1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صدقہ فطر کے احكام و مسائل مختصراً

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از عزیر ادونوی, ‏مئی 23، 2020۔

  1. ‏مئی 23، 2020 #1
    عزیر ادونوی

    عزیر ادونوی رکن
    جگہ:
    ادونی،، ہند.
    شمولیت:
    ‏جون 05، 2018
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    صدقہ فطر کے احكام و مسائل مختصراً
    (جید علماء و مفتیان کے کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کئے گئے تصریحات سے ماخوذ)

    راقم
    سید محمد عزیر ادونوی

    ~~~~

    ؛؛ ۱. رمضان کا آخری عمل صدقہ فطر کی ادائیگی ہے

    ؛؛ ۲. جو مال چاہے روپئے کی صورت میں ہو یا غلہ کی صورت میں یا طعام کی صورت میں یا کسی اور چیز کی صورت میں ہو، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو دیا جاتا ہے یا خیر کے کسی کام میں خرچ کیا جاتا ہے، اسے “صدقہ” کہتے

    ؛؛ ۳. صدقہ فطر صدقہ کی ایک قسم ہے جس کے کچھ خاص احکام و مسائل ہیں

    ؛؛ ۴. اسے زکوٰۃ الفطر، زکوٰۃ البدن، زکوٰۃ النفس، فطرانہ اور فطرہ بھی کہا جاتا ہے

    ؛؛ ۵. صدقہ کی اصلاً دو قسمیں ہیں
    ؛؛ ۱. فرض
    ؛؛ ۲. نفل

    ؛؛ ۶. فرض صدقہ میں
    ؛؛ ۱. زکوٰۃ
    ؛؛ ۲. نذر کا صدقہ
    ؛؛ ۳. صدقہ فطر
    ؛؛ ۴. کفارہ کا صدقہ
    ؛؛ ۵. فدیہ کا صدقہ
    ؛؛ ۶. ۳۶۰ جوڑوں کا صدقہ
    وغیرہ شامل ہیں

    ؛؛ ۷. فرض صدقات کے علاوہ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا ضرورت سے زائد مال سے غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور فقیروں پر خرچ کرتا ہے وہ نفلی صدقہ میں شمار ہوتا ہے، پس جو جتنا زیادہ خرچ کرے گا آخرت میں اس کے درجات بھی اتنے ہی بلند ہوں گے اور دنیا میں بھی اس کے مال میں برکتوں کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں

    ؛؛ ۸. نفل صدقات سے گریز کرنا برکات میں کمی کا باعث ہے اور فرض صدقات کا ادا نہ کرنا باوجود استطاعت کے گناہ، بے برکتی اور لعنت کا باعث ہے

    ؛؛ ۹. فطر کا معنی روزہ کھولنا یا روزہ ترک کرنا ہے، چونکہ یہ صدقہ رمضان المبارک کے روزے پورے کرنے کے بعد ان کے ترک پر دیا جاتا ہے، لہٰذا صدقۃ الفطر کہلاتا ہے۔

    ؛؛ ۱۰. صدقہ فطر کا حکم (درجہ) کتاب و سنت اور اجماع کے مطابق فرض کا ہے

    ؛؛ ۱۱. صدقہ فطر فرض عین بھی ہے چاہے مالدار ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا، بالغ ہو یا نابالغ، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، مجنون ہو یا یتیم، سب کی جانب سے نکالنا گھر کے سرپرست پر فرض ہے، اسکے برعکس اسلام کا رکن زکوٰۃ ہر ایک پر فرض نہیں ہے صرف مالداروں پر فرض ہے

    ؛؛ ۱۲. صدقہ فطر دو ھجری میں ماہ رمضان کے اخیر میں فرض ہوا اور اسی سال ہی ماہ رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ماہ رمضان کے روزے بھی فرض کئے گئے

    ؛؛ ۱۳. صدقہ فطر کا ایک مقصد
    روزے کی حالت میں روزے دار سے ہونے والی غلطیوں سے پاکی کا حصول اور کفارہ سیئات ہے

    ؛؛ ۱۴. صدقہ فطر کا دوسرا مقصد، غربا و مساکین کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیے.

    ؛؛ ۱۵. صدقہ فطر کے لئے اسلام شرط ہے، غیر مسلم پر صدقہ فطر عائد نہیں ہے

    ؛؛ ۱۶. صدقہ فطر ادا کرنے کیلئے مالدار ہونا یا صاحب نصاب یونا شرط نہیں ہے، مالدار نہ ہونے کے باوجود صدقہ فطر ادا کرنے کی صرف استطاعت ہو تو اس پر اس کا ادا کرنا واجب ہے

    ؛؛ ۱۷. صدقہ فطر عید سے دو دن پہلے ادا کرنا جائز دخول وقت ہے، اس سے پہلے ادا کیا گیا تو صدقہ فطر شمار نہیں ہوگا،
    اس کا افضل وقت شوال کا چاند نظر آنے کے بعد سے لیکر نماز عید ادا کرنے سے پہلے تک کا ہے،
    نماز عید کے بعد ادا کیاگیا تو صدقہ فطر شمار نہیں ہوگا، وہ عام صدقہ شمار ہوگا

    ؛؛ ۱۸. صدقہ فطر غربا و مساکین کو دیا جائے

    ؛؛ ۱۹. صدقہ فطر ہر ایک فرد، جان، نفس کی طرف سے ایک صاع ادا کرنا ہے

    ؛؛ ۲۰. صدقہ فطر غلہ کی صورت میں ادا کرنا ہے
    جیسے جو، کھجور، گیہوں، چاول، دال وغیرہ

    ؛؛ ۲۱. ایک صاع اڑھائی کلو کے برابر ہوتا ہے بعض علماء کی تحقیق کے مطابق پونے تین کلو اور کچھ علماء کے مطابق سوا دو کلو بنتا ہے اور کچھ علماء نے کہا کہ تین کلو بنتا ہے، اکثر علماء کے مطابق اڑھائی کلو ہے.

    ؛؛ ۲۲. صدقہ فطر نصف صاع ادا کرنے کی تمام احادیث عند المحققین ضعیف ہیں

    ؛؛ ۲۳. صدقہ فطر روپیوں کی صورت میں ادا کرنا ثابت نہیں ہے البتہ کسی عذر شرعی کی بنا پر روپیوں کی صورت میں دیا جا سکتا ہے

    ؛؛ ۲۴. صدقہ فطر مساجد و مدارس کیلئے نہیں ہیں البتہ ایسے مدارس کو دیا جا سکتا ہے جن میں غرباء و مساکین کے بچے پڑھ رہے ہوں اور ان سے فیس نہیں لی جاتی ہو یا کم لی جاتی ہو، اس کے برعکس ایسے مدارس کو صدقہ فطر نہیں دیا جا سکتا یے جن میں غرباء و مساکین کے بچے نہ پڑھ رہے ہو صرف مالداروں کے بچے پڑھ رہے ہوں

    ؛؛ ۲۵. صدقہ فطر کے زیادہ حقدار اپنے علاقے ہی کے لوگوں میں سے پڑوسی، رشتہ دار، دوست و احباب، اتقیاء میں سے غرباء و مساکین لوگ ہیں

    ؛؛ ۲۶. نقلی، بناوٹی پیشہ ور غرباء و مساکین صدقہ فطر کے مستحق نہیں ہیں

    ؛؛ ۲۷. صدقۂ فطر اجتماعی طور پر ادا کرکے ایک جگہ جمع کرنا اور تقسیم کرنا مسنون طریقہ ہے

    ؛؛ ۲۸. اگر کسی عذر کی بناء پر یا بھول کر کوئی صدقہ فطر ادا نہیں کر پایا تھا تو بعد میں یاد آنے پر ادا کردینا چاہئے کیونکہ صدقہ فطر کا ادا کرنا فرض ہے.

    https://uzairadonvi.blogspot.com/2020/05/blog-post_22.html

    .
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں