1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم پر کیا اعتراضات ہوئے ہیں؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وجاہت, ‏اکتوبر 19، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 19، 2016 #1
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45


    صحیح مسلم پر کیا اعتراضات ہوئے ہیں؟

    جواب

    امام مسلم نے صحیح میں ایک مقام پر کہا ہے

    قَالَ لَيْسَ کُلُّ شَيْئٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ


    میں نے اس کتاب میں ہر اس حدیث کو نقل کیا جو میرے نزدیک صحیح ہو بلکہ اس میں نے ان احادیث کو بھی نقل کیا ہے جس کی صحت پر سب کا اجماع ہو۔


    یعنی بعض احادیث امام مسلم کی اپنی شرط پر نہیں بلکہ دوسروں کے صحیح سمجھنے کی بنا پر لکھی ہیں

    البلقيني کہتے ہیں ( محاسن الاصطلاح (ص:91)میں) اس میں ائمہ سے مراد يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وعثمان بن أبي شيبة، وسعيد بن منصور ہیں

    الميانجي کہتے ہیں (ما لا يسع المحدث جهله (ص:27)) اس سے مراد ہیں مالك، والثوري، وشعبة، وأحمد بن حنبل، وغيرهم ہیں

    کتاب صيانة صحيح مسلم میں ابن الصلاح (المتوفى: 643هـ) کہتے ہیں امام مسلم نے جو یہ کہہ دیا ہے

    قد اشْتَمَل كِتَابه على أَحَادِيث اخْتلفُوا فِي إسنادها أَو متنها عَن هَذَا الشَّرْط لصحتها عِنْده وَفِي ذَلِك ذُهُول مِنْهُ رحمنا الله


    کہ امام مسلم نے اپنی کتاب میں احادیث شامل کیں جن کی اسناد میں اختلاف تھا یا متن میں ان کی اپنی شرط کے مطابق جو صحت تک جاتیں تو یہ امام مسلم کا ذھول (بد احتیاطی) ہے الله رحم کرے


    ابن الصلاح اسی کتاب میں اس کو ایک بہت مشکل بات کہتے ہیں

    وَهَذَا مُشكل جدا فَإِنَّهُ قد وضع فِيهِ أَحَادِيث قد اخْتلفُوا فِي صِحَّتهَا لكَونهَا من حَدِيث من ذَكرْنَاهُ وَمن لم تذكره مِمَّن اخْتلفُوا فِي صِحَة حَدِيثه وَلم يجمعوا عَلَيْهِ


    یعنی امام مسلم خود اس کتاب کو صحیح کہتے ہیں لیکن اپنی شرط پر نہیں دوسرووں کی شرط پر جن کا نام بھی انہوں نے نہیں لیا


    امام ابی حاتم امام مسلم کو ثقہ کی بجائے صدوق کہا کرتے

    أبا حاتم قال: مسلم بن الحجاج صدوق

    الجرح والتعديل از ابن ابی حاتم

    ابن ابی حاتم کہتے ہیں

    وإذا قيل له إنه صدوق أو محله الصدق أو لا بأس به: فهو ممن يكتب حديثه وينظر فيه


    اگر کسی کو صدوق یا محلہ صدق کہا جائے یا اس میں برائی نہیں تو یہ وہ ہے جس کی حدیث لکھ لی جائے اور دیکھی جائے


    امام مسلم صحیح کے مقدمہ میں اپنا منہج لکھتے ہیں

    فَأَمَّا الْقِسْمُ الْأَوَّلُ، فَإِنَّا نَتَوَخَّى أَنْ نُقَدِّمَ الْأَخْبَارَ الَّتِي هِيَ أَسْلَمُ مِنَ الْعُيُوبِ مِنْ غَيْرِهَا، وَأَنْقَى مِنْ أَنْ يَكُونَ نَاقِلُوهَا أَهْلَ اسْتِقَامَةٍ فِي الْحَدِيثِ، وَإِتْقَانٍ لِمَا نَقَلُوا، لَمْ يُوجَدْ فِي رِوَايَتِهِمْ اخْتِلَافٌ شَدِيدٌ، وَلَا تَخْلِيطٌ فَاحِشٌ، كَمَا قَدْ عُثِرَ فِيهِ عَلَى كَثِيرٍ مِنَ الْمُحَدِّثِينَ، وَبَانَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِهِمْ فَإِذَا نَحْنُ تَقَصَّيْنَا أَخْبَارَ هَذَا الصِّنْفِ مِنَ النَّاسِ، أَتْبَعْنَاهَا أَخْبَارًا يَقَعُ فِي أَسَانِيدِهَا بَعْضُ مَنْ لَيْسَ بِالْمَوْصُوفِ بِالْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ، كَالصِّنْفِ الْمُقَدَّمِ قَبْلَهُمْ، عَلَى أَنَّهُمْ وَإِنْ كَانُوا فِيمَا وَصَفْنَا دُونَهُمْ، فَإِنَّ اسْمَ السَّتْرِ، وَالصِّدْقِ، وَتَعَاطِي الْعِلْمِ يَشْمَلُهُمْ


    قسم اول میں ہم ان احادیث مبارکہ کو بیان کریں گے جن کی اسانید دوسری احادیث کی اسانید اور عیوب ونقائص سے محفوظ ہوں گی اور ان کے راوی زیادہ معتبر اور قوی وثقہ ہوں گے حدیث میں کیونکہ نہ تو ان کی روایت میں سخت اختلاف ہے اور نہ فاحش اختلاط جیسا کہ کثیر محدیثن کی کیفیت معلوم ہوگئی ہے اور یہ بات ان احادیث کی روایت سے پائے ثبوت تک پہنچ چکی ہے پھر ہم اس قسم کے لوگوں کی مرویات کا ذکر کرنے کے بعد ایسی احادیث لائیں گے جن کی اسانید میں وہ لوگ ہوں جو اس درجہ اتقان اور حفظ سے موصوف نہ ہوں جو اوپر ذکر ہوا لیکن تقوی پرہیزگاری اور صداقت وامانت میں ان کا مرتبہ ان سے کم نہ ہوگا کیونکہ ان کا عیب ڈھکا ہوا ہے اور ان کی روایت بھی محدیثن کے ہاں مقبول ہے


    امام مسلم صاف لکھ رہے ہیں کہ ان کے صحیح کا معیار یہ ہے کہ اس راوی سے بھی لکھیں گے جو حافظہ میں بہت اچھے نہیں ہیں

    امام ابو زرعہ بڑے پائے کے محدث ہیں امام بخاری و مسلم کے استاد ہیں یہاں ان کا تبصرہ صحیح مسلم پر پیش خدمت ہے

    قال البرذعي في سؤالاته ( أبو زرعة الرازي وجهوده في السنة النبوية ترجمہ ٦٧٤ ج ٢ ص 674): ((شهدتُ أبا زرعة ذكر كتاب الصحيح الذي ألفه مسلم بن الحجاج، ثم الفضل الصائغ على مثاله، فقال لي أبو زرعة: “هؤلاء قومٌ أرادوا التقدم قبل أوانه، فعملوا شيئاً يتشوفون به. ألفوا كتاباً لم يُسبقوا إليه، ليقيموا لأنفسهم رياسةً قبل وقتها”. وأتاه ذات يومٍ – وأنا شاهدٌ – رجلٌ بكتاب الصحيح مِن رواية مسلم، فجعل ينظر فيه. فإذا حديثٌ عن إسباط بن نصر، فقال لي أبو زرعة: “ما أبعد هذا من الصحيح! يُدخل في كتابه أسباط بن نصر!” ثم رأى في الكتاب قطن بن نسير، فقال لي: “وهذا أطمُّ مِن الأول! قطن بن نسير وصل أحاديث عن ثابت جعلها عن أنس”. ثم نظر فقال: “يروي عن أحمد بن عيسى المصري في كتابه الصحيح”. قال لي أبو زرعة: “ما رأيت أهل مصرٍ يَشُكُّون في أنَّ أحمد بن عيسى” وأشار أبو زرعة بيده إلى لسانه كأنه يقول: الكذب. ثم قال لي: “يُحدِّث عن أمثال هؤلاء، ويترك عن محمد بن عجلان ونظرائه! ويُطرِّق لأهل البدع علينا، فيجدون السبيل بأن يقولوا لحديثٍ إذا احتُجَّ عليهم به: ليس هذا في كتاب الصحيح”. ورأيته يذمُّ وَضْعَ هذا الكتاب ويؤنِّبه. فلما رجعتُ إلى نيسابور في المرة الثانية، ذكرت لمسلم بن الحجاج إنكار أبي زرعة عليه روايته في هذا الكتاب عن أسباط بن نصر وقطن بن نسير وأحمد بن عيسى. فقال لي مسلم: “إنما قلتُ: صحيح، وإنما أدخلتُ مِن حديث أسبط وقطن وأحمد ما قد رواه الثقات عن شيوخهم. إلا أنه ربما وقع إليَّ عنهم بارتفاعٍ، ويكون عندي مِن رواية مَن هو أوثق منهم بنزولٍ، فأقتصر على أولئك. وأصل الحديث معروفٌ مِن رواية الثقات)). اهـ


    البرذعي کہتے ہیں میں نے ابو زرعہ کو دیکھا اور ان سے الصحیح کا ذکر کیا جس کی تالیف مسلم بن حجاج نے کی … پس ابو زرعہ نے کہا یہ محدثین کی ایک قوم ہے جو وقت سے پہلے پہلے کام کرنا چاھتے ہیں … لہذا انہوں نے کتابیں تالیف کیں جس کو ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تاکہ اپنے تئیں دوسروں پر سردار بنیں وقت سے پہلے اور آج یہ دن ا ہی گیا جسے میں دیکھ رہا ہوں یہ آدمی جس کی کتاب صحیح مسلم ہے اس کی کتاب پر نظر ڈالی تو اس میں اسباط سے روایت کرتا ہے پس ابو زرعہ نے کہا یہ کتاب تو صحیح سے بہت دور ہے اپنی کتاب میں اسباط بن نصر سے روایت کر ڈالی ! پھر انہوں نے دیکھا کتاب میں قطن بن نسیر بھی ہے پس انہوں نے کہا یہ تو اس سے بھی خراب ہے قطن نے ثابت سے اور پھر انس سے روایت ملا دی ہیں پھر ابو زرعہ نے دیکھا احمد بن عیسیٰ المصری پس انہوں نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ اہل مصر اس کے بارے میں شکایت کرتے ہوں سوائے اس کے ، پھر انہوں نے زبان کی طرف اشارہ کیا، کہ یہ جھوٹا ہے پھر کہا اس قسم کے لوگوں سے روایت لے لی ہے اور محمد بن عجلان اور ان کے جیسوں کو چھوڑ دیا ہے اور اہل بدعت کو ہمارے لئے ایک رستہ بنا کر دے دیا ہے پس وہ اس پر ہم سے سبیل پائیں گے اس روایت سے دلیل لی گئی ہے کیا یہ صحیح میں نہیں ؟ اور ان کو دیکھا وہ اس کتاب کو بنانے پر مذمت کرتے پس جب دوسری دفعہ نیشا پور لوٹے پھر امام مسلم کا ذکر ہوا تو ابو زرعہ نے ان کا انکار کیا اور ان کی اسباط بن نصر سے اور قطن سے اور احمد بن عیسیٰ سے روایت کا پس امام مسلم نے مجھ سے کہا میں ان روایات کو صحیح کہا کیونکہ ان راویوں سے شیوخ نے روایت کیا ہے بلاشہ کبھی کبھی میرا (ایمان) ان سے اٹھ جاتا ہے اور میرے پاس ان سے زیادہ ثقہ کی روایت ہوتی ہے تو میں اس کو چھوٹا کر دیتا ہوں اور اصل حدیث تو معروف ہوتی ہے ثقات کی روایت سے


    یعنی امام ابو زرعہ کے مطابق امام مسلم نے جلدی جلدی صحیح پر کتب لکھ دیں قبل اس کے ان کا علم ان پر پختہ ہوتا

    لوگوں نے امام ابو زرعہ کی رائے کو تعصب یا کم نظری کہا ہے لیکن یہ ان کا منہج ہے اس کی اپنی اہمیت ہے اور ان کا نکتہ نظر نہ صرف ایک استاد کا ہے بلکہ دیکھا جائے تو صحیح بھی ہے

    بلاگ میں جو تفصیل اپ نے طلب کی ہے اس کو سمٹنا ممکن نہیں یہ تو ایک ایک باب کی بحث ہے
    اس کے لئے اپ کو پہلے علم حدیث میں کافی کچھ سمجھنا ہو گا پھر ہی جا کر اپ کو سمجھ آئے گا کہ یہ اختلاف کیا ہے اور کتنا عمیق ہے

    امام ابو زرعہ اور ابن ابی حاتم کے مطابق صحیح مسلم کی یہ روایات معلول ہیں


    1- حديث المسح على الخفين والخمار (275
    2- حديث كان يذكر الله على كل أحيانه (373
    3- حديث ويلٌ للأعقاب مِن النار (240
    4- حديث مَن نفَّس عن مؤمنٍ كربةً مِن كرب الدنيا (2699

    اس کے علاوہ اوپر تین راویوں کے نام ہیں جن کو ابو زرعہ ضعیف کہتے ہیں اور ایک کو کذاب کہتے ہیں اور امام مسلم روایت کرتے ہیں

    ————


    نوٹ

    اس اقتباس میں ایک چیز ہے کہ امام مسلم نے روایت کا متن کم کیا کیونکہ وہ روایات مطول مشھور تھیں
    اس کی مثال صحيح مسلم بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ مين ہے قرع النعال والی روایت جس کو مختصرا بیان کیا

    إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا
     
  2. ‏اکتوبر 20، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پیارے بھائی
    امام مسلم کے کلام ترجمہ بالکل غلط کیا گیا ہے ۔
    صحیح ترجمہ یہ ہے :
    میں نے اس کتاب میں ہر اس حدیث کو نقل نہیں کیا جو میرے نزدیک صحیح ہو ، بلکہ اس میں نے صرف ان احادیث کونقل کیا ہے جس کی صحت پر سب کا اجماع ہو۔
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 20، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ بالکل غلط بات ہے ،
    صحیح بات یہ ہے کہ امام مسلم نے صاف لکھا ہے کہ ( جن احادیث کی صحت و قبولیت پر ائمہ محدثین کا اجماع تھا میں نے صرف وہ احادیث نقل کی ہیں )
    اور امام مسلم کا معیار قبول و رد مقدمہ صحیح مسلم میں پڑھ لیں، لیکن کسی عالم سے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 20، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہاں بھی ترجمہ بالکل غلط ہے ،
    امام ابن الصلاح کی اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ :
    ( امام مسلم کا کہنا ہے کہ میں وہ احادیث بیان کی ہیں جن پر اجماع ہے ،) لیکن یہ بات بہت مشکل ہے کیونکہ صحیح مسلم میں کچھ احادیث انہوں نے ایسی بھی درج کی ہیں ، جن کی صحت اجماعی نہیں ، بلکہ اختلافی ہے،
     
    Last edited: ‏اکتوبر 20، 2016
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 3
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 20، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہاں امام ابو زرعہ کے کلام کا ترجمہ بھی ناکارہ اور خطرناک حد تک غلط ہے ،
    ابھی وقت نہیں ، اگر موقع مل گیا تو درست ترجمہ لکھ دوں گا۔
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 20، 2016 #6
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    آپ کے درست ترجمہ کا شدت سے انتظار ہے- الله آپ کو جزایۓ خیر دے امین.
     
  7. ‏اکتوبر 20، 2016 #7
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    انھوں نے اپنی اس عبرت کا یہ جواب دیا ہے جو ابھی تک ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے -
    ----------------

    امام ابو زرعہ اور ابن ابی حاتم کے مطابق صحیح مسلم کی یہ روایات معلول ہیں


    1- حديث المسح على الخفين والخمار (275
    2- حديث كان يذكر الله على كل أحيانه (373
    3- حديث ويلٌ للأعقاب مِن النار (240
    4- حديث مَن نفَّس عن مؤمنٍ كربةً مِن كرب الدنيا (2699

    اس کے علاوہ اوپر تین راویوں کے نام ہیں جن کو ابو زرعہ ضعیف کہتے ہیں اور ایک کو کذاب کہتے ہیں اور امام مسلم روایت کرتے ہیں
    -----------------------

    اس کا جواب یہ دیا انھوں نے


    یہ رائے جو پیش کی ہے اس کی بنیاد اس پر ہے کہ تیسری صدی کے محدثین نے ان کتابوں میں بیان کردہ روایت پر اپنی رائے دی ہے جو علل کے امام تھے اور یہ
    محدثین کا اپس کا اختلاف ہے

    راقم یا آج کا کوئی بھی شخص اس علم میں اب اتنی دسترس نہیں رکھتا کہ جان سکے کہ ان متضاد آراء کے پیچھے امام مسلم کے دفاعی دلائل کیا ہیں
    ظاہر ہے وہ بھی کوئی بھولے نہیں تھے علم حدیث کے امام ہیں اور اپنی ایک رائے رکھتے ہیں جو امام بخاری سے الگ ہے

    لہذا یہ ذھن میں رکھتے ہوئے اب پڑھیں
    —-
    صحیح مسلم

    240

    حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى شَدَّادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»


    : ہارون بن سعید ایلی، ابوطاہر، احمد بن عیسی، عبداللہ بن وہب، مخرمہ بن بکیر، سالم مولیٰ شداد، حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر آئے اور ان کے ہاں وضو کیا تو سیدہ (رض) نے فرمایا اے عبدالرحمن وضو پورا اور مکمل طور پر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے (خشک) ایڑیوں کے لئے آگ سے ویل یعنی عذاب ہے۔


    العلل لابن أبي حاتم میں ابی حاتم کہتے ہیں

    وَرَوَاهُ الأوزاعيُّ، وحسينٌ المعلِّمُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَالِمٍ الدَّوْسي؛ قَالَ: دخلتُ مَعَ عبد الرحمن بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَلَى عائِشَة، فدعا بِوَضُوء، فقالَ …. والصَّحيحُ حديثُ الأوزاعيِّ وحسينٍ المعلِّمِ.


    امام مسلم نے اس کو مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، کی سند سے نقل کیا ہے
    اب یہ دوسرا طرق ہے یا سند میں غلطی ہے واضح نہیں ہے


    ———-
    صحیح مسلم
    275

    وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ». وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، حَدَّثَنِي بِلَالٌ. وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


    ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اسحاق، عیسیٰ بن یونس، اعمش، حکم، عبدالرحمن بن ابی لیلی کعب بن عجرہ، بلال سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موزوں اور عمامہ پر مسح فرمایا


    بلال شام منتقل ہو گئے تھے -علل ابن ابی حاتم کے مطابق اس کو شامیوں نے بلال سے روایت کیا ہے اور یہ معلول ہے لیکن امام مسلم نے اس کو کوفیوں کی سند سے روایت کیا ہے

    واضح نہیں کہ کوفیوں نے اس کو کیسے اور کب سنا
    ———

    صحیح مسلم

    373

    حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ»


    ابوکریب، محمد بن علاء، ابراہیم بن موسی، ابن ابی زائدہ، خالد، بن سلمہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ عزوجل کا ذکر ہر حال میں کرتے تھے۔


    العلل لابن أبي حاتم کے مطابق

    وسألتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ حديثِ خَالِد بْن سَلَمة ، عَنِ البَهِيِّ ، عَنْ عُرْوَة، عَنْ عائِشَة؛ قَالت: كان النبي (ص) يذكُرُ اللهَ تعالى عَلَى كُلِّ أَحْيانِه؟
    فَقَالَ: ليسَ بذاك، هُوَ حديثٌ لا يُروى إلا مِنْ ذا الوَجْهِ


    ابو زرعہ نے کہا کوئی چیز نہیں ہے

    ——–

    صحیح مسلم
    2699
    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ – وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا – أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»،

    یحیی بن یحیی تمیمی، ابوبکر بن ابی شبیہ محمد بن علاء ہمدانی یحیی بن یحیی ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس آدمی نے کسی مومن سے دنیا میں مصیبتوں کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں کو دور کرے گا اور جس نے تنگ دست پر آسانی کی اللہ اس پر دنیا میں اور آخرت میں آسانی کرے گا اور اللہ اس بندے کی مدد میں ہوتے ہیں جو اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہوتا ہے اور جو ایسے راستے پر چلا جس میں علم کی تلاش کرتا ہو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ذریعہ جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اس کی تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتی ہے اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ ان کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتے ہیں اور جس شخص کو اس کے اپنے اعمال نے پیچھے کردیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔


    علل ابن ابی حاتم میں ہے
    قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُضْطَرِبُ الإسنادِ
    یہ حدیث مضطرب الاسناد ہے

    یعنی اس کی تمام اسناد میں سوال ہے

     
  8. ‏اکتوبر 20، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محترم بھائی
    اس طرح نہیں ہوسکتا کہ آپ ہر روز اتنی طویل پوسٹیں جواب طلبی کے ساتھ لگائیں ،اور اس کا جواب لکھا جائے ،
    میں کیا کوئی بھی اتنا وقت نہیں دے سکتا ،
    اور پھر اصل مصیبت تو یہ ہے کہ آپ جو مواد وہاں سے لاتے ہیں اس کا موضوع خالص علمی اور فنی ہوتا ہے ،
    لیکن تحریر بچگانہ ،طفلانہ ہوتی ہے ،
    ان علمی ابحاث کیلئے فریقین کا ویسی ہی علمی سطح پر ہونا لازم ہے ،
    لیکن آپ کی سائیٹ والے ائمہ فن کی عبارت سمجھتے تک نہیں اور ترجمہ اور نقد بے باکی سے کرتے ہیں ،اس کی مثالیں میری سابقہ پوسٹوں میں موجود ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏اکتوبر 20، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,351
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    یہ بات آج سے نہیں کئی دنوں سے ان صاحب کو سمجھا رہا ہوں. لیکن یہ سوچ رہے ہیں کہ میں تحقیق کرنے سے روک رہا ہوں.
     
  10. ‏اکتوبر 21، 2016 #10
    وجاہت

    وجاہت رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2016
    پیغامات:
    421
    موصول شکریہ جات:
    41
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    بھائی تو کیا پھر ان تحریروں کا جواب پوچھنے یا ڈھونڈنے کہیں اور جانا پڑے گا - اور اگر آپ کے بقول وہاں موضوع خالص علمی اور فنی ہے اور
    لیکن تحریر بچگانہ ،طفلانہ ہوتی ہے - تو اسی لئے یہاں پوچھا جاتا ہے کہ ان خالص اور فنی مضامین کی خالص تحریریں جو طفلانہ اور بچگانہ نہ ہوں وہ کیا ہیں - لیکن جب یہاں علماء کے پاس وقت ہی نہیں تو پھر اس فورم پر آنے کا کیا فائدہ - میں سمجھا تھا کہ یہاں جیسا دعوه کیا گیا ہے کہ یہ آزادانہ اور تحقیقی فورم ہے - لیکن کوئی بات نہیں - سمجھ سے بالا تر ہے کہ پھر اس فورم کا فائدہ کیا ہے - چلیں کوئی نہ کوئی تو ہو گا جہاں ان تحریروں کا جواب دیا جایے گا -

    الله حافظ - اگر آپ کے چھوٹے بھائی سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیجیے گا -

    میں یہ فورم چھوڑ رہا ہوں - الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں