1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صرف اللہ وارث

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏جون 18، 2013۔

  1. ‏جون 25، 2013 #11
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891


    شاید کل کو آپ یہ بھی کہنے لگ جائیں کہ حقیقی معنوں میں تو اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ لیکن مجازی معنوں میں تو کوئی بھی بندہ معبود ہو سکتا ہے ۔
    حقیقی معنوں میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی اور رسول ہیں، لیکن مجازی معنوں میں تو کوئی بھی نبی اور رسول ہو سکتا ہے۔
    آپ نے قرآن کی جو آیات پیش کی ہیں، ان سے مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ کوئی ایسی قرآن کی آیت بتا دیجئے جس میں وارث بننے والا کوئی مردہ شخص ہو۔ یا بعد کے زمانے والا پچھلے زمانے والے کسی شخص کو وارث قرار دیتا ہو۔ جائیداد یا علم کی وراثت تو نسلاً بعد نسلٍ آگے کی جانب منتقل ہوتی ہے، ، اس میں تو کسی غیر مسلم سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 25، 2013 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا شاکر بھائی
    آپ نے بہت اچھی وضاحت کی۔۔۔۔ اللہ ہی وارث ہے۔
     
  3. ‏جون 25، 2013 #13
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یعنی مردہ وارث نہیں ہوسکتا لیکن زندہ وارث ہوسکتا ہے !!!
    کیا آپ کی پوسٹ کا یہی مدعا ہے؟
     
  4. ‏جون 25، 2013 #14
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    آپ میری پوسٹ سے مخالف معنی مراد لے رہے ہیں۔
    میں نے فقط یہ کہا ہے کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کے علاوہ علی وارث کا عقیدہ رکھتے ہیں، تو قرآن سے ایسی مثالیں پیش کیجئے جس میں مردے کو وارث قرار دیا گیا ہو یا بعد کےزمانے والے نے پچھلے زمانے والے کو وارث قرار دیا ہو۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 25، 2013 #15
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    حضرت یوسف علیہ سلام الله کے وہ واحد پیغمبر ہیں جن کے والد حضرت یعقوب علیہ سلام تھے آپ کے دادا حضرت اسحاق علیہ سلام تھے اور آپ کے پر دادا حضرت ابراہیم علیہ سلام تھے- لیکن آپ علیہ سلام نے کبھی مشکل گھڑی میں اپنے آبا واجداد کو نہیں پکارا - آپ علیہ سلام صرف الله رب العلمین سے دعا کرتے ہوے فرماتے ہیں؛

    رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ سوره یوسف ١٠١
    اے میرے رب تو نے مجھےکچھ حکومت دی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بھی سکھلایا ہے اے آسمانو ں اور زمین کے بنانے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے تو مجھے اسلام پر موت دے اور مجھے نیک بختوں میں شامل کر دے -

    جب کے ہم نام نہاد مسلمان غیر الله کو اپنا حجت روا ماننے میں فخر محسوس کرتے ہیں - اور اس صریح شرک کے دائمی عذاب سے خوف نہیں کھاتے-

    اگر "علی وارث" کہنا شرک نہیں تو ان الفاظ کا استمعال حضرت حسین رضی الله عنہ نے کربلا کے میدان میں کیوں نہیں کیا ؟؟؟ جب کہ حضرت علی رضی الله عنہ تو آپ کے والد تھے- حضرت علی رضی الله عنہ نے اس وقت اپنے بیٹے کی مدد نا کی تو ہماری مدد کیسے کرنے پر قادر ہو سکتے ہیں ؟؟؟
     
    • متفق متفق x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  6. ‏جون 26، 2013 #16
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ خیرا
     
  7. ‏جولائی 17، 2013 #17
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    اور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے

    الانبیاء : 105
    ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
     
  8. ‏جولائی 17، 2013 #18
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    میری ناقص رائے کے مطابق یہ دو زبانوں کے الفاظ کا مسلئہ ھے۔

    اگر چہ لفظ ایک ھی ھے لیکن اسکے معانی و مفہوم دوںوں زبانوں میں

    ایک جیسے نہیں ہیں۔اسی سے فائیدہ اٹھاتے ہوے گمراہ عقیدہ والے

    سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرتے ھیں۔

    ایسے بے شمار الفاظ ھیں جنکا عربی زبان میں معانی اور مفہوم

    کچھ اور ہوتا ھے جبکہ یہی لفظ اگر اردو میں استعمال ہو تو معانی

    کچھ اور نکل آتے ھیں۔

    ارسلان بھائی نے وارث لفظ کا جو استعمال بتایا ھے ۔وہ ہمارے

    معاشرے میں کچھ لوگ بلا سوچے سمجھے اور کچھ لوگ اپنے

    عقیدہ کی وجہ سے استعمال کرتے ھیں ۔اور جب یہ ھمارے

    معاشرے میں اللہ نبی وارث یا علی وارث لکھا یا بولا جاتا ھے

    تو اسکا صاف مفہوم یہی ہوتا ھے کہ اللہ کے ساتھ نبی یا علی

    بھی تمہارا نگھبان یا حفاظت کرنے والا ھو۔

    یہ صریحا شرک کے جملے میں آتا ھے۔

    جبکہ بہرام صاحب نے جو مثالیں دی ھیں وہ صاف مفہوم ظاہر

    ھے کہ وہ نسل کا تذکرہ ھے جیسے داود علیہ الاسلام کے

    سلیمان علیہ الاسلام ۔اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ الاسلام

    کے حضرت اسماعیل اور اسحاق علیہ الاسلام۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 17، 2013 #19
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اگر مقصود دوسروں کو مغالطہ دینا ہی ہو اور ظاہری الفاظ کو غلط مقاصد اور غلط مفاہیم کا لباس پہنا کر مطلب برآوری مقصود ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے جو بہرام صاحب نکال رہے ہیں۔
    اگر ہر جگہ وارث کا معنیٰ وہی ہے جو ’اللہ وارث‘ کا معنیٰ ہے تو پھر بہرام کے مطابق حدیث مبارکہ العلماء ورثة الأنبياء کا معنیٰ ہوگا کہ جس طرح اللہ تمام لوگوں کے نگہبان، حاجت روا ہیں، اس طرح علماء انبیاء کے نگہبان، مشکل کشا اور حاجت روا ہیں۔ کیا بہرام صاحب کے نزدیک یہ معنیٰ صحیح ہے؟؟؟

    حقیقت یہ ہے کہ لفظ وارث کے کئی معنی ہیں، جن میں بعض حسبِ ذیل ہیں:
    1. ایک چیز ہے کہ اللہ وارث، نبی وارث، وغیرہ وغیرہ اس سے مراد نگہبان، مدد گار، مشکل کشا ہونا، خدائی اختیارات کے مطابق حامی وناصر ہونا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کیلئے ثابت کرنا شرک اکبر ہے۔

    2. دوسری چیز ہے کہ کسی کو فوت شدہ سے کوئی مال، صلاحیت یا منصب منتقل ہوجائے۔ جیسے اولاد ماں باپ سے مال وراثت میں لیتی ہے اور کئی مرتبہ اچھی عادات اور صلاحتیں بھی۔ وورث سليمان داؤد سے مراد نبوی وراثت ہے۔ العلماء ورثة الأنبياء سے مراد دعوتی فریضہ اور فریضۂ امر بالمعروف اور نہی المنکر کی وراثت ہے۔ وغیرہ وغیرہ

    3. اس کا ایک تیسرا معنیٰ زمین کا وارث ہونا بمعنیٰ کسی جگہ پر غالب ہونا، فتح حاصل کرنا ہے۔ آيت کریمہ ﴿ ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصلحون میں یہ اسی معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ اسی معنیٰ میں اللہ تعالیٰ کے یہ ارشادات بھی ہیں: ﴿ كتب الله لأغلبن أنا ورسلي ﴾، ﴿ فأوحى إليهم ربهم لنهلكن الظلمين * ولنسكننكم الأرض من بعدهم ﴾ ، ﴿ وعد الله ءامنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم في الأرض كما استخلف الذين من قبلهم ... ﴾ وغيرها من الآيات
     
    • متفق متفق x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 17، 2013 #20
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں