1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صدیوں تجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از سید مزمل حسین, ‏نومبر 09، 2013۔

  1. ‏نومبر 09، 2013 #1
    سید مزمل حسین

    سید مزمل حسین مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 31، 2013
    پیغامات:
    85
    موصول شکریہ جات:
    52
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    از رانا تنویر قاسم
    اس کائنات رنگ وبو میں ہزاروں شخصیات ایسی گزری ہیں جن کی تب وتاب جاودانہ تاریخ کی نذر نہیں ہوئی بلکہ ان کی نورانی کرنوں سے تاریخ منور ہوتی چلی گئی ان کی جلائی ہوئی شمعیں اپنی ضوفشانیوں سے زندہ قوموں کو راستہ دکھاتی رہتی ہیں ۔ وہ آسودہ خاک
    ہو کر بھی دلوں میں شوق شہادت کے ایسے بیج بو جاتے ہیں جو ان کی رحلتوں کے بعد تناور درخت بن جاتے ہیں ۔ تجدید احیائے دین کے اس کارواں کے ایک قائد علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ بھی ہیں جنہیں آج ہم سے جدا ہوئے کتنے برس بیت چکے ہیں علامہاحسان الہی ظہیر ایک ہمہ گیرشخصیت کے مالک تھے وہ پاک وہند کا قیمتی سرمایہ اور اسلامی دنیا کی متاع عزیز تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نواز ا تھا ، ایسی ہمہ صفت اور ہمہ جہت صلاحیتوں والے لوگ آج چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب ہم افراد اور اشخاص کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس حقیقت کے اعتراف کے بغیر چارہ نہیں کہ احسان الہی ظہیر جیسی شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتیں ۔ ان کی خوبیوں کا باب بہت طویل ہے ۔ یہاں ان کے چند بہادرانہ پہلوؤں کا ذکر
    کیا جا رہا ہے ۔ علامہ احسان الہی ظہیر نے مدینہ یونیورسٹی سے مراجعت فرمائی تو تحریکوں کے مرکز لا ہور کی تاریخی مسجد چینیانوالی ، جو کبھی مولانا داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی مسند تھی ، میں اپنی خطابت کے جوہردکھانے شروع کیے اس
    وقت ایوبی آمریت کا دور تھا ، تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی مسئلہ ختم نبوت بیان کرنے کی پاداش میں آغا شورش کاشمیری سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ملک کی مذہبی دنیا پر سناٹا چھایا ہوا تھا ، جلسہ باز علماء کرام پر سکوت مرگ طاری تھا ،
    منبرومحراب کی زبانیں گم ہو چکی تھیں ۔ وہ علامہ احسان الہی ظہیر کا عنفوان شباب تھا ۔ چنانچہ اس وقت ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ جانشین ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ وارث ، شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا یہ روحانی فرزند پوری شجاعت اور عواقب ونتائج سے بے
    پرواہ ہو کر میدان میں اترا۔ ایوب شاہی کو للکارتے ہوئے چیلنج کیا اور انہیں بتایا کہ اسلام کی راکھ میں ایسی چنگاریاں ابھی باقی ہیں جو تمہیں چشم زدن میں بھسم کر سکتی ہیں ، علامہ صاحب کی شجاعت اور استقامت نے حالات کے دھارے کو صحیح رخ پر موڑ دیا ۔
    1973 میں پنجاب میں غلام مصطفی کھر کے اقتدار و اختیار کا طوطی بولتا تھا ۔ آپ نے صوبے میں روا رکھے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ مصطفی کھر نے آپ پر ایک درجن کے قریب مقدمات دائر کر وائے ۔ ان میں ایک قتل کا مقدمہ بھی تھا لیکن کوئی
    دھمکی آپ کو ڈرا سکی نہ ہی جھکا سکی اور نہ ہی کوئی پیشکش آپ کے قدموں کو ڈگمگا سکی ۔ علامہ صاحب اسلام اور دیندار طبقے کے خلاف کسی آواز کو سننا برداشت نہیں کرتے تھے ، انہیں بڑ ی جرأت سے روکتے اور ٹوکتے تھے ۔ ایسا ہی واقعہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ
    پنجاب حنیف رامے ، جواب دارفانی سے کوچ کر چکے ہیں ، کے دور میں پیش آیا انہوں نے اپنی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں لا ہور اسمبلی میں شہر کے تمام مکاتب فکر کے نامور علماء وفضلاء ، خطباء اور مبلغین کا ایک اجلاس طلب کیا جس میں علامہ صاحب کو بھی مدعو
    کیا گیا ۔ علامہ صاحب جب اس اجلاس میں تشریف لائے تو رامے مرحوم نے اپنے خطاب میں کہا کہ علماء میں راست بازی اور جرأت اظہار نہیں ہے ، وہ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں سے دب جاتے ہیں ، علماء کی اکثریت ، ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کے ڈونگرے برسا
    رہی ہے ۔ رامے مرحوم اپنا خطاب کر کے بیٹھ گئے تو علامہ صاحب ازخود اٹھے اور رامے صاحب کے پاس جا کر سٹیج پر خطاب شروع کر دیا ۔ علامہ صاحب نے اپنی روایتی گھن گرج میں فرمایا: میں قرآن کے طالب علم سے مخاطب ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ
    آپ نے دنیا میں سب سے بڑ ا جھوٹ بولا ہے ۔ اگر قرآن میں اسلامی دستور نہیں تو بتاؤ پھر قرآن میں کیا ہے ؟ قرآن نے خدائی احکام کے بغیر باقی سب کو طاغوت قرار دیا ہے ، قرآن کے ایک ایک لفظ میں اسلام کا دستور مضمر ہے ، قرآن اسلامی دستور کی بنیادی
    دفعات کے متن کی حیثیت رکھتا ہے ۔ سرور کائنات ﷺ کے فرمودات اس کی تشریح ، توضیح اور تفسیر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اطاعت رسول ﷺ ، ا سوہ رسول ﷺ دوسر ا ا ہم اسلامی دستور ہے ۔ علامہ صاحب نے اس حوالے سے قرآنی آیات پڑ ھ کر
    سنائیں اور کہا کہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ نہ کرنیوالوں کو وہ ''ظالمون''اور ''فاسقون ''قرار دیتا ہے ۔ علامہ صاحب کی اس جرأت اور دلیری پر علماء کا مجمع الحمد للہ کہتا جا رہا تھا ۔ علامہ صاحب نے کہا کہ ایک عالم برس ہا برس سے اوقاف کی مسجد میں خطیب ہے ۔
    اس کے بچے بچیاں جوان ہیں ، وہ بالواسطہ آپ کا ملازم ہے اب اگر وہ جرأت اظہار سے کام لیتا ہے ، راست بازی اور صداقت کا ثبوت دیتا ہے تو اسے مسجد کی امامت وخطابت سے ہٹادیاجائیگا ۔ ثانیا: اس کو مسجد سے اٹھا کر سیکڑ وں میل دور کہیں دورافتادہ مقام پر
    تبادلہ کر دیں گے ۔ اب آپ ہی بتائیں وہ جرأت کا اظہار کیسے کرے ؟ اور راست بازی کا ثبوت کیسے بہم پہنچا سکتا ہے ؟ میں آپ کا ملازم نہیں ، میں آپ کو روکتا بھی ہوں اور ٹوکتا بھی ہوں ، علامہ صاحب کے بعد کسی عالم نے تقریر نہیں کی ، مولانا سید ابوبکر
    غزنوی رحمہ اللہ کو دعوت دی گئی تو سید صاحب نے فرمایا: میرے بھائی علامہ احسان الہی ظہیرکے خطاب کے بعد مزید گفتگو کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ مولانا محمد بخش ، مولانا سید عبدالقادر آزاد سب نے سٹیج پر آ کر یہی بات کہی ۔ چائے کا بندوبست
    دوسرے کمرے میں تھا علمائے کرام چائے پینے کیلئے تشریف لے گئے تو رامے صاحب نے ایک آدمی بھیج کر انہیں بلایا، رامے صاحب کے ساتھ ایک کرسی خالی تھی علامہ صاحب اس پر بیٹھ گئے ۔ علامہ صاحب نے رامے صاحب کی میز پر سے ایک بسکٹ اٹھا کر
    کہا کہ آپ مساوات کے علمبردار ہیں ، بتائیں جو بسکٹ آپ کی میز پر ہیں کیا وہی بسکٹ علماء کرام کی میز پر ہیں ؟ ارے جو لوگ چائے کی ٹیبل پر مساوات نہیں کر سکتے ، ان سے کیسے انصاف کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ رامے صاحب نے حکم دیا کہ علمائے کرام کو وہی
    بسکٹ پیش کیے جائیں جو میری میز پر ہیں ۔
    1977کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی دھاندلیوں کے ردّ عمل میں قومی اتحاد کے سٹیج پر ایک زبردست اور مثالی تحریک چلی ۔ تحریک نظام مصطفی ﷺ میں سب سے قد آور علامہ صاحب ہی نظر آتے ہیں ۔ جب قومی اتحاد کے مرکزی قائدین گرفتا رکر لیے گئے
    اور لا ہور صف ثانی اور صف ثالث کے لیڈروں سے خالی ہو گیا اور قومی اتحاد میں شامل جماعتوں کے صوبائی قائدین بھی حراست میں لے لیے گئے ، لا ہور اور کراچی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تو اس وقت پوری شجاعت اور حوصلے سے علامہ صاحب نے تحریک نظام
    مصطفی کی قیادت سنبھالی ۔ وہ ہماری اسلامی تاریخ کا ایک سنہراباب ہے ۔ کرفیو کے نفاذ کے باوجود علامہ صاحب بھیس بدل کر مسجد شہداء میں خطاب فرماتے رہے اور پورے ملک کے کارکنوں کی رہنمائی فرماتے رہے ۔
    ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی مارشل لاء کے خلاف سب سے پہلے زوردارآوازجو منٹو پارک میں عید کے زبردست اور عظیم مجمع میں اٹھی وہ احسان الہی ظہیر کی آواز تھی ۔ آپ نے بھٹو سے کہا کہ اگر تم عوامی مارشل لاء کے نام پر اپنی آمریت قائم کرنا چاہتے ہوتو
    تمہیں قائد عوام کہلانے پر شرم آنی چاہیے ۔ بھٹو کا دور حکومت سیاسی جماعتوں ، سیاسی ورکروں اور دینی جماعتوں کے ابتلاء وآزمائش کادور تھا ۔ بھٹو حکومت کے خلاف سیاسی جماعتوں کا جو قافلہ میدان میں اترا ، علامہ صاحب اس میں نمایاں تھے ۔ اس وقت بھٹو کے
    خلاف تحریک استقلال شمشیر بے نیام کی حیثیت رکھتی تھی۔اس میں آپ نے شمولیت اختیار کی اس دور میں آپ نے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان ، چوہدری ظہور الہی اور ائیر مارشل اصغر علی خان کا پوری بہادری او ر استقامت سے حق رفاقت ادا کیا ۔ جنرل
    ضیاء الحق 90دن میں انتخابات کے وعدہ پر اقتدار واختیار پر قابض ہوئے ۔ 5 شرعی حدود کا نفاذ کیا گیا لیکن جنرل صاحب نے عملا کسی کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ نام نہاد ریفرنڈم سوانگ بھی اسلام کے نام پر رچایا لیکن اسلام خودر بین لگا کر بھی ملک میں نظر نہیں آتا
    تھا ۔ جنرل ضیاء الحق کے عمل اور گفتار کے تضاد نے حساس اور ذہین طبقے کو دینی اقدار سے بیزار کر دیا ۔ جنرل ضیاء نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے ہر جماعت میں پھوٹ ڈال کر مفاد پرستوں اور خود فروشوں کا ایک حصہ اپنی تائید و حمایت پر آمادہ کر لیا ۔ چاروں
    مکاتب فکر کے بعض نامور علماء کو اپنا حاشیہ بردار بنا لیا اور انہیں دینی مدارس سے تعاون کے نام پر سرمائے کا دانہ ڈال دیا ۔
    علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ للہ برہنہ شمشیر بن کر جنرل ضیا ء الحق کی پالیسیوں کے خلاف گرجتے اور برستے رہے ۔ متعدد مواقع پر جنرل ضیاء الحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تحریک نظام مصطفی میں قربانیاں چہرے بدلنے کیلئے نہیں بلکہ نظام بدلنے کیلئے
    دی تھیں ۔ ہم نہ حریف اقتدار ہیں اور نہ حلیف اقتدار ہیں ، ہم اس ملک میں صدیوں سے حکومت الہیہ کے قیام کے لیے ماریں کھا رہے ہیں ۔ ہمارا مقصد حیات ایک ہی ہے کہ اس ملک میں مکمل اسلامی نظام نافذ ہو اگر آپ اسلام نافذ کر د یں گے تو آپ کی چاکری
    ہمارے لیے باعث عزت وافتخار ہو گی ورنہ سن لو جو ہاتھ بھٹو کی گولیوں کا رخ موڑ سکتے ہیں وہ آپ کے ٹینکوں کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں ۔ جب دہشت پسندوں نے فرزندپنجاب چوہدری ظہور الہی کوقتل کیا تھاتو علامہ صاحب نے اپنے ایک بہادرانہ خطاب میں فرمایا
    کہ دہشت پسندو !تم نے ہماری متاع عزیز ہم سے چھین لی ہے ، حکمرانو! تم بھی سن لو ، ہم زندہ رہیں گے تو چوہدری ظہورالہی کی طرح ، مریں گے تو چوہدری ظہور الہی کی طرح مریں گے ۔ علامہ صاحب کے یہ تاریخی الفاظ کس قدر صداقت پر مبنی تھے کہ اللہ تعالیٰ
    نے انہیں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کیا۔
    علامہ کے خطاب کا طنطنہ ، تقریر کا دبدبہ اور گفتگوکا ہمہمہ مسلمہ امرتھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ضمیر ایسی مٹی سے اٹھایا تھا کہ جس میں ذرا اندیشہ فکر نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔ ہم نے اپنے اکابرین سے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی شجاعت ، استقامت ، جرأت وبہادری ،
    بے باکی اور بلند حوصلوں کے بے شمارواقعات سنتے ہیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کا ہمارے دل میں جو احترام اور عقیدت ہے اس کی بڑ ی وجہ ان کی جرأت وبے باکی ہے ان کی شجاعت اور بے باک تحریروں نے نوجوانوں میں ولولہ تازہ اور عزم راسخ
    پیدا کیا ۔ ان کا خارا شگاف قلم تلوار سے بھی زیادہ کاٹتا تھا ان کی قلم کی معجز نمائیوں نے ممولوں کو شہبازوں سے لڑ ایا ۔ علامہ صاحب کے خطابات میں مولانا ابوالکلام آزاد کا وہی بانک پن ، وہی جرأت ، وہی پکار ، وہی للکار ، وہی یلغار وہی اقدام ، وہی سعی مسلسل ، وہی
    عمل پیہم ، وہی انداز قلندرانہ ، حکمرانان وقت کو للکارتا اور کہتا کہ میں نہ تمہیں مانتا ہوں ، ملت کا یہ ترجمان جو حافظ قرآن بھی تھا ، فصاحت وبلاغت کا بحر بیکراں بھی تھا۔ یہ غیرمعمولی انسان جو خطیب عرب کے لقب سے موسوم ہوا ، جنہیں جنت البقیع کی ابدی
    راحتوں کا وافر حصہ نصیب ہوا ، جس کی للکار ایوان میں زلزلہ برپا کرتی تھی وقت کے آمروں کیلئے جس کی حیات کانٹا بن کر کھٹکتی رہی ۔ یہی ان کی بصیرت تھی اور یہ حکایت مہرو وفا تھاجس پر وہ فدا ہو گئے اور اپنے الفاظ کی صداقت اپنے لہو سے رقم کر گئے ، مینار
    پاکستان کے سائے تلے 23مارچ کی رات 1987کو جب آہوں سسکیوں اور کرا ہوں میں شہداء کے لاشوں میں انہیں میو ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں لایا گیا تو ان کی دلیری اور ان کی استقامت کی کیفیت یہ تھی کہ جزع فزع کے بجائے عیادت کنندہ سے دعا
    کی درخواست کرتے ، ملنے والے روتے تو انہیں کہتے کہ تم خود روتے ہو اوروں کو کیسے چپ کراؤ گے ؟اور ساتھ کہہ رہے تھے کہ میرے ساتھیوں کو رونے دھونے سے روکو اور میرے کتاب وسنت کے جاری مشن کو ہر حال میں جاری رکھو ۔ آج امت مسلمہ
    خصوصا پاکستان جس بھنور میں پھنسا ہوا ہے اور جو افتاد آئی ہو ئی ہے کاش علامہ صاحب زندہ ہوتے اس ملک میں عوامی ردعمل کا نقشہ ہی اور ہوتا جس طرح وہ سقوط ڈھاکہ پر قوم کو رلا گئے آج بقیہ پاکستان سے ہونے والی اغیارکی سازشوں کو دیکھ کر ارباب اقتدار کو
    ضرور جھنجھوڑ تے اورٹھوس اصولوں کی بنیاد پر سیاست کرتے ۔ قافلہ توحید وسنت کا یہ رہبر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 30 مارچ کو سعودی عرب ریاض کے ملٹری ہسپتال میں انتقال کر گیا جنہیں جنت البقیع کے قبرستان میں امام مالک رحمہ اللہ کے پہلو میں دفن
    کیا گیا ۔
    انّا للہ وانا الیہ راجعون
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں