکر کی ہے۔ دونوں روایتوں میں عن أبي حمید أو عن أبي أسید شک کے ساتھ ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۷۱۳، دار السلام ترقیم: ۱۶۵۲، ۱۶۵۳)
    جب کہ امام ابوزرعہ نے سلیمان بن بلال کی روایت میں ’’حضرت ابوحمید اور حضرت ابواُسید‘‘ ذکر کیا ہے، یعنی واؤ عاطفہ ہے اور حدیث دونوں صحابہ سے مروی ہے۔
    امام ابوزرعہ کی مشار الیہ سلیمان بن بلال کی روایت کہاں ہے اور ان سے راوی کون ہے؟ انھوں نے حسبِ معمول اس کی نشان دہی نہیں فرمائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سلیمان کے شاگرد ابوعامر عبدالملک بن عمرو عقدی کی روایت مراد لے رہے ہیں کیوں کہ وہ حدیث مذکورہ بالا دونوں صحابہ سے روایت کرتے ہیں، اگرچہ ان کی متابعت ابوزکریا یحییٰ بن عبدالحمید حمانی نے کی ہے۔ (صحیح مسلم، رقم: ۷۱۳ معلقا․ نتائج الأفکار: ۲۰۰/۱، رقم: ۱۸۸، المجلس: ۵۵)
    یہ راوی بہ ذات خود ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
    ’’حافظ ہے۔ محدثین نے اس پر حدیث چوری کا الزام عائد کیا ہے۔‘‘ اصحابِ تحریر لکھتے ہیں: ’’ضعیف یعتبر بہ․‘‘(تحریر تقریب التہذیب: ۸۴۵/۲، رقم: ۷۵۹۱)
    لہٰذا ابو عامر عقدی کی روایت اساس ٹھہری جس کی بنا پر امام ابوزرعہ نے بشر بن مفضل کی روایت کو معلول ٹھہرایا۔
    بشر کی روایت صحیح مسلم کے علاوہ المسند المستخرج ۳۰۸/۲، رقم: ۱۶۰۶․ مسند البزار: ۱۶۹/۹، ۱۷۰، رقم: ۳۷۲۰․ عمل الیوم و اللیلۃ لابن السني: ۲۱۲/۱، رقم: ۱۵۷․ التقاسیم و الأنواع لابن حبان: ۴۸۴/۲، رقم: ۱۷۳۵․ بیہقي: ۴۴۱/۲․ المخلصیات: ۲۳۶/۱،۲۳۷، رقم: ۱۷۳۵، ۳۹۱/۲، رقم: ۱۸۲۴․ حدیث السراج: ۱۴۳/۳، رقم: ۲۲۴۸ فیہ بواو العاطفۃ! تہذیب الکمال: ۳۱۷/۱۸․ نتائج الأفکار: ۲۰۰/۱، رقم: ۱۸۸، المجلس: ۵۵ وغیرہ میں ہے۔
    ابو عامر عقدی کی روایت مسند أحمد: ۴۹۷/۳، رقم: ۱۶۰۵۷، ۴۲۵/۵، رقم: ۲۳۶۰۷․ سنن النسائي، رقم: ۷۳۰․ السنن الکبری للنسائي: ۴۰۰/۱، رقم: ۸۱۰․ عمل الیوم و اللیلۃ للنسائي مع السنن الکبری: ۷۷/۹، رقم: ۹۹۳۴․ البحر الزخار: ۱۷۰/۹، ح: ۳۷۲۱․ حدیث السراج: ۱۴۳/۳، رقم: ۲۲۴۷․ التقاسیم و الأنواع: ۴۸۵/۲، رقم: ۱۷۳۶ وغیرہ میں ہے۔
    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ أبوعامر العقدي عن سلیمان بن بلال کی وجہ سے بشر بن مفضل کی سند کو معلول ٹھہرانا درست ہے، جیسا کہ امام ابوزرعہ نے کیا ہے؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی تعلیل درست نہیں کیوں کہ سلیمان بن بلال اس سند کو دونوں صحابہ سے بیان نہیں کرتے، بلکہ کسی ایک صحابی سے شک کے ساتھ بیان کرتے ہیں، جیسا کہ ان کے دیگر شاگرد بیان کرتے اور وہ ابوعامر عقدی کی مخالفت کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ یحییٰ بن یحییٰ التمیمي الحنظلي النیسابوري: ثقۃ ثبت إمام․ (صحیح مسلم، رقم: ۷۱۳، دار السلام ترقیم: ۱۶۵۲ أصولًا․ بیہقي: ۴۴۱/۲․ السنن الصغیر للبیہقي: ۱۵۶/۱، رقم: ۴۸۱․ المحلی لابن حزم: ۶۰/۳، مسئلۃ: ۴۱۶)
    2۔ سعید بن حکم ابن ابی مریم الجمحي المصري ابو محمد: ثقۃ ثبت فقیہ․ (مسند أبي عوانۃ: ۵۳/۴، رقم: ۱۲۸۰․ نتائج الأفکار: ۲۰۰/۱، رقم: ۱۸۸، المجلس: ۵۵)
    3۔ عبداﷲ بن مسلمہ القعنبي الحارثي المدني البصري ابو عبدالرحمان: ثقۃ عابد، موطأ امام مالک کے معتمد علیہ راوی۔(سنن الدارمي: ۲۰۳/۲، ح: ۲۶۹۴، نتائج الأفکار: ۲۰۰/۱، رقم: ۱۸۸، المجلس: ۵۵)
    جب کہ ان تینوں کے مقابلے میں ابوعامر عقدی صرف ثقہ ہیں۔(التقریب، رقم: ۴۱۹۹) ثبت نہیں، اس لیے جماعت کی روایت چھوڑ کر فردِ واحد کی روایت کیوں کر مقبول ہو سکتی ہے؟ ثقات اور اثبات کے مقابل میں صرف ثقہ کی روایت کیسے معتبر ہو سکتی ہے؟ محدث البانی بھی ابوعامر کی روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’وہ شاذ روایت ہے، صحیح جماعت کی روایت ہے۔‘‘
    (صحیح ابی داود: ۳۶۲/۲)
    اس لیے سلیمان کے تلامذہ کی روایت چھوڑ کر ایک شاگرد کی روایت کی بنا پر بشر بن مفضل کی روایت کو معلول قرار دینا درست نہیں۔
    امام مسلم نے درج ذیل قرائن کی بنا پر شک والی روایت کو ذکر کیا ہے:
    1۔ سلیمان بن بلال کے ثقہ اور ثبت شاگرد اسے بیان کرتے ہیں۔
    2۔ وہ ابوعامر عقدی سے زیادہ ثقہ ہیں۔
    3۔ جماعت کی روایت ہے۔
    4۔ امام مسلم کے شیخ (یحییٰ بن یحییٰ) نے یہ حدیث سلیمان بن بلال کی کتاب سے نقل کی ہے، چنانچہ ان کے الفاظ ہیں:
    ’’کتبت ہذا الحدیث من کتاب سلیمان بن بلال․‘‘ (صحیح مسلم، رقم: ۷۱۳)
    5۔ عبدالعزیز بن محمد الدراوردي نے ربیعہ سے بیان کرتے ہوئے سلیمان کی متابعت کی ہے۔ (سنن الدارمي: ۲۶۴/۱،۲۶۵، رقم: ۱۴۰۱․ مسند أبي عوانۃ: ۵۴/۴، رقم: ۱۲۸۱․ أبو داود، رقم: ۴۶۵․ بیہقي: ۴۴۲/۲․ الدعوات الکبیر للبیہقي: ۴۸/۱، رقم: ۶۶․ السنن الصغیر للبیہقي: ۱۵۶/۱، رقم: ۴۸۲․ نتائج الأفکار: ۲۰۰/۱، رقم: ۱۸۸، المجلس: ۵۵)
    باقی رہا امام ابن ابی حاتم کا یحیی بن عبداللّٰہ بن سالم عن عمارۃ کی وجہ سے بشر بن مفضل عن عمارۃ کی روایت کو معلول قرار دینا، تو وہ درست نہیں۔
    یحییٰ کی روایت العلل لابن أبي حاتم کے علاوہ مسند ابی عوانہ(۵۲/۴،۵۳، حدیث: ۱۲۷۹۔ الدعاء للطبراني، ص: ۱۵۰،۱۵۱، حدیث: ۴۲۶) وغیرہ میں ہے۔ یحییٰ بن عبداﷲ مدنی صدوق راوی ہیں۔ (التقریب، رقم: ۸۵۴۷) جب کہ بشر بن مفضل بصری ثقہ، ثبت، عابد ہیں۔ (التقریب، رقم: ۷۹۱)
    اس لیے صدوق راوی کی روایت سے ثقہ ثبت راوی کی روایت پر جرح درست نہیں۔ چاہیے تو یہ کہ بشر کی وجہ سے یحییٰ کی روایت کو معلول قرار دیا جائے، اس لیے اگر یحییٰ کی روایت کو محفوظ سمجھا جائے، جیسا کہ امام ابوعوانہ نے الصحیح میں ذکر کیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ عمارہ نے دونوں طرح سے حدیث بیان کی۔
    امام مسلم نے بھی بشر کی روایت تائیداً پیش کی ہے، گویا اس کی اصل موجود ہے۔ بشر عن عمارۃ کی روایت میں عمارہ کی متابعت عبدالعزیز الدراوردی اور سلیمان بن بلال نے کی ہے۔
    امام بزار کا عمارہ بن غزیہ کی وجہ سے اس حدیث پر نقد درست نہیں کیوں کہ ان کی دلیل بھی أبوعامر العقدي عن سلیمان بن بلال کی روایت ہے جس میں وہ دونوں صحابہ سے اکٹھا بیان کرتے ہیں۔ اور اس کا جواب ابھی گزر چکا ہے۔
    اس حدیث کو عمارہ بن غزیہ سے یحییٰ بن عبداﷲ بن سالم کے علاوہ دو اور راوی بھی بیان کرتے ہیں اور وہ دونوں صرف حضرت ابوحمید ساعدی کا واسطہ ذکر کرتے ہیں:
    1۔ ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ المدنی: متروک․ (التقریب، رقم: ۲۶۹․ مصنف عبدالرزاق: ۴۲۶/۱، رقم: ۱۶۶۵) یہ حدیث اس متروک راوی کی وجہ سے ضعیف ہے۔
    2۔ اسماعیل بن عیاش حمصی الشامی: اپنے اہل شہر سے روایت کرنے میں صدوق اور دوسروں سے بیان کرنے میں احادیث گڈمڈ کرنے والے تھے۔ (التقریب، رقم: ۵۴۱․ سنن ابن ماجہ، رقم: ۷۷۲) ان کے استاد عمارہ بن غزیہ، مدنی ہیں۔(التقریب، رقم: ۵۴۵۳) لہٰذا اس کی ان سے روایت ضعیف ہے۔
    علامہ مغلطائی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند ابن عیاش کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (الإعلام بسنۃ علیہ السلام: ۱۰/۵)
    لہٰذا اس حدیث کا صرف حضرت ابوحمید ساعدی سے مروی ہونا ضعیف ہے۔ راجح یہ ہے کہ وہ حضرت ابوحمید الساعدی یا حضرت ابواسیدساعدی دونوں میں سے کسی ایک سے مروی ہے۔ اور یہ اختلاف صحتِ حدیث کے لیے مضر نہیں۔
    تنبیہ:محدث البانی رقم طراز ہیں:
    ’’سلیمان بن بلال کی متابعت عمارہ بن غزیہ نے کی ہے۔ ان (عمارہ) سے بشر بن مفضل اور یحییٰ بن عبداﷲ بن سالم بیان کرتے ہیں جن کی روایت (صحیح) مسلم، ابو عوانہ، بیہقی میں ہے۔‘‘ (صحیح ابی داود: ۳۶۲/۲،۳۶۳)
    حالانکہ یحییٰ تو بشر کے برعکس دونوں صحابہ سے روایت کرتے ہیں، اس لیے یحییٰ عن عمارۃ کی سند میں عمارہ کو سلیمان کا متابع قرار دینا درست نہیں۔
    ثانیاً: عبدالعزیز الدراوردی کے ایک شاگرد نے اس حدیث کو حضرت ابوحمید الساعدی سے روایت کیا، متن میں بھی کچھ الفاظ زائد بیان کیے۔ محدث البانی نے اس کی سند اور متن کو شاذ قرار دیا ہے۔(صحیح ابی داد: ۳۶۳/۲)
    دیگر مصحّحین:
    شک والی روایت کو مزید محدثین نے بھی صحیح قرار دیا ہے جو درج ذیل ہیں:
    2۔ امام ابونعیم: (المسند المستخرج: ۳۰۸/۲، رقم: ۱۶۰۶)
    3۔ امام ابن حبان: (التقاسیم و الأنواع: ۴۸۴/۲،رقم: ۱۷۳۵)
    4۔ امام نووی: (صحیح أسانید الاذکار للنووي: ۱۰۲/۱، رقم: ۸۶)
    5۔حافظ ابن حجر:
    ’’ہذا حدیث صحیح․‘‘(نتائج الأفکار: ۲۰۱/۱)
    6۔ محدث البانی:​
    ’’إسنادہ صحیح․ و أخرجہ مسلم و أبوعوانۃ في صحیحیہما․‘‘ (صحیح أبي داود: ۳۶۲/۲، الثمر المستطاب: ۶۰۹/۲،۶۱۰)
     
  3. ‏مئی 13، 2017 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    پانچویں حدیث:
    امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
    ’’سألت أبي و أبا زرعۃ عن حدیث رواہ أبوعوانۃ عن الأعمش عن إبراہیم عن الأسود عن عائشۃ قالت: ما رأیت النبيﷺ صام العشر من ذي الحجۃ قط․و رواہ أبوالأحوص فقال: عن منصور عن إبراہیم عن عائشۃ؟ فقالا: ہذا خطأ․ و رواہ الثوري عن الأعمش و منصور عن إبراہیم قال: حدثت عن النبيﷺ․‘‘ (العلل، رقم: ۷۸۱)
    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حدیث کا مرسل ہونا صحیح ہے۔
    مذکورہ بالا موصول اور مرفوع سند کو امام مسلم نے صحیح مسلم (حدیث: ۱۱۷۶، دار السلام ترقیم: ۲۷۸۹، ۲۷۹۰) میں بیان کیا ہے۔ راقم الحروف کی رائے میں اس کا موصول ہونا درست ہے۔ امام مسلم کے علاوہ امام ابوعوانہ، امام ابونعیم، امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان نے اس کی تصحیح کی ہے۔ (تفصیل ملاحظہ ہو مقالات اثریہ، ص: ۴۴۲-۴۴۰)​
     
  4. ‏مئی 13، 2017 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    متابعتًا روایات
    چھٹی حدیث:
    امام ابن ابی حاتم رقم طراز ہیں:
    ’’سألت أبازرعۃ عن حدیث النبيﷺ في تختمہ، أفي یمینہ أصح أم في یسارہ؟ فقال: في یمینہ الحدیث أکثر، و لم یصح ہذا و لا ہذا․‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۴۳۹)
    ’’میں نے امام ابوزرعہ سے نبی کریمﷺ کی انگوٹھی والی حدیث کے بارے میں سوال کیا کہ دائیں ہاتھ کے بارے میں زیادہ صحیح ہے یا بائیں ہاتھ کے بارے میں؟ فرمایا: اکثر احادیث میں دائیں ہاتھ کا ذکر ہے۔ نہ دائیں ہاتھ کی تصریح والی حدیث صحیح ہے اور نہ بائیں ہاتھ والی حدیث۔‘‘
    امام مسلم فرماتے ہیں:
    1۔ ’’و حدثنا عثمان بن أبي شیبۃ و عباد بن موسی قالا: حدثنا طلحۃ بن یحیی - و ہو الأنصاري ثم الزرقي- عن یونس عن ابن شہاب عن أنس بن مالک أن رسول اللّٰہﷺ لبس خاتم فضۃ في یمینہ، فیہ فص حبشي، کان یجعل مما یلي کفہ․‘‘
    2۔ ’’و حدثني زہیر بن حرب حدثني إسماعیل بن أبي أویس حدثني سلیمان بن بلال عن یونس بن یزید بہذا الإسناد مثل حدیث طلحۃ بن یحیی․‘‘ (صحیح مسلم، رقم: ۵۴۸۷، ۵۴۸۸․ دارالسلام)
    ان دنوں احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اﷲﷺ نے دائیں ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہنی۔ حافظ دارقطنی نے اس (دائیں ہاتھ میں انگوٹھی والی روایت) کو ضعیف کہا ہے، جب کہ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کو وہ محفوظ کہتے ہیں۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت انس کی اس حدیث کو یونس بن یزید سے ایک جماعت روایت کرتی ہے جو دو گروہوں میں منقسم ہو گئی:
    سلیمان بن بلال، طلحہ بن یحییٰ اور یحییٰ بن نصر بن حاجب تینوں اس روایت میں ’’داہنے ہاتھ‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ سلیمان اور طلحہ کی رایت صحیح مسلم کے حوالے سے ابھی گزری ہے۔ یحییٰ بن نصر کی حدیث مسند ابی عوانہ (۴۹۳/۵) میں ہے۔
    دوسرے گروہ میں عبداﷲ بن وہب، لیث بن سعد، عثمان بن عمر اور خارجہ بن مصعب ہیں۔ یہ چاروں ہاتھ کے ذکر کے بغیر بیان کرتے ہیں۔ عبداﷲ بن وہب کی روایت صحیح مسلم (حدیث: ۲۰۹۴) میں ہے جسے انھوں نے اُصول میں بیان کیا ہے۔ ازاں بعد طلحہ بن یحییٰ اور سلیمان بن بلال کی احادیث ذکر کی ہیں۔ لیث کی روایت صحیح بخاری (حدیث: ۵۸۶۸) میں ہے۔ عثمان بن عمر کی روایت سنن نسائی (حدیث: ۵۱۹۹، ۵۲۷۹) میں ہے۔ خارجہ کی حدیث نہیں مل سکی، تاہم حافظ دارقطنی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (العلل للدارقطني: ۱۷۶/۱۲)
    حافظ دارقطنی ان دونوں جماعتوں کے مابین یوں فیصلہ کرتے ہیں:
    1۔ لیث اور ابن وہب (ہاتھ کا ذکر نہ کرنے والے)، سلیمان اور طلحہ (دائیں ہاتھ میں انگوٹھی کا ذکر کرنے والے) سے احفظ ہیں۔
    2 ۔صحیح مسلم کی روایت میں مذکور سلیمان کا شاگرد اسماعیل بن ابی اویس ضعیف ہے۔ امام نسائی نے انھیں ضعیف کہا ہے۔(الضعفاء والمتروکین للنسائي، ص: ۵۱، فقرۃ: ۴۴) لہٰذا جب وہ سلیمان سے روایت کرنے میں منفرد ہو تو ایسی روایت ناقابلِ استدلال ہو گی۔
    3۔ لیث اور ابن وہب ثقہ متقن اور صاحبِ کتاب ہیں، جب کہ طلحہ ’’شیخ‘‘ ہے۔
    4۔ ان سب کے استاد یونس بن یزید اس روایت کو ہاتھ کے تذکرے کے بغیر ذکر کرتے ہیں۔اور اس روایت کو بیان کرنے میں ایک جماعت،یعنی زہری کے شاگرد اُن کی متابعت کرتے ہیں۔ ان میں درج ذیل راوی شامل ہیں:
    ۱: ابراہیم بن سعد زہری۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۲۰۹۳، صحیح بخاری، حدیث: ۵۸۶۸ تعلیقا)
    ۲: زیاد بن سعد۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۵۴۸۴، ۵۴۸۵، صحیح بخاری، حدیث: ۵۸۶۸ تعلیقا)
    ۳: شعیب بن ابی حمزہ حمصی۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۵۸۶۸ تعلیقا)
    ۴: عقیل بن خالد الایلی۔
    ۵: عبدالرحمان بن خالد بن مسافر۔
    ۶: ابن أخي الزہري، محمد بن عبداﷲ بن مسلم بن شہاب الزہری۔
    ۷: موسیٰ بن عقبہ۔
    ۸: محمد بن عبداﷲ بن ابی عتیق۔
    کلہم عن الزہري (بدون ذکر الید)
    تنبیہ: التتبع میں صفحہ: ۳۱۰ کے بعد ورق الٹ پلٹ ہونے کی وجہ سے صفحہ:۳۱۰ سے متعلقہ عبارت صفحہ: ۳۵۴ پر چلی گئی ہے۔ قارئین اپنے نسخے کی اصلاح فرما سکتے ہیں۔
    حافظ دارقطنی نے پھر حضرت انس کے چار شاگردوں؛عمر بن عامر، سعید بن ابی عروبہ، شعبہ بن حجاج اور ثابت البنانی کی روایات اور ان میں اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے یوں خلاصہ پیش فرمایا ہے:
    ’’و روی ہذا الحدیث حماد بن سلمۃ عن سلمۃ عن ثابت عن أنس أن النبيﷺ کان یتختم في یسارہ، و أشارہ إلی خنصرہ الیسری․ و ہو المحفوظ عن أنس․‘‘ (العلل: ۱۷۸/۱۲)
    ’’اس حدیث کو حماد بن سلمۃ عن ثابت عن أنس مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ انھوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا۔حضرت انس سے یہ حدیث محفوظ ہے۔‘‘
    یہ حدیث امام مسلم نے صحیح مسلم (حدیث:۲۰۹۵) میں بیان کی ہے۔
    حدیثِ انس کی اسانید کی ترتیب:
    امام مسلم نے حضرت انس کی حدیث بارہ سندوں سے ذکر کی ہے۔ پہلی نو سندوں میں انگوٹھی پہننے کا محل مذکور نہیں، دسویں اور گیارہویں سند میں دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا ذکر ہے، جب کہ بارہویں سند میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا ذکر ہے۔
    امام ابوزرعہ کے نقطۂ نظر کے مطابق آخری تینوں احادیث معلول ہیں، جب کہ امام دارقطنی کی رائے کے مطابق دسویں اور گیارہویں حدیث معلول ہے، بارہویں حدیث صحیح ہے۔ امام مسلم کے اسلوب سے مترشح ہوتا ہے کہ انھوں نے دسویں، گیارہویں اور بارہویں حدیث بہ طور متابعت ذکر کی ہے، یعنی ان کے نزدیک ان تینوں روایات میں علتِ قادحہ موجود ہے، تبھی ان کو اواخر باب میں ذکر کیا ہے۔
    ذیل میں حدیثِ انس کی مرکزی اسانید مرقوم ہیں:
    1: عبدالعزیز عن أنس․ (صحیح مسلم، حدیث: ۵۴۷۸، ۵۴۷۹، دارالسلام۔ کل احادیث: ۲)
    2: قتادۃ عن أنس․(صحیح مسلم، حدیث: ۵۴۸۰، ۵۴۸۱، ۵۴۸۲۔ کل احادیث: ۳)
    3: زہري عن أنس․(صحیح مسلم، حدیث: ۵۴۸۳، ۵۴۸۴، ۵۴۸۵، ۵۴۸۶، ۵۴۸۷، ۵۴۸۸۔کل احادیث: ۶)
    ان خط کشیدہ مرویات میں مذکور ہے کہ رسول اﷲﷺ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ انھی دو روایات کو امام دارقطنی وغیرہ نے معلول قرار دیا ہے۔ ان احادیث کی استنادی حیثیت امام مسلم کی نگاہ میں موجود تھی تھی، اس لیے انھوں نے ان احادیث کو سب سے موخر کیا ہے۔
    4: ثابت عن أنس․ (صحیح مسلم، حدیث۵۴۸۹۔ کل احادیث: ۱)
    اس حدیث میں ذکر ہے کہ رسول اﷲﷺ بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
    گویا امام مسلم نے نو احادیث اولاً ذکر کیں، ازاں بعد دو احادیث میں دائیں ہاتھ میں انگوٹھی کا ذکر کیا اور سب سے آخر میں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی کا ذکر کیا، گویا وہ بھی اس کی علت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر ان کا اور امام ابوزرعہ کا موقف یکساں معلوم ہوتا ہے۔
    حافظ ابن رجب فرماتے ہیں:
    ’’دائیں اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا جائز ہے۔ علماء نے ان دونوں کی افضلیت میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے دائیں کو افضل قرار دیا ہے اور بعض نے بائیں کو۔‘‘(أحکام الخواتم، ص: ۱۳۱ و ما بعدہا)​
     
  5. ‏مئی 13، 2017 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ساتویں حدیث:
    امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
    ’’و سئل أبو زرعۃ عن حدیث رواہ الأوزاعي و حسین المعلم عن یحي بن أبي کثیر عن سالم الدوسي، قال: دخلت مع عبدالرحمان بن أبي بکر علی عائشۃ فدعا بوضوء فقالت: یا عبدالرحمان! أسبغ الوضوء، فإني سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول: ((ویل للأعقاب من النار․)) و رواہ عکرمۃ بن عمار عن یحي بن أبي کثیر عن أبي سلمۃ بن عبدالرحمان عن أبي سالم مولی المہریین، قال: دخلت مع عبدالرحمان بن أبي بکر علی عائشۃ …… فذکر الحدیث․ فقال أبو زرعۃ: الحدیث حدیث الأوزاعي و حسین المعلم․ وحدیث شیبان وہم، وہم فیہ أبو نعیم․‘‘ (العلل، رقم: ۱۴۸)
    امام ابوزرعہ کا مقصود یہ ہے کہ اوزاعی اور حسین المعلم کی سند راجح ہے کیوں کہ اس میں ابوسلمہ بن عبدالرحمان کا واسطہ نہیں برعکس روایت عکرمہ بن عمار کے۔عکرمہ کی حدیث صحیح مسلم (حدیث: ۵۶۸) میں ابوسلمہ بن عبدالرحمان کے اضافی واسطے کے ساتھ موجود ہے۔
    1……حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:
    ’’سند میں ابوسلمہ کا واسطہ نہیں۔ ابو زرعہ نے اسے راجح کہا ہے۔‘‘ (النکت الظراف: ۴۰۱/۱۱)
    2…… امام ابن عمار فرماتے ہیں:
    ’’اس حدیث میں عکرمہ بن عمار نے یحییٰ بن ابی کثیر کے شاگردوں کی مخالفت کی ہے۔ علی بن مبارک، حرب بن شداد اور اوزاعی اسے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: حدثني سالم․اس حدیث میں عکرمہ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے کہا: حدثني أبو سالم․ یہ (کنیت ابو سالم ذکر کرنا) غیر محفوظ ہے۔ ہمارے نزدیک یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں ابوسلمہ کا واسطہ غیر محفوظ ہے۔‘‘ (علل الأحادیث، رقم: ۴)
    3…… خطیب بغدادی رقم طرازی ہیں:
    ’’سند میں ابوسلمہ کا واسطہ ذکر کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ اسی طرح عکرمہ کا سالم المہري ذکر کرنا بھی غلط ہے کیوں کہ وہ سالم الدوسی ہے، جیسا کہ ہم نے شیبان عن یحي بن أبي کثیر کی روایت ذکر کی ہے۔ اس نسبت کو ذکر کرنے میں ابو عمرو اوزاعی، علی بن مبارک اور حسین المعلم نے موافقت کی ہے اور وہ سبھی یحییٰ سے بیان کرتے ہوئے سالم الدوسی کا ذکر کرتے ہیں۔‘‘ (موضح: ۲۹۳/۱،۲۹۴)
    4…… حافظ دارقطنی فرماتے ہیں:
    ’’اس سند میں عکرمہ کا ابوسلمہ کو ذکر کرنا درست نہیں۔ اس میں عکرمہ کو وہم ہوا ہے۔‘‘ (العلل: ۳۳۳/۱۴)
    ان اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ عکرمہ نے اس سند میں تین غلطیاں کی ہیں:
    1۔ ابوسلمہ کا اضافی واسطہ ذکر کیا ہے۔
    2۔ سالم المہري کی نسبت غلط ہے، صحیح سالم الدوسی ہے۔
    3۔ ابوسالم کہنا بھی درست نہیں کیوں کہ یہ سالم ہے۔
    ملحوظ رہے کہ صحیح مسلم میں پہلے دونوں اوہام موجود ہیں۔ عکرمہ ثقہ اور صدوق راوی ہیں، مگر یحییٰ بن ابی کثیر سے ان کی روایت ضعیف ہوتی ہے، جیسا کہ درج ذیل ناقدین نے صراحت فرمائی ہے۔
    عکرمہ بن عمار:
    1۔امام یحییٰ بن سعید قطان: انھوں نے عکرمۃ عن یحي کی حدیث کو ضعیف کہا ہے اور فرمایا: وہ صحیح نہیں۔(الجرح والتعدیل: ۱۰/۷، الکامل: ۱۹۱۰/۵)
    2۔ امام احمد:’’وہ ایاس بن سلمہ کے علاوہ دوسروں سے روایت میں مضطرب الحدیث ہے۔ اور یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی روایت مضطرب ہے۔‘‘ (ملاحظہ ہو الجرح و التعدیل: ۱۰/۷․ العلل للإمام احمد: ۴۹۴/۲، فقرۃ: ۳۲۵۵، ۱۱۷/۳، فقرۃ: ۴۴۹۲․ تاریخ أبي زرعۃ الدمشقي، ص: ۲۱۳، فقرۃ: ۱۱۴۳)
    3۔ امام بخاری:’’عکرمہ بن عمار یحییٰ بن ابی کثیر کی احادیث میں بہ کثرت غلطی کرتا ہے۔‘‘
    (العلل الکبیر للترمذي: ۸۷/۱)
    ’’یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں مضطرب ہے۔ اس کے پاس کتاب نہ تھی۔‘‘ (الکامل: ۱۹۱۰/۵)
    4۔ امام ابوحاتم:’’وہ صدوق ہے۔ اسے بسا اوقات حدیث میں وہم ہوتا ہے اور کبھی وہ تدلیس کرتا ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی حدیث میں چند غلطیاں ہیں۔‘‘
    (الجرح و التعدیل: ۱۱/۷)
    5۔ امام ابوداود:’’یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کی حدیث میں اضطراب ہے۔‘‘(سؤالات الآجري أبا داود: ۳۷۹/۱، فقرۃ: ۷۰۷، ۳۹/۲، فقرۃ: ۱۰۴۳)
    6۔ امام طحاوی:’’محدثین عکرمۃ عن یحي کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں اور وہ اس میں حجت نہیں سمجھتے۔‘‘
    (شرح مشکل الآثار: ۷۰/۸)
    7۔ امام ابن حبان:’’اس کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت میں اضطراب ہے۔ وہ غیر کتاب (حافظے) سے بیان کرتے تھے۔‘‘(الثقات: ۲۳۳/۵)
    8۔امام ابواحمد الحاکم:’’اس کی یحییٰ سے اکثر احادیث ضعیف ہیں۔‘‘ (الإکمال لمغلطائي: ۲۵۸/۹)
    9۔ امام عبدالحق إشبیلي:
    ’’عکرمۃ مضطرب الحدیث عن یحیی بن أبي کثیر․‘‘ (الأحکام الوسطی: ۱۱۷/۴)
    10۔ امام ابن قطان:’’عکرمہ صدوق اور حافظ ہے، مگر وہ یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں بہت زیادہ وہم کرتا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘
    (بیان الوہم و الإیہام: ۱۴۴/۳)
    !حافظ ذہبی: ’’ثقہ ہے، مگر یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں مضطرب ہے۔‘‘ (الکاشف: ۲۷۶/۲)
    11۔ حافظ ابن حجر:’’صدوق ہے، غلطی کرتا ہے۔ اس کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت میں اضطراب ہے، اس کے پاس کتاب نہ تھی۔‘‘ (التقریب، رقم: ۵۲۵۰)
    صحیح مسلم اور عکرمہ:
    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یحییٰ سے روایت کرنے میں عکرمہ متکلم فیہ ہے تو پھر صاحبِ کتاب نے اسے صحیح مسلم میں درج کیوں کیا؟
    اس کا جواب یہ ہے کہ انھوں نے اسے متابعت میں ذکر کیا ہے۔ اس میں مذکور روایات ان کی شرط پر نہیں۔
    حدیث الوضوء کو بیان کرنے والے حضرت عائشہ کے شاگرد سالم مولیٰ شداد ابو عبداﷲ ہیں اور وہ مدنی ہیں۔ (التقریب، رقم: ۲۳۹۴) ان کے چار شاگرد ہیں جو سبھی مدینے کے باشندے ہیں۔ تفصیل یہ ہے:
    1۔صحیح مسلم، حدیث: ۵۶۶:بکیر بن عبداﷲ بن أشج مولیٰ بنومخزوم۔ (التقریب، رقم: ۸۵۳)
    2۔صحیح مسلم، حدیث: ۵۶۷: محمد بن عبدالرحمان بن نوفل ابوالاسود۔ (التقریب، رقم: ۶۸۴۹)
    3۔صحیح مسلم، حدیث: ۵۶۸: ابو سلمہ بن عبدالرحمان الزہری۔(التقریب، رقم: ۹۴۷۴)
    4۔صحیح مسلم، حدیث:۵۶۹: نعیم بن عبداﷲ مجمر․
    (التقریب، رقم: ۸۰۷۹)
    یہ چاروں کتبِ ستہ کے راوی ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے ان کے ترجمے کے شروع میں ’’ع‘‘ کا رمز ذکر کیا ہے۔
    ان راویوں سے یہ روایت پھر مختلف شہروں کے راویوں نے بیان کی۔ اس خصوصیت کی بنا پر امام مسلم نے حضرت عائشہ کی حدیث کو اولاً ذکر کیا۔
    مذکورہ بالا محدثین نے جس سند پر تنقید کی ہے وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمان کی، یعنی تیسری سند ہے۔ آخری (چوتھی) سند فلیح بن سلیمان کی ہے۔ اس راوی پر ائمہ کرام کا نقد و تبصرہ موجود ہے، بلکہ عکرمہ سے زیادہ ہے۔ (ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب: ۵۰۸/۴ إحیاء التراث․ اس کی تلخیص میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: صدوق کثیر الخطاء․ التقریب، رقم: ۶۱۱۷)
    اسی لیے امام مسلم نے اس کی سند کو سب سے آخر میں ذکر کیا ہے۔ ازاں بعد حضرت عبداﷲ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث ذکر کی ہے۔​
    خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ کی حدیث بالکل صحیح ہے۔ امام ابوزرعہ وغیرہ کا کلام مخصوص سند پر ہے جس سے اصل حدیث کی صحت متاثر نہیں ہوتی۔
     
  6. ‏مئی 13، 2017 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آٹھویں حدیث:
    ’’و سئل أبوزرعۃ عن حدیث رواہ ابن فضیل عن الأعمش عن أبي صالح و أبي سفیان عن جابر قال: قال رسول اللّٰہﷺ: ((إذا أکل أحدکم فلا یمسح یدہ بالمندیل حتی یلعقہا أو یلعقہا، فإنہ لا یدري في أي طعام البرکۃ․))قال أبو زرعۃ: الناس یقولون: عن أبي سفیان عن جابر عن النبيﷺ فقط بلا أبي صالح․‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۵۰۸)
    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام اعمش سے محمد بن فضیل نے روایت کرتے ہوئے ان کے دو اساتذہ؛ ابوصالح اور ابوسفیان کا تذکرہ کیا ہے، جب کہ اعمش سے بیان کرنے والی ایک جماعت ان کے صرف ایک استاد ابوسفیان کا ذکر کرتی ہے، ابوصالح کا ذکر نہیں کرتی۔
    امام مسلم نے اس حدیث کو حضرت جابر سے دو مرکزی اسانید سے بیان کیا:
    1۔أبو الزبیر عن جابر․ (صحیح مسلم، حدیث: ۵۳۰۰، ۵۳۰۱، ۵۳۰۲۔ دار السلام)
    2۔ أبوسفیان عن جابر․ (صحیح مسلم، حدیث: ۵۳۰۳، ۵۳۰۴، ۵۳۰۵ ۔دار السلام)
    خط کشیدہ مقام پر أبوسفیان و أبو صالح عن جابر کی سند بیان کی ہے، یعنی مسند جابر کے اختتام پر، چنانچہ انھوں نے آخری حدیث یوں بیان کی:
    ’’و حدثنا أبوبکر بن أبي شیبۃ حدثنا محمد بن فضیل عن الأعمش عن أبي صالح و أبي سفیان عن جابر عن النبيﷺ في ذکر اللعق․ و عن أبي سفیان عن جابر عن النبيﷺ، و ذکر اللقمۃ نحو حدیثہما․‘‘
    (صحیح مسلم، رقم: ۵۳۰۵․ دارالسلام)
    امام صاحب کا آخری کلام (و عن أبي سفیان……) مُشعر ہے کہ وہ محمد بن فضیل کی غلطی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، تبھی انھوں نے اس حدیث سے پہلے جریر اور ابومعاویہ کی حدیث بیان کی۔(صحیح مسلم، حدیث: ۵۳۰۳، ۵۳۰۴۔ دار السلام)
    نیز یہ بھی اشارہ کیا کہ محمد بن فضیل سند میں کبھی تو ابوسفیان اکیلے کا واسطہ بھی ذکر کرتے ہیں، جیسا کہ اعمش کے دیگر تلامذہ بیان کرتے ہیں۔ ابن فضیل کا ابوسفیان کو اکیلا بیان کرنا مسند ابی عوانہ (۳۸۹/۱۶، حدیث: ۸۷۲۹ طبع جدید) میں ہے اور یہاں ابومعاویہ کی روایت مقروناً ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اعمش کے درج ذیل شاگرد سند میں صرف ابوسفیان کا واسطہ ذکر کرتے ہیں:
    1۔ جریر۔ (صحیح مسلم: ۵۳۰۳ دارالسلام․ رحمات الملأ الأعلی بتخریج مسند أبي یعلی: ۳۷۸/۳، رقم: ۱۹۰۳)
    2۔ ابو معاویہ۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۵۳۰۴۔ دار السلام)
    3۔ یعلیٰ بن عبید۔ (مسند ابی یعلی: ۶۶۰/۳، حدیث: ۲۲۸۳)
    4۔مالک بن سعیر۔ (مسند ابی عوانہ: ۳۸۹/۱۶، حدیث: ۸۷۳۰)
    5۔ شیبان بن عبدالرحمان۔ (مسند ابی عوانہ: ۳۹۰/۱۶، حدیث: ۸۷۳۱)
    6۔ عیسیٰ بن یونس (مسند ابی عوانہ: ۳۸۳/۱۶،۳۸۴، حدیث: ۸۷۲۰)
    صرف ابن فضیل أبوسفیان و أبو صالح بیان کرتے ہیں اور کبھی کبھار صرف أبوسفیان بیان کرتے ہیں۔ اسی کی طرف امام ابوزرعہ اور امام مسلم توجہ دلا رہے ہیں۔​
    اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام مسلم کی نگاہ میں یہ علت تھی، تبھی مسند جابر کے آخر میں بیان کیا اور ساتھ ہی اشارہ کر دیا۔
     
  7. ‏مئی 13، 2017 #17
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    نویں روایت:
    امام ابن ابی حاتم نے امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ سے درج ذیل حدیث کی بابت دریافت کیا:
    ’’محمد بن عباد عن عبدالعزیز الدرواردي عن حمید عن أنس أن النبيﷺ قال: ((إن لم یثمرہا اللّٰہ فبم یستحل أحدکم مال أخیہ!))‘‘
    یعنی رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’اگر اﷲ تعالیٰ اسے پھل دار نہ کرے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کیسے حلال قرار دیتا ہے!‘‘
    ’’امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ فرمانے لگے: یہ (مرفوع بیان کرنا) غلطی ہے، وہ تو حضرت انس کا کلام ہے۔ امام ابوزرعہ نے مزید فرمایا: دراوردی (عبدالعزیز بن محمد) اور مالک بن انس اسے مرفوع بیان کرتے ہیں، جب کہ دیگر رواۃ موقوف بیان کرتے ہوئے حضرت انس کا کلام ذکر کرتے ہیں۔‘‘ (کتاب العلل، رقم: ۱۱۲۹)
    محمد بن عباد بن زبرقان مکی کی روایت صحیح مسلم (حدیث: ۱۵۵۵، دار السلام ترقیم: ۳۹۷۹) میں شاہد میں بہ طورِ متابعت ہے۔ صحیح مسلم میں باب وضع الجوائح کے تحت سب سے پہلے حضرت جابر بن عبداﷲ کی حدیث بیان کی گئی ہے، ازاں بعد حضرت انس کی حدیث درج ذیل ارقام(دار السلام کی ترقیم) کے تحت مذکور ہے:
    ۳۹۷۷، ۳۹۸۷، ۳۹۷۹
    پہلی ترقیم کے تحت درج بالا جملہ حضرت انس کا قول ہے، دوسری ترقیم کے تحت امام مالک نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور تیسری ترقیم میں محمد بن عباد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے۔ گویا محمد بن عباد نے امام مالک کی متابعت کی ہے۔ اس کی حقیقت آئندہ آ رہی ہے۔ اسی روایت کی طرف امام ابوزرعہ نے اشارہ کیا ہے۔
    امام مالک کی مرفوع حدیث صحیح بخاری (حدیث: ۲۱۹۸) میں بہ طور اُصول بیان ہوئی ہے۔ امام ابوعوانہ نے مسند (۲۹۱/۱۲، حدیث: ۵۶۳۸)اور حافظ ابن حبان نے التقاسیم و الأنواع (۳۲/۳، حدیث: ۱۸۸۶) میں ذکر کی ہے، یعنی امام مالک کا مذکورہ بالا ٹکڑے کو مرفوع بیان کرنا امام بخاری، امام ابوعوانہ اور حافظ ابن حبان کے نزدیک صحیح ہے۔
    امام مالک کی یہ روایت موطأ (۳۶۴-۳۶۳/۳، رقم: ۱۴۲۰ بروایات الثمانیۃ) میں ہے۔ ان سے امام شافعی نے بھی اسی طرح بیان کی ہے۔ (الأم: ۹۳/۴،۹۴، رقم: ۱۴۸۴)
    کیا امام مالک کے سبھی تلامذہ اس اختلافی ٹکڑے کو مرفوع بیان کرتے ہیں؟ حافظ ابن عبدالبر (وفات: ۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:
    ’’راویانِ موطأ اس حدیث کو اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ میری معلومات کی حد تک انھوں نے اس بابت اختلاف نہیں کیا۔‘‘ (التمہید: ۱۹۰/۲)
    حافظ خطیب بغدادی نے بھی یہی بات کہی ہے۔ (الفصل للوصل المدرج في النقل: ۱۲۳/۱)
    امام بیہقی فرماتے ہیں کہ امام مالک سے ایک جماعت اسی طرح روایت کرتی ہے جس طرح امام شافعی بیان کرتے ہیں۔‘‘ (بیہقی: ۳۰۰/۵) امام بیہقی کے اس کلام کو حافظ ذہبی نے اپنے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔(تہذیب السنن الکبیر: ۲۰۶۴/۴، رقم: ۸۷۲۱)
    جب کہ ان کے برعکس حافظ ابونعیم لکھتے ہیں:
    ’’موطأ میں صحیح ہے، مگر آخری جملہ موطأ کے سبھی رواۃ بیان نہیں کرتے۔‘‘ (حلیۃ الأولیاء: ۳۴۰/۶)
    حالانکہ امام ابونعیم کا یہ دعویٰ درست نہیں کیوں کہ موطأ کے سبھی راوی امام مالک کے ذکر کردہ جملے کو مرفوع بیان کرتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو موطأ إمام مالک روایۃ یحي اللیثي: ۳۶۳/۳،۳۶۴، رقم: ۱۴۲۰․ روایۃ أبي مصعب الزہري أحمد بن القاسم بن الحارث: ۳۱۶/۲، رقم: ۲۴۹۹ بہ حوالہ الموطأ بروایات الثمانیۃ․ روایۃ أبي محمد الحدثاني سوید بن سعید الہروي: أیضا․ روایۃ عبدالرحمان بن القاسم بن خالد المصري العتقي أبي عبداللّٰہ، ص: ۲۳۹، رقم: ۱۵۱)
    یہ راوی ایسے ہیں جن کے موطأ میں یہ روایت موجود ہے۔
    اب امام مالک کے ان تلامذہ کی روایت پیشِ خدمت ہے جنھوں نے امام مالک سے براہِ راست موطأ روایت کی لیکن یہ روایت اس میں نہیں، تاہم دیگر محدثین نے ان کی روایت ذکر کی ہے:
    1۔ عبداﷲ بن مسلمہ قعنبی ابو عبدالرحمان۔(الفصل للوصل المدرج: ۱۲۲/۱)
    2۔ یحییٰ بن عبداﷲ بن بکیر ابوزکریا۔ (بیہقی: ۳۰۵/۳)
    ذیل میں امام مالک کے دیگر شاگردوں کی روایت مذکور ہے جنھوں نے حدیث کے آخری جملے کو مرفوع بیان کیا ہے:
    1۔ امام شافعی۔ (الأم: ۹۳/۴،۹۴، رقم: ۱۴۸۴۔ بیہقی: ۳۰۰/۵)
    2۔ عبداﷲ بن یوسف۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۲۱۹۸)
    3۔ عبداﷲ بن وہب۔ (صحیح مسلم، حدیث: ۳۹۷۸ دارالسلام۔ مسند ابی عوانہ: ۲۹۱/۱۲، حدیث: ۵۶۳۸)
    4۔ اسماعیل بن ابی اویس۔ (حلیۃ الأولیاء: ۳۴۰/۶)
    5۔ خالد بن مخلد۔ (مسند ابی عوانہ، حدیث: ۵۶۳۸)
    ان سطور سے معلوم ہوا کہ یہ روایت موطأ کے متعدد نسخوں میں مرفوع ہے۔ موطأ کے راوی اور امام مالک کے دیگر شاگرد بھی جنھوں نے یہ جملہ ذکر کیا ہے، اسے مرفوع ہی بیان کرتے ہیں۔ البتہ قتیبۃ نے یہ ٹکڑا ذکر نہیں کیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۱۴۸۸) لہٰذا امام ابونعیم کا یہ دعویٰ کہ’’آخری جملہ موطأ کے سبھی رواۃ ذکر نہیں کرتے‘‘ درست نہیں۔
    دیگر مُضعّفین:
    امام مالک اور محمد بن عباد کی روایت کو امام ابوزرعہ اور امام ابوحاتم کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی مدرج یا وہم قرار دیا ہے:
    3۔ حافظ دارقطنی:
    ’’محمد بن عباد نے دراوردی (عبدالعزیز بن محمد) سے جب یہ حدیث سنی تو اس میں غلطی کی ہے کیوں کہ ابراہیم بن حمزہ یوں بیان کرتے ہیں: ’’دراوردي عن حمید عن أنس: نہی رسول اللّٰہﷺ عن بیع الثمرۃ حتی تزہو․‘‘ ہم نے حضرت انس سے پوچھا: و ما تزہو؟ فرمایا: سرخ ہوجائے۔ نیز فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر اﷲ (تعالیٰ) پھل روک دے تو وہ کیوں کر اپنے بھائی کا مال حلال کر رہا ہے؟یہی صحیح ہے۔ رہے ابن عباد تو انھوں نے مرفوع حدیث کو ساقط کر دیا اور حضرت انس کا کلام ذکر کرکے اسے مرفوع بنا دیا۔ یہ سنگین غلطی ہے، و اﷲ اعلم۔‘‘(الالزامات و التتبع، ص: ۳۶۱․ علل الدارقطني: ۶۰/۱۲،۶۱، سؤال: ۲۴۱۶․ الأحادیث التي خولف فیہا مالک بن أنس للدارقطني، ص: ۱۳۷)
    4۔امام حاکم:
    ’’اس حدیث میں یہ اضافہ ’’أرأیت إن منع اللّٰہ الثمرۃ‘‘ عجیب ہے۔ مالک بن انس اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اسے ان کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا۔ ہمارے بعض ائمہ نے صراحت کی ہے کہ وہ حضرت انس کا قول ہے۔‘‘ (معرفۃ علوم الحدیث، ص: ۱۳۵، النوع: ۳۱)
    5۔امام ابن خزیمہ نے اِدراج کا دعویٰ کیا ہے۔ (ہدي الساري، ص: ۳۶۰)
    6۔حافظ ابومسعود الدمشقی:
    ’’مالک اور درواردی (عبدالعزیز بن محمد) نے حضرت انس کا قول ’’أرأیت إن منع اللّٰہ الثمرۃ‘‘ حدیثِ نبوی میں درج کر دیا ہے۔ ان (محدثین) کے نزدیک وہ غلط ہے۔‘‘
    (مجموع الفتاویٰ: ۴۸/۲۹)
    حافظ مزی نے یہ اضافہ کیا ہے:
    ’’میرے گمان میں حمید نے یہ حدیث حجاز میں اسی طرح بیان کی ہے۔‘‘ (تحفۃ الأشراف: ۱۹۸/۱)
    حافظ دمشقی کا یہ قول مطبوع ’’الأجوبۃ‘‘ میں نہیں ہے۔
    شیخ الاسلام دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
    ’’ابومسعود (الدمشقی) کی بات محلِ نظر ہے۔‘‘
    (مجموع الفتاویٰ: ۲۶۶/۳۰)
    7۔امام ابو قاسم عبداﷲ بن محمد بغوی (وفات: ۳۱۷ھ):
    ’’اس حدیث کو حمید سے ایک جماعت حضرت انس کے قول کے طور پر نقل کرتی ہے۔ میری معلومات کی حد تک اسے صرف دراوردی مرفوع بیان کرتے ہیں۔‘‘ (الفصل للوصل المدرج: ۱۲۵/۱،۱۲۶)
    8۔خطیب بغدادی:
    ’’محمد بن عباد مکی عبدالعزیز بن محمد (دراوردی) سے صرف حضرت انس کا کلام نقل کرتے ہیں، انھوں نے اسے بھی (امام مالک کی طرح) مرفوع بیان کر دیا ہے۔‘‘
    ازاں بعد ابن عباد کی روایت نقل کی، پھر فرمایا:
    ’’اسے دراوردی سے ابراہیم بن حمزہ زبیدی موقوف بیان کرتے ہیں، جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ابراہیم، محمد بن عباد سے أتقن ہیں۔ کسی ایک سے مرفوع بیان کرنا درست نہیں، سوائے امام مالک کے، و اﷲ اعلم۔‘‘ (الفصل للوصل المدرج: ۱۲۵/۱، ۱۲۶)
    9۔ علامہ زرکشی:
    ’’جان لیجیے کہ حضرت انس کا قول حدیث میں مدرج ہے۔ (امام) بخاری نے اس بات کے بعد چھٹے باب میں اسے واضح کیا ہے۔‘‘ (مصابیح الجامع للدمامیني: ۸۷/۵)
    ازاں بعد حافظ زرکشی کی کتاب سے یہ قول دستیاب ہوگیا۔(التنقیح لألفاظ الجامع الصحیح للزرکشي ذیل کشف المشکل لابن الجوزي: ۱۳۲/۳)
    10۔ حافظ عبدالحق اشبیلی: ’’ان (حضرت انس) سے ہر سند میں اتصال نہیں۔‘‘ (الجمع بین الصحیحین بہ حوالہ الإعلام بفوائد عمدۃ الأحکام لابن الملقن: ۸۷/۷․ البدر المنیر: ۵۸۰/۶․ التوضیح: ۴۹۲/۱۴․ مصابیح الجامع للدمامیني: ۸۸/۵)
    امام اشبیلی نے اس بابت حضرت جابر بن عبداﷲ کی حدیث ذکر کی ہے، حضرت انس کی حدیث ذکر نہیں کی۔
    (الأحکام الوسطی: ۲۷۲/۳)
    11۔ حافظ ابن ملقن:
    ’’اس بابت قدیم اختلاف چلا آ رہا ہے۔ دارقطنی وغیرہ کی رائے درست ہے کہ وہ حضرت انس کا قول ہے، جیسا کہ عبدالحق (اشبیلی) نے ذکر کیا ہے۔ ابوزرعہ نے فرمایا: دراوردی (سے محمد بن عباد) اور مالک بن انس مرفوع، جب کہ دیگر رواۃ اسے حضرت انس کا موقوف کلام نقل کرتے ہیں۔ شیخ تقی الدین (ابن دقیق العید) کے کلام سے اس کا مرفوع ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابن عطار (عبدالباقی بن محمد بن غالب بغدادی) نے ان کی متابعت کی ہے جو غیر جید ہے۔‘‘
    (الإعلام: ۸۷/۷)
    ’’خلاصہ یہ ہے کہ ایک بڑی جماعت اس کے (حضرت انس پر) موقوف ہونے کی طرف گئی ہے، اس کے برعکس جو کتاب میں مذکور ہے۔‘‘ (البدر المنیر: ۵۸۰/۶)
    اور ایک مقام پر لکھتے ہیں:
    ’’أرأیت……إلخ کا مقولہ حضرت انس کا قول ہے جو اس باب کے بعد باب بیع المخاضرۃ میں بالصراحت موجود ہے۔‘‘ (التوضیح: ۴۹۲/۱۴)
    الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی نے امام مالک کی روایت کے برعکس موقوف کو ترجیح دی ہے۔ (تحقیق الإلزامات، ص: ۳۶۱) جب کہ وہ محمد بن عباد کے بارے میں فرماتے ہیں:
    ’’اس میں احتمال ہے کہ امام مسلم نے یہ مرفوع سند بیانِ علت کے لیے ذکر کی ہو۔ اور یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ انھوں نے یہ مرفوع سند اس نظریے کے تحت ذکر کی ہو کہ ان کے یہاں قرائن اس کے مرفوع ہونے کے متقاضی ہیں۔ اس کے موقوف ہونے پر اطمینانِ قلب ہے۔‘‘ (تحقیق الإلزامات و التتبع، ص: ۳۶۱)
    امام شوکانی کا رجحان بھی اس کے مدرج ہونے کی طرف ہے۔(نیل الأوطار: ۱۰۹/۱۰، رقم: ۲۲۱۸)
    شیخ ابوسفیان مصطفی باحو رقم طراز ہیں:
    ’’بہرحال حدیث صحیح ہے لیکن یہ زیادت محلِ نظر ہے۔ اس کے معنی صحیح مسلم وغیرہ کی دوسری صحیح حدیث میں موجود ہیں جو اس اضافے کا صحیح شاہد ہے۔‘‘ (الأحادیث المنتقدۃ: ۳۳۷/۱)
    تنبیہ: جو لوگ زیادۃ الثقۃ کو مطلق طور پر قبول کرتے ہوئے اسے محدثین کا منہج باور کراتے ہیں، ان کی تردید میں یہ بہترین مثال ہے کہ محدثین امام مالک کی زیادت کو قبول نہیں کر رہے کیوں کہ ان کے نزدیک یہ امام صاحب کا وہم ہے۔
    مصحّحین:
    امام مالک بن انس کی حدیث کی تصحیح کرنے والے درج ذیل محدثین ہیں:
    1۔امام بخاری: (صحیح بخاری، حدیث:۲۱۹۸)۔انھوں نے اس حدیث کو اصول میں بیان کیا ہے، بلکہ امام بخاری کا اسلوب ہے کہ وہ ضبط اور اتقان کی وجہ سے امام مالک کی مسند حدیث کو دیگر راویان کی روایت پر مقدم کرتے ہیں۔
    2۔ امام ابوعوانہ: (مسند: ۲۹۱/۱۲، حدیث: ۵۶۳۸)
    3۔ حافظ ابن حبان: (التقاسیم و الأنواع۳۲/۳، حدیث: ۱۸۸۶)
    4۔ قاضی عیاض (وفات:۵۴۴ھ): وہ حضرت جابر بن عبداﷲ کی حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    ’’یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ دوسری حدیث (انس بن مالک) میں یہ الفاظ ((أرأیت إن منع اللّٰہ الثمرۃ)) کلامِ نبوی ہے یا اس کا ہم معنی ہے، اگرچہ صحیح مسلم میں اس کے بعد یہی قول حضرت انس کا مذکور ہے۔ انھوں نے اسے مالک (بن انس) کی حدیث میں مرفوع ذکر کیا ہے۔ اس پہلی حدیث (جابر) نے اشکال ختم کر دیا اور مالک کی روایت کی تصحیح کر دی۔‘‘ (إکمال المعلم للقاضي عیاض: ۲۲۷/۵)
    5۔ حافظ ابن عبدالبر (وفات:۴۶۳ھ):
    ’’رہا یہ قول ((أرأیت إن منع اللّٰہ الثمرۃ ففیم یأخذ أحدکم مال أخیہ)) تواسے ایک جماعت نے حضرت انس بن مالک کا قول سمجھا ہے جو باطل ہے کیوں کہ امام مالک اور دیگر حفاظ نے اس حدیث کو روایت کیا اور اس قول کا نبی کریمﷺ سے مرفوع ہونا ذکر کیا ہے۔ ابو زبیر (محمد بن مسلم بن تدرس مکی) حضرت جابر سے اسی طرح رسول اﷲﷺ سے بیان کرتے ہیں۔‘‘(التمہید: ۱۹۰/۲،۱۹۱)
    6۔ حافظ ابن حجر: وہ امام مالک بن انس اور محمد بن عباد کی روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’اس حدیث میں دارقطنی سے پہلے امام ابو حاتم رازی، امام ابوزرعہ رازی، امام ابن خزیمہ اور دیگر محدثین نے ادراج کا دعویٰ کیا ہے، جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ’’تقریب المنہج بترتیب المدرج‘‘ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ میں نے اس میں امام ابن خزیمہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں نے انس بن مالک کو خواب میں دیکھا تو انھوں نے مجھے بتلایا کہ یہ حدیث مرفوع ہے۔ بلاشبہ معتبر بن سلیمان نے اسے حمید سے مدرج بیان کیا ہے، لیکن اس کے آخر میں کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ’’بم یستحل؟‘‘ کے الفاظ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا مقولہ ہے یا وہ رسول اﷲﷺ سے (مرفوع) بیان کرتے ہیں۔‘‘ (ہدی الساری، ص: ۳۶۰)
    حافظ ابن حجر کی کتاب ’’تقریب المنہج بترتیب المدرج‘‘ کی تلخیص میں حافظ سیوطی یوں اختصار پیش کرتے ہیں:
    ……’’اس حدیث کو شیخین نے بیان کیا ہے۔ سبھی رواۃ میں سے امام مالک اسے مرفوع بیان کرنے میں منفرد ہیں۔ حمید کے شاگردوں میں سے کسی نے ان کی متابعت نہیں کی، بلکہ ان کی توضیح کے مطابق درج ذیل کلام حضرت انس پر موقوف ہے:
    ((أرأیت إن منع اللّٰہ الثمرۃ …… إلخ․))
    جن میں اسماعیل بن جعفر بھی ہیں۔ اس روایت کو شیخین نے بیان کیا ہے۔
    اس جملے کے ادراج اور محمد بن عباد مکی کے وہم پر امام ابوحاتم اور امام ابوزرعہ نے صراحت کی ہے۔ اس نے دراوردي عن حمید عن أنس: ((إن لم یثمرہا اللّٰہ فبم یستحل أحدکم مال أخیہ)) مرفوع بیان کیا ہے جسے مسلم نے ذکر کیا ہے۔ اس روایت کو دراوردی سے ابراہیم بن حمزہ درست انداز سے بیان کرتے ہیں۔ وہ محمد بن عباد سے أحفظ اور أتقن ہیں۔‘‘ (المدرج إلی المدرج للسیوطي، رقم: ۱۷)
    ……’’میں نے ’’المدرج‘‘ میں واضح کیا ہے کہ یہ جملہ حضرت انس کے قول پر موقوف ہے۔ اس کا مرفوع ہونا وہم ہے جس کی توضیح صحیح مسلم میں ہے۔‘‘ (التلخیص الحبیر: ۱۸۰۳/۴، رقم: ۱۵۴۳)
    ان کتب میں مرقوم رائے کے برعکس وہ فتح الباری میں اس زیادت کا دفاع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، چنانچہ وہ حافظ دارقطنی، حافظ ابو حاتم، حافظ ابوزرعہ اور خطیب بغدادی کی آراء کی طرف اشارہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
    ’’گزشتہ مکمل بحث میں کوئی ایسا مانع نہیں جو اس کی تفسیر کو مرفوع ہونے سے روکے کیوں کہ مرفوع بیان کرنے والے کے پاس ایسی اضافی چیز ہے جو موقوف بیان کرنے والے کے پاس نہیں۔ موقوف بیان کرنے والے کی روایت میں کوئی ایسی چیز نہیں جو مرفوع بیان کرنے والے کے قول کی نفی کرے۔ مسلم نے أبوالزبیر عن جابر کی سند سے جو الفاظ بیان کیے ہیں وہ حضرت انس کی حدیث میں مرفوع روایت کو تقویت دیتے ہیں۔‘‘ (فتح الباری: ۳۹۹/۴)
    7۔ علامہ عینی حنفی: انھوں نے حسبِ اُفتاد حافظ ابن حجر کا یہ کلام بدونِ نسبت نقل کیا ہے۔ (عمدۃ القاری: ۸/۱۲)
    حافظ ابن حجر کا فتح الباری والا موقف ہی زیادہ وقیع معلوم ہوتا ہے، و اﷲ اعلم۔
    8۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ: انھوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اور حافظ ابومسعود دمشقی کی تردید کی ہے کہ ان کا دعوائے اِدراج درست نہیں۔ (مجموع الفتاویٰ: ۴۸/۲۹ ، ۲۶۶/۳۰)
    9۔ امام ابن دقیق العید: ان کا رجحان بھی اس کی صحت کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ (إحکام الأحکام: ۱۲۸/۳)
    حافظ ابن ملقن نے ان کی تردید کی ہے۔ (الإعلام: ۸۷/۷)
    10۔ الشیخ ربیع بن ہادی عمیر المدخلی: وہ اس روایت کا دفاع کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
    ’’کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حمید اس روایت کو بیان کرنے میں مضطرب ہیں، ہم اس پر اضطراب کا حکم لگا سکتے ہیں؟ اس کا جواب نفی میں ہو گا کیوں کہ اضطراب کا فیصلہ کرنے کی نوبت تب آئے گی جب جمع یا ترجیح کا امکان معدوم ہو اور یہاں دونوں صورتیں درجۂ امکان میں ہیں۔
    رہی بات حدیث کے کچھ حصے پر اکتفا کرنے کی صورت میں جمع کی کیفیت تووہ کبھی حدیث کے ابتدائی حصے پر اکتفا کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں اور دوسری مرتبہ اسے مکمل بیان کر دیتے ہیں۔
    شک کی صورت میں جمع کی کیفیت: حمید کو مرفوع بیان کرنے میں شک ہو گیا، پھر جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ یہ جملہ مرفوع ہے تو حمید نے اسے اسی طرح روایت کر دیا۔
    رہا اس جملے میں مرفوع اور موقوف ہونے میں تعارض تو اس مقام پر ضروری ہے کہ مرفوع کو مقدم کرنے کا موقف اپنایا جائے کیوں کہ اس کی تقدیم پر کئی ایک ترجیحات ہیں:
    ۱……مرفوع بیان کرنے والے زیادہ ہیں جن کی تعداد چار ہے، جب کہ ان کے مقابلے میں موقوف بیان کرنے والے دو ہیں۔
    ۲……امام مالک مرفوع بیان کرنے والوں کے زمرے میں ہیں جو احتیاط، حفظ اور اتقان میں نام وَر ہیں۔
    ۳…… حضرت جابر کی حدیث مرفوع روایت کی شاہد ہے جس سے نبیﷺ کی طرف مرفوع کی صحتِ نسبت کی تائید ہوتی ہے۔
    رہا اس روایت کے مرفوع اور موقوف ہونے کا احتمال تو ہماری تحقیق میں امام مالک اور ان کے متابعین کی سند سے اس مرفوع روایت کے راجح ہونے کے بعد اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا کیوں کہ دونوں احتمالوں سے مضبوط اور زیادہ واضح اس کا مرفوع ہونا ہی ہے، و اﷲ اعلم۔
    امید ہے کہ امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں یہ جملہ مکمل غور و خوض، تقابل اور ترجیح کے بعد ہی ذکر کیا ہے جس سے یہ واضح ہو گیا کہ اس جملے پر موقوف کا حکم غیر صحیح ہے، درست اس کا مرفوع ہونا ہے۔ اس کے مرفوع ہونے کی تائید اور اس کا شاہد حدیثِ جابر ہے، و ﷲ الحمد۔ اس کا متن مالک کی سند سے صحیح ہے، ابن عباد اور یحییٰ بن ایوب کی سند سے حسن ہے۔ جب ہم ان پر سلیمان بن بلال کی روایت کا اضافہ کریں تو وہ صحیح لغیرہ ہے۔ اس سند کا بعض حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا اور تقویت دیتا ہے۔
    حضرت جابر کی حدیث، اس کا شاہد موجود ہے جو حضرت انس کی حدیث کے مرفوع صحیح ہونے اور اس کے قولِ نبویﷺ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘ (بین الإمامین؛ مسلم و الدارقطني، ص: ۲۷۶،۲۷۷)
    الشیخ مدخلی کے کلام کی بعض جزئیات ملاحظہ کے قابل ہیں!
    11۔ علامہ البانی: صحیح․ (إرواء الغلیل: ۲۰۸/۵، رقم: ۱۳۶۴)​
     
  8. ‏مئی 13، 2017 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    روایتِ حدیث کے مختلف اسالیب:
    راویان اس حدیث کو مختلف اسالیب سے بیان کرتے ہیں جن کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
    1۔ یقینی مرفوع۔ 2 یقینی موقوف۔ 3 عدمِ اضافہ۔
    4۔ مرفوع یا موقوف میں شبہ۔ 5 محتمل بیان کرنا۔
    اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے:
    یقینی مرفوع:
    بالجزم مرفوع بیان کرنے والے امام مالک ہیں۔ (صحیح بخاري، رقم: ۲۱۹۸․ صحیح مسلم، رقم: ۱۵۵۵، دارالسلام ترقیم: ۳۹۷۸․ التقاسیم و الأنواع لابن حبان: ۳۲/۳، رقم: ۱۸۸۶․ مسند أبي عوانۃ: ۲۹۱/۱۲، رقم: ۵۶۳۸)
    ان کی متابعت درج ذیل راویوں نے کی ہے:
    سلیمان بن بلال: ثقہ، کتب ستہ کے راوی۔ (التقریب، رقم: ۲۷۹۸، مسند أبي عوانۃ: ۲۹۱/۱۲،۲۹۲، رقم: ۵۶۳۹)
    ابو عباس یحییٰ بن ایوب غافقی مصری: صدوق ربما أخطأ․ (التقریب، رقم: ۸۴۶۱، شرح معاني الآثار: ۲۴/۴)
    انھوں نے ’’زہو‘‘ کی تفسیر مرفوع ذکر کی ہے جو درست نہیں۔
    محمد بن عباد بن الزبرقان المکي عن الدراوردي عن حمید․ (صحیح مسلم، رقم: ۱۵۵۵(۳۹۷۹)․ الفصل للوصل المدرج للخطیب البغدادي: ۱۲۵/۱)
    عبدالعزیز محمد الدراوردی کے دوسرے شاگرد ابراہیم بن حمزہ بن محمد زبیری نے محمد بن عباد مکی کی مخالفت کرتے ہوئے مختلف فیہ ٹکڑے کو حضرت انس کا قول قرار دیا ہے۔ (بیہقي: ۳۰۰/۵․ الفصل للوصل للبغدادي: ۱۲۴/۱،۱۲۵)
    ابراہیم کی اسی روایت کی بنا پر حافظ دارقطنی اور حافظ بغدادی نے محمد بن عباد کی روایت کو معلول قرار دیا ہے۔ (التتبع، ص: ۳۶۱، رقم: ۱۹۹․ العلل: ۶۰/۱۲،۶۱، سؤال: ۲۴۱۶․ الأحادیث التي خولف فیہا مالک بن أنس، ص: ۱۳۷ کلہم للدارقطني․ الفصل للوصل المدرج في النقل: ۱۲۵/۱، ۱۲۶)
    بلکہ حافظ بغدادی نے یہ بھی کہا:
    ’’ابراہیم، محمد بن عباد سے زیاد مضبوط ہیں۔ امام مالک کے علاوہ کسی ایک راوی سے اس کا مرفوع بیان کرنا صحیح نہیں۔‘‘
    (الفصل للوصل: ۱۲۶/۱)
    بلاشبہ ابراہیم بن حمزہ بن محمد زبیری ابو اسحاق مدنی، محمد بن عباد سے مضبوط ہیں۔ ابراہیم کے بارے میں محدثین کی آراء ملاحظہ ہوں:
    1۔ امام ابن معین: ’’ثقۃ․‘‘ (معرفۃ الرجال لابن محرم، ص: ۱۴۷، رقم: ۴۳۰)
    2۔ امام ابن سعد: ’’ثقۃ صدوق في الحدیث․‘‘(الطبقات الکبری: ۴۴۲/۵)
    3۔ امام نسائی: ’’لیس بہ بأس․‘‘
    (تہذیب التہذیب: ۱۱۷/۱)
    4۔ حافظ ابن حبان: (الثقات: ۷۲/۸)
    5۔ امام ابو حاتم: ’’صدوق، لم یکن لہ تلک المعرفۃ بالحدیث․‘‘ (الجرح و التعدیل:۹۵/۱)
    ’’صدوق راوی ہے۔ اسے حدیث کی معرفت نہ تھی۔‘‘
    6۔ امام ابن بشکوال: ’’ثقۃ․‘‘ (إکمال مغلطائي: ۱۹۸/۱)یہ قول مطبوع الصلۃ لابن بشکوال میں نہیں ملا۔
    7۔ امام ابن قانع: ’’صالح، یعني في الحدیث․‘‘
    (إکمال مغلطائي: ۱۹۹/۱)
    8۔ حافظ ابن حجر: صدوق۔ بخاری، ابوداود، عمل الیوم واللیلۃ للنسائي کے راوی ہیں۔ (التقریب، رقم: ۱۹۲)
    محمد بن عباد بن زبرقان مکی نزیل بغداد کے بارے میں محدثین کی آراء ملاحظہ فرمائیں:
    1۔ امام احمد: ’’ان کی حدیث اہل صدق کی حدیث ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ لابأس بہ ہے۔ میرے دل میں ہے کہ وہ صدوق ہے۔‘‘ (العلل و معرفۃ الرجال روایۃ عبد اللّٰہ: ۴۰۹/۲، فقرۃ: ۲۸۳۱)
    2۔ امام ابن معین: ’’لا بأس بہ․‘‘ (الجرح و التعدیل: ۱۴/۸، رقم: ۶۰ روایۃ أبي زرعۃ الرازي) ان کا دوسرا قول لا أعرفہ ہے۔ (سؤالات ابن الجنید، ص: ۶۷، رقم: ۳۷)
    3۔ حافظ ابن حبان: (الثقات: ۹۰/۹)
    4۔ امام ابن شاہین: (ذکرہ في الثقات، ص: ۲۰۷، رقم: ۱۲۵۰)
    5۔ امام ابن قانع: ’’ثقۃ․‘‘(تہذیب التہذیب: ۲۴۵/۹)
    6۔امام ابو علی صالح بن محمد جزرہ: ’’لا بأس بہ․‘‘ (تاریخ بغداد: ۳۷۶/۲)
    مگر اس کی سند میں علی بن محمد الحنیني (صوابہ الحبیبي) جھوٹ بولتا تھا، جیسا کہ ان کے شاگرد امام حاکم نے صراحت کی ہے۔(سؤالات مسعود بن علي السجزي للحاکم، ص: ۷۴، رقم: ۳۰)امام ابوزرعہ احمد بن حسین رازی نے ضعیف جدا کہا ہے۔(سؤالات السہمي للدارقطني وغیرہ، ص: ۲۲۴، رقم: ۳۰۸) امام دارقطنی فرماتے ہیں: ’’وہ نسخے اور منکر احادیث روایت کرتا تھا۔‘‘ (المؤتلف و المختلف للدارقطني: ۹۵۸/۲․ نیز امام دارقطنی کے اس مقام پر وہم کی نشان دہی کے لیے ملاحظہ ہو تہذیب مستمر الأوہام لابن ماکولا، ص: ۲۰۷)
    ابن عباد مکی امام بخاری و مسلم کے استاد ہیں۔ (المعجم المشتمل لابن عساکر،ص: ۲۴۷، رقم: ۸۵۳) جب کہ ابراہیم بن حمزہ صرف امام بخاری کے استاد ہیں۔ (المعجم المشتمل، ص: ۶۵، رقم: ۱۰۵)
    ابن عباد سے امام مسلم نے بہ کثرت روایات لی ہیں، جب کہ امام بخاری نے ایک حدیث باب من شہد بدرا من الملائکۃ میں ذکر کی ہے۔(الجمع بین رجال الصحیحین لابن القیسراني مع قرۃ العینین في معرفۃ رجال الصحیحین للشیخ أبي الأشبال شاغف، ص: ۲۸۸، رقم: ۱۸۸۹․ نیز ملاحظہ ہوضیاء الباري للشیخ أبي الأشبال، ص: ۱۷۴، رقم: ۱۲۷۵)
    ابراہیم بن حمزہ اور محمد بن عباد کے مابین اختلاف کی وجہ سے ابراہیم کی روایت کو ترجیح دی جائے گی، جیسا کہ حافظ دارقطنی اور حافظ بغدادی کا اسلوب ہے۔ گویا عبدالعزیز بن محمد الدراوردی نے اس روایت کو موقوف بیان کیا ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابراہیم بن حمزہ کی متابعت یحییٰ بن سلیمان بن نضلہ نے کی ہے۔(المخلصیات: ۲۸۲/۲، رقم: ۱۵۵۴)
    یحییٰ موصوف کے بارے میں امام ابوحاتم نے فرمایا:
    ’’شیخ ہے، چند دن حدیث بیان کی، پھر فوت ہوگئے۔‘‘(الجرح و التعدیل: ۱۵۴/۹، رقم: ۶۳۹)
    امام ابن حبان نے الثقات(۲۶۹/۹) میں درج کر کے فرمایا:
    ’’یخطیٔ و یہم الثقات․‘‘
    امام ابن عدی:’’ان کی عام احادیث مستقیم ہیں۔‘‘
    (الکامل: ۶۵۹/۱۰، رقم: ۲۱۶۲)
    حافظ ابن خراش نے ان پر جرح کی ہے۔ (ایضا)مگر وہ خود ناقابلِ اعتبار ہے۔
    یقینی موقوف:
    وہ راوی جنھوں نے محلِ بحث مختلف فیہ ٹکڑے کو حضرت انس کا قول قرار دیا ہے، یعنی قال أنس کہہ کر بات شروع کی ہے، مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ یزید بن ہارون۔ (شرح السنۃ للبغوي: ۹۴/۸،۹۵ و قال: ’’ہذا حدیث متفق علی صحتہ․‘‘ الفصل للوصل المدرج: ۱۲۳/۱،۱۲۴)
    2۔ابوخالد الاحمر سلیمان بن حیان۔(الفصل للوصل المدرج: ۱۲۶/۱،۱۲۷)
    3۔ اسماعیل بن جعفر:ان کی روایت میں قال أنس کے الفاظ نہیں، بلکہ ’’زہو‘‘ کی تفسیر سے متصل عبارت ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۲۲۰۸۔ صحیح مسلم، حدیث: ۱۵۵۵(۳۹۷۷)۔ شرح معانی الآثار: ۲۴/۴)
    جب کہ السنن الکبری للبیہقي (۳۰۰/۵) میں ’’قال: أرأیت‘‘ ہے، یعنی احتمال ہے کہ یہ مرفوع ہے یا موقوف۔
    4۔ سفیان ثوری: ان کی روایت کی طرف امام بیہقی نے اشارہ کیا ہے۔ (السنن الکبریٰ: ۳۰۰/۵۔ تہذیب السنن الکبیر: ۲۰۶۵/۴)
    حمید کے یہ چاروں شاگرد موقوف بیان کرتے ہیں، جب کہ عبدالعزیز بھی قولِ راجح میں موقوف بیان کرتے ہیں۔
    عدمِ اضافہ:
    حمید کے وہ شاگرد جنھوں نے یہ کلمہ ذکر نہیں کیا:
    1۔ ہشیم بن بشیر۔ (صحیح بخاری، حدیث: ۲۱۹۷)
    2۔ عبداﷲ بن مبارک۔ (صحیح بخاری، حدیث:۲۱۹۵)
    3۔ یحییٰ بن سعید قطان۔ (مسند احمد: ۱۱۴/۳، حدیث: ۱۲۱۳۸)
    4۔ حماد بن سلمہ۔ (سنن ابوداود، حدیث: ۳۳۷۱، ترمذی، حدیث: ۱۲۲۸، سنن ابن ماجہ، حدیث: ۲۲۱۷)
    5۔ عبداﷲ بن بکر بن حبیب۔ (شرح معانی الآثار: ۲۴/۴)
    6۔ بشر بن مفضل الرقاشی۔ (الفصل للوصل: ۱۲۰/۱)
    مرفوع یا موقوف ہونے میں شبہ:
    راوی شک کا اظہار کرتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ ’’بم تستحل مال أخیک؟‘‘ کے کلمات حضرت انس نے کہے ہیں یا وہ مرفوع بیان کرتے ہیں؟ایسے راوی معتمر بن سلیمان ہیں۔ (الفصل للوصل المدرج: ۱۲۱/۱)
    تنبیہ: حافظ ابن حجر نے مذکورہ بالا اسلوب سے روایت کرنے والے دو راویوں کا ذکر کیا ہے، دوسرے راوی بشر بن مفضل ہیں اور بہ طور مرجع خطیب بغدادی کی کتاب المدرج کا ذکر کیا ہے۔
    (فتح الباری: ۳۹۸/۴)
    حالانکہ اس میں بشر تو یوں بیان کرتے ہیں:
    ’’نہی نبي اللّٰہﷺ من بیع ثمر النخل حتی یزہی․ قیل: و ما زہوہ؟ قال: ((أن یحمر․))‘‘ (الفصل للوصل المدرج: ۱۲۰/۱)
    یعنی مذکورہ بالا جملہ بشر بیان ہی نہیں کرتے، اس لیے حافظ صاحب کی یہ بات ان کا وہم معلوم ہوتی ہے۔
    محتمل بیان کرنا:
    محمد بن عبداﷲ انصاری اسے یوں بیان کرتے ہیں:
    ’’قال: أرأیت إن حبس اللّٰہ……إلخ․‘‘(السنن الکبری للبیہقي: ۳۰۰/۵)
    اس میں مرفوع اور موقوف ہونے کا احتمال پایا جاتا ہے۔
    خلاصہ:
    اس جملے کو امام بخاری نے اصول میں بیان کیا ہے، جب کہ امام مسلم نے شواہد میں ذکر کیا ہے اور شاہد میں بھی مقامِ متابعت پر ذکر کیا ہے۔اس اختلاف میں جمع و تطبیق ممکن ہے اور ترجیح بھی دی جا سکتی ہے۔ جمع یوں ہے کہ حمید نے حدیث کا کبھی ابتدائی حصہ بیان کر دیا اور کبھی مکمل حدیث بیان کر دی۔ جب مرفوع ہونے میں شک ہوا تو موقوف بیان کر دیا۔ ہر دو روایات صحیح ہیں۔ ترجیح کی صورت میں مرفوع کو ’’زیادۃ الثقۃ مقبولۃ‘‘ کے قاعدے کے تحت راجح قرار دیا جائے گا۔
    امام مالک عموماً جب بھی مسند حدیث بیان کرتے ہیں تو صحیح روایت بیان کرتے ہیں، بلکہ احتیاط کے پیشِ نظر مرفوع کو موقوف اور موقوف کو مقطوع بیان کر دیتے ہیں، چنانچہ امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ امام مالک کا معمول ہے کہ وہ احادیث کو مرسل بیان کرتے ہیں اور راوی کو ساقط قرار دیتے ہیں۔(العلل للدارقطني: ۶۳/۶، سؤال: ۹۸۰)
    مرفوع روایت امام مالک نے موطأ میں بھی بیان کی ہے۔ صحیحین کی تدوین سے پیشتر موطأ ہی اصح الکتب گردانی جاتی تھی۔
    اسے حمید سے مرفوع بیان کرنے والے تین راوی ہیں اور موقوف بیان کرنے والے چار، جب کہ قولِ راجح میں عبدالعزیز الدراوردی بھی اسے موقوف بیان کرتے ہیں، گویا پانچ راوی ہو گئے۔ جنھوں نے یہ جملہ بیان نہیں کیا ان کی تعداد چھ ہے۔ مرفوع یا موقوف میں شک کا اظہار کرنے والے اور محتمل بیان کرنے والے ایک ایک ہیں۔
    ہماری طالب علمانہ اور استاذی المکرم مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی عالمانہ رائے کے مطابق یہ روایت مرفوعاً بھی صحیح ہے اور موقوفاً بھی، و اللّٰہ أعلم بالصواب․
    امام مسلم کے قول کی توضیح:
    امام مکی بن عبدان ابوحاتم کا بیان ہے کہ میں نے امام مسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
    ’’میں نے یہ مسند کتاب امام ابوزرعہ رازی کی خدمت میں پیش کی۔ انھوں نے اس کتاب میں جس جس حدیث کے بارے میں مجھے اشارہ کیا کہ اس میں علّت (اور ضعف کا سبب) ہے، میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ان کی رائے کی روشنی میں جو صحیح تھی اور اس میں کوئی علت نہ تھی اسے میں نے بیان کیا ہے۔‘‘ (فوائد أبي بکر بن عقال الصقلي عن أبي بکر بن غزرۃ قال: ذکر مکي بن عبدان …… بہ حوالہ ضعیف بخاری و مسلم․ تقیید المہمل للغساني الجیاني: ۶۷/۱ و السیاق لہ․ مقدمۃ إکمال المعلم للقاضي عیاض، ص: ۱۱۰․ المفہم للقرطبي: ۳۹/۱․ صیانۃ صحیح مسلم لابن الصلاح، ص: ۶۷․ فہرسۃ ابن الخیر، ص: ۸۷․ سیر أعلام النبلاء: ۵۶۸/۱۲)
    اس قول کے راوی ابوبکر بن غزرہ کا ترجمہ نہیں ملا۔
    امام مسلم سے نقل کردہ یہ قول ان کے عمل سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس قول کی روشنی میں صحیح مسلم میں ایسی روایات نہیں ہونی چاہئیں جو امام ابوزرعہ کے نزدیک معلول ہوں۔ آپ پڑھ آئے ہیں کہ امام ابوزرعہ نے صحیح مسلم کے بعض راویوں پر اعتراض کیا اور نو (۹) روایات کو ہدفِ تنقید ٹھہرایا۔راویوں کے بارے میں امام مسلم کی وضاحت گر چکی ہے اور نو (۹) روایات پر تبصرہ بھی ہو چکا ہے۔
    اس اشکال کے حل کی درج ذیل صورتیں ہیں:
    1۔ اس واقعہ کو غیر ثابت قرار دیا جائے کیونکہ ابن غزرہ کا ترجمہ نہیں ملا نیز اس سے ان کے قول و عمل میں اتفاق نہیں معلوم ہوتا۔ اگر اسے ثابت شدہ تسلیم کر لیا جائے تو پھر درج ذیل حل ہیں:
    2۔ جن جن روایات کی امام ابوزرعہ نے نشان دہی فرمائی، امام مسلم نے انھیں کتاب سے خارج کر دیا۔ اور مذکورہ بالا نو (۹) روایات ان کی نگاہوں سے اوجھل رہیں جن کی بابت وہ امام مسلم کو متنبہ نہ کرسکے اور وہ صحیح مسلم میں بدستور موجود ہیں۔
    3۔ امام ابوزرعہ کے مطالعہ کے بعد امام مسلم نے ان روایات یا اسانید کا اضافہ کیا، جیسا کہ عموماً مصنّفین کرتے رہتے ہیں، بلکہ طباعت دوم میں پہلے کی بہ نسبت اضافے ہوتے ہیں۔
    4۔ امام ابوزرعہ پہلے انھیں صحیح سمجھتے تھے، بعد میں ضعیف کہنے لگے۔ یہ حل بھی دلیل کا متقاضی ہے جو یہاں موجود نہیں۔​
     
  9. ‏مئی 13، 2017 #19
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خلاصۂ بحث
    امام ابوزرعہ رازی نے صحیح مسلم پر دو قسم کے اعتراضات کیے:
    1 راویوں پر اعتراض۔ 2 احادیث پر اعتراض۔
    قسمِ اوّل کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے تین راویوں پر اعتراض کیا کہ انھیں صحیح مسلم میں جگہ کیوں دی گئی، ایک طرف الصحیح کا دعویٰ اور دوسری طری ایسے راوی! ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ اسباط بن نصر۔ 2 قطن بن نُسیر․3 احمد بن عیسیٰ۔
    امام مسلم نے فرمایا کہ ان کی متابعتیں موجود ہیں۔ اور ان کی سند میرے پاس عالی ہوتی ہے۔
    نیز اسباط کی ایک روایت ہے۔قطن بن نُسیر کی دو روایات ہیں؛ ایک متابعتاً اور دوسری مقروناً۔احمد بن عیسیٰ کی بتیس روایات ہیں؛ ایک روایت اصالتاً، ایک متابعتاً، ایک شاہداً، جب کہ باقی انتیس روایات مقروناً ہیں۔
    قسمِ ثانی کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوزرعہ نے جن روایات پر نقد کیا، ان میں اصالتاً پانچ، متابعتاً تین اور شاہداً ایک روایت ہے۔
    اصول میں ذکر کردہ سبھی رویاات امام مسلم کے علاوہ دیگر محدثین کے نزدیک بھی صحیح ہیں۔ اور جو متابعت میں مذکور ہیں، ظاہر بات ہے کہ وہ صحیح مسلم کی شرط پر نہیں، لہٰذا ان روایات کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کرنا کہ صحیح مسلم میں ضعیف روایات ہیں، درست نہیں۔
    اصول میں ذکر کردہ پانچ روایات کی تحقیق کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
    پہلی حدیث: ’’کان یذکر اللّٰہ علی کل أحیانہ․‘‘
    اس روایت کو امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم نے ضعیف کہا ہے، جب کہ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوعوانہ، امام ابونعیم، امام ابن خزیمہ، امام ابن حبان، حافظ ابن حجر اور محدث البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور یہی راجح ہے۔
    دوسری حدیث: ((من نفس عن مؤمن کربۃ……․إلخ))
    اس روایت کو امام ابوزرعہ، امام ابن عمار، امام ترمذی اور حافظ ابن رجب نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ امام مسلم، امام ابن جارود، امام حاکم، امام ابوموسیٰ مدینی، حافظ ابن حبان، حافظ ابن قیم، حافظ ابن حجر، محدث البانی، محدث حوینی، الشیخ علی حسن حلبی، ڈاکٹر خالد بن منصور الدریس وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور یہی موقف درست ہے۔
    تیسری حدیث: ’’عن رافع بن خدیج قال: أعلی النبيﷺ أبا سفیان …… مئۃ من الإبل ……إلخ․‘‘
    امام مسلم، امام ابو عوانہ اور حافظ ابن حبان کے نزدیک صحیح حدیث ہے، جب کہ امام ابوزرعہ کے نزدیک یہ حدیث حضرت ابوسعید خدری سے صحیح ہے۔ اسے مسند رافع بن خدیج سے بیان کرنا عمر بن سعید بن مسروق کی غلطی ہے۔ اس بابت امام مسلم وغیرہ کا موقف درست ہے۔
    چوتھی حدیث: ’’عن أبي حمید الساعدي أو عن أبي أسید الساعدي مرفوعا: ((الدعاء عند دخول المسجد و خروجہ……إلخ․))
    امام ابوزرعہ کے نزدیک یہ روایت دونوں صحابہ کرام سے مروی ہے۔ ان کی تائید امام ابن ابی حاتم اور امام بزار نے کی ہے، جب کہ اس کی تصحیح کرنے والے امام مسلم کے علاوہ امام ابونعیم، امام ابن حبان، امام نووی، حافظ ابن حجر اور محدث البانی وغیرہ ہیں۔
    پانچویں حدیث: حدیثِ عائشہ: ’’ما رأیت النبيﷺ صام العشر من ذي الحجۃ قط․‘‘
    امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم کے نزدیک اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، مرسل ہونا صحیح ہے۔جب کہ امام مسلم، امام ابوعوانہ، امام ابونعیم، امام ابن خزیمہ اور حافظ ابن حبان کے نزدیک اس کا موصول ہونا بھی درست ہے۔ اور یہ موقف صحیح ہے کہ یہ روایت موصولاً اور مرسلاً دونوں طرح مروی ہے اودونوں طرح صحیح ہے۔
    متابعتاً روایت:
    ایسی روایات تین ہیں:
    پہلی روایت: دائیں یا بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا۔
    امام ابوزرعہ نے دونوں روایات کے عدمِ ثبوت کا اظہار کیا ہے۔ حافظ دارقطنی کے نزدیک بائیں ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہننے کا ذکر محفوظ ہے۔اس روایت کی بابت امام ابوزرعہ اور امام مسلم کا موقف یکساں معلوم ہوتا ہے۔ تبھی امام مسلم نے مطلقاً انگوٹھی سے متعلق احادیث کا ذکر پہلے کیا اور اواخر باب میں دائیں بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا ذکر کیا۔
    دوسری روایت: ((ویل للأعقاب من النار․))
    امام ابوزرعہ کا کلام اس کی مخصوص سند پر ہے، حدیث پر نہیں۔ اور وہ یہ کہ عکرمہ بن عمار نے سند میں تین غلطیاں کی ہیں: 1سند میں ابوسلمہ بن عبدالرحمان کا واسطہ ذکر کیا، جب کہ یحییٰ بن ابی کثیر کے دو شاگرد یہ واسطہ ذکر نہیں کرتے۔2 راوی کا نام ابوسالم ذکر کیا حالانکہ وہ سالم ہے، بدون کنیت۔3 راوی کی نسبت کرتے ہوئے مولی المصریین کہا، صحیح الدوسي ہے۔
    امام ابوزرعہ کے علاوہ حافظ ابن عمار، خطیب بغدادی اور حافظ دارقطنی نے بھی ان اوہام کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ نیز عکرمہ، یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کرتے ہوئے غلطی کرتے ہیں۔ امام مسلم کے پیشِ نظر یہ علل موجود تھیں، جیسا کہ ان کی ذکرکردہ ترتیب سے معلوم ہوتا ہے۔
    تیسری روایت: کھانا کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا۔
    محمد بن فضیل نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے سند میں دو راویوں کا نام اکٹھا ذکر کیا، یعنی ابوصالح اور ابوسفیان کی رویات مقروناً بیان کی اور کبھی کبھار صرف ابوسفیان سے بیان کی۔ ایک جماعت بھی صرف ابوسفیان سے بیان کرتی ہے اور یہی درست ہے۔ ابن فضیل کا اس روایت کو مقروناً بیان کرنا غلطی ہے جس کی طرف امام ابوزرعہ اور امام مسلم نشان دہی فرما رہے ہیں۔ امام مسلم نے اسے مسندِ جابر کے آخر میں ذکر کیا ہے۔
    امام مسلم نے بہ طور شاہد صرف ایک روایت ذکر کی ہے:
    ’’فبم یستحل أحدکم مال أخیہ․‘‘
    امام ابوزرعہ، امام ابوحاتم، حافظ دارقطنی، امام حاکم، امام ابن خزیمہ، حافظ ابومسعود دمشقی، امام بغوی ابو قاسم عبداﷲ بن محمد، خطیب بغدادی، علامہ زرکشی، حافظ اشبیلی، امام ابن ملقن، الشیخ مقبل بن ہادی کے نزدیک اس جملے کا مرفع بیان کرنا غلط ہے۔
    اس کی تصحیح کرنے والوں میں امام بخاری، امام ابوعوانہ، حافظ ابن حبان، قاضی عیاض، حافظ ابن عبدالبر، حافظ ابن حجر، علامہ عینی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ، امام ابن دقیق العید، الشیخ ربیع المدخلی اور الشیخ البانی شامل ہیں۔
    تنبیہ:بعض نے حدیث بلال ’’أن رسول اللّٰہﷺ مسح علی الخفین و الخمار‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ امام ابوزرعہ نے اسے معلول قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ امام ابوزرعہ کے الفاظ ہیں:
    ’’الصحیح حدیث الأعمش عن الحکم عن عبدالرحمان بن أبي لیلی عن کعب عن بلال․‘‘ (کتاب العلل لابن أبي حاتم، رقم: ۱۲)
    امام مسلم نے ایک جماعت کی روایت کی تصحیح کی ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث:۲۷۵، دار السلام ترقیم: ۶۳۷، ۶۳۸)
    گویا امام ابوزرعہ نے امام مسلم کی تائید فرمائی ہے۔ ملحوظ رہے کہ امام مسلم نے یہ روایت بہ طورِ شاہد بیان کی ہے۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں