1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صفات متشابہات پر دیوبند کانطریہ

'توحید اسماء وصفات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏دسمبر 05، 2014۔

  1. ‏دسمبر 06، 2014 #21
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    @
    talha khan


    میرا آپ سے سادہ سا سوال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج ہوئی تو وہ کہا گئے تھے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  2. ‏دسمبر 06، 2014 #22
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    آپ میرےسے سوال نہ کریں۔کیونکہ میں دیوبندی نہیں ہوں۔
     
  3. ‏دسمبر 06، 2014 #23
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بھائی پھر بھی آپ بتا دے اس سوال کا جواب اس میں کوئی حرج نہیں
     
  4. ‏دسمبر 06، 2014 #24
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا اللہ تعالی جنت کے اوپر یا اس کے اندر موجود ہے ؟

    اور کیا یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالی سارے جہان اور کائنات سے بڑا ہے یہ عقیدے کا حصہ ہے؟

    الحمدللہ

    ہم نے یہ سوال فضیلۃ الشیخ عبدالرحمان البراک حفظہ اللہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے مندرجہ ذیل جواب دیا :

    اس اللہ تعالی کی تعریف ہے جو کہ سب سے بڑا اور بلند وبالا ہے اللہ تعالی عظیم اور پاک ہے اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور اللہ تعالی ہی بڑا ہے اور ہمارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور صحابہ پر اللہ تعالی رحمتیں نازل فرمآئے ۔ اما بعد !

    جس پر ایمان لانا واجب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بلند واعلی ہے اور عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنی کتاب میں اپنے متعلق بھی یہی بتایا اور اس کی خبر دی ہے تو وہ سبحانہ وتعالی ہر چیز کے اوپر ہے ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے ( تو ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں )

    اور اسی طرح یہ ایمان لانا واجب ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز سے بڑا ہے اور وہ عظیم ہے جس سے بڑا کوئی نہیں اس کی عظمت اور قدرت کا کمال ہی ہے کہ وہ قیامت کے دن آسمان وزمین کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے گا ۔

    جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے اس فرمان میں ذکر کیا ہے :

    ( اور ان لوگوں نے اللہ تعالی کی قدر اس طرح نہیں کی جس طرح کرنی چاہۓ تھی قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئےہوں گے وہ پاک اور بلند وبالا ہے اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بناتے ہیں ) الزمر / 67

    یہ جاننا واجب اور ضروری ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی اپنے کمال علو اور کمال عظمت کے ساتھ اپنی مخلوق میں سے کسی میں حلول کرے اس لۓ یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ تعالی جنت میں ہے بلکہ وہ تو عرش پر مستوی ہے جو کہ فردوس کی چھت ہے اور فردوس جنت کا سب سے اعلی اور اونچا درجہ ہے ۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    ( جب تم اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرو تو جنت الفردوس مانگا کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اونچا اور درمیان ہے اور اس کی چھت رحمان کا عرش ہے )

    اور کسی مسلمان کے لۓ یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالی کی ذات میں سوچتا پھرے اور یا پھر اس کی عظمت کا احاطہ کا خیال کرے ، کیونکہ انسان کی عقل اس بات سے عاجز ہے کہ وہ رب تعالی کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی کیفیت کی حقیقت کی معرفت پا سکے ۔

    جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے :

    جب امام مالک رحمہ اللہ سے اللہ تعالی کے عرش پر استواء کی کیفیت کا سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :

    ( استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے ) .


    الشیخ عبدالرحمان البراک

    http://islamqa.info/ur/9564
     
  5. ‏دسمبر 06، 2014 #25
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ابن
    ساتویں آسمان پر
     
  6. ‏دسمبر 06، 2014 #26
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    بھائی جان ابتدائی جواب پر کوئی شبہ باقی ہے یا تسلی ہو گئی تو آگے چلیں؟؟؟
     
  7. ‏دسمبر 06، 2014 #27
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    تسلی ہو گئ ہے
     
  8. ‏دسمبر 08، 2014 #28
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    یہ بات بھی پہلی باتوں کی مانند ثابت نہیں آپ نے نقل کیا احمد بن حنبل ان احمد بن حنبل تاول اوپر ترجمہ کیا احمد بن حنبل کے بھتیجے سے روایت ہے
    بھتیجے کا نام حنبل بن اسحاق ہے احمد بن حنبل نہیں اور حنبل کے بارے امام ذھبی کہتے ہیں یتفرد و یغرب امام احمد سے اکیلا ہی غیر معروف روایات ذکر کرتا ہے
    http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?idfrom=2435&idto=2435&bk_no=60&ID=2298
    لہذا حنبل کی روایت یہاں درست نہیں کیونکہ امام احمد رحمہ اللہ کا منھج صفات میں معروف ہے وہ تاول نہیں کرتے تھے
    دوسری بات امام بیھقی کی اصل کتاب پیش کی جائے جہاں سے ابن کثیر نے نقل کی ہے روایت
    رہا یہ کہنا
    ایسے ہی
    تو عرض ہے کہ جناب ھمیں تو لوگ طعنے دے دے کے تھک گئے نرے جاھل بدھو نہ فقہ کا پتا نہ اصول فقہ کا نہ منطق کا نہ نحو کا نہ ،،،،،،،،،،
    بس آپ ذرا تاویل اور تحریف کی تعریف کر دیں ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ ظاھر اللفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟؟؟
    تاویل کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ لدلیل دل علیہ او قرینۃ (کسی دلیل یا قرینہ کی بناء پر لفظ کے ظاھری معنی کی بجائے دوسرا معنی اختیار کرنا)
    تحریف کہتے ہیں صرف اللفظ عن ظاھرہ بغیر دلیل (بغیر کسی دلیل کے ظاھری معنی سے اعراض کرنا )
    اور ظاھر اللفظ کہتے ہیں ما یتبادر الی الذھن (وہ معنی جس کا سب سے پہلے ذھن میں تصور پیدا ہو)
    اب دیکھیں کہ پہلی آیت میں فورا ذھن میں کیا آتا ہے (ان سے پہلے لوگوں نے بھی فریب کیا تو اللہ آ گیا ان کے منصوبوں کی عمارتوں کی بنیادوں میں )
    یہاں متبادر الی الذھن معنی ہی یہ ہے کہ اللہ کا حکم آیا
    اور متبادر الی الذھن معنی ظاھر اللفظ ہے جبکہ تاویل کہتے ہیں ظاھر اللفظ کی بجائے کوئی اور معنی لینا
    لہذا یہاں پر تاویل نہیں ہے تاویل تب ہو گی جب ھم متبادر الی الذھن معنی مراد نہ لیں گے
    ایسا ہی دوسری آیت میں ہے اور اشاعرہ جو حرکت کرتے ہیں وہ تحریف ہوتی ہے جسے تاویل کا نام دے دیا جاتا ہے یاد رہے تاویل کے ایک سے زائد معنی ہیں
    اگر یہاں تک کوئی شبہ ہے تو بتائیے نہیں تو آگے چلتے ہیں
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 08، 2014 #29
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جزاك الله
     
  10. ‏دسمبر 08، 2014 #30
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    دوسری بات امام بیھقی کی اصل کتاب پیش کی جائے جہاں سے ابن کثیر نے نقل کی ہے روایت
    ر
    اس بات کی و ضاحت کریں کے ابن کثیر نے کہا سے نکل کیا ہے۔اور لیا نے امام بیھقی کی اٖصل کتاب نہیں ہے وضاحت کریں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں