1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صفات متشابہات پر دیوبند کانطریہ

'توحید اسماء وصفات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏دسمبر 05، 2014۔

  1. ‏دسمبر 05، 2014 #11
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 05، 2014 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ایسے کریں دیوبندی حضرات کی تحریریں پڑھیں جو باتیں آپ کو کھٹک رہی ہیں ان کو الگ سے لکھ لیں ۔
    پھر محدث فورم کی جن دو تحریروں کا آپ کو حوالہ دیا گیا ہے ، ان کو پڑھیں ، اور جن باتوں کا اعتراض مل جائے ، ان کے آگے لکھتے جائیں
    جو باقی رہ جائیں انہیں یہاں ترتیب وار لکھ دیں ، ان شاءاللہ ان کا جواب لکھ دیا جائے گا ۔ یا بتادیا جائے گا کہ اس کا جواب تحریر میں فلاں جگہ ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 06، 2014 #13
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,483
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

  4. ‏دسمبر 06، 2014 #14
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    میں نے ان تحریروں کو پڑھا ہے ۔ان کے اندر یہ چند الفاظ کی سمھج نہیں آرہی 1 تفویض2ید ان کے معنی بتادیں
    میں جوابات کے لیے اپنے اشکالاتکو تیں حصوں میں تقسیم لیا ہے
    1 فلسفی ومنطق اور تاویل
    2 قرانی آیات
    3 حدیث
    4 علماءسلف
     
  5. ‏دسمبر 06، 2014 #15
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    پہلا شبہ: اگر صفات متشابہات ، استوی ، ید، وجہ وغیرہ کے ظاہری معنی اس لیے مراد نہیں لیے جاسکتے کہ اس سے جسمانیت کے پہلو سامنے آتے ہیں تو پھر محکم صفات علم ، قدرت ، حیات وغیرہ کا تصور بھی تو جسمانیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، انہیں بھی متشابہات قرار دیا جائے۔

    جواب… اس شبہ کی یہ بنیاد ہی غلط ہے کہ محکم صفات ، علم، قدرت ، حیات کا تصور جسم کے بغیر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ان صفات کا اطلاق جب باری تعالیٰ پر کیا جاتا ہے تو اس کی اولین دلالت جسم پر نہیں ہوتی، بلکہ ان الفاظ کے کانوں میں پڑتے ہی جو معانی اخذ ہوتے ہیں اس میں تنزیہ وتجرید کے تقاضے پوری طرح جلوہ گر ہوتے ہیں اور دل ودماغ کے کسی گوشے میں جسم کا تصور نہیں ابھرتا، برخلاف صفاتِ متشابہات ، استواء ِید، وجہ، کے کہ ان الفاظ کی اولین دلالت ہی جسمانیت پر ہوتی ہے ۔ ان کے ظاہری معنی مراد لینے کے بعد جسمانی لوازم کو وہم وخیال سے دور نہیں رکھا جاسکتا، لہٰذا اگر متشابہات اور محکمات میں یہ فرق ملحوظ رکھاجائے تو اشکال پیدا ہی نہ ہو ۔

    دوسرا شبہ: اگر متشابہات کے معنی مراد کا علم صرف الله تبارک وتعالیٰ کو ہے تو پھر ان کو قرآن کریم میں ذکر کرنے کیا فائدہ ہے ؟

    جواب : اگرچہ ہمیں صفات متشابہات کے معنی ومراد کا علم نہیں، لیکن ان پر ایمان لانا بھی باعث نجات اور ثواب ہے ، علاوہ ازیں اس کی تلاوت کے بھی معنوی فوائد اوربرکات ہیں ،اگرچہ ان تک ہماری رسائی نہیں ہے۔

    متاخرین اہل سنت والجماعت کا موقف
    متأخرین سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ صفات متشابہات کے ایسے مجازی معنی بیان کیے جاسکتے ہیں جو الله تبارک وتعالیٰ کے شایان شان ہوں، بشرطے کہ:
    اس لفظ کے اندر مجازی معنی مراد لینے کی گنجائش ہو۔
    نیز اس مجازی معنی کو احتمال تفسیر کے درجے میں رکھا جائے، انہیں قطعی اوریقینی نہ کہا جائے۔

    لہٰذا ”ید“ سے قدرت ، ”وجہ“ سے ذات اور استوا سے استیلا (غلبہ) مراد لیا جاسکتا ہے ۔ ( المسایرہ فی العقائد المنجیة فی الأخرة، ص:47,44)

    تاویل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
    چوں کہ متاخرین کے زمانے میں کئی فرقہائے باطلہ رواج پذیر ہو کر امت مسلمہ کی وحدت فکر کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف کار تھے ، جن میں سر فہرست مجسمہ او رمشبہہ ایسے فرقے تھے جو صفات متشابہات کے ظاہری الفاظ کا سہارا لے کر الله تعالیٰ کے لیے مخلوق کی طرح ہاتھ ، پاؤں، چہرہ، پنڈلی وغیرہ ثابت کرتے تھے۔

    متاخرین سلف صالحین نے جب دیکھا کہ یہ فرقہائے باطلہ عوام کی ذہنی سطح سے غلط فائدہ اٹھا کر انہیں گم راہی کی طرف دھکیل رہے ہیں تو انہوں نے تاویل کا مسلک اختیارکرکے تمام متشابہات کے مناسب ، سادہ عام فہم معانی بیان کیے، مثلاً کہا ید سے ہاتھ نہیں قدرت مراد ہے، وجہ سے چہرہ نہیں بلکہ ذات مراد ہے، استوی سے استقرار وجلوس نہیں بلکہ استیلا اور غلبہ مراد ہے، تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کومجسمہ اور مشبہہ کے گم راہ کن خیالات سے بچایا جاسکے۔

    مسلکِ تاویل کی بنیاد کی وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ یَقُولُونَ آمَنَّا﴾․ (آل عمران:7)

    اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میںإ لا الله پر وقف نہیں ہے، اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہو گا اور آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے ۔ متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے۔ ( المسامرہ مع شرحہ المسایرہ ص:45، بیروت)

    تیسرا شبہ: کیا تاویل کرنا بدعت ہے؟
    غیر مقلدین اور نام نہاد سلفیوں کا صفات باری تعالیٰ کے متعلق کیا عقیدہ ہے ؟ اس پر تفصیلی گفت گو تو چند صفحات آگے آرہی ہے ۔ لیکن یہاں سردست ان کے اس اعتراض کا جواب دینا مقصود ہے جس کی آڑ میں یہ اہل سنت والجماعت کو اپنی تحریر وتقریر پر جا بجا مطعون کرتے ہیں ، ان کا دعوی یہ ہے کہ صفات متشابہات کی تاویل کرنا بدعت اور ناجائز ہے، چوں کہ اشاعرہ․ (واضح رہے کہ اشاعرہ کا اطلاق بطور اصطلاح اہل سنت والجماعت کے دونوں گروہ اشاعرہ اور ماتریدیہ پر ہوتا ہے ، واصطلح المتأخرون علی تسمیة الفریقین بالأشاعرة تغلیبا․ ( النبراس، ص:22، امدادیہ ملتان) نے اپنے مسلک کی بنیاد تاویل پر رکھی ہے، لہٰذا ان کے بدعتی اور گم راہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ (”القول بالمجاز قول مبتدع․“ (الصواعق المرسلة ص:233، بیروت) ”وطریقی التفویض والتاویل فی باب الصفات مسلکان باطلان․“ (حاشیة علی فتح الباری زھیر شاویش، کتاب التوحید، باب قول النبی : لاشخص اغیر من الله: 493/13)

    جواب: غیر مقلدین کا مذکورہ اشکال چند وجوہ سے درست نہیں ہے ۔

    متاخرین سلف صالحین کے مسلک تاویل کی بنیاد وہ آیت کریمہ ہے جو متشابہات کے متعلق وارد ہے ﴿وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیْلَہُ إِلاَّ اللّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِیْ الْعِلْمِ﴾․ (آل عمران:7)

    اس آیت کریمہ کی ایک قرأت میں ﴿إلا الله﴾ پر وقف نہیں ہے ۔ اس صورت میں ﴿الراسخون فی العلم﴾ کا لفظ الله پر عطف ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ متشابہات کی تاویل کا علم الله کو او رعلمائے راسخین کو ہے۔ (المسامرہ مع شرحہ المسایرہ، ص:45، بیروت) متاخرین نے اسی قرأت پر اپنے مسلک کی بنیاد رکھی ہے جب ایک چیز کا شرعی جواز موجود ہو تو اسے بدعت کیسے کہا جاسکتا ہے؟

    نیز متشابہات کی تاویل صحابہ کرام، تابعین، سلف صالحین سے بھیمنقول ہے ، کیا ان مبارک ہستیوں سے بدعت کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ ذیل میں ان کی تلاویلات کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجیے ۔

    رئیس المفسرین حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے سند صحیح کے ساتھ منقول ہے کہ انہوں نے ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ میں ”ساق“ کی تاویل ”شدت“ سے فرمائی ۔ (” وأما الساق فجاء عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ: ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ : قال عن شدة الأمر․ (فتح الباری، باب: قول الله تعالیٰ: وجوہ یومئذٍ ناضرة إلی ربھا ناظرة․ الحدیث الثالث رقم:7436) تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

    بلکہ آپ تو مقطعات کی بھی تاویل فرمایا کرتے تھے۔ ( العرف الشذي، 496/1، بیروت)

    علامہ ابن جریری طبری رحمہ الله ﴿یوم یکشف عن ساق﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم اور تابعین رحمہم الله کی ایک جماعت نے ساق کی تاویل ”شدت امر“ سے کی ہے۔(تفسیر ابن جریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:42)

    حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما حضرت قتادہ ، حضرت مجاہد حضرت سفیان ثوری رحمہم ا الله نے آیت کریمہ: ﴿والسماء بنینا ھا بأید وإنا لموسعون﴾ میں ”بأید“ کی تاویل قوت سے فرمائی ہے ۔ (تفسیر ابن حبریر الطبری، القلم، تحت آیة رقم:47)

    حضرت امام مالک رحمہ الله تعالیٰ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیاگیا جس میں نزول الہی کا ذکر ان الفاظ میں ہے کہ الله تعالیٰ رات کو دنیا کے قریبی آسماں پر نزول فرماتے ہیں ، آپ نے فرمایا اس سے امر اور حکم مراد ہے کہ حکم الہی نازل ہوتا ہے۔ دیکھیے! امام مالک رحمہ الله تعالیٰ نے نزول الہی کی تاویل نزول حکم الہی سے فرمائی۔ ”قال حدثنا مطرف عن مالک بن انس أنہ سئل عن الحدیث ”إن الله ینزل فی اللیل إلی سماء الدنیا“ فقال مالک: یتنزل أمرہ․“ (التمہید لابن عبدالبر، 143/7)

    امام احمد بن حنبل رحمہ الله تعالیٰ کے بھتیجے سے مروی ہے کہ امام صاحب نے ﴿وجاء ربک﴾ (اور آیا آپ کا رب) کی تاویل وجاء ثوابہ ( اور آیا رب کا ثواب ) سے فرمایا ۔

    امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سند پر کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ (”رواہ البیہقی عن الحاکم عن ابی عمر بن السماک عن احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تأول قول الله تعالیٰ:﴿ وجاء ربک﴾: أنہ وجاء ثوابہ․ “ … ھذا سند لاغبار علیہ․“ (البدایة والنہایة،327/10)

    حقیقت یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں الفاظ کی ظاہری دلالت سے قطع نظر کرکے مجاز واستعارے کی آڑ لی جاتی ہے اور چاروناچار تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب تک اس اندازِ بیان کی توجیہ مجاز کی روشنی میں نہ کی جائے تو افہام وتفہیم کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً قرآنِ کریم میں ہے ﴿کُلُّ شَیْْء ٍ ہَالِکٌ إِلَّا وَجْہَہُ﴾․ (القصص، آیت:88)

    ترجمہ: ہر چیز کو فنا ہے مگر اس کا منھ ( ذات) ۔اگر یہاں وجہ منھ کی تاویل ذات سے نہ کی جائے تو پھر آیت کریمہ کا صاف صاف مطلب یہ ہو گا الله تعالیٰ کے ید ، قدم، ساق ( جنہیں غیر مقلدین الله کے عضو تسلیم کرتے ہیں) فنا اور زوال پذیر ہو جائیں گے ، صرف باری تعالیٰ کا چہرہ ہی قائم ودائم رہے گا۔ چناں چہ اس مقام پر خود غیر مقلدین تاویل وتعبیر کی ضرورت سے بے نیاز نہ رہ سکے او ران کے لیے وجہ کی تاویل ذات سے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا ۔ ( تفسیر جونا گڑھی ، القصص، تحت آیہ رقم:88)

    اسی طرح قرآن کریم میں آیت کریمہ ہے ﴿قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَأَتَی اللّہُ﴾․ (النحل:26)

    البتہ دغا بازی کرچکے ہیں جو تھے ان سے پہلے، پھر پہنچا حکم الله کا میں فأتی الله کی تاویل فأتی عذاب الله (الله کا عذاب آیا) سے کرتے ہیں ۔ (تفسیر جونا گڑھی ، النحل ،تحت آیہ رقم:26)

    قرآن وحدیث میں کتنے ہی ایسے مقامات ہیں جہاں غیر مقلدین نے تاویل واستعارے سے بلاجھجک کام لیا ہے۔ اگر تاویل بدعت ہے تو اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، پھر اشاعرہ پر ہی الزام تراشی کیوں؟

    خلاصہ یہ ہے کہ : متقدمین کے نزدیک یہ صفات ، ید، وجہ ، استوی متشابہہ المعنی ہیں۔صفات متشابہات کے لغوی معنی تحت اللفظ کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کی تشریح اور وضاحت معروف فی الخلق سے نہیں کرسکتے، اگر ان صفات کو معروف معانی کے ساتھ الله تعالیٰ کے لیے ثابت کریں تو اس سے تجسیم لازم آتی ہے اور کیفیت کی جہالت سے ہم تجسیم سے نہیں نکل سکتے۔ متاخرین نے اہل بدعت کے بڑھتے ہوئے فروغ کی روک تھام کے لیے مسلک تایل اختیار کیا او رتمام متشابہات کی مناسب تاویلات کیں او ران تلاویلات کا شرعی جواز موجود ہے۔ متاخرین سلف صالحین سے ﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾ کی کئی تاویلیں منقول ہیں، تاہم مشہور تاویل یہ ہے۔

    اسْتَوَی سے غلبہ وقبضہ مراد ہے اورالعرش تخت کو کہتے ہیں۔ اور﴿اسْتَوَی عَلَی الْعَرْش﴾الله تبارک وتعالیٰ کے کائنات پرمکمل قبضہ وقدرت اور اس کے حاکمانہ تصرف سے تعبیر ہے کہ کائنات کی کوئی چیز او رکوئی گوشہ اس کے قبضہ قدرت اور تصرفات سے باہر نہیں۔(تفسیر رازی، الاعراف، تحت آیہ رقم:54۔مزید تاویلات کے لیے دیکھیے: تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی، اللباب فی علوم الکتاب، الاعراف تحت آیہ رقم:54)

    اہل سنت والجماعت اشاعرہ اور ماترید یہ کے مجموعے کا نام ہے۔ ( ”وھؤلاء الحنفیة والشافعیة والمالکیة وفضلاء الحنابلة ولله الحمد فی العقائد ید واحدة کلھم علی رأي أھل السنة والجماعة، یدینون الله تعالیٰ بطریق شیخ السنة أبی الحسن الأشعریی رحمہ الله تعالی․“ ( معید النعم ومبید النِقم للسبکی، ص:62) ””اذا أطلق أھل السنة والجماعة فالمراد بھم الأشاعرة والماتریدیة․“ (اتحاف السادة المتقین شرح احیاء علوم الدین للغزالی:8/2، بیروت)

    امت کے اس عظیم حصے کو او ران سے وابستہ محدثین کرام، فقہائے عظام کو بدعتی اور گم راہ کہنے والا شخص خود گم راہ اور بدعتی ہے۔

    ﷲ ہر جگہ موجود ہے

    نمبر {01} سبوحیت و قدوسیت

    حق تعالی جل شانہ تمام نقائص اور عیوب سے اور حدوث کے نشانوں سے اورمخلوقات کے مشابہت سے اور مماثلت سے پاک اور منزہ ہے اور وہ خداوند بے مثل و مانند ہے جوہر اور عرض ‎ہونے سے مبرا اور صورت اور شکل و جسم اورجسمانیت سے معرا ہے اور جواہر اور اجسام اور اعراض کی صفات اور لوازم سےمبرا ہے [‏‎لیس کمثله شئ وهو السميع البصير] - [سبحان ربك‎ رب العزۃ ‎عما یصفون] اور اصطلاح میں اس کا نام سبوحیت و قدوسیت ہے اور بالفاط دیگر تسبیح و تقدیس ہے.


    نمبر {02} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے


    نمبر {۰۱} وہ بے مثل اور بے چون و چگون ہے کوئی شي اس کے مثل اور برابرنہیں "لیس کمثله شئ" اور کوئی چیز خدا تعالی کے ہمسر نہیں [لم یکن له کفوا احد] - [ھل تعلم له سمیا] اس لئے کہ خدا قدیم اور ازلی ہے تو ممکن اور حادث کے مشابہ کیسے ہوسکتا ہے - اگر بالفرض خدا کا مخلوق کے مشابہ ہونا جائز ہو تو پھر مخلوق کے احکام کا خالق پر جاری ہونا بھی ممکن ہوگا - الغرض نہ خدا مخلوق کے مشابہ ہے اور نہ مخلوق خدا کے مشابہ ہے یہ ناممکن ہے کہ قدیم کی کوئی صفت حادث میں اور حادث کی کوئی صفت قدیم میں پائی جائے اس لئے الله تعالی ہر قسم کے تغیر و تبدل سے پاک ہے - اس لئے کہ تغیر و تبدل ممکن کی صفت اور خاصیت ہے.


    نمبر {۰۲} الله تعالی نہ جسم ہے اور نہ جوہر ہے اور نہ عرض ہے - وہ ان سبچیزوں سے پاک اور منزہ ہے


    نمبر {03} خدا تعالی جسم نہیں

    نمبر {۰۱} جسم تو اس لئے نہیں کہ جسم بہت سے اجزاء سے مرکب ہوتا ہے اورجو مرکب ہوتا ہے اس کی تحلیل اور تفریق اور تقسیم بھی ممکن ہوتی ہے - اورترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم الله تعالی کی بارگاہ سے بہت دور ہے.


    نمبر {۰۲} نیز ترکیب و تحلیل اور تفریق و تقسیم حدوث کے لوازم میں سے ہے جو قدم اور ازلیت کے منافی ہے.



    نمبر {۰۳} نیز جسم طویل اور عریض اور عمیق ہوتا ہوتا ہے اور الله تعالی طول و عرض اور عمق سے پاک اور منزہ ہے.


    نمبر {۰۴} نیز جو چیز اجزاء سے مل کر بنتی ہے اول تو وہ اپنی ترکیب میں اجزاء کی محتاج ہوتی ہے اور احتیاج اور خدائی کا جمع ہونا عقلا محال ہے - اور پھر مرکب اپنی بقاء میں اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور الله احتیاج سے منزہ ہے.


    نمبر {۰۵} نیز اجزاء کا وجود ، مرکب اور مجموعہ کے وجود سے مقدم ہوتا ہےاور مجموعہ مرکب موخر ہوتا ہے- پس اگر [معاذالله] خدا تعالی کو جسم مرکب مانا جائے تو خدا تعالی کا اپنی اجزاء ترکیبیہ سے مؤخر ہونا لازم آئے گا
    جو اس کی ازلیت اور اولیت اور قدم کے منافی ہے.


    نمبر {۰۶} نیز اگر صانع عالم کا جسم ہونا ممکن ہو تو شمن و قمر کا خدا ہونا بھی ممکن ہوگا اور جیسے نصاری حضرت مسیح کے جسم کو خدا اور معبود مانتے ہیں اور بندہ اپنے اوتاروں کو خدا کہتے ہیں تو پھر یہ بھی جائز اور ممکن ہونا اور کرامیہ کہتے ہیں کہ حق تعالی جسم ہے مگر دیگر اجسام کی طرح نہیں اور اہل سنت کے نزدیک حق تعالی پر جسم کا اطلاق درست نہیں.


    نمبر {04} خدا کے لئے باپ اور بیٹا ہونا محال اور ناممکن ہے


    جب یہ ثابت ہوگیا کہ خدا تعالی کا جسم ہونا ناممکن اور محال ہے تو ثابت ہوگیا کہ خدا نہ کسی کا باپ ہوسکتا ہے اور نہ بیٹا ہوسکتا ہے کیونکہ توالد اور تناسل خاصہ جسمانیت کا ہے اور الله تعالی جسمانیت سے پاک اور منزہ ہے نیز توالد اور تناسل محتاجگی کی دلیل ہے - جیسے اولاد اپنے پیدا ہونے میں ماں باپ کی محتاج ہے - ایسے ہی ماں باپ اپنی خدمت گزاری میں اور نسل کے باقی رہنے میں اولاد کے محتاج ہیں اور الله تعالی احتیاج سے منزہ ہے نیز اولاد ماں باپ کی ہم جنس ہوا کرتی ہے سو اگر کوئی خدا کا بیٹا ہوگا تو خدا کی وحدانیت ختم ہوجائے گی جو ابھی دلائل سے ثابت ہوچکی ہے.


    نمبر {05} خدا تعالی عرض نہیں


    نمبر {۰۱} اور خدا تعالی کا عرض ہونا اس لئے محال ہے کہ عرض وہ شئے ہے کہجو قائم بالغیر ہو اور اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہو اور دوسرے کے سہارے سے موجود ہو اور یہ بات خدا تعالی کے لئے ناممکن ہے اس لئے الله تعالی تو قیوم ہے تمام کائنات کے وجود کو قائم رکھنے والا اور ان کی ہستی کو تھامنے والا ہے تمام عالم اسی کے سہارے سے قائم ہے اس لئے اس کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں - سہارے کی ضرورت تو محتاج کو ہوتی ہے - اور وہ صمد ہے یعنی وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اسی کے محتاج ہیں.


    نمبر {۰۲} نیز حق تعالی غنی مطلق ہے کسی امر میں کسی چیز کا محتاج نہیں اور عرض اپنے وجود میں محل کا محتاج ہوتا ہے.


    نمبر {۰۳} نیز عرض کا وجود پائیدار نہیں ہوتا اور الله تعالی تو واجب البقاء اور دائم الوجود اور مستحیل العدم ہے ہے جیسا کہ کلام پاک میں ہے [کل من علیها فان ، ویبقی وجه ربك ذوالجلال والاکرام] - {سورۃ الرحمن : آیت نمبر 26 تا 27 پارہ 27]‏‎


    نمبر {۰۴} نیز اعراض ہر وقت بدلتے رہتے ہیں اور حق تعالی کی ذات و صفات میں تغیر و تبدل کو کہیں راہ نہیں.


    نمبر {06} الله تعالی جوہر نہیں

    نمبر {۰۱} اور الله تعالی جوہر اس لئے نہیں ہوسکتا کہ جوہر کے معنی اصل شئے کے ہیں یعنی جو کسی چیز کی اصل ہو اور جواہر فردہ ان اجزاء لطیفہ کو کہتے ہیں جن سے جسم مرکب ہو اور وہ اجزاء جسم کی اصل ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ بات الله تعالی کے لئے محال ہے کہ وہ کسی جسم وغیرہ کا جوہر اور اصل اور جز بنے.


    نمبر {۰۲} نیز جواہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس پر حرکت اور سکون وارد اورطاری ہوسکے اورلون اور طعم یعنی رنگت اور مزہ کے ساتھ موصوف ہو اور یہسب چیزیں حادث ہیں اور جواہر کے لوازم ہیں اور ظاہر ہے کہ جو چیز حوادث سے خالی نہ ہوسکتی ہو وہ بھی ضرور حادث ہوگی تو جب یہ حوادث جوہر کے لئے لازم ہوں گے تو لامحالہ جوہر بھی حادث ہوگا پس معلوم ہوا کہ الله تعالی جوہر نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ حوادث اور تغیرات سے پاک اور منزہ ہے.


    نمبر {07} خدا تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں


    نمبر {۰۱} نیز الله تعالی کے لئے کوئی صورت اور شکل نہیں - اس لئے کہ صورت اور شکل تو جسم کی ہوتی ہے اور الله تعالی تو صورتوں اور شکلوں کا خالق ہے -"ھو الله خالق الباری المصور".


    نمبر {۰۲} نیز صورتیں اور شکلیں حادث میں بدلتی رہتی ہیں.


    نمبر {۰۳} نیز جس چیز کے لئے صورت اور شکل ہوتی ہے وہ محدود اور متناہیہوتی ہے ، اور الله تعالی میں کوئی تغیر و تبدل نہیں اور خدا کے لئے کوئی حد اور نہایت نہیں.


    نمبر {08} خدا تعالی کے لئے کوئی مکان اور زمان اور جہت اور سمت نہیں


    نیز حق تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی زمان ہے اور نہ اس کے لئے کوئی سمت اور جہت ہے کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور مکان اور جہت محدود کے لئے ہوتے ہیں اور مکان اور زمان مکین کو احاطہ کئے ہوئے اور گھیرے ہوئے ہوتے ہیں - اور الله تعالی ہی سب کو محیط ہے - زمین و زمان اور کون و مکان سے اسی کے مخلوق ہیں اور اس کے احاطہ قدرت میں ہیں ، "کان الله ‎ولم یکن شیء غیرہ"یعنی ازل میں صرف خدا تعالی تھا اور اس کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی - اسی نے اپنی قدرت سے زمین اور مکین اور مکان کو پیدا کیا جس طرح وہ مکان اور زمان کے پیدا کرنے سے پہلے بغیر مکان اور بغیر جہت کے تھا اب بھی اسی شان سے ہے جس شان سے وہ پہلے تھا "ھو الآن کما کان"‎ نیز جہات امور اضافیہ اور نسبیہ میں سے ہیں مثلآ فوق اور تحت اور یمین اور شمال یے سب چیزیں حادث ہیں نسبت کے بدلنے سے ان میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے - ایک شئے کسی اعتبار سے فوق ہے اور کسی کے اعتبار سے تحت ہے پس یہ کیسے ممکن ہے کہ حق تعالی ازل میں کسی جہت یا سمت کے ساتھ مخصوص ہو - جہت اور سمت حادث کے لئے ہوتی ہے ازلی کے لئے نہیں ہوتی پس ثابت ہوا کہ الله تعالی کے لئے نہ کوئی مکان ہے اور نہ کوئی جہت ہے اور نہ کوئی سمت ہے مکان اور جہت اور سمت تو محدود اور متناہی کے لئے ہوتی ہے اور الله تعالی کے لئے نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی نہایت ہے.


    ایں جہاں محدود آں خود بیحد است


    اس کی ہستی سمت اور جہت اور مکان اور زمان کی حدود اور قیود سے پاک ہےلہذا خدا تعالی کے متعلق یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ وہ کہاں ہے اور کب سے ہے اس لئے کہ وہ مکان اور زمان سب سے سابق اور مقدم ہے - مکان اور زمان سب اسی کی مخلوق ہے ، وہ تو لامکان اور لازمان ہے - اس کی ہستی مکان اور زمان پر موقوف نہیں بلکہ زمان اور مکان کی ہستی اس کے ارادہ پر موقوف ہے - مشبہ اور مجسمہ یہ کہتے ہیں کہ الله تعالی کے لئے جہت ہے اور جہت فوق میں ہے اور الله تعالی عرش پر متمکن ہے "سبحانه وتعالی عما یصفون".


    نمبر {09} صفات متشابہات جیسے استواء علی العرش وغیرہ کی تحقیق


    علماء اہل سنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ براہین قطعیہ اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الله تعالی مخلوق کی مشابہت اور مماثلت سے اور کمیت اور کیفیت اور مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے لہذا جن آیات اور احادیث میں حق جل شانہ کی ہستی کو آسمان یا عرش کی طرف منسوب کیا ہے ان کا یہ مطلب نہیں کہ آسمان اور عرش الله کا مکان اور مستقر ہے بلکہ ان سے الله جل شانہ کی شان رفعت اور علو اور عظمت اور کبریائی کو بیان کرنا مقصود ہے اس لئے کہ مخلوقات میں سب سے بلند عرش عظیم ہے - ورنہ عرش سے لے کر فرش تک سارا عالم اس کے سامنے ایک ذرہ بے مقدار ہے وہ اس ذرہ میں کیسے سماسکتا ہے - سب اسی کی مخلوق ہے اور مخلوق اور حادث کی کیا مجال کہ خالق قدیم کا مکان اور جائے قرار بن سکے.


    پر تو حسنت نہ گنجد در زمین و آسمان


    در حریم سینہ حیرانم کہ چوں جاکردہ


    خدا تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ عرش پر یا کسی جسم پر متمکن اور مستقر ہو جس طرح بادشاہ کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا ہے - خدا تعالی کی نسبت ایسا کہنا جائز نہیں اس لئے کہ خدا تعالی کوئی مقداری نہیں کیونکہ کسی جسم پر وہی چیز متمکن ہوسکتی ہے کہ جو ذی مقدار ہو اور اس سے بڑی ہو یا چھوٹی ہو یا اس کے برابر ہو اور یہ کمی بیشی بارگاہ خداوندی میں محال ہے - عقلآ یہ ممکن نہیں کہ کوئی جسم مخلوق جیسے مثلآ عرش کہ وہ اپنے خالق کو اپنے اوپر اٹھاسکے اور پھر فرشتے اس جسم کو [عرش کو] اپنے کاندھوں پر اٹھائیں کما قال تعالی"ویحمل عرش ربك فوقهم يومئذ ثمانية" ترجمہ "اور آپ کے پروردگا کے عرش کو اس روز آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے" سورۃ الحاقہ : آیت 17 پارہ 19.


    عقلآ یہ بات محال ہے کہ کوئی مخلوق فرشتہ ہو یا جسم ہو وہ اپنے خالق کو اپنے کاندھوں پر اٹھاسکے - خالق کی قدرت کو تھامے ہوئے ہے- مخلوق میں قدرت نہیں کہ وہ خالق کو اٹھاسکے اور تھام سکے اور جن آیات میں الله تعالی کی شان علو اور فوقیت کا ذکر آیا ہے ان سے علو مرتبہ اور فوقیت قہر و غلبہ مراد ہے اور مکانی فوقیت مراد نہیں ، کما قال تعالی "وھو القاھر فوق عبادہ" - "وھو العلی الکبیر" "وله المثل الاعلی اور جیسے "‎وفوق کل ذی علم علیم" اور انا فوقھم قاھرون" میں فوقیت مرتبہ اور فوقیت قہر اور غلبہ مراد ہے - اور جن آیات اور احادیث میں الله تعالی کے قرب اور بعد کا ذکر آیا ہے - اس سے مسافت کے اعتبار سے قرب اور بعد مراد نہیں ، بلکہ معنوی قرب اور بعد مراد ہے اور نزول خداوندی سے نزول رحمت یا خدا تعالی کا بندوں کی طرف متوجہ ہونا مراد ہے ،[معاذ الله] خدا کا بلندی سے پستی کی طرف اترنا مراد نہیں اور دعاء کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانا اس لئے نہیں کہ آسمان ، الله تعالی کا مکان ہے بلکہ اس لئے ہے کہ آسمان قبلہ دعاء ہے جیسا کہ خانہ کعبہ قبلہ نماز ہے - خانہ کعبہ کو جو بیت الله کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ الله تعالی کی عبادت کا گھر ہے اور [معاذ الله] یہ مطلب نہیں کہ خانہ کعبہ الله تعالی کا مکان ہے اور اس کے رہنے کی جگہ ہے - سمت قبلہ عابدین کی عبادت کے لئے مقرر کی گئی - [معاذالله] معبود کی سمت نہیں پس جیسے کعبہ نماز کا قبلہ ہے ویسے ہی آسمان دعاء کا قبلہ ہے اور دونوں صورتوں میں الله تعالی اس سے منزہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر یا آسمان کے اندر متمکن ہو ، خلاصہ کلام یہ کہ ان اوصاف کو اوصاف تسبیحی کہتے ہیں اور اوصاف تنزیہی اور اوصاف جلال بھیکہتے ہیں اور علم و قدرت اور سمیع و بصر جیسے اوصاف کو اوصاف تحمیدی اوراوصاف جمال کہتے ہیں.




    نمبر {10} کیا عرش خدا سے بڑا ہے؟
    رئیس المناظرین ، متکلم اسلام ، وکیل احناف ، ترجمان اہلسنت حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ میں مکہ سے مدینہ جا رہا تھا ۔ راستہ میں غیرمقلدین شرارتیں کر رہے تھے ، بس میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ روضہ پاک کی زیارت کی نیت نہ کرنا مسجد نبوی کی نیت کرنا ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا : یہ آپ کو گمراہ کررہے ہیں آپ روضہ پاک کی ہی نیت کریں مسجد میں تو جانا ہی جانا ہے ۔ وہ حضرات مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله کی طرف دیکھنے لگے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا کہ لوگ مکہ سے مدینہ کیوں جاتے ہیں ایک لاکھ کا ثواب چھوڑ کر پچاس ہزار کا ثواب لینے کے لئے؟ یہ کوئی عقل مندی تو نہیں کہ اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کو حاصل کیا جائے وہ بھی اتنا لمبا سفر کرکے اور اتنے پیسے لگا کر ، یہ اتنا نقصان کیوں کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ وہاں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جو بیت الله میں بھی نہیں ہے ، جس کی شان بیت الله سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ وہ خاک پاک جو جسد اطہر سے مس کر رہی ہے وہ درجہ میں عرش اعظم اور بیت الله دونوں سے بڑھ کر ہے ۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے فرمایا :کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا سے مصطفی کے مکان کو بلند کردیا ہے اس لئے کہ خدا لامکان ہے ، اگر خدا کا مکان ہوتا تو ہم اسے مصطفیٰ کے مکان سے اعلیٰ سمجھتے ، لیکن چونکہ خدا لامکان ہے اس لئے جتنے مکان والے ہیں ان میں سب سے زیادہ شان مصطفی کے مکان کی ہے ۔ ایک غیرمقلد جلدی سے بولا "الرحمٰن علی العرش استویٰ" الله کا بھی مکان ہے عرش اعظم - حضرت محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب رحمه الله نے جواب ميں فرمایا : آپ کو مکان ، مکین کا معنی بھی آتا ہے؟ مکان ہمیشہ مکین سے بڑا ہوتا ہے اسی لئے تو آدمی اس کے اندر بیٹھتا ہے ۔ کیا عرش خدا تعالیٰ سے بڑا ہے اور وہ خدا کو گھیرے ہوئے ہے؟ غیرمقلد نے کہا : بے شک عرش بڑا ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا : پھر تو نماز کے شروع میں ’’الله اکبر‘‘ کیوں کہتا ہے ’’العرش اکبر‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ جب تو الله اکبر سے نماز شروع کرتا ہے پھر تو بڑا بے ایمان ہے کہ تجھے الله سے بھی بڑی چیز مل گئی ہے پھر بھی تو الله اکبر ہی کہتا ہے ۔ وہ شرمندہ ہو کر خاموش ہو گیا
     
    Last edited: ‏دسمبر 06، 2014
  6. ‏دسمبر 06، 2014 #16
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    تفویض کا معنی ہے کہ اس لفظ کا ترجمہ عربی میں ہی کرنا ہے اس کا کوئی مو=فھوم نہیں بیان کرنا اللہ کیلئے ید کہنا ہے ہاتھ نہیں کہنا یدان ید کی جمع ہے ہاتھ کو کہتے ہیں
     
  7. ‏دسمبر 06، 2014 #17
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    کہتے ہیں کہ نائی دیگ کے چند چاول چکھ کے بتا دیتا ہے کہ چاول پک گئے کہ نہیں
    اس کی تفیسر طبری میں ایک بھی صحیح تو کجا حسن درجہ کی سند بھی نہیں ہے ابن جریر رحمہ اللہ نے اگلی آیت کا بیان شروع کرنے سے قبل لکھا ہے و ذکر صیغہ مجھول کے ساتھ
    بہر کیف جسے آل دیوبند سند صحیح سمجھتے ہیں ان سے گزارش کیجیئے کہ اس کا تعین کریں کہ وہاں ایک سے زائد سندیں ہیں لیکن ہیں سب ضعیف ہیں
    قال مطرف سے پہلے کہ راوی ذکر کیوں نہیں کیئے اس لیئے کہ وہاں چور بیٹھا تھا
    محمد بن علی الجبلی اور جامع بن سوادہ دونوں پر ہی جرح ہے اول الذکر کے بارے تو کہا گیا کہ وہ رافضی تھا شیعہ نہیں رافضی ثانی الذخر کے بارے کہا کہ لگتا ہے اس نے یہ روایت خود گھڑی ضعیف ہیں دونوں
    التمھید کا لنک http://library.islamweb.net/hadith/...rtno=0&hflag=&pid=347337&bk_no=692&startno=92
    یہ کس کو کس لیئے حوالہ دیا جا رہا ہے ؟؟؟ العرف الشذی بیروت سے چھپے تو حجت ہوتی ہے ؟؟؟
    یہ القلم نہیں الذاریات ہے ابن عباس رضی اللہ عنھما تک سند صحیح نہیں
    اگرچہ ہمیں بھی یہاں اید سے مراد قوت لینے پر اعتراض نہیں ہے کیونکہ ہر جگہ اید کا معنی ہاتھ نہیں ہوتا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 06، 2014 #18
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

     
  9. ‏دسمبر 06، 2014 #19
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    احادیث
    الحدیث : امام ابو حنیفہ رح روایت کرتے ہیں عَطَاء رح سے کہ نبی کے کی صحابہ نے ان سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالله بن رواحہ کی ایک باندی تھی جو ان کی بکریوں کی حفاظت و دیکھ بھال کیا کرتی تھی. انہیں نے اسے ایک خاص بکری پر توجہ دینے کا حکم دے رکھا تھا، چناچہ وہ بندی اس بکری کا زیادہ خیال رکھتی تھی، جس کی وجہ سے وہ بکری خوب صحت مند ہوگی.
    ایک دیں وہ بندی دوسری بکریوں کی دیکھ بھال میں مشغول تھی کہ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اسی بکری کو اچک کر لے گیا اور اسے مار ڈالا، جب حضرت عبدالله گھر واپس آۓ تو بکری کو نہ پایا (بندی سے پوچھا) اس نے سارا واقعہ سنا دیا، انہوں نے غصہ میں آکر اس کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ماردیا، بعد میں انھیں اس پر ندامت ہوئی، اور انہوں نے رسول الله
    سے اس واقعہ کا ذکر کیا، نبی کو یہ بات بہت گراں گزری، آپ نے فرمایا: تم نے ایک مومن عورت کے چہرے پر مارا؟ انہوں نے کہا: یہ تو حبشن ہے، اس "ایمان" سے متعلق کچھ نہیں پتہ (وہ مومنہ نہیں ہے).

    نبی نے انھیں بلوایا اور اس سے پوچھا کہ: الله کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں. پھر پوچھا کہ: میں کون ہوں؟ اس نے کہا کہ: الله کے پیغمبر. رسول الله نے فرمایا: یہ مومنہ ہے اس لئے تم اسے آزاد کردو. چناچہ انہوں نے اسے آزاد کردیا.



    توضیح: اس حدیث پاک میں ظاہری ایمان کے لئے زبانی اقرار ، رسالت سے پہلے توحید کا ثبوت، زمینی خداؤں (بتوں) کا انکار آسمانی حقیقی واحد معبود سے کرانا مقصود تھا ، ورنہ الله تعالیٰ کی ذات و تجلیات تو ہر جگہ ہے ، آسمان میں بھی ہے ، اوپر عرش پر بھی ہے ، ہمارے ساتھ بھی ہے بلکہ ہماری شہہ رگ سے بھی قریب ہے.


    ١) الله تعالیٰ عرش پر ہے یا آسمان پر؟؟؟

    ٢) کیا عرش و آسمان میں فرق نہیں ؟؟؟
    ٣) کیا عرش ساتوں آسمانوں سے اوپر نہیں ؟؟؟


    1... چناں چہ امام بیہقی رحمہ الله تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ ( کتاب الاسماء والصفات للبہیقی، ص:422)
    2... حافظ ابن حجر رحمہ الله تعالیٰ اس کے اضطراب کی نشان دہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”وفی اللفظ مخالفة کثیرة“ کہ متن حدیث کے لفظ میں بکثرت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ( التلخیص الحبیر:443/3)
    3... امام بزار رحمہ الله نے بھی اس حدیث کے اضطراب پر نشان دہی کرتے ہوئے یہی فرمایا کہ اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کیا گیا ہے ۔ ( کشف الأستار:14/1)
    4... علامہ زاہد الکوثری رحمہ الله تعالیٰ نے بھی اس حدیث پر اضطراب کا حکم لگایا ہے ۔ ( ھامش الأسما والصفات:344)
    5... نیز حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کتنے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، لیکن کسی سے بھی ”أین“ کا سوال منقول نہیں ہے، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس سوال کا ایمان کی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ فقط باندی کا امتحان لینا مقصود تھا کہ مشرک ہے یا موحدہ؟( شرح السیوطی علی مسلم:217/2، رقم الحدیث:537)

    خلاصہ یہ کہ ایک معلول اور شاذ روایت سے عقیدے کا استنباط نہیں کیا جاسکتا اور ایسی شاذ روایت کو بنیاد بنا کرا شاعرہ کو گم راہ او ربدعتی کہنا تو سراسر جہالت ہے یا تعصب۔ بالفرض اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا تو پھر ”أین“ کا سوال ذات باری تعالی کے مکان کے لیے نہیں، بلکہ منزلت اور مرتبہ کے لیے ہو گا، یعنی ہمارے الله کامرتبہ کیا ہے ؟ یا یہ کہ الله تعالیٰ کے احکام وأوامر کا مکان کون سا ہے؟ (کذا فی شر ح النووی علی مسلم،298/2، رقم الحدیث:836)


    حدثنا عبد بن حميد وغير واحد المعنى واحد قالوا حدثنا يونس بن محمد حدثنا شيبان بن عبد الرحمن عن قتادة قال حدث الحسن عن أبي هريرةقال بينما نبي الله صلى الله عليه وسلم جالس وأصحابه إذ أتى عليهم سحاب فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم هل تدرون ما هذا فقالوا الله ورسوله أعلم قال هذا العنان هذه روايا الأرض يسوقه الله تبارك وتعالى إلى قوم لا يشكرونه ولا يدعونه قال هل تدرون ما فوقكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الرقيع سقف محفوظ وموج مكفوف ثم قال هل تدرون كم بينكم وبينها قالوا الله ورسوله أعلم قال بينكم وبينها مسيرة خمس مائة سنة ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك سماءين ما بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع سماوات ما بين كل سماءين كما بين السماء والأرض ثم قال هل تدرون ما فوق ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن فوق ذلك العرش وبينه وبين السماء بعد ما بين السماءين ثم قال هل تدرون ما الذي تحتكم قالوا الله ورسوله أعلم قال فإنها الأرض ثم قال هل تدرون ما الذي تحت ذلك قالوا الله ورسوله أعلم قال فإن تحتها أرضا أخرى بينهما مسيرة خمس مائة سنة حتى عد سبع أرضين بين كل أرضين مسيرة خمس مائة سنة ثم قال والذي نفس محمد بيده لو أنكم دليتم رجلا بحبل إلى الأرض السفلى لهبط على الله ثم قرأ هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم.
    [سنن الترمذي » كتاب تفسير القرآن » باب ومن سورة الحديد » رقم الحديث: 3298]


    ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ بادل آگئے۔ نبی اکرم نے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ بادل زمین کو سیراب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں کی طرف ہانکتے ہیں جو اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے پکارتے نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے۔ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ رقیع یعنی اونچی چھت ہے جس سے حفاظت کی گئی۔ اور یہ موج کی طرح ہے جو بغیر ستون کے ہے۔ پھر پوچھا کیا جاتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے اس کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس سے اوپر دو آسمان ہیں جنکے درمیان پانچ سو برس کا فاصلہ ہے۔ پھر آپ نے اسی طرح سات آسمان گنوائے اور بتایا ہر دو آسمانوں کے درمان آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلے کے برابر فاصلہ ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کے اوپر عرش ہے اور وہ آسمان سے اتنا دور ہے جتنا زمین سے آسمان۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے نیچے کیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہیں آپ نے فرمایا یہ زمین ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے اس کے نیچے کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے پہلی زمین اور دوسری زمین کے درمیان پانچ سو برس کی مسافت ہے۔ پھر پوچھا آپ نے سات زمینیں گنوائیں اور بتایا کہ ہر دو کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم لوگ نیچے زمین کی طرف رسی پھینکو گے تو وہ اللہ تک پہنچے گی اور پھر یہ آیت پڑہی ہو (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ - الحدید : 3) (وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔)
    [جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1246, قرآن کی تفسیر کا بیان : سورت حدید کی تفسیر]
    تخريج الحديث:

    1) الراوي: أبو هريرة المحدث: ابن العربي - المصدر: عارضة الأحوذي - الصفحة أو الرقم: 6/356
    2) الراوي: أبو هريرة المحدث:
    الجورقاني - المصدر: الأباطيل والمناكير - الصفحة أو الرقم: 1/205
    3) الجامع لأحكام القرآن » سورة البقرة » قوله تعالى هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا ثم استوى إلى السماء فسواهن سبع سماوات وهو بكل شيء عليم » الجزء الأول » ص: 247


    حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : ثنا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : الْتَقَى أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَلائِكَةِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ قَالَ أَحَدُهُمْ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ ، وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الأَرْضِ السَّابِعَةِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَشْرِقِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ . وقَالَ الآخَرُ : أَرْسَلَنِي رَبِّي مِنَ الْمَغْرِبِ وَتَرَكْتُهُ ثَمَّ .
    [جامع البيان عن تأويل آي القرآن » تفسير سورة الطَّلاقِرقم الحديث: 31949]
    [تفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني » سُورَةِ الطَّلاقِرقم الحديث: 3155]
    [تفسير ابن كثير » تفسير سورة الحديد؛ ص: 8 ]


    ترجمہ : امام ابن جریر آیت (وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنّ .... 65-الطلاق:12) کی تفسیر میں حضرت قتادہ کا قول لائے ہیں کہ آسمان و زمین کے درمیان چار فرشتوں کی ملاقات ہوئی۔ آپس میں پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو ایک نے کہا ساتویں آسمان سے مجھے اللہ عزوجل نے بھیجا ہے اور میں نے اللہ کو وہیں چھوڑا ہے۔ دوسرے نے کہا ساتویں زمین سے مجھے اللہ نے بھیجا تھا اور اللہ وہیں تھا، تیسرے نے کہا میرے رب نے مجھے مشرق سے بھیجا ہے جہاں وہ تھا چوتھے نے کہا مجھے مغرب سے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔



    (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ، قَالَ : وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .[صحيح مسلم » كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَار ... » بَاب اسْتِحْبَابِ خَفْضِ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ ...رقم الحديث: 4879]
    ترجمہ : حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کے ساتھ تھے صحابہ نے بلند آواز سے اَللّٰهُ أَکْبَرُ کہنا شروع کردیا تو نبی نے فرمایا اے لوگوں اپنی جانوں پر ترس کرو تم کسی غائب یا بہرے کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ تم سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے اور میں اس وقت آپ کے پیچھے کھڑا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا اے عبداللہ بن قیس کیا تمہیں جنت کے خزانوں میں سے خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہو۔

    (حديث قدسي) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ ؟ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي ، قَالَ يَا رَبِّ : كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ " .
    [صحيح مسلم » كِتَاب الْبِرِّ ، وَالصِّلَةِ ، وَالْآدَابِ » بَاب فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ ... رقم الحديث: 4667]
    ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالیمن ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا اور حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا. اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تونے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔

    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالا : ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنانُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ إِيمَانِ الْمَرْءِ : أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ " .
    [شعب الإيمان للبيهقي » الْحَادِي عَشَرَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ وَهُوَ بَابٌ ...، رقم الحديث: 711(740 ؛
    الحكم: إسناده حسن رجاله ثقات عدا نعيم بن حماد الخزاعي وهو صدوق يخطئ كثيرا]

    ترجمہ : حضرت عبادہ بن الصامت نے فرمایا ، (کہ) فرمایا رسول الله نے : (کہ) بیشک افضل ایمان انسان کا یہ ہے کہ وہ جان لے (کہ) بیشک الله اس کے ساتھ ہے، جہاں بھی وہ ہو؛

    [تفسیر ابن کثیر (مترجم) : 5 /317]
     
  10. ‏دسمبر 06، 2014 #20
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں