1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طارق جمیل : نعوذ باللہ اللہ تعالٰی پر جھوٹ

'تبلیغی جماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 22، 2015۔

  1. ‏جولائی 22، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    طارق جمیل ایک گمراہ مبلغ ہے جو جھوٹ بولنے میں بہت ماہر ہے :


    جو نعوذ باللہ اللہ تعالٰی پرجھوٹ بولتے ہوئے بھی نہیں ڈرتا :


    لنک


    https://www.facebook.com/muhammed.k...0002872464144/706973022741773/?type=2&theater

    سنیے میٹھی میٹھی زبان سے کیسے غلو کیا جا رہا ہے طارق جمیل صاحب فرماتے ہیں کہ جب آپ کا کوئی بڑا تشریف لانے والا ہو تو اس کو عزت بخشی جاتی ہے اس کا گھر سے باہر نکل کر استقبال کیا جاتا ہے جب نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم معراج پر گئے تو اللہ تعالٰی خود زمیں پر تشریف لایا اور نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم سے فرمایا کہ میرے ساتھ چلو میں آپ کو لینے آیا ہوں مولوی طارق جمیل صاحب آپ کے الفاظ کی چاشنی سے اللہ کی پناہ اللہ کی پناہ اللہ کی پناہ، حالانکہ اسلام کے متعلق تھوڑا سا علم رکھنے والا شخص بھی یہ بات جانتا ہے کہ جب رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم معراج پر گئے تو ساتھ جبرائیل علیہ السلام تھے اور براق نامی سواری تھی جس پر رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم بیٹھ کر تشریف لے کر گئے لیکن میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ طارق جمیل ایک گمراہ مبلغ ہے جو جھوٹ بولنے میں بہت ماہر ہے کیا ایسے شخص کو عالم دین کہنا چاہیے جس کے نزدیک خالق کی کوئی اہمیت نہ ہو، انا للہ و انا الیہ رجعون

    اللہ تعالٰی اس کے فتنے سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے - آمین
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 23، 2015 #2
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    عامر بھائی ایسے کذاب اور مفتری شخص کو ۔ صاحب ۔ بھی نہیں لکھنا چاہئے ایسے ھی لوگوں کے بارے یہ حدیث ہے ۔ من کذب علی متعمدا فلیتبوء مقعدہ من النار ۔ اور قرآنی آیت ہے ۔ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 23، 2015 #3
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    کَبُرَتْ کَلِمَة تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاہِہِمْ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا
    ------------------------------------------
    وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ تَرَى الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى اللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسْوَدَّةٌ ﴿سورة الزمر:60
    اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 23، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 23، 2015 #5
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    عامر صاحب اس کا موجودہ عوامی مقبولیت صحت کا متقاضی نہیں۔جھوٹ بولتے بولتے اسکے دل پر مہر لگ جاتا ہے الایہ کہ سچے دل سے توبہ کرکے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔۔۔۔۔ رات ایک پروگرام سن رہا تھا کہتا ہے کہ معرا ج کے موقع پر اللہ تعالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود لینے کے لئے زمین پر آیا تھا۔ نعوذباللہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 23، 2015 #6
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    ایک رائے ونڈی کہنے لگا کہ مولانا صاحب نے تکمیل بخاری پر درس دیا۔چالیس ہزار کا مجمع جمع ہوا۔( واللہ اعلم یہ بات بھی سچ ہے یا جھوٹ)کیا یہ حق کی پہچان نہیں اتنی تعداد میں جمع ہونا حق کو ثابت کرتا ہے۔تو میں نے کہا۔یہاں ہمارے علاقے کافی سال پہلے جب عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی گلوگار آیا تو آ پ کی مذکورہ تعداد سے دگنا تعداد تھی۔کیا اتنی بڑی تعداد کا ہونا اس کو بھی حق ثابت کرتا ہے؟
     
  7. ‏جولائی 27، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مولانا طارق جمیل صاحب اپنے بیانات میں رنگ بھرنے کیلۓ من گھڑت قصے بیان کرتے ہیں..

    ایک قصہ گوش گزار کۓ دیتا ہوں،

    ایک بدو قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ آیا، اور آکے کہتا ' السلام علیکم یا رسول اللہ ، آپ کے رب نے کہا ہے اگر یہ گناہ کر لیں، ظلم کر لیں اپنی جانوں پہ اور,پھر آپ کے پاس آئیں، آپ انکےلۓ اللہ سے معافی مانگیں اور یہ تو پھر اللہ انکو معاف کر دے گا'.
    "کہا اے نبی میں آپ کے پاس آیا اپنےگناہوں کو مانتا اور معافی مانگتا ہوں.آپ کو اللہ کے دربار میں سفارشی بناتا ہوں آپکا رب میری بخشش کر دے اور پھر رونے لگا. اور چار شعر پڑھے".

    ادھر ہی ایک شخص قبر پہ بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا, اچانک اسکو اونگھ آئی اور خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ جاؤ اس بدو کو جا کے بولو تیری فریاد پہنچ گئی اور تیری بخشش بھی ہو گئی".

    انا للہ و انا علیہ راجعون..

    وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتےایک اور بیان میں اتنےپر ہی اکتفا نہیں کیا, کہا کہ ان چار میں سے دو اشعار آج بھی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھے ہیں.

    یہ بیان سننے کے بعد میں خود تحقیق کی اور کئی بار روضہ رسول پہ وہ اشعار دھونڈنے کی کوشش کی پر مجھے نہیں مل سکے...

    دیوبندیوں کے مفتی زرولی خان یہ کہتے ہیں کہ مولانا کے بیانات میں احتیاط نہیں اور ان سے خطرہ ہے.بعض اوقات نہ جانے کونسی فیکٹری سے روایات نکال لاتے ہیں.

    اور اپنے ایک بیان میں اسکی مثال دیتے ہیں زر ولی خان صاحب..

    کہ حضرت عثمان رضی اللہ کا قافلہ آیا مدینہ میں اور آپ نے سارے اونٹ مدینہ میں صدقہ کر دیۓ, اسی رات خواب میں عبداللہ ابن عباس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ,دیکھا کہ اللہ کے نبی گھوڑے پر بیٹھے کہیں جا رہے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کہاں جا رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان نے آج اونٹوں کا صدقہ کیا ہے اور اللہ نے انکے اس عمل کے بدلے جنت کی ایک حور سے انکی شادی کی ہے اور اب انکا ولیمہ کھانے تمام انبیاء آۓ ہیں اور میں بھی جا رہا ہوں..

    انا للہ وانا علیہ راجعون.

     
    Last edited: ‏جولائی 27، 2015
  8. ‏جولائی 27، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مولانا طارق جمیل صاحب اپنے بیان میں ایک اور ایسا ہی من گھڑت قصہ سناتے جس کی دلیل کیلۓ انکے پاس کوئی موضوع حدیث تک نہیں...
    اب کی بار اللہ پاک کی ذاتی صفات میں حوروں کو شریک کیا گیا.. اور توحید اور وحدانیت پہ شرک کے کلہاڑے مارے گۓ..
    ذرا غور فرماۓ:
    "جنت کی خوبصورت لڑکیاں ریشمی لباس پہنے اس ناز و ادا سے چلتی ہیں کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جاۓ، مردوں سے بات کریں مردے زندہ ہو جائیں، زندوں کو جھلک دکھلائیں تو انسانوں کے کلیجے پھٹ جائیں".
    لاحول ولا قوة..
    یہ صفت تو میرے اللہ کی ہے کہ مردے زندہ کر دیں.. اب ان صاحب نے اللہ کی اس صفت میں حوروں کو بھی شامل کر دیا...
    کیا اللہ کے قرآن کی تعلیمات یہ نہیں کہ مارنے اور زندہ کرنے والی ذات صرف اللہ پاک کی ذات ہے؟
     
  9. ‏جولائی 28، 2015 #9
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    اللہ تعالی معاف فرمائے صرف یہ مولانہ نہیں واعظ کے منبر بیٹھے ہر درس نظامی پاس آدمی کو میں نے اللہ تعالی ، انبیاء اور صحابہ پر جھوٹ بولتے خود اپنے کانوں سے سنا ہے۔

    اللہ تعالی ایسے نام نہاد عالموں کی صحبت سے بچائے ، یہ ملفوظات سے قصے اٹھا کر عام لوگوں کا عقیدہ خراب کرتے رہتے ہیں
     
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 24، 2015 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    امت کے علمائے حق کی مولوی طارق جمیل صاحب کے ساتھ دوران حج ملاقات اور اس کو ان کی طرف سے ایک نصیحت

    امت کے اکابرین علمائے کرام نے پاکستان میں بلکہ دوران حج تمام مسلمانوں کی مشترکہ مقدس تریں مقامات مکہ المکرمہ الحرمین الشریفین میں دوران حج اس کے ساتھ ملاقات کرکے اسے نصیحت کی کہ مہربانی کرکے اپنے دعوت میں لوگوں کو ان ضعیف روایات اور جهوٹے خوابوں اور قصوں کے بجائے کتاب وسنت اور صحیح احادیث اور روایات لوگوں کو بیان کیا کریں تو لوگوں کی اصلاح ہو گی تو اس نے کہا کہ جناب میرے پاس مطالعہ کے لئے فرصت نہیں تو علماء کرام نے جواب دیا کہ اب تو صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ بقیہ چاروں کتب آحادیث میں بهی محدث العصر علامہ البانی رحمه الله نے تحقیق کرکے ضعیف روایات کو الگ اور صحیح روایات کو الگ کرکے السلسلة الاحادیث الصحيحة اور السلسلة الاحادیث الضعيفة کے الگ الگ مجموعے بنائے ہیں.لیکن فضیلة الشیخ علامة ابو محمد امین الله البشاوری حفظه الله کے بقول جس کا مفہوم ہے جو اس نے اپنے ایک خطبہ میں بتایا ہے کہ طارق جمیل صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ میرے نزدیک متشدد ہے.

    افسوس کا مقام ہے کہ امت پر اتنا احسان کرنے والا محدث العصر اور اس دور کے ایک محقق مجتهد عالم دین جس نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹے اور ضعیف روایات کو صحیح سے الگ کرکے کتاب وسنت کی خدمت کی اور مسلمانوں کو پورے دلائل اور علمی و تحقیقی و چهان بیں کرکے علم حدیث کی اصول قواعد کے مطابق ضعیف و صحیح روایات کو علیحدہ علیحدہ کرکے پہچان کو آسان کر دیا تو اس پر یہ دونوں گمراہ مبلغین مبتدعین مولوی طارق جمیل صوفی قبوری اور ڈاکٹر طاہر القادری صوفی قبوری متشدد ( سخت گیر) ہونے کا الزام لگا کر ان سے نفرت کرتے ہیں.

    اللہ تعالی ان دونوں گمراہ مبلغین کو ہدایت نصیب فرمائے تآکہ خود بهی اس کی اصلاح ہو سکے اور ساتھ ساتھ دوسروں کو بهی گمراہ کرنے سے بچ جائیں. اللهم آمين
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں