1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صوفیاء کا سماع

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏نومبر 06، 2014۔

  1. ‏نومبر 06، 2014 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    الکواکب الدریہ --- محمد عبد الرؤف المناوی ---


    عبد الله بن احمد بن حنبل رحم الله نقل کرتے ہیں کہ احمد بن حنبل رحم الله کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ یہ صوفی حضرات علم حاصل کئے بغیر توکل کے نام پر مساجد میں پڑے رہتے ہیں ، تو میں نے آپ کو یہ جواب دیتے ہوۓ سنا کہ:


    ترجمہ : علم ہی نے ان کو مساجد میں لا بٹھایا ہے ، معترض نے پھر کہا: ان کی ہمتیں اور حوصلے پست ہوتے ہیں ، تو آپ نے جواب دیا کہ: جس کے اندر توکل کی صفت ہو میرے علم میں اس سے بڑھ کر قابل قدر کوئی دوسرا نہیں ہے ، اس نے پھر عرض کیا: اگر یہ لوگ سماع سن لیں تو کھڑے ہو کر رقص شروع کر دیں ، آپ نے فرمایا: ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ اپنے رب سے خوشی حاصل کرتے ہیں -

    (الکواکب الدریہ ، جلد ١ ، قسم ٢ ، صفحہ ٥٢١ ، دار صادر - بیروت)


    sufi ka simah ahmed bn humble.jpg
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 12، 2014 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام اہل سنت جناب احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی
    کے نام پر یہ بالکل جھوٹی حکایت و روایت بیان کی گئی ہے ۔ یہ خالص افتراء ہے ۔
    علامہ عبد الروف مناوی کی کتاب ’’الکواکب الدریہ ‘‘سے نقل میں بھی خیانت کی گئی ہے ۔
    علامہ مناوی جو دسویں صدی ہجری کے عالم ہیں ۔انہوں نے اپنی کتاب میں اس کی سند اس طرح نقل کی :
    وأخرج السلفي في الطيوريات عن العتيقي عن الطرسوسي عن الطبراني عن عبد الله بن أحمد----------
    اس طرح سند سے تین۳ نام ۔۔الطیوریات ۔۔العتیقی ۔۔۔الطرسوسی ۔۔ چھپالئے گئے،،،
    الطیوریات ‘‘کا نام اس لیے چھپایا گیا ،کہ یہ دراصل اس کتاب کا نام ہے ،جس سے علامہ مناوی نے یہ روایت نقل کی تھی ، اگر اس کانام سامنے آتا تو روایت کی اسناد کی تحقیق کا ڈر تھا ،اس لئے اسے عمداً چھپادیا ۔
    اگلا نام ہے ۔۔الطرسوسی ۔یہ اصل میں ۔۔علي بن الحسن الصوفي الطرسوسی ۔ہے اسے چھپانے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آدمی روایتیں گھڑنے کا عادی تھا ،جیسا کہمیزان الاعتدال میں ذہبی نے بتایا ہے وہ کہتے ہیں :
    ((صوفي وضع حكاية عن الامام أحمد في تحسين أحوال الصوفية.رواه العتيقي )

    لہذا یہ روایت بالکل جھوٹی ہے ۔اور امام احمد ؒ پر بڑابہتان ہے۔
    ذیل میں ہم دونوں کتابوں ۔یعنی ’’الکواکب الدریہ ‘‘ اور ’’الطیوریات ‘‘ کے سکین پیش کرتے ہیں ،جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔
    وقت کی قلت کے سبب ترجمہ نہیں کیا ۔اگر کوئی بھائی مطالبہ کرے تو ان شاءاللہ وہ بھی ہوجائے گا۔

    الكواكب3.jpg
    الطيوريات.jpg
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 12، 2014 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    لولی آل ٹائم اور جواد آپ دونوں کو معلوم نہیں ائمہ اہل سنت امام احمد بن حنبل، امام بن تیمیہ، امام ابن القیم رحمہم اللہ سے کیا بعغض ہے جو ہر وقت ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ کوئی مثبت کام کریں اور ان حضرات کو چھوڑ کر اپنے اعمال کی فکر کریں۔ ان شاء اللہ یہ جہاں بھی ہوں گے، آپ لوگوں سے بہتر مقام میں ہوں گے۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 12، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ان شاء اللہ
     
  5. ‏نومبر 13، 2014 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم علوی صاحب-

    قرآن میں الله کا ارشاد ہے کہ :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۔مومنو! خدا سے ڈرو اور بات سیدھی کہا کرو-

    ‏ہمیں کسی امام سے کوئی بغض نہیں - ہم سب کا احترام کرتے ہیں -بات صرف اتنی ہے کہ جو بھی ہو چاہے عام اہل علم ہو یا کوئی امامت کے درجے پر فائز ہو - اگر اس کی بات قران و حدیث و سلف (صحابہ کرام) کے فہم کے مطابق نہیں ہو گی - تو وہ ہرگز قابل قبول نہیں ہو گی - اب چاہے امام ابن تمییہ رح ہوں امام ابن قیم رح ہوں، امام حنبل رح ہو یا امام ابو حنیفہ رح ہوں- اگر عقیدے میں ان کے باطل نظریات ہونگے تو کبھی ہمارے لئے حجت نہیں بن سکتے- ہان زیادہ سے زیادہ ان محترم ہستیوں کے بارے میں یہ حسن زن رکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے مرنے سے پہلے اپنے باطل نظریات سے الله کے حضورتوبہ کرلی ہو گی-(واللہ اعلم)

    لہذا اپنے اہل حدیث بھائیوں سے درخواست ہے کہ دوسروں کو غیر مقلدیت کا درس دینے سے پہلے اپنا محاسبہ بھی کرلیں کہ کہیں خود بھی تو تقلید کے جہالت میں ملوث نہیں -؟؟؟
     
  6. ‏نومبر 13، 2014 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ائمہ اہل سنت کے عقائد کو باطل کہنا ،خود باطل ہے ،(لا ريب فى بطلانه )
    اور ہم ان کا باطل ہونا اسی تھریڈ میں ثابت کرچکے ہیں ۔ذرا نظر اٹھا کر اوپر دیکھئے گا

    اور جس کی لیاقت یہ ہو کہ عربی تو درکنار ،اردو بھی صحیح نہ لکھ سکے وہ کیا ائمہ کرام کے عقائد کو باطل ثابت کرے گا ۔
    اورمیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ائمہ اہل سنت کے عقائد کے خلاف بولنے والے کو خود ۔کلمہ طیبہ کا معنی بھی نہیں آتا ۔
    اورجسے دعوی ہو ۔۔وہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرے ۔۔ان شاء اللہ ناقد کی حقیقت سامنے آجائے گی ۔
    کوٹھڑی کے اندر بیٹھ کر کاپی ،پیسٹ کرنے سے علم نہیں آتا ۔
    ائمہ کرام ؒ کےخلاف لکھنے اور بولنے والے کتنے آئے ۔آج ان کا نام ونشان نہیں،
    جبکہ ائمہ رحمہم اللہ کا علمی سرمایہ آج بھی منبر ومحراب سے لے کر درس ونصاب تک میں موجود ہے ۔
    امام احمد ؒ پر کوڑے برسانے والے کوکو ن جانتا ہے ؟؟
    جبکہ صدیوں سے محراب ومنبرسے امام صاحب کا عزم و حوصلہ اور صبر واستقامت بیان کرکے ۔۔رحمہ اللہ ۔۔پڑھا جاتا ہے ۔
    ان کی جمع کردہ مسنداحمد جس میں تقریباً تیس ہزار احادیث ہیں کی ہر حدیث کو پڑھنے والا ،پہلے یہ ضرور کہتا ہے
    (قال الامام أحمد حدثنا.......... )
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 13، 2014 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    تو آپ کی بات کا مطلب یہ ہے کہ -یہ آئمہ مسلمین غلطی و بھول چوک سے مبرا ہیں - جیسے انبیاء کرام معصوم ہیں اس طرح یہ آئمہ بھی معصوم ہیں ؟؟؟

    اگر یہی بات ہے تو ہمیں دیوبندیت ، حنفیت و شیعت پر بھی تنقید نہیں کرنی چاہیے - کہ ان کے آئمہ ان کے لئے معتبر ہیں - (انصاف کے تقاضے کے تحت)-
     
  8. ‏نومبر 13، 2014 #8
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ہمارے معاشروں میں اب بدقسمتی سے ایسے افراد کی تعداد کافی ہے جو عربی زبان اور اصول دین سے تو نابلد ہیں لیکن چند ایک کتابوں کا مطالعہ کر کے ائمہ دین کے علم وفضل کو چیلنج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے حضرات سے کبھی بھی توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی فاضل علوم اسلامیہ کے سامنے بیٹھ ان ائمہ دین کی لکھی ہوئی تحریر ہی صحیح طور سے پڑھ سکیں۔ ائمہ دین معصوم نہیں ہیں لیکن یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی غلطی واضح کر سکیں، نہ اہلیت میں نہ نیت میں۔

    یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے لوگوں پر تنقید کر کے اپنا قد اونچا کرنا چاہتے ہیں۔ سرسید احمد خان کو کسی نے کہا کہ میں بھی آپ کی طرح مشہور ہونا چاہتا ہوں تو انہوں نے جواب دیا: میرے پر تنقید شروع کر دو۔ یہ لوگ اپنے علم اور نیت دونوں میں اس اہل نہیں ہیں کہ سلف کے بارے کچھ کہہ سکیں۔ علم تو اس قابل نہیں کہ کسی ساتھ بیٹھ کر کوئی مکالمہ کر سکیں اور نیت تو ان کی حرکتوں سے واضح ہے کہ جیسے مکھی کا کام گند پر بیٹھنا اور جہاں بیٹھے گند پھیلانا ہوتا ہے تو بالکل اسی طرح ائمہ دین پر طعن وتشنیع کے رستے تلاش کرنا ان کی بنیادی سرگرمیوں میں شامل ہے۔

    یہ لوگ دنیا کی اصلاح کیا کریں، اپنے اس رویہ سے مزید لوگوں میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ جس رویے سے جنہیں وہ اپنا ہم مسلک سمجھتے ہیں، وہ بھی متفق نہ ہوں اور ان کا رد کر رہے ہوں، اس سے یہ دوسرے مکاتب فکر کی اصلاح کر لیں گے؟ کمال ہے؟ یہ اصلاح ہے ہی نہیں، صرف شیطان کا دھوکا ہے۔ اصلاح نہ تو ان لوگوں کا مقصود ہوتا ہے اور نہ ہی اصلاح کی اہلیت ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو بچپن میں گھر سے مناسب توجہ نہ ملنے کی وجہ سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور اس کا حل لاشعوری طور ایسی تنقیدوں کے ذریعے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی تنقید سے کسی کی اصلاح تو نہیں ہوتی لیکن ان کے اپنے تقوی کا خون ضرور ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو تو بس اپنی نیت کی اصلاح میں زندگی گزار دینی چاہیے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 13، 2014 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اہل علم کے عوام پر حقوق :

    علماء کرام کے عوام الناس پر بے شمار حقوق بروئے شریعت لازم ہوتے ہیں جن میں چند حقوق تو ایسے ہیں جن میں تمام مسلمان شامل ہیں اور اہل علم بدرجہ اولیٰ اس میں آئیں گے


    کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے

    ’’ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ‘

    ان میں سے ان پر سلام کرنا، ان کی غیبت سے خود کو بچانا،ان کی دعوت کو قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا، بیمار پرسی کرنا، وفات پر جنازہ میں شرکت کرنا وغیرہ اور چند حقوق ایسے ہیں جو اہل علم کیلئے خاص ہیں جن میں معروف میں ا ن کی اطاعت کرنا، ان کی باتوں کے خلاف چلنے سے گریز کرنا، اور اگر ان سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو اس باب میں انہیں معذور سمجھنا،


    سیدنا امیر المؤمنین جناب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عالم کے حقوق سے متعلق فرماتے ہیں :

    (من حق العالم عليك أن تسلم على القوم عامة، وتخصه دونهم بالتحية، وأن تجلس أمامه، ولا تشيرن عنده بيدك، ولا تغمزن بعيتيك، ولا تقولن قال فلان : خلافا لقوله، ولا تغتابن عنده أحدا، ولا تسار في مجلسه، ولا تأخذ بثوبه، ولا تلح عليه إذا كسل، ولا تعرض من طول صحبته فإنما هو بمنزلة النخلة تنتظر متى يسقط عليك منها شئ، وان المؤمن العالم لأعظم أجرا من الصائم القائم الغازي في سبيل الله، وإذا مات العالم انثلمت في الإسلام ثلمة لا يسدها شئ إلى يوم القيامة) (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي رحمه الله ج 1 ص199)

    آپ پر عالم کے حقوق میں سے یہ حق ہے کہ لوگوں پر عمومی سلام کرو اور عالم دین سے خصوصی طور پر تحیہ بھیجو، اس کے سامنے ادب سے بیٹھو، اس کی مجلس میں ہاتھوں سے اشارے نہ کرو، آنکھیں مت جھپکو، اس کے سامنے یہ مت کہو کہ فلاں یہ کہتا فلاں یہ کہتا ہے۔ تاکہ اس کی مخالفت نہ ہو، اس کے پاس کسی کی غیبت مت کرو، اس کی مجلس میں سرگوشیاں مت کرو، اس کے کپڑے مت کھینچو۔ اگر وہ باعث سستی کوئی چیز نہ دے تو اصرار مت کرو، اس کی صحبت سے مت اکتاؤ کیونکہ اس کی مثال کھجور کی ہے کچھ پتہ نہیں کہ کس وقت کوی کھجور آپ پر گر پڑے۔ ایک عالم دین مومن روزہ دار اور غازی سے بڑھ کر اجر پانے والا ہے جب عالم دین فوت ہونے سے اسلام میں ایسا زخم لگتا ہے جو تاقیامت مندمل نہ ہوگا۔

    لہٰذا اہل علم کی تحقیر سے بچنا، انہیں رسوا وذلیل کرنا، غیور اہل علم کی اطاعت کرنا ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔


    علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اہل علم سے متعلق فرماتے ہیں :

    (العلماء هم في الأرض بمنزلة النجوم في السماء بهم يهتدي الحيران في الظلماء، وحاجةُ الناس إليهم أعظمُ من حاجتهم إلى الطعام والشراب وطاعتهم أفرض عليهم من طاعة الأمهات والآباء بنص الكتاب قال تعالى : يا أيها الذين آمنوا أطيعوا لله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم ) (النساء : 59 )

    سیدنا عبد اللہ بن عباس سے ایک روایت میں اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور تابعین میں حسن بصری ابو العالیہ اور عطاء بن ابی رباح ضحاک اور مجاہد ( ایک روایت میں )فرماتے ہیں" أولو الأمر" سے مراد علماء کرام ہیں۔امام احمد سے بھی ایک روایت میں یہی مروی ہے۔ اور ابو ھریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ (ایک روایت میں ) اور زید بن اسلم اور سدی اور مقاتل :" هم الأمراء " اس سے مراد امراء ہیں اور امام احمد سے ایک روایت میں یہی منقول ہے۔

    حقیقۃ امراء کی اطاعت اس وقت ہوگی جب وہ علم کے مقتضی کے مطابق حکم دیں تو ان کی اطاعت علماء کی اطاعت کے تابع ہے، تو اطاعت معروف میں ہوگی جو بروئے علم واجب ہوتی ہے۔ تو جیسا کہ علماء کی اطاعت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے تابع ہے اسی طرح امراء کی اطاعت علماء کی اطاعت کے تابع ہے، اور جیساکہ اسلام کے قیام دونوں فریقوں یعنی علماء اور امراء کے ذریعہ ممکن ہوتاہے، اور تمام لوگ ان دونوں گروہوں کے تابع ہیں لہذا عالم انسانی کی اصلاح ان دونوں طبقوں کی اصلاح پر مبنی ہے اور اس کی تباہی اور فساد ان دونوں گروہوں کے فساد وتباہی پر مبنی ہے۔


    علماء کرام کے خصوصی حقوق میں سے تیسرا حق یہ ہے کہ :

    شرعی مسائل میں ان سے راہنمائی لیں اور پیچیدہ مسائل میں ان سے رجوع کریں۔


    فرمان باری تعالیٰ ہے :

    {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ } [النحل: 43]

    نیز فرمایا :

    {وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا}[النساء: 83 ]


    چوتھا حق :

    ان کی پیروی اور اقتدا کی جائے اور ان کا توقیر واحترام بجا لایا جائے۔

    علماء کرام کی عزت، احترام توقیر وتقدیر کا شرعا حکم دیا گیا ہے۔


    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

    وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کا ادب نہ کرے، ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے۔ اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے۔ ‘‘ (حاکم)


    اور فرمایا :

    اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ سفید ریش بوڑھے مسلمان اور حامل قرآن کا اکرام کیا جائے، ہاں اس میں غلو اور جفوت نہیں ہونی چاہئے، اور عدل کرنے والے سلطان کا اکرام کیا جائے۔ ‘‘ (ابوداود)


    سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک شعر میں فرماتے ہیں :

    ما الفضل إلا لأهل العلم إنهـــم على الهدى لمن استهدى أدلاء

    پانچواں حق :

    اہل علم کیلئے دعا کرنا اور ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے استغفار طلب کرنا۔

    رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

    وإن العالم ليستغفرُ له مَنْ فى السموات ومن فى الأرض حتى الحيتانُ فى الماء‘‘۔


    ایک مقام پر آپ نے فرمایا :

    من صنع إليكم معروفا فكافئوه فإن لم تجدوا ما تكافئونه به، فا دعوا له حتى تروا أنكم قد كافأتموه. رواه أبو دواد وغيره.


    تو علماء کرام جو معروف کرتے ہیں اس سے بڑھ کر کیا چیز ہوسکتی ہے۔


    چھٹا حق :

    اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور انہیں معذورسمجھا جائے۔

    وہ لوگ معصوم نہیں ہے


    پیارے پیغمبر نے فرمایا :

    کل بنی آدم خطاء وخير الخطائين التوابون۔‘‘

    ہو بنی آدم غلطی کرنے والا ہے اور سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو غلطی کرکے توبہ کرلتے ہیں۔
     
  10. ‏نومبر 13، 2014 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

    صحیح بخاری کتاب العلم باب :

    اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائےگا؟

    تشریح :

    پختہ عالم جودین کی پوری سمجھ بھی رکھتے ہوں اور احکام اسلام کے دقائق ومواقع کو بھی جانتے ہوں، ایسے پختہ دماغ علماءختم ہوجائیں گے اور سطحی لوگ مدعیان علم باقی رہ جائیں گے جوناسمجھی کی وجہ سے محض تقلید جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور ایسے لوگ اپنے غلط فتووں سے خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔ مولانا داؤد راز رحمہ اللہ)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں