1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صوفیا کا نظریہ وحدۃ الوجود مصنف/مقرر/مولف فضیلۃ.الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ

'وحدت الوجود' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اکتوبر 12، 2014۔

  1. ‏اکتوبر 12، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  2. ‏جنوری 07، 2015 #2
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    پھر اسماعیل دہلوی کو بھی مشرک کہو اس نے بھی تو کہا ہے کہ اگر جھ سے کوئی پوچھے کہ پتھر گھوڑا آدمی کیا خدا ہیں۔۔تو میں کہوں گا کہ یہ بجنسہ خدا ہیں۔(عبقات ص161)
     
  3. ‏جنوری 07، 2015 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    @اسحاق سلفی بھائی ذرا اس پوسٹ کی وضاحت کر دے
     
  4. ‏جنوری 07، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ بات اس وقت تک صرف ایک بہتان ہے ،جب تک دو چیزیں ثابت نہیں ہوتیں؛
    ایک تو یہ مذکورہ کتاب شاہ صاحب نے ہی لکھی ہے ۔
    دوسرا یہ کہ اس کا مطلوبہ صفحہ سکین کر کے لگایا جائے
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 07، 2015 #5
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

  6. ‏جنوری 07، 2015 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069



    ویب سائٹ کچھ تکنیکی وجوہات کی بناپر بند ہے۔ جلد کھولنےکی کوشش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ
    رکن کا نام
    خفیہ لفظ
    مجھے یاد رکھیے​
     
  7. ‏جنوری 09، 2015 #7
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    جناب اسحاق سلفی صاحب عبقات اسماعیل دہلوی ہی کی کتاب ہے (مقدمہ ایضاالحق ص 26)باقی آپ سکین کو روتے ہو مفتی حنیف قریشی نے تو پوری کتاب پیش کی تھی اس وقت تو طالب الرحمن کے رنگ ہی اڑ گئے تھے؟؟باقی انٹر نیٹ پر یہ کتاب ہے نہیں اور میرے سکینر کا مسئلہ ہے اگر کسی اور بھائی کے پاس ہے تو وہ لگا دے۔
     
  8. ‏جنوری 09، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میرے بھائی آپ اس کو اطمینان سے پڑھ لے تاکہ آپ کو پتا چل جائے کہ ھمارے لئے قرآن و سنت حجت ہے قرآن و سنت کے خلاف کسی کی بھی بات آ جائے ھم اس کی اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں نا کہ اس کو

    باقی جواب آپ کو @اسحاق سلفی بھائی ہی دے گے۔

    اہل حدیث کون ہیں اوران کے امتیازات وصفات کیا ہیں ؟

    اہل حدیث کون ہیں ؟

    [​IMG]

    الحمد للہ

    اہل حدیث کی اصطلاح ابتداہی سے اس گروہ کی پہچان رہی جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشراشاعت کا کام کرتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ رضي اللہ تعالی عنہم پرعمل کرتے جو کہ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائ اوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔

    اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان :
    ( ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجاۓ تووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا )
    صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1920 ) ۔

    بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی مقصودو مراد لیا ہے ۔

    اہل حدیث کے اوصاف میں آئمہ کرام نے بہت کچھ بیان کیا ہے جس میں کچھ کا بیان کیا جاتا ہے :

    1 - امام حاکم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کی بہت اچھی تفسیر اورشرح کی ہے جس میں یہ بیان کیا گيا کہ طائفہ منصورہ جوقیامت تک قائم رہے گا اوراسے کوئ بھی ذلیل نہیں کرسکے گا ، وہ اہل حدیث ہی ہيں ۔

    تواس تاویل کا ان لوگوں سے زیادہ کون حق دار ہے جو صالیحین کے طریقے پرچلیں اورسلف کے آثارکی اتباع کریں اوربدعتیوں اورسنت کے مخالفوں کوسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دبا کررکھیں اورانہیں ختم کردیں ۔ دیکھیں کتاب : معرفۃ علوم الحديث للحاکم نیسابوری ص ( 2 - 3 ) ۔

    2 - خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    اللہ تعالی نے انہیں ( اہل حدیث ) کوارکان شریعت بنایا اور ان کے ذریعہ سے ہرشنیع بدعت کی سرکوبی فرمائ‏ تویہ لوگ اللہ تعالی کی مخلوق میں اللہ تعالی کے امین ہیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم اوران کی امت کے درمیان واسطہ و رابطہ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کی حفاظت میں کوئ‏ دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ۔

    ان کی روشنی واضح اور ان کے فضائل پھیلے ہوۓ اوران کے اوصاف روز روشن کی طرح عیاں ہيں ، ان کا مسلک ومذھب واضح و ظاہر اور ان کے دلائل قاطع ہیں اہل حدیث کے علاوہ ہر ایک گروہ اپنی خواہشات کی پیچھے چلتا اور اپنی راۓ ہی بہترقرار دیتا ہے جس پراس کا انحصار ہوتا ہے ۔

    لیکن اہل حدیث یہ کام نہیں کرتے اس لیے کہ کتاب اللہ ان کا اسلحہ اورسنت نبویہ ان کی دلیل و حجت ہے اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا گروہ ہیں اوران کی طرف ہی ان کی نسبت ہے ۔

    وہ اھواء وخواہشا ت پرانحصار نہیں کرتے اورنہ ہی آراء کی طرف ان کا التفات ہے جوبھی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات بیان کی ان سے وہ قبول کی جاتی ہیں ، وہ حدیث کے امین اور اس پرعدل کرنے والے ہیں ۔

    اہل حدیث دین کے محافظ اوراسے کے دربان ہيں ، علم کے خزانے اورحامل ہیں ،جب کسی حدیث میں اختلاف پیدا ہوجاۓ تواہل حدیث کی طرف ہی رجوع ہوتا ہے اورجو وہ اس پرحکم لگا دیں وہ قبول ہوتااورقابل سماعت ہوتا ہے ۔

    ان میں فقیہ عالم بھی اوراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت کے امام بھی ، اورزھد میں یدطولی رکھنے والے بھی ، اورخصوصی فضیلت رکھنے والے بھی ، اورمتقن قاری بھی بہت اچھے خطیب بھی ، اوروہ جمہورعظیم بھی ہیں ان کا راستہ صراط مستقیم ہے ، اورہربدعتی ان کے اعتقاد سے مخالفت کرتا ہے اوران کے مذھب کے بغیر کامیابی اورسراٹھانا ممکن نہیں ۔

    جس نے ان کے خلاف سازش کی اللہ تعالی نے اسے نیست نابود کردیا ،

    جس نے ان سے دشمنی کی اللہ تعالی نے اسے ذلیل ورسوا کردیا ،

    جوانہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہيں دے سکتا ، جوانہیں چھوڑ کرعلیحدہ ہوا کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔

    اپنی دین کی احتیاط اورحفاظت کرنے والا ان کی راہنمائ کا فقیر ومحتاج ہے ، اوران کی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی آنکھیں تھک کرختم ہوجائيں گی ، اوراللہ تعالی ان کی مدد و نصرت کرنے پرقادر ہے ۔ دیکھیں کتاب : شرف اصحاب الحدیث ص ( 15 ) ۔

    3 – شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

    تواس سے یہ ظاہرہوا کہ فرقہ ناجیہ کے حقدارصرف اورصرف اہل حدیث و سنت ہی ہیں ، جن کے متبعین صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اورکسی اورکے لیے تعصب نہیں کرتے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واحوال کوبھی اہل حدیث ہی سب سے زيادہ جانتے اوراس کا علم رکھتے ہيں ، اوراحادیث صحیحہ اورضعیفہ کے درمیان بھی سب سے زيادو وہی تیمیز کرتے ہيں ، ان کے آئمہ میں فقہاء بھی ہیں تواحادیث کے معانی کی معرفت رکھنے والے بھی اوران احادیث کی تصدیق ،اورعمل کے ساتھ اتباع و پیروی کرنے والے بھی ، وہ محبت ان سے کرتے ہیں جواحادیث سے محبت کرتا ہے اورجواحادیث سے دشمنی کرے وہ اس کے دشمن ہيں ۔

    وہ کسی قول کو نہ تومنسوب ہی کرتے اورنہ ہی اس وقت تک اسے اصول دین بناتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو ، بلکہ وہ اپنے اعتقاد اور اعتماد کا اصل اسے ہی قرار دیتے ہیں جوکتاب وسنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لاۓ ۔

    اور جن مسا‏ئل میں لوگوں نے اختلاف کیا مثلا اسماءو صفات ، قدر ، وعید ، امربالمعروف والنھی عن المنکر ،وغیرہ کواللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاتے ہیں ، اورمجمل الفاظ جن میں لوگوں کا اختلاف ہے کی تفسیر کرتے ہیں ، جس کا معنی قران وسنت کےموافق ہو اسے ثابت کرتے اورجوکتاب وسنت کے مخالف ہواسے باطل قرار دیتے ہیں ، اورنہ ہی وہ ظن خواہشات کی پیروی کرتے ہيں ، اس لیے کہ ظن کی اتباع جھالت اوراللہ کی ھدایت کے بغیر خواہشات کی پیروی ظلم ہے ۔
    مجموع الفتاوی ( 3/347 ) ۔

    اورجس بات کا ذکر ضروری ہے وہ یہ کہ ہر وہ شخص اہل حدیث ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پرعمل پیرا ہوتا اورحدیث کوہرقسم کے لوگوں پرمقدم رکھتا ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم و حافظ اورفقیہ یا عام مسلمان ہی کیوں نہ ہووہ حدیث کومقدم رکھتا ہوتو اسے اہل حدیث کہا جاۓ گا ۔


    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

    ہم اہل حدیث سے صرف حدیث لکھنے اور سننے اور روایت کرنے والا ہی مراد نہیں لیتے ، بلکہ ہر وہ شخص جس نے حدیث کی حفاظت کی اوراس پرعمل کیا اوراس کی ظاہری وباطنی معرفت حاصل کی ، اور اسی طرح اس کی ظاہری اورباطنی طور پر اتباع وپیروی کی تو وہ اہل حديث کہلا نے کا زيادہ حقدار ہے ۔اوراسی طرح قرآن بھی عمل کرنے والا ہی ہے ۔

    اوران کی سب سے کم خصلت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اورحدیث نبویہ سے محبت کرتے اوراس کی اور اس کے معانی کی تلاش میں رہتے اوراس کے موجبات پرعمل کرتے ہیں ۔ مجموع الفتاوی ( 4/ 95 ) ۔

    اوراس مسئلہ میں آئمہ کرام کی بحث و کلام توبہت زيادہ ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے اوپربیان کیے گۓ مراجع سے استفادہ کرسکتے ہیں ، اوراسی طرح مجموع الفتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی چوتھی جلد بھی فائد مند ہے ، اورسوال نمبر ( 206 ) اور ( 10554 ) کا جواب بھی ملاحظہ کریں ۔

    واللہ اعلم .

    الشیخ محمد صالح المنجد
     
  9. ‏جنوری 09، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,980
    موصول شکریہ جات:
    6,509
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  10. ‏جنوری 09، 2015 #10
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    جناب آپ چھوڑیں شوق سے مگر ایک عدد فتوی بھی لگائے نا جو ہم غریبوں پر لگاتے ہو کہو نہ اسماعیل ،شرک ہے؟؟؟اگر ہے ہمت تو لگائے فتوی جناب عامر یونس صاحب؟؟کیا یہی ہے آپ کی حق پرستی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں