1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاغوت کا انکار کلمہ توحید کی بنیاد

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از Israr Hussain Niyargar, ‏جولائی 27، 2019۔

  1. ‏جولائی 27، 2019 #1
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar رکن
    جگہ:
    الهند
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    اور اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:

    وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَیۡہِ الضَّلٰلَۃُ ؕ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ
    ” اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے دور رہو، سو ان میں سے کچھ وہ لوگ تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن پر گمراہی مسلط ہو کے رہی، تم ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔ “

    (سورۃ النخل آیت نمبر ۳٦)

    ایسے ہی اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں :

    فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ
    "جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں. اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے."

    (سورہ بقرہ آیت نمبر ۲۵٦ )

    یہاں مضبوط کڑے سے مراد لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے جس کا مطلب یہ ہے ہر قسم کی عبادات کی غیر اللہ سے نفی اور تمام عبادات کا مستحق صرف اللہ کو مانا جائے.

    اللہ سبحانہ وتعالی مزید فرماتے ہیں :

    اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا
    ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تم نےدیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انھیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے۔“

    (سورۃ النساء آیت نمبر ٦۰)

    شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن ابابطین رحمة الله علیہ فرماتے ہیں:

    علماء کے اقوال سے یہ خلاصه سامنے آتا ہے کہ لفظ طاغوت سے مراد اللہ کے علاوہ ہر معبود ہے اور ہر وہ شخص یا عمل بھی جو باطل کی طرف دعوت دے یا باطل کو مزین کر کے لوگوں کو دکھائے اسی طرح ہر وہ حاکم و قاضی جسے لوگوں نے احکام جاہلیت (یعنی الله و رسول صلی الله عليه وسلم کے احکام کے علاوہ) کے احکام کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کیا ہو اسی طرح کاہن، جادوگر، بتوں کے محافظ و نگران جو لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتے ہیں اور وہ مجاور جو مزارات کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں-

    (مجموعة التوحید : ۱/۱۸۳)

    شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا :

    "کفر بالطاغوت کا مفہوم مطالبہ کرتا ہے کہ تم ہر اس شخص سے بری ہو جاؤ جو اللہ کی بجائے کسی دوسرے کی عبادت کرتا ہے، چاہے وہ جن ہو، انسان ہو، درخت ہو ، پتھر ہو یا اس کے علاوہ کچھ بھی۔ اور تم ان کی تکفیر کرو، ان کو گمراہ کہو، اور ان سے نفرت کرو چاہے وہ تمھارے اپنے اباؤ اجداد ہوں یا بھائی۔ اور جو کوئی کہتا ہے کہ "میں اللہ کی سوا کسی اور کی عبادت نہین کرتا لیکن میں ان نام نہاد بابوں یا مزاروں یا ایسے دیگر مقامات کی مخالفت نہین کرتا" تو ایسے شخص کے'لا الہ الا اللہ' پڑھنے کا دعوی جھوٹا ہے کیونکہ وہ نہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ ہی اس نے طاغوت کا انکار کیا۔"

    (الدرر السنية في الأجوبة النجدية، ۲/۱۲۱)

    شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے مزید فرمایا :

    اس بات کو اچھی طرح جان لیجئے کہ ابن آدم پر سب سے پہلے جو چیز فرض کی گئی تھی کہ وہ طاغوت سے کفر کرے اور اللہ تعالی پر ایمان لائے۔ اس کی دلیل یہ آیت مبارکہ ہے:
    وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ۔۔۔۔ ﴿٣٦﴾
    " اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور بتوں "کی پرستش" سے اجتناب کرو"
    طاغوت سے کفر کی صورت یہ ہے کہ تم غیر اللہ کی عبادت کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھو۔ اس سے بغض اور عداوت رکھتے ہوئے اسکو چھوڑ دو۔ اور جو لوگ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کو کافر سمجھ کر ان سے دشمنی رکھو۔
    اللہ تعالی پر ایمان لانے کے معنی ہیں کہ تم یہ عقیدہ رکھو کہ اللہ تعالی ہی مشکل کشا اور وہی معبود واحد ہے۔ اور یہ کہ عبادت کی تمام اقسام کو اسی کے لئے خالص سمجھو۔ اور اللہ تعالی کے سوا تمام معبودان باطل سے نفی کردو۔ نیز اہل اخلاص سے محبت و اخوت کا رشتہ جوڑو۔ اور مشرکین سے بغض و عداوت رکھو۔

    (رسالہ نواقض الاسلام)

    شیخ سلیمان بن سحمن رحمہ اللہ نے فرمایا :

    "جب تم نے یہ جان لیا کہ طاغوت سے فیصلہ کروانا کفر ہے تو تمہیں یہ بھی معلموم ہونا چاہئے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ کفر قتل وغارت سے زیادہ برا ہے۔
    جیسا کہ اللہ نے فرمایا :

    وَ الۡفِتۡنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِ
    " اور فتنہ قتل سے بھی سخت ہے" (سورۃ البقرہ آیت نمبر ۱۹۱)

    اور ایسے ہی فرمایا

    وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ
    "اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے" (سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۱۷)

    اور فتنہ کفر کے علاوہ کوئی نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی بستی اور شہر آپس میں ایک دوسرے سے جنگ کرتے ہیں یہاں تک کہ ان میں تمام لوگ اس جنگ میں مارے جایئں، یہ بلاشبہ اس سے بہتر ہے کہ کسی طاغوت(کی حکومت) کو زمین پر قائم کیا جائے جو اسلامی شریعت یا ان قوانین کے خلاف چلتے ہوئے نظام چلائے جو اللہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے۔"

    (الدرر السنية في الأجوبة النجدية ۱۰ / ۵۰۹-۵۱۱)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں