• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم کتاب الایمان کا تعارف از پروفیسر محمدیحییٰ سلطان محمود جلالپوری

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
کتاب الایمان کا تعارف:



امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کا آغاز کتاب الایمان سے کیا ہے۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان، اسلام اور احسان کی تعلیم دی تو اس وقت ان اصطلاحات کے مفہوم کے بارے میں کسی کے دل میں کوئی تشنگی موجود نہیں تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کچھ لوگوں نے ایمان اور اسلام کے اس مفہوم پر اکتفا نہ کیا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھا اور دوسروں کو سمجھایا تھا، انہوں نے اپنی اغراض یا اپنے اپنے فہم کے مطابق ان دونوں کے نئے نئے مفہوم نکالنے شروع کر دیے۔ سب سے پہلا گروہ جس نے ایمان اور کفر کا مفہوم اپنی مرضی سے نکالا، خوارج تھے۔ یہ گنوار لوگ تھے۔ ٖقرآن اور اسلام کے بنیادی اصولوں کی تعبیر بھی اپنی مرضی سے کرتے تھی۔ قبل از اسلام کے ڈاکوؤں کی طرح لوگوں کو قتل کرتے اور ان کا مال لوٹتے۔ مسلمانوں کے خلاف ان تمام جرائم کے جواز کے لیے انہوں نے یہ عقیدہ نکالا کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب کافر مطلق ہے۔ ان کے نزدیک ایمان محض عمل کا نام تھا۔ صحیح مسلم کی حدیث 473(191) میں ان کے اس عقیدے کا ذکر ہے۔ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے دور میں جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا تو عراق، فارس، شام اور مصر وغیرہ کے علاقے اسلامی قلمرو میں شامل ہوئے اور یہاں کے باشندے بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے۔ یہ علاقے اسلام سے پہلے الٰہیات اور عقلی علوم خصوصاً فلسفہ، منطق اور مابعد الطبیعات کے مراکز تھے


یہاں کے لوگوں کے دینی افکار پر علوم عقلیہ کی چھاپ نمایاں تھی۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اپنے اپنے افکا رکے حوالے سے ان کے متعدد فرقے سامنے آئے۔ ان لوگوں نے ایمان اور اسلام کے حوالے سے فلسفیانہ اور منطقی سوالات علمائے اسلام کے سامنے پیش کرنے شروع کردیے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا مقصد تو فہم اور حصول علم تھا جب کہ کچھ لوگ خوارج کی طرح فتنہ انگیزیوں کے لیے ان سوالات کو زیر بحث لاتے تھے۔ان بہت سے سوالات میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تقدیر سے کیا مراد ہے اور کیا اس کو ماننا بھی ایمان کا حصہ ہےیا نہیں۔ علمائے اسلام کو بہرطور ان سوالوں کے جواب دینے تھے۔ ہر ایک نے اپنے ذخیرہ علم اور اپنے فہم کے مطابق جواب دینے کی کوشش کی۔ اس دور کے مباحث کے حوالے سے فقہائے محدثین کے سامنے ایمان کے بارے میں جو سوالات پیش ہوئے وہ اس طرح تھے۔


  • ایمان کیا ہے؟ محض علم، محض دل کی تصدیق، محض اقرار، محض عمل یا ان میں سے بعض کا یا ان سب کا مجموعہ؟
  • اسی طرح یہ بھی سوال اٹھا کہ ایمان رکھنے والے سب برابر ہیں یا کسی کا ایمان زیادہ یا کم ہے؟
  • کیا عام امتی کا ایمان صدیق اکبر یا عمر فاروق یا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم کے ایمان کے برابر ہوسکتا ہے؟
  • کیاایک امتی کا ایمان انبیاء اور ملائکہ کے ایمان کے برابر ہوسکتا ہے؟ کیا ایمان اور چیز ہے اور عمل چیزے دیگر؟
  • کیا ایمان ہمیشہ ایک جتنا رہتا ہے یا کم و بیش ہو سکتا ہے؟
  • کن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے؟ ان میں تقدیر بھی شامل ہے یا نہیں؟
  • یہ سوال بھی زیر بحث رہا کہ کبائر کا مرتکب مسلمان ہے یا دائرہِ اسلام سے بالکل خارج ہے، یا پھر کہیں درمیان میں موجود ہے؟
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
معبد جہنی، جہم بن صفوان اور اس دور کے فرقہ قدریہ سے تعلق رکھنے والے ابوحسن صالحی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ایمان محض دل کی معرفت یا دل میں جان لینے کا نام ہے اور کفر الجَھل بِالرَب اللہ تعالیٰ "اللہ تعالیٰ کو نہ جاننے کا نام ہے"۔ اس جواب سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ فرعون مومن تھا کیونکہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، اسے علم تھا کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا رَ‌بُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ بَصَائِرَ‌
موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہو چکا ہے کہ آسمان و زمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں،
(الاسرا:102)

اہل کتاب کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِ‌فُونَهُ كَمَا يَعْرِ‌فُونَ أَبْنَاءَهُمْ

جنہیں ہم نے کتاب دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانتا ہے،

اس نقطہ نظر کے مطابق یہ سب بھی مومن ہوئے۔ ابلیس بھی جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بے علم نہیں، مومن قرار پایا۔ نعوذ باللہ من ذلک



اس بنیادی سوال کے حوالے سے فرقہ کرامیہ کا جواب یہ تھا کہ ایمان محض زبان سے اقرار کرلینے کا نام ہے۔اس صورت میں منافق بھی کامل ایمان رکھنے والے مومن قرار پاتے ہیں۔ کرامیہ ان کو مومن ہی سمجھتے تھے، البتہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جس عذاب کی خبر دی ہے وہ اسے ضرور بھگتیں گے۔



ابومنصور ماتریدی اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نقطہ نظر تھا کہ ایمان محض دل کی تصدیق کا نام ہے۔ ان کے بالمقابل علمائے احناف میں سے ایک بڑی تعداد کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کو کہتے ہیں۔ زیادہ تر ائمہ کرام:مثلاً امام مالک، شفعی، احمد بن حنبل، اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور باقی تمام ائمہ حدیث کے علاوہ ظاہریہ اور متکلمین میں سے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ الاِیمَانُ تصدیقٌ بالجنانِ، واِقرارٌ باللِسانِ وعَمَلٌ بالارکانِ "ایمان دل کی تصدیق، زبان کے اقرار اور (اس تصدیق و اقرار کے مطابق باقی) اعضاء کے اعمال سے ثابت ہوتا ہے۔" یاد رہے کہ محدثین دل کی تصدیق کو دل کا عمل اور زبان کے اقرار کو زبان کا عمل سمجھتے ہیں۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ۔قولہ: والایمان ھو الاقرار باللسان۔۔۔، ص:332) قدریہ،جہمیہ اور کرامیہ تو اہلسنت والجماعت سے خارج تھے۔ ان کا رد یقیناً ضروری تھا اور اچھی طرح کیا بھی گیا۔ لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے مؤیدین کے لیے ، جو غیر نہیں ، خود اساطین اہل سنت والجماعت میں سے تھے، فرامینِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اصل حقائق کی وضاحت نہایت ضروری تھی۔ ایمان کے بارے میں مذکورہ بالا بنیادی سوالات کے جواب میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ باتیں منقول ہیں: عمل ایمان سے جدا ہے اور ایمان عمل سے الگ ہے۔ مومنین ایمان اور توحید میں برابر ہیں اور اعمال میں کم و بیش۔ ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑھتا ہے۔ میرا ایمان جبریل علیہ السلام کے ایمان کی مانند ہے۔ آسمانوں اور زمین کا ایمان اور اگلوں، پچھلوں اور انبیاء کا ایمان ایک (برابر) ہے۔"شرح الفقہ الاکبر، بحوالہ ایضاح الادلۃ۔ ص:301-308)




 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ حدیث کے سامنے چونکہ پورا ذخیرہ حدیث تھا، اس لیے انہیں معلوم تھا کی یہ باتیں نہ صرف کتاب و سنت سے ٹکراتی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں جن جن الفاظ کے ساتھ قرآن نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان امور کو بیان فرمایا ہے بعینہٖ انہی الفاظ کو استعمال کرتے ہوئے بالکل متضاد باتیں کہ دی گئی ہیں، اور ایک بڑے حلقے میں ان کو قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کا صحیح مداوا یہی تھا کہ جو لوگ بھی قرآن اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم متضاد باتیں کہ رہے تھے ، ان کے سامنے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام فرامین من و عن پیش کردیے جائیں۔
کتاب الایمان میں امام مسلم سب سے پہلے حدیث جبریل لائے ہیں۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کے پیش کردہ سوالات کے جواب دیتے ہوئے ایمان،اسلام اور احسان کا مفہوم واضح کیا ہے۔ امام مسلم نے اس کے ساتھ ہی اسی مفہوم کی دوسری احادیث بھی بیان کردی ہیں ۔ان احادیث 93-103(8-12) سے پتہ چلتا ہے کہ ان تینوں (ایمان، اسلام اور احسان ) میں ابتدائی مرتبہ اسلام کا ہے، اس سے اونچا مقام ایمان کا ہے اور سب سے اونچا احسان کا۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ۔ اس کے رسول، ملائکہ، قیامت، جنت اور دوزخ کے ساتھ ساتھ تقدیرِ الٰہی پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔اس طرح ان احادیث سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ابدی جہنمی نہیں ہوتا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
اس کے بعد امام مسلم ایسی احادیث لائے ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ وہ ایمان جو انسان کو جنت میں لے کر جاتا ہے شرک سے پاک عبادات، زکاۃ کی ادائیگی، صلہ رحمی اور اللہ کے حرام و حلال کے احکامات کی پابندی پر مشتمل ہے۔ (دیکھیے احادیث:104-114 (13-16)

پھروہ وفد عبدالقیس سے متعلقہ روایات اور ان کے ہم معنی احادیث لائے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد کے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ پر ایمان لائیں، پھر سمجھانے کے لیے خود ہی سوال کیا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اکیلے اللہ پر ایمان کیا ہے؟ پھر خود ہی وضاحت فرما دی کہ ایمان اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی، اقامتِ صلاۃ، زکاۃ کی ادائیگی، روزے رکھنے اور اللہ کی حرام کردہ اشیا سے دور رہنے کا نام ہے۔ (دیکھیے احادیث:115-123(17-19)

ان احادیث سے تین باتیں واضح ہوجاتی ہیں:

  1. گواہی(شہادت) دل کی تصدیق ہوتی ہے۔
  2. ایمان محض دل کی تصدیق کا نام نہیں نہ دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار تک معاملہ ختم ہوجاتا ہے بلکہ باقی اعضاء و جوارح کے اعمال کے ذریعے سے بھی اسی حقیقت کی تصدیق ضروری ہے جس کی زبان سے گواہی دی گئی۔
  3. ایمان اور اسلام کے الفاظ جب دونوں ملا کر ایک ساتھ بولے جائیں تو دونوں سے الگ الگ مفہوف مراد لیا جاتا ہے۔ جب ان میں سے صرف ایک بولا جائے تو اس کے معنی میں بعض اوقات دوسرا بھی شامل ہوتا ہے اور بعض اوقات دونوں ایک دوسرے کے قائم مقام کے طور پر بولے جاتے ہیں۔ اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ایمان محض تصدیق و اقرار کا نام نہیں بلکہ اس میں دیگر اعضاء کے اعمال بھی شامل ہونے ضروری ہیں، ورنہ یہ اسلام کے قائم مقام کے طور پر نہ بولا جا سکتا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
اس کے بعد امام مسلم مانعین زکاۃ کے حوالے سے وہ احادیث لائے ہیں جن میں سیدنا عمر اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے الگ الگ موقف کا ذکر ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہ دیا وہ مومن ہے اس لیے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جان اور مال کے تحفظ کا حقدار ہے، اس سے جنگ نہیں ہوسکتی۔ لا الہ الا اللہ کہنے سے اقرار اور اغلباً تصدیق کا تو پتی چل جاتا ہے لیکن سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا موقف اس سے مختلف تھا۔انہوں نے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے حصے کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے فرمایا تھا ((الا بحقہٖ)) "الا یہ کہ اسی کا حق ہو" یعنی لا الہ الا اللہ کا حق یہ ہے کہ باقی اعضاء اس کے مطابق عمل کرتے ہوں۔ جب زکاۃ کا وقت آ جائے تو لا الہ الا اللہ کا تقاضا یہ ہے کہ زکاۃ دی جائے۔اگر کوئی اس سے انکار کرتا ہے تو اس کے لیے جان و مال کا تحفظ برقرار نہیں رہے گا۔ آپ نے زور دے کر یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی زکاۃ کے مال کی ایک رسی دینے سے بھی انکار کرے گا تو اس کے خلاف جہاد ہوگا۔ اس بات سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اتفاق کیا اور تسلیم کیا کہ حق وہی ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہ رہے ہیں۔ (دیکھیے احادیث:124-134(20-23)

ان کے بعد وہ احادیث لائی گئی ہیں جن کے الفاظ میں اجمال کے ساتھ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ یقیناً جنت میں داخل ہوگا۔ (دیکھیے احادیث:136-151(26-34) ان احادیث کے ذریعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اجمال کے مواقع پر محض لا الہ الا اللہ کہنے کی بات کی گئی ہے لیکن اس میں لاالہ الا اللہ کے تقاضوں پر عمل کرنا شامل ہے۔ پھر یہ روایت پیش کی گئی کہ ایمان کا ذائقہ محض وہی شخص چکھتا ہے جو اللہ کے رب ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے دین ہونے پر بھی راضی ہو۔ ظاہر ہے جو استطاعت کے باوجود احکام اسلام پر عمل نہیں کرتا وہ دل سے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہی نہیں ہے۔یہ انتہائی لطیف نکات ہیں جو امام مسلم نے محض احادیث مبارکہ کی ترتیب کے ذریعے سے واضح فرمائے ہیں۔

پھرامام مسلم نے بالترتیب ایمان کے شعبوں اور ان میں سے افضل اور ادنیٰ شعبوں کے متعلق احادیث پیش کیں۔ ان کے بعد وہ احادیث ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایمان کی حلاوت سے وہی آشنا ہوتا ہے جو اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان سے محبت کرتا ہے۔ ان کے بعد وہ احادیث ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل و عیال، اولاد و مال اور خود اپنی ذات سے بڑھ کر محبت موجود نہ ہو توایمان موجود نہیں۔ ظاہر ہے محبت تصدیق اور اقرار کے علاوہ دل کا ایک اور عمل ہے۔ (دیکھیے احادیث:152-169(35-44) اس کے بغیر بھی ایمان کی نفی ہوجاتی ہے۔ گویا تصدیق بالقلب کے علاوہ قلب ہی کے دوسرے اعمال مثلاً: محبت اور احترام بھی ضروری ہیں۔

امام مسلم احادیث 177-180(49،50) میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی روایات لائے ہیں۔ تفصیلی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اس طرح ہیں: " جس نے ان منکرات کے خلاف ہاتھوں سے جہاد کیا وہ مومن ہے۔ جس نے زبان کے ساتھ جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے دل کے ساتھ جہاد کیا وہ مومن ہے۔ اس سے نیچے ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہیں۔" ان الفاظ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح بعض لوگوں نے کہا ہے محض دل کی تصدیق اور زبان کا اقرار ایمان نہیں، بلکہ دیگر اعضاء ، زبان اور خود دل کے دیگر اعمال ضروری ہیں۔ تصدیق کے علاوہ دل کے دیگر اعمال میں منکرات سے نفرت اور یہ عزم کہ جب ہاتھ اور زبان سے ان منکرات کے خلاف جہاد کی استطاعت ملے گی تو یہ جہاد کروں گا، شامل ہیں۔ دل کے مزید اعمال ، مثلاً: الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کے بارے میں بھی احادیث پیش نظر رہنی چاہییں۔ ان احادیث سے جہمیہ کے نقطہ نظر کی تردید بھی ہوتی ہے کہ دل کی تصدیق کے علاوہ دل کے دوسرے اعمال ایمان نہیں۔ ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھ سے جہاد کرنے والے کا ایمان زیادہ ہے کیونکہ اس میں باقی اعضاء بھی زیادہ سے زیادہ شریک ہوتے ہیں۔ زبان سے جہاد کرنے والے کا اس سے کم، اس میں زبان کے ساتھ دل شریک ہوتا ہے، اور محض دل میں برا سمجھنے والے کا ایمان سب سے کم ہے کیونکہ باقی اعضاء شامل نہیں ہوتے۔ اس کے نیچے سرے سے ایمان ہی موجود نہیں۔

ان کے بعد امام مسلم نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کن لوگوں کا ایمان کن کن اعمال کی بنا پر افضل ہے اور کن لوگوں کا ایمان کم مرتبہ ہے، نیز ایمان کو یمن کی طرف نسبت دی گئی ہے اور اس کا سبب ان کے دلوں کی رقت کو قرار دیا گیا۔ اور کفر کی نسبت ان اونٹ چَرانے والوں کی طرف کی گئی جو شدت پسند اور تند خو تھے۔ (دیکھیے احادیث:181-193(51-53) ان احادیث سے امر بالمعروف والی احادیث کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے کہ دل کی تصدیق کے علاوہ دل ہی سے متعلق دیگر ایسے اعمال ہیں جو ایمان کا حصہ ہی۔ اسی طرح عدم تصدیق کے ساتھ دل ہی کہ بعض دیگر عمل ہیں جو کفر کو سنگین تر بنا دیتے ہیں۔ ایسے اعمال میں سنگ دلی، شدت پسندی وغیرہ شامل ہیں۔
قرآنِ مجید نے ایمان اور اس میں اضافے کو دل ہی کی کیفیت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:


إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ‌ اللَّـهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالٰی کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالٰی کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
احادیث کی ترتیب سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ منکرات سے شدید نفرت، دل کی نرمی، اللہ کے ذکر پر دلوں میں خشیت، سب ایمان میں شامل ہیں، یہ محض دل کی تصدیق کا نام نہیں۔ قرآنِ مجید کی مذکورہ بالا آیات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آیاتِ الٰہی کی سماعت سے ایمان، جو مذکورہ بالا تمام باتوں کا مجموعہ ہے، زیادہ ہو جاتا ہے۔ جو حضرات نفسِ ایمان میں اضافے کے قائل نہیں بلکہ نزولِ قرآن کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ آیتوں پر ایمان لانے کو ایمان کا اضافہ قرار دیتے ہیں، ان کو اس آیت کے یہ معنی قرار دینے پڑیں گے جب پہلی دفعہ کوئی آیت ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے، دوسری یا تیسری بار انہی آیات کو سن کر ایمان میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اور آیت مبارکہ میں جس طرح تلاوتِ آیات سے پہلے ذکرِالٰہی کا بیان ہے اسے بھی وہ پہلی بار اللہ کے ذکر پر محمول کریں گے۔ قرآن کے الفاظ "اِذَا ذُکِرَ اللہُ" اور " وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ
جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے" اور "جب اس کی آیتیں ان کے سامنے تلاوت کی جائیں" سے ایسے مفہوم کی گنجائش بھی نہیں نکلتی۔

اس کے بعد احادیث: 202-209(57) کے ذریعے سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ گناہوں کے ارتکاب سے ایمان میں کمی واقع ہوتی ہے، نیز گناہِ کبیرہ کے ارتکاب کے وقت ایمان انسان کے دل سے نکل جاتا ہے، بعد میں واپس آجاتا ہے۔ ان احادیث کو اگر ہر گناہ کے ساتھ دل پر ایک کالا نقطہ آجانے اور گناہوں کی کثرت سے دل کے مکمل سیاہ ہوجانے والی احادیث کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ برے اعمال کے ارتکاب سے دل کے اندر موجود نورِ ایمان کم ہوتا ہوتا بالآخر رخصت ہوجاتا ہے، اسی طرح اچھے اعمال کرنے سے نورِ ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ اقوال کہ میرا ایمان جبریل کے ایمان کی طرح ہے یا اولین، آخرین، اہل دنیا، اہل سما اور انبیاء سب کا ایمان برابر ہے، مذکورہ احادیث سے بالکل متضاد ہیں۔

ان کے بعد کی احادیث میں بعض ایسے اعمال کا تذکرہ ہے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکفر قرار دیا ہے۔ ان کے بعد وہ احادیث ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو عمل قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ((أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ )) افضل ترین عمل کون سا ہے؟ فرمایا: إِيمَانٌ بِاللَّهِ ۔۔۔۔الخ۔ "اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔۔۔۔" (دیکھیے، احادیث:248-251(83-85)۔ یہ قول کہ "اَلاِیمانُ غَیرُ ، والعملِ غیرُ فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متضاد ہے۔

پھر ان احادیث کو لایا گیا ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایمان کی طرح کفر میں بھی کمی اور زیادتی ہوتی ہے، مثلاً تارکِ صلاۃ یا باہم قتال کرنے والوں کا کفر، قطعی اور حتمی کفر سے کم تر ہے۔ ان احادیث کے بعد کبائر کے درجات کے حوالے سے احادیث مبارکہ کولایا گیا، پھر وہ احادیث ہیں جن میں کِبر اور شرک کو ایمان سے متضاد قرار دیا گیا اور شرک نہ کرنے کو جنت میں داخلے کی شرط اور شرک کرنے کو جہنم میں داخلے کا حتمی سبب قرار دیا گیا۔ کبر اور شرک دونوں دل اور اعضاء کے عمل ہی کی صورتیں ہیں محض دل کی عدم تصدیق کی نہیں۔

پھر وہ احادیث بیان ہوئی ہیں جن میں ذکر ہے کہ ایمان میں درجہ بدرجہ اضافہ ہوتا ہے، کم ترین ایمان یہ ہے کہ کوئی شخص اچانک موت کو سامنے دیکھ کر اسلام سے عداوت اور عناد کے فوراً بعد غور و فکر کے بغیر، یکدم لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلے۔ یہ سب سے نچلا درجہ ہے۔ جب ایسا واقعہ پیش آیا تو موقع پر موجود صحابی کا ظنِ غالب یہ تھا کہ ایسے شخص کی زبان پر اقرار تھا لیکن اس کے پیچھے جان بچانے کا ارادہ تھا، تصدیق کا کوئی جز موجود نہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زور دے کر فرمایا کہ اس نے جو لا الہ الا اللہ کہ دیا تو یہ دلیل ہے کہ ایمان کا یہ جز موجود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لاالہ الا اللہ تمہارے سامنے کھڑا ہو جائے گا تو کیا کرو گے؟ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم جو یہ سمجھے کی اس کے دل میں جان بچانے کے قصد کے علاوہ کچھ نہیں تھا تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا؟ (دیکھیے احادیث: 274-279(95-97) ان کے ساتھ وہ حدیث ملا کر دیکھیں جس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی بستی سے اذان کی آواز آئے تو اس پر حملہ نہ کرو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر محض اقرار یا عمل سامنے آجائے تو اسے ایمان سمجھا جائے جب تک کہ کوئی ایسی دلیل موجود نہ ہو جو کفر پر دلالت کرے۔

پھر وہ احادیث ہیں جن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جس نے کافر ہوجانے کی جھوٹی قسم کھائی وہ اسی طرح (کافر) ہےجس طرح اس نے کہا۔ ایسے شخص کی یہ قسم کہ وہ کافر ہے تب جھوٹی ہوگی جب اس کے دل میں کسی نہ کسی درجہ ایمان موجود ہو اور اس قسم کی بنا پر اس کے دل میں کفر کا غصہ بھی موجود ہے۔ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی انسان نے دل میں اسلام اور کفر دونوں کی متضاد کیفیتیں بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ چونکہ مذکورہ بالا کبائر کے مرتکب لوگوں کے ہاں کچھ اعمال صالحہ بھی موجود ہوسکتے ہیں جو کسی حد تک ان کے دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کی تصدیق کرنے ہیں، اس لیے ان کو اسلام سے قطعی خارج قرار نہیں دیا گیالیکن ان کے دلوں میں ایمان کی کمی کی وجہ سے ایسی کیفیت بھی موجود ہے جس کے سبب سے وہ کفریہ اعمال کا ارتکاب کرتے جارہے ہیں۔ یہ انتہائی باریک نکات ہیں جو امام مسلم نے احادیث کے انتخاب اور ان کی ترتیب سے اجاگر کیے ہیں۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86

اسی طرح ایسا شخص جو خود کشی کرلے اس کی سزا ابدی جہنم ہے جو قطعی کفر یا شرک کی سزا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی اعلان کرایا کہ نفس مسلمہ یا مومن انسان کے علاوہ کوئی جنت میں نہ جائے گا لیکن یہ بھی ہوا کہ ایک شخص نے ہجرت کے بعد مشکلات بھری زندگی سے تنگ آکر ہاتھوں کی رگیں کاٹ کر خودکشی کرلی، اللہ تعالیٰ نے ہاتھوں کے علاوہ اس کے باقی وجود کو بخش دیا۔ ہاتھ ویسے رہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھوں کے لیے بھی بخشش کی دعا فرما دی۔


اس حدیث سے اور اس سے پہلے والی احادیث سے پتا چلا کہ بہت سے ایسے گناہ ہیں جن کا ارتکاب اس وقت ہوتا ہے جب ایمان یا تو بہت کم ہوجاتا ہے یا بالکل ختم ہوجاتا ہے۔ ختم ہوجانے کی صورت میں ان کی سزا جہنم بلکہ ابدی جہنم ہے لیکن اگر وہی گناہ کسی ایسے شخص سے ہو جائے جس کے دل سے ایمان قطعی طور پر رخصت نہیں ہوا تھا تو ایمان کی یہ کم از کم مقدار بڑے گناہوں کی مغفرت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

آگے چل کر وسوسوں کی بات ہے۔ احادیث:340-342(132-133) میں دل میں آنے والے وسوسوں کی کیفیت کو، جو زبان پر نہیں لائے جاسکتے، صریح ایمان یا محض ایمان قرار دیا گیا ہے۔ جس کی بنا پر انسان کو اللہ کا خوف لاحق ہوتا ہے اور ان وساوس سے کراہت ہوتی ہے، ایسے برے وسوسے دل میں موجود ہوتے ہیں جو زبان پر نہیں لائے جا سکتے۔ لیکن ان کے ہوتے ہوئے اس وقت دل میں جو ایمان موجود ہے جس کی بنا پر اسے صریح خالص اور ملاوٹ سے پاک قرار دیا گیا ہے۔


ان احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ایمان کے ساتھ دل میں ایسی باتیں آسکتی ہیں جنہیں ایک مومن کے لیے زبان پر لانا ممکن نہیں۔ یہ وساوس ہیں، لیکن جب تک یہ شک بن کر دل میں جاگزیں نہ ہوجائیں ان پر مواخذہ نہیں ہے۔ جاگزیں ہوجائیں تو مواخذہ ہے کیونکہ اب یہ دل کا عمل بن چکا ہے۔ اسی طرح نیکی کا ارادہ دل کا عمل ہے جس پر جزا ملتی ہے۔ برائی کا ارادہ بھی دل ہی کا عمل ہے لیکن اللہ نے اپنی خصوصی رحمت سے اس کو معاف فرمادیا ہے۔ اگر اس ارادے پردوسرے اعضاء عمل کرکے اس کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر ایک برائی لکھی جاتی ہے۔

وسوسوں کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں کے اندر برپا جنگ میں، اہل ایمان کی ایمان پر ثابت قدمی، ان کے ایمان کے خالص ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ بھی دل ہی کا عمل ہے۔


احادیث 343-352(134) میں شیطان کے اٹھائے جانے والے ایسے سوال کا تذکرہ ہے جس کا مقصد شکوک و شبہات پیدا کرنا اور ایمان و یقین کی پوری عمارت کو منہدم کرنا ہے۔ سوالوں کے سلسلے میں جب سوال سامنے آتا ہے کہ اگر ہر چیز کو اللہ نے پیدا کیا ہے پھر خود اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ یہ بدترین وسوسہ ہے۔ اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ اس مرحلے پر مومن کو چاہیے کہ فوراً رک جائے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور آمَنتُ بِاللہِ کہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وجود باری تعالیٰ کے لیے عقل اور حِسّ کی واضح دلالت موجود ہے لیکن شیطان دل میں ڈالے گئے اس سوال کے ذریعے سے انسان کو ان اشیاء کے بارے میں محض عقل کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس مرحلے پر ضروری ہے کہ انسان اپنی فطرت کی طرف رجوع کرے ، اس اولین میثاق کو دہرائے جو ہر روح سے لیا گیا اور اس میثاق کے ساتھ اپنی وابستگی کو مضبوط کرے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
اس کے بعد امام مسلم نے بڑے لطیف پیرائے میں اپنی ترتیب کو آگے بڑھایا۔ حدیث:357-362(137-141) تک عہد اور حلف کی اہمیت کی احادیث بیان فرمائیں اور متعلقہ مسائل کی وضاحت کی۔ اس کے بعد 362-366(142) تک بڑی ذمہ داریوں: مثلاً حکمرانوں کے عہد اور حلف کے بارے میں احادیث ذکر کیں، پھر اس عہد یا میثاق اول کے موضوع پر احادیث لائے جسے قرآن نے "الامانۃ" کہا ہے۔

حدیث:367(143) میں پہلے یہ الفاظ ہیں کہ سب سے پہلے "الامانۃ" انسانی دلوں کے اندرونی حصے میں نازل ہوئی پھر قرآن نازل ہوا اور اہل ایمان نے قرآن اور سنت کے ذریعے علم حاصل کیا، ان الفاظ میں بہت سے نکات قابل غور ہیں۔ الامانۃ وہی ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا:

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا 72؀ۙ
ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمین پر پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اٹھا لیا وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے ۔
الاحزاب:72


محدثین نے امانت کے معنی ایمان بیان کیے ہیں۔ ایمان کو ایک امانت ہی کے طور پر انسان کے سپرد گیا تھا، اس کی حفاظت ضروری تھی۔ قرآن مجید نے یہ بات یوں بیان کی:


وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ
١٧٢اَوْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اَشْرَكَ اٰبَاۗؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ ١٧٣؁
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ

١٧٤؁
؁
اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔
تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بےخبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟ ۔
ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
الاعراف:172-174


یہی عہد وہ فطری ایمان ہے جس پر انسان کی ولادت ہوتی ہے۔ قرآن اسے ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:


فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 30؀ڎ

پس آپ یک سو ہو کر اپنا چہرہ دین کی طرف متوجہ کر دیں اللہ تعالٰی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اس اللہ تعالٰی کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
الروم:30

صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ،‏‏‏‏

"ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے"

صحیح بخاری، حدیث:1385، صحیح مسلم:6755(2658)

مسلم کی ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں:

وَإِنِّى خَلَقْتُ عِبَادِى حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ
"میں نے اپنے تمام بندے دین حنیف کے پیروکار پیدا کیے (پھر) ان کے پاس شیاطین آئے اور انہیں ان کے دین سے پھیر دیا۔"
صحیح مسلم، حدیث:7207(2865)


بخاری اور مسلم میں ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ:‏‏‏‏ "لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدْ سَأَلْتُكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ".

"اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص سے پوچھے گا جسے دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب کیا گیا ہو گا۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی چیز ہوتی تو کیا تو اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اسے بدلے میں دے سکتا تھا؟ وہ شخص کہے گا کہ جی ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو آدم کی پیٹھ میں تھا تو میں نے تجھ سے اس سے بھی معمولی چیز کا مطالبہ کیا تھا (روز ازل میں) کہ میرا کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرانا، لیکن (جب تو دنیا میں آیا تو) اسی شرک کا عمل اختیار کیا۔"
صحیح بخاری، حدیث:3334، صحیح مسلم، حدیث:7083(2805)

یہی وہ عہد ہے جس پر اللہ تعالیٰ انسان کو پیدا کرتا ہے۔ اگر ماں باپ اور دیگر عوامل انسان کو اس سے منحرف نہ کر دیں تو دل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، پھر زبان گواہی دے کر اور باقی اعضاء بھی اپنے عمل سے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔


اس کے بعد باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ میں امام مسلم حدیث:412-417 (162-164) تک وہ احادیث لائے ہیں جن میں دوبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شقِ صدر ہونے کا تذکرہ ہے۔ پہلا واقعہ ایام طفولیت کا ہے جب آپ بنو سعد میں تھے۔ اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ

"جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺکے دل کو چیرا پھر اس سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا ا(یہ دل کے اندر) وہ حصہ تھا جسے کے ذریعے سے شیطان اثر اندا ز ہوسکتا تھا۔پھر اس دل کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا ۔پھر اس کو جوڑا اور اپنی جگہ میں رکھا"

صحیح مسلم:412


اور معراج سے پہلے ہونے والے شقِ صدر کے بارے میں حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ
" جبریل علیہ السلام نے میرا سینہ چیرا۔ پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت لائے جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہواتھا وہ میرے سینے میں ڈال دیا پھر سینہ جوڑ دیا (اس کو مہر کردی) پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور معراج پر لے گئے۔"
صحیح مسلم:415(163)


پہلے شقِ صدر کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ میثاق اولین کو برائی کی کوئی قوت چھیڑ ہی نہ سکے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضح طور پر ہمیشہ اسی میثاق پر قائم رہے۔ اور دوسرے شقِ صدر کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے قلب مبارک میں حکمت و ایمان میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ آپ اس عظیم ترین سفر اور اسکے مشاہدات کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ حدیث حقیقتِ ایمان کے بارے میں نصِ صریح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قلب مطہر پہلے ہی ایمان سے معمور تھا، اس مرحلے میں اس میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ ان دونوں حدیثوں سے، کہنے والے کی اس بات کی مکمل تردید ہوجاتی ہے کہ "ایمَانِی کَاِیمانِ الاَنبِیَا "میرا ایمان انبیاء کے ایمان کی طرح ہے۔" ان فقروں کے حامی متکلمین نے ان فقروں کی تائید کے لیے جو کچھ کہا ہے اس حدیث کو سامنے رکھیں تو ان میں سے کسی بات میں کوئی وزن نہیں باقی رہتا۔
 
Last edited:
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
86
البتہ محدثین کی بھرپور مہم کے نتیجے میں، بعض اہل علم نے ان باتوں کی ازسرِنو تعبیر اور وضاحت کرنے کی کوششیں کیں۔ شیخ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے بعد ان کے ایسے شارحین کے وضاحتی بیان جمع کرکے کامیابی سے حضرت الامام رحمہ اللہ کے اقوال کی ایسی تعبیر کردی ہے جو کتاب و سنت پر مبنی، ائمہ محدثین اور جمہور امت کے نقطہ نظر کے قریب تر ہے۔
ایمان کے حوالے سے امام مسلم نے احادیث کی جمع و ترتیب کے ذریعے سے جو حقائق واضح کیے، ان کا یہ ایک اجمالی جائزہ ہے۔ اس جائزے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کے سامنے ایمان کے بنیادی حقائق کا ایک مختصر نقشہ موجود رہے اور امام مسلم نے اپنے حسن ترتیب سے جو نکات واضح کرنے کی کوشش کی ہے ان کے سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئے۔
 

Mehar_Shakeel

رکن
شمولیت
نومبر 23، 2014
پیغامات
11
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
بہت اچھی حدیثیں ہیں حوالاجات کیساتھ
 
Last edited:
Top