1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ضابطہ ثبوتِ قراء ات کا تفصیلی جائزہ

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏جنوری 31، 2012۔

Tags:
  1. ‏جنوری 31، 2012 #11
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    لغت عرب کی کسی وجہ کی موافقت
    اس سے مقصود یہ ہے کہ ہر وہ قراء ت جو متواتر سند کے ساتھ منقول ہو اور مصحف عثمانی کے خط کے بھی موافق ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ لغت عرب میں بھی اس کی کوئی وجہ بنتی ہو، اگرچہ وہ زیادہ معروف نہ بھی ہو۔مزید برآں آئمہ لغت کی رائے پر ایک ثابت قراء ت کا رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ علماء لغت اور آئمہ نحو کلام عرب کے قواعد اور اصطلاحات کو بنیاد بناتے ہیں جس کا زیادہ تر انحصار کلام عرب کے شعر اور نثر پر ہے۔اس لیے ہم لغت عرب کی کسی بھی وجہ سے موافقت کی صورت میں قراء ت کو قبول کر لیں گے تاکہ عظیم مصدر، قرآن مجید میں ہر قسم کی لغزش سے محفوظ رہا جا سکے۔
    ٭ لیکن بعض آئمۂ لغت، جنہوں نے لغوی قواعد وضوابط کو تحریر کیا ہے ان پر یہ بات گراں گزری ہے کہ وہ ایسے حروف کو مانیں جو ان کے ذکر کردہ قواعد وضوابط سے مطابقت نہیں رکھتے اور اس وجہ سے انہوں نے ثابت شدہ مروی حروف کو باطل قرار دے دیاہے اور جمہور قراء کرام کے ضبط پر پر طعن کرتے ہوئے ان کی روایات پر اتہام کے مرتکب ہوئے ہیں۔آئمہ لغت پر تعجب ہے کہ انہوں نے جمہور قراء کی ایسی قراء ات میں غلطی کا امکان ظاہر کیا ہے جو قطعی اوریقینی ہیں اور تواتر کے ساتھ منقول ہیں، جبکہ انہوں نے اپنی ظنی اورفرضی رائے کو غلط قرار نہیں دیاجو ان کے لغوی بخارکی علامت ہے۔
     
  2. ‏جنوری 31، 2012 #12
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ انہوں نے اس قراء ۃ حمزہ رحمہ اللہ کا انکار کیا ہے:
    ’’وَاتَّقُوا ﷲَ الَّذِی تَسَائَ لُونَ بِہِ وَالأرحَامِ‘‘
    اس آیت میں اسم ظاہر کا عطف اسم مضمر پر ہو رہا ہے جبکہ اہل لغت کے ہاں ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
    ٭ اہل لغت نے ابو جعفررحمہ اللہ کی اس قراء ۃ کا بھی انکار کیا ہے:
    ’’لِیُجْزَیٰ قَوْمَا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ‘‘
    وہ ’’لیجزی‘‘ کے فعل مجہول ہونے پر’’ قوما ‘‘کو نصب دینا درست نہیں سمجھتے۔
    ٭ اسی طرح انہوں نے ابن عامررحمہ اللہ کی اس قراء ۃ کا بھی انکا رکیا ہے :
    ’’زُیِّنِ لِکَثِیْرٍ مِّنَ المُشْرِکِینَ قَتْلُ أوْلٰدَہُمْ شُرَکَائِہِم‘‘
    اس آیت میں چونکہ مضاف اور مضاف الیہ کے مابین فاصلہ ہے جو نحویوں کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
     
  3. ‏جنوری 31، 2012 #13
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ جبکہ بعض نے ’’إِنَّ ہٰذٰنِ لَسٰحِرٰانِ‘‘میں’إن‘ کی تشدید اور ’ہذان‘ پر الف کا انکار کیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ یہ کاتب حضرات کی غلطی ہے۔
    ٭ بیان کردہ تمام قراء ات، متواتر اسنادکے ساتھ منقول ہیں جن کی صحت اور ضبط میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ان کی وجہ سے نحویوں کے قواعد پر زد پڑتی ہے اس لیے انہوں نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا ہے۔لیکن اگر آپ ان قراء ات کی وجوہ تلاش کریں گے، تو آپ دیکھیں گے کہ کلام عرب میں سے بہت سے شواہد اور قوی دلائل ان قراء ات کی تائید کررہے ہوں گے۔
    ٭ تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ تیسری شرط اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے حقیقی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ اس کو دو سبب کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے:
    (١) اس کا وقوع ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایسی کسی قراء ۃ کا وجود نہیں ہے جو متواتر ہو، رسم عثمانی کے موافق اور لغت عرب میں اس کی کوئی وجہ نہ ہو۔
    (٢) اور اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ ایک ایسی ثابت متواتر قراء ت جو کہ رسم عثمانی کے موافق ہے لیکن لغت عرب میں ہمیں اس کی کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ پوری لغت عرب میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے، کیونکہ ہمارا علم محدود اور ناقص ہے۔ یہ بات قطعی ہے کہ قراء ت جوتواتر کے ساتھ منقول ہو اور مصحف عثمانی کے موافق ہو وہ نازل کردہ قرآن ہے یہ ایک ایسی قطعی دلیل ہے جو وجود لغت کا پتہ دے رہی ہے، جس کے ثبوت میں کوئی بحث نہیں ہے۔
    ٭ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تیسری شرط، پہلی دو شرطوں کا لازمی نتیجہ ہے بذات خودایک شرط نہیں ہے۔
     
  4. ‏جنوری 31، 2012 #14
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    قراء ات عشرہ متواترہ
    علماء قراء ت نے ذکر کردہ ارکان ثلاثہ کو قراء ت کے لیے لازم قرار دیاہے پس ہر وہ قراء ۃ جو ان تینوں ارکان سے متصف ہو گی وہ قرآن کا حصہ ہوگی اور نماز اور غیر نماز میں اس کی تلاوت کی جائے گی اور جو روایت ان ارکان سے خالی ہوگی اسے قبول نہیں کیا جائیگا، نہ اس کی تلاوت ہی کی جائیگی اور نہ ہی اس پر قرآن کریم کا حکم لگایا جائے گا۔
    بعض علمائے قراء ۃ نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ قراء ۃ کی نسبت اس کے نقل اور روایت کرنے والے کی طرف کی جائے یعنی یہ کہا جائے کہ : قراء ۃ أعمش رحمہ اللہ یا قراء ۃ ابی عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ، تاکہ کسی کو یہ وہم لاحق نہ ہوجائے کہ یہ صرف اسی کے ساتھ خاص ہے اور کسی اور سے مروی نہیں ہے۔یا کسی کو یہ شک نہ ہوجائے کہ اس کا اجتہاد اور رائے اس میں داخل ہے۔
    ٭ صدر اول کے لوگوں نے عدد رواۃ کی تحدید اور تخصیص کی جانب دو وجوہ سے رخ نہیں کیا:
    1ہمتوں کا بہت زیادہ ہونا 2 قرآن کے نزول کا زمانہ قریب ہونا۔
    صدر اول کے لوگوں نے تحدید رواۃ کی طرف اس لیے توجہ نہیں دی، کیونکہ وہ شوقِ دین سے مالامال تھے اور اپنی تمام ہمتیں اس کام پر صرف کرنے پر آمادہ تھے، لیکن پھر جب ہمتیں جواب دے گئیں اور نزول قرآن کا قریبی زمانہ جاتا رہا۔ روایت کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ اسناد منتشرہو گئیں تو لوگوں نے اس کام کو ضبط کرنے کا ارادہ کیا تاکہ یہ لوگوں پرمختلط نہ ہو۔پس اسی تناظر میں محققین عظام نے حروف مرویہ، روایات، طرق اور اسانید کی تلاش کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔پس اسی تتبع اور استقراء کے باوصف آئمہ کرام کے اختیارات وجو د میں آئے۔
     
  5. ‏جنوری 31، 2012 #15
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ ان آئمہ کو بقیہ رواۃ سے کیونکر امتیاز حاصل ہوا
    کیونکہ یہ حفظ، ضبط اور اتقان میں اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ انہی خصوصیات کی بناء پران کی روایات کو لوگوں میں تلقی بالقبول حاصل ہوا اور ہر شہر میں ان کے ضبط اور امامت پر لوگوں نے اجماع کیا۔ محققین عظام نے ان آئمہ کے اختیارات میں اختلاف کیا ہے۔ البتہ تمام لوگ ان پانچ شہروں( مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ اور شام) میں موجود آئمہ قراء کی امامت پر متفق ہیں جن میں مصاحف عثمانیہ بھیجے گئے۔
    ٭مکہ مکرمہ کے قراء کرام
    عبداللہ بن کثیر، محمد بن عبدالرحمن بن محیصن اور حمید الدین بن قیس الأعرج رحمہم اللہ
    ٭مدینہ منورہ کے قراء کرام
    ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح اور نافع بن ابی نعیم رحمہم اللہ
    ٭کوفہ کے قراء کرام
    یحییٰ بن وثاب، عاصم بن ابی النجود، أعمش، حمزہ بن حبیب الزیات، علی بن حمزہ الکسائی رحمہم اللہ
    ٭بصرہ کے قراء کرام
    عبداللہ بن ابی اسحاق، ابو عمروبن العلاء، عاصم الجحدری اور یعقوب الحضرمی رحمہم اللہ
     
  6. ‏جنوری 31، 2012 #16
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭شام کے قراء کرام
    عبداللہ بن عامر یحصبی، عطیہ بن قیس کلابی، یحییٰ بن حارث الذماری رحمہم اللہ
    لوگ ان تمام شیوخ سے علم قراء ات حاصل کرتے رہے اور ان کی روایات کو تلقی بالقبول حاصل رہا۔اس کے بعدبغداد میں قراء ات کے شیخ ابوبکر بن مجاہد تمیمی بغدادیرحمہ اللہ نے ’’سبعۃ‘‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی اور اس میں درج ذیل قراء کا اقتصار کیا:
    ٭نافع،عبداللہ بن کثیر، عبداللہ بن عامر، عاصم بن ابی النجود، ابوعمرو بن العلاء رحمہم اللہ ،امصار خمسہ میں سے پانچ یہ اور پھراہل کوفہ میں سے مزید درج ذیل دو آئمہ کا تذکرہ کیا:
    (١)حمزہ بن حبیب الزیات رحمہ اللہ (٢) علی الکسائی رحمہ اللہ
    ابوبکر بن مجاہد تمیمی رحمہ اللہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں سات قراء کی قراء ات کو ذکر کیا ۔ ان کا سات قراء کو ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سات مصاحف عثمانیہ کی موافقت کی جائے، کیونکہ حضرت عثمان ﷜ نے بھی سات مصاحف کی ترسیل فرمائی تھی۔
     
  7. ‏جنوری 31، 2012 #17
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مصنف کا اپنی کتاب میں سات قراء کولانا احرف سبعہ کی تفسیر کی طرف اشارہ کر نا ہے ، لیکن یہ صرف اور صرف غلط فہمی ہے۔کثیر تعداد میں لوگوں نے قراء کرام میں سے صرف ان لوگوں کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے جن کو عوام میں بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی اور جن کو امت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہوا۔ قراء ات قرآنیہ کا سات یا دس، حتی کہ سو میں بھی اقتصار ممکن نہیں ہے اور اگر ہم ان کے روات کو نقل کرنا چاہیں تو وہ ہر زمانہ میں ہزاروں کی تعداد کو پہنچ جائیں گے۔
    ٭ابن مجاہدرحمہ اللہ ایک زمانہ تک اس مخمصے کا شکار رہے ہیں کہ اپنی کتاب میں یعقوب رحمہ اللہ اور کسائی رحمہ اللہ میں سے کس کو مقدم کریں۔پھر انہوں نے کسائی رحمہ اللہ کو مقدم کیا اس لیے نہیں کہ وہ یعقوب رحمہ اللہ سے زیادہ اضبط ہیں بلکہ اس لیے کہ ان کی قراء ت عالی سند کے ساتھ ہے۔(المرشد الوجیز:ص۱۶۱)
    ٭اسی طرح امام حمزہ رحمہ اللہ کا، ان کے شیخ کے بجائے اختیار بھی ایک بین مثال ہے۔حالانکہ آپ کے زمانہ میں ابوجعفر، شیبہ، ابن محیصن، أعرج، أعمش، حسن بصری، أبو الرجاء، عطاء، مسلم بن جندب، یعقوب حضرمی، اور عاصم جحدری رحمہم اللہ جیسے بلند پایہ قراء کرام موجود تھے۔
    ٭ ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے ایک کتاب’جامع‘ کے نام سے تصنیف فرمائی جس میں انہوں نے آئمہ کی قراء ات کو ان کی اَسانید کے ساتھ جمع کیا۔انہی قراء کا تذکرہ ابن مجاہد، ابو عبید قاسم بن سلام اور اسماعیل بن اسحاق القاضی رحمہم اللہ نے بھی کیاہے۔ابن مجاہدرحمہ اللہ سے قبل ابن جبیر مقری رحمہ اللہ نے ایک کتاب تصنیف کی جس میں آٹھ قراء کی قراء ت کو جمع کیا۔ جن میں سے سات تو ابن مجاہدرحمہ اللہ کے ذکر کردہ ہیں اوران میں ایک یعقوب الحضرمی رحمہ اللہ کا اضافہ موجود ہے۔
     
  8. ‏جنوری 31، 2012 #18
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭علاوہ ازیں ابوبکر الداجونی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی جس میں وہ گیارہ اماموں کی قراء ات لائے ہیں جس میں ابو جعفر رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ ابو القاسم ہذلی رحمہ اللہ نے ’کامل‘ کے نام سے کتاب تصنیف کی، جس میں آئمہ عشرہ کی قراء ات کا اہتمام کیا گیاہے، اور ان کے ساتھ مزید چالیس قراء کرام کی قراء ات کا اضافہ بھی شامل ہے۔
    ٭ سابقہ بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء قراء ت نے ’سبعۃ‘ کی اِصطلاح بیان نہیں کی بلکہ انہوں نے ہر وہ روایت بیان کی ہے، جس میں ذکر کردہ ارکان ثلاثہ پائے جاتے ہوں چاہے وہ سات سے بیان کی گئی ہو یا سات ہزار سے،لیکن ابن مجاہدرحمہ اللہ کے بعد لوگوں کی طرف سے آئمہ سبعہ کی صفات حسنہ پر اجماع اور ان کی قراء ات کو تلقی بالقبول حاصل ہونے کے وجہ سے قراء ات سبعہ پر اکتفاء شروع کر دیا گیا۔
    ٭ ان میں سے بعض نے قراء ات سبعہ پر ابو جعفر یزید بن قعقاع مدنی رحمہ اللہ اور یعقوب بن اسحاق حضرمی رحمہ اللہ کا اضافہ کیا ہے اور اکثر تصنیفات میں خلف رحمہ اللہ کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ ان کی قراء ت کوفیین سے خارج نہیں ہے۔
    ٭ اس کے بعد ابو عمرو دانی رحمہ اللہ نے قراء ات سبعہ پر’تیسیر‘ اور ’جامع البیان‘ نامی کتب تصنیف کیں جس کو امام شاطبی رحمہ اللہ نے ’حرزالأمانی‘میں منظوم انداز میں پیش کیا۔علاوہ ازیں اور بہت سی کتب بھی منظر عام پر آئیں جن میں دیگر آئمہ قراء کو ذکر کیا گیاتھا جیسا کہ سبط الخیاط نے ’مبھج‘ نام کی کتاب تصنیف کی اور اس میں یعقوب، ابن محیصن، أعمش اور خلف رحمہم اللہ کو لائے۔
     
  9. ‏جنوری 31، 2012 #19
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    قراء ات عشرہ کا اَحرف سبعہ کے ساتھ تعلق
    ٭ امام جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’إن المصاحف العثمانیۃ لم تکن محتویۃ علی جمیع الأحرف السبعۃ التی أبیحت بہـا قـراء ۃ القرآن کما قال جماعۃ من أہل الکلام وغیرہما بناء منہم علی أنہ لا یجوز علی الأمۃ أن تہمل نقل شیء من الأحرف السبعۃ‘‘
    ’’مصاحف عثمانیہ جمیع احرف سبعہ پر مشتمل نہیں ہیں جیسا کہ اہل کلام کی ایک جماعت اور دیگر اس پر بناء رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ امت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے جو احرف سبعہ کے طور پر نقل کی گئی ہو۔‘‘
    ٭ مزید کہتے ہیں:
    ’’یہ ہم نے اس لیے کہا ہے کہ مصاحف عثمانیہ جمیع اَحرف سبعہ پر مشتمل ہیں اور جو قراء ات مصاحف عثمانیہ کے رسم سے مطابقت نہ رکھتی ہوگی وہ یقینا احرف سبعہ میں سے نہیں ہے۔لیکن بہت سی ایسی قراء ات بھی موجود ہیں جو رسم عثمانی کے مخالف ہیں لیکن صحابہ﷢اور نبی اکرم ﷺسے سنداًصحیح ثابت ہیں۔‘‘
    ابومجاہدرحمہ اللہ(صاحب کتاب) کا خیال ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بعض اَحرف سبعہ کی تلاوت عرضۂ اخیرہ میں منسوخ کر دی گئی تھی اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے نہ تو ان کی تلاوت فرمائی اور نہ ہی انہیں قرآن کا حصہ شمار کیا اور یہی وجہ ہے کہ انہیں مصاحف عثمانیہ میں بھی جگہ نہیں دی گئی، کیونکہ حضرت عثمان﷜ اور دیگر صحابہ کرام﷢ نے اسے ہی تحقیق کے بعد مصاحف عثمانیہ میں شامل کیا ہے جو عرضۂ اخیرہ میں ثابت تھا۔ اور بہت سی ایسی روایات آج بھی موجود ہیں جنہیں مصاحف میں شامل نہیں کیا گیاتھا۔
     
  10. ‏جنوری 31، 2012 #20
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ٭ صحیحین میں ابو الدرداء اور ابن مسعودرضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺنے ’’والَّیلِ إِذَا یَغْشَی وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَکَرِ وَالأُنْثَی‘‘پڑھا۔
    ٭ صحیحین اور دیگر کتب احادیث میں حضرت عمر ﷜سے روایت ہے، فرماتے ہیں :
    ’’کان مما أنزل اﷲ آیت الرجم فقرأناہا وعقلناہا ووعیناہا‘‘(صحیح البخاري،کتاب الحدود)
    ’’جب آیت رجم نازل ہوئی تو ہم نے اسے پڑھا، سیکھا اور یاد بھی کیا۔‘‘
    ٭ مؤطا امام مالک میں حضرت عمر ﷜ کے یہ الفاظ مذکور ہیں کہ
    اگر مجھے لوگوں کے یہ کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ عمر﷜نے کتاب اللہ اضافہ کر دیا ہے تو میں ضروریہ لکھواتا:
    ’’الشیخ والشیخۃ إذا زنیا فارجموہا البتۃ‘‘
    ان حروف کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ یہ حروف منزل شدہ ہیں، لیکن عرضۂ اخیرہ میں خدا تعالیٰ کے حکم سے ان کو منسوخ کر دیا گیا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں