1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طالبان کے کالے دھندوں کے خلاف امريکہ کی کاری ضرب

'انتہا پسندی' میں موضوعات آغاز کردہ از فواد, ‏نومبر 21، 2017۔

  1. ‏نومبر 21، 2017 #1
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    "گزشتہ رات ہم نے شمالی ہلمند ميں طالبان کے منشيات کے مراکز پر حملہ کيا جو ان کے ليے بڑا دھچکا تھا کيونکہ يہی ان کے معاشی وسا‏ئل کا بڑا ذريعہ ہے"۔ امريکی جرنل نکلسن – يو ايس ايف او آر – اے۔



    https://twitter.com/USFOR_A/status/932638442365816833


    کيا آپ جانتے ہيں کہ خود کو آزادی کے مقدس جنگجو قرار دينے والے طالبان درح‍قيقت دنيا بھر ميں منشيات کے 85 فيصد کاروبار کے ليے ذمہ دار ہيں؟ يہ ايک غير قانونی کاروبار ہے جس کی مجموعی آمدن کا تخمينہ قريب 60 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے اور اس معيشت ميں سے قريب 200 ملين ڈالرز طالبان کے ہاتھوں ميں جا رہے تھے۔

    اقوام متحدہ کی ايک حاليہ رپورٹ کے مطابق افغانستان ميں اوپيم کی مجموعی پيداوار کا 50 فيصد کام صرف ايک صوبے ہلمند میں ہو رہا ہے۔

    افغانستان کے اس جنوبی صوبے کی مجموعی آبادی 2.5 ملين ہے اور يہ صوبہ اس وقت دنيا ميں غير قانونی منشيات کی پيداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس صوبے ميں منشيات کی مجموعی پيداوار کولمبيا، مراکو اور برما سے بھی تجاوز کر چکی ہے حالانکہ ان ممالک کی آبادی ہلمند سے 20 گنا زيادہ ہے۔

    تاہم يہ صورت حال اب تبديل ہونے جا رہی ہے کيونکہ امريکی اور افغان فوجيں اب باہم اشتراک سے طالبان کے ان معاشی وسائل کے خلاف کاروائيوں ميں شدت لا رہے ہيں جو ان کی خونی کاروائيوں کے ضمن ميں معاونت کا سبب بنتے رہے ہيں۔

    http://rs.nato.int/news-center/press-releases/2017/afghan--us-forces-
    launch-new-campaign-tbnetworks.aspx

    https://www.dvidshub.net/video/567047/afcent-version


    گزشتہ چند دنوں کے دوران امريکی اور افغان فوجيوں نے شمالی ہلمند ميں طالبان کے سات اہم منشيات کے اڈوں اور مرکزی دفتر پر حملے کيے ہيں۔ ان ميں سے تين حملے ضلع کجکی، چار موسی کلا اور ايک سنگين ضلع ميں کيے گۓ۔

    يہ حملے طالبان کی جانب سے عام افغان شہريوں کے خلاف کی جانے والی دہشت گردی کاروائيوں کے ضمن ميں مالی معاونت کے خاتمے اور اے اين ڈی ايس ايف کی جاری کاوشوں کی کاميابی کی راہ ہموار کرنے ميں اہم ثابت ہوں گے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  2. ‏نومبر 22، 2017 #2
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    بھائی منشیات کے سب سے بڑے سوداگر تو خود یہ امریکی ہیں اور اپ ان کی پیش کی ہوئی رپورٹ پر اعتماد کر رہے ہیں
     
  3. ‏نومبر 28، 2017 #3
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    طالبان وہ واحد حکمران گزرے جنہوں نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار جو کہ پوری دنیا کا تقریباً 80 فی صد تھی اسے صفر (0) کر دیا تھا۔ نیٹ پر سرچ کرکے دیکھ لیں۔
     
  4. ‏دسمبر 07، 2017 #4
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    يہ صرف امريکی حکومت کا الزام نہيں ہے کہ طالبان کے مختلف دہشت گرد گروہ اپنی دہشت گرد کاروائيوں کو جاری رکھنے کے ليے منشيات کے مکروہ کاروبار پر انحصار کرتے ہيں۔ اقوام متحدہ سميت دنيا کی بے شمار تنظيموں اور غير جانب دار اداروں کی متعدد رپورٹس ريکارڈ پر موجود ہيں جن ميں ان حقائق کو واضح طور پر اعداد وشمار کے ساتھ پيش کيا گيا ہے۔

    http://www.un.org/apps/news/story.asp?NewsID=29099#.WigcokqnE2w

    نا صرف يہ بلکہ يہ رپورٹس اس وقت سے منظر عام پر ہيں جب طالبان افغانستان پر حکومت کر رہے تھے۔ يہ کوئ اتفاق نہيں ہے کہ اس وقت بھی افغانستان کے جو علاقے طالبان کے زير اثر ہيں وہاں باقی علاقوں کے مقابل ميں منشيات کا کاروبار کہيں زيادہ ہے۔ ذيل ميں دی گئ رپورٹ اس حوالے سے مزيد چشم کشا اعداد وشمار واضح کرتی ہے۔

    https://www.nytimes.com/2017/10/29/world/asia/opium-heroin-afghanistan-taliban.html

    کيا آپ جانتے ہيں کہ طالبان کی کل آمدن کا قريب 60 فيصد ذريعہ منشيات کا کاروبار ہی ہے؟
    اور آخر ميں افغان صدر کا موقف بھی قابل ذکر ہے جنھوں نے اس حقيقت کی تصديق کی ہے کہ طالبان کی دہشت گرد کاروائيوں کی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذريعہ منشيات کا گھناؤنا کاروبار ہی ہے۔ طالبان کے منشيات کے اڈوں پر امريکی فضائ بمباری کے بعد افغان صدر کا بيان پيش ہے

    "گزشتہ رات امريکی اور افغان فوجوں نے ہلمند ميں اوپيم کی تياری سے متعلق ليبارٹريوں کے خلاف آپريشن کيا اور پہلے ہی روز 8 ليبارٹريوں کو تباہ کر ديا۔ ہم جرائم کو تقويت پہنچانے والے معاشی ذرائع اور منشيات کے کاروبار کو پوری قوت سے روکنے کے ليے پرعزم ہيں۔ يہ تشدد اور دہشت گردی کے ضمن ميں سب سے اہم ذريعہ ہے۔"

    https://twitter.com/ashrafghani/status/932640466201432064

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  5. ‏دسمبر 08، 2017 #5
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    طالبان کے دور ميں منشيات پر پابندی؟ - کچھ حقائق

    اقوام متحدہ کی ايک رپورٹ کے مطابق 90 کی دہاہی ميں افغانستان اوپيم کی پيداوار میں دنيا ميں دوسرے نمبر پر تھا۔ صرف سال 1998 ميں 41،720 ايکٹر رقبے پر 1350 ميٹرک ٹن اوپيم گم کاشت کی گئ۔

    سال 1988 میں افغانستان نے اقوام متحدہ کے ڈرگ کنونشن کے تحت منشيات کی روک تھام کے ايک معاہدے پر دستخط کيے تھے ليکن طالبان سميت کسی بھی سياسی دھڑے نے اس معاہدے پر عمل نہيں کيا۔ سال 1998 کے آخر تک طالبان کا کنٹرول افغانستان کے 80 فيصد علاقے پر تھا۔ جون 1998 ميں جلال آباد ميں 1 ٹن اوپيم کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سرکاری سطح پر ايسا کوئ قدم نہيں اٹھايا گيا جس کے تحت مورفين يا ہيروئين بنانے والی کسی ليبارٹری، يا ہيروئين کی ترسيل کی کسی کھيپ يا منشيات کی سمگلنگ ميں ملوث کسی گروہ کو مستقل طور پر اس مذموم کاروبار سے روکا جاتا۔ اقوام متحدہ اور کئ نجی و سرکاری تنظيموں کی بے شمار رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ يورپ ميں سمگل کی جانے والی 80 فيصد منشيات افغانستان ميں تيار کی گئ تھی۔ سال 1998 کے آخر تک افغانستان ميں پيدا کی جانے والی 95 فيصد منشيات طالبان کے زير اثر 80 فيصد علاقوں ميں تيار کيا جاتی تھی۔

    افغانستان کی مختلف ليبارٹريوں ميں تيار کی جانے والی ہيروئين اور مورفين کی تياری کے ليے ايسڈيک اينہائيڈرئيڈ نامی عنصر کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جو کہ عام طور پر يورپ، چين اور بھارت سے حاصل کيا جاتا ہے۔ منشيات کی ترسيل کے ليے افغانستان سے ملحقہ پاکستان، ايران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کی سرحديں استعمال کی جاتی تھيں۔افغانستان ميں منشيات کے اس کاروبار کے منفی اثرات براہراست ان علاقوں ميں منشيات کی آسان دستيابی اور کھلے عام استعمال کی صورت ميں نمودار ہوۓ۔

    منشيات کے حوالے سے طالبان کی پاليسی يہ تھی کہ اس کی روک تھام صرف اسی صورت ميں ممکن ہے جب اقوام متحدہ نہ صرف طالبان کی حکومت کو سياسی سطح پر تسليم کرے بلکہ جن علاقوں ميں پوست کی کاشت کی جاتی ہے وہاں کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے مناسب فنڈز مہيا کيے جائيں۔ حالانکہ اس سے قبل طالبان کی جانب سے يہ اعلان کيا جا چکا تھا کہ منشيات کا استعمال اور اس کی پيداوار سے منسلک تمام کاروبار اسلام اور شريعت کے قوانين کے خلاف ہيں۔

    سال 1997 ميں يو – اين – ڈی – سی – پی کے ڈائريکٹر آرلاچی نے طالبان کے ليڈر ملا عمر کے نام ايک خط لکھا تھا جس ميں ان سے يہ مطالبہ کيا گيا تھا کہ جن علاقوں ميں کسانوں کو متبادل کاروبار کی سہوليات فراہم کی گئ ہيں وہاں منشيات کی پيداوار کی روک تھام کو يقينی بنايا جاۓ۔ اس کے علاوہ ان سے يہ اجازت بھی مانگی گئ کہ يو – اين – ڈی – سی – پی کو ان علاقوں تک رسائ دی جاۓ جہاں طالبان کے بقول منشيات کے کاروبار پر بين لگا ديا گيا ہے۔ طالبان سے يہ مطالبہ بھی کيا گيا کہ منشيات کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنے کے ليے ضروری ہے نہ صرف ہيروئين کی تياری کی ليبارٹريوں کو ختم کيا جاۓ بلکہ ان گروہوں کا بھی خاتمہ کيا جاۓ جو منشيات کی تقسيم کے کاروبار ميں ملوث ہيں۔ طالبان کی جانب سے ان مطالبات کو اسی شرط پر تسليم کيا گيا کہ کسانوں کو متبادل کاروبار کے ليے فنڈز کی فراہمی کو يقينی بنايا جاۓ۔


    http://query.nytimes.com/gst/fullpage.html?res=9507E1D9133CF932A25754C0A96F958260

    http://www.un.org/ga/20special/featur/crop.htm

    ليکن تمام تر يقين دہانيوں کے باوجود سال 2000 تک منشيات کی کاشت نہ صرف جاری رہی بلکہ کچھ نۓ علاقے بھی اس کاروبار ميں شامل ہوگۓ۔ 1998 ميں مئ کے مہينے ميں پوست کی کاشت کے موقع پر يو – اين – ڈی – سی – پی کی جانب سے طالبان کو مطلع کيا گيا کہ لغمان، لوگار اور ننگرہار کے صوبوں کے کچھ نۓعلاقوں ميں پوست کی کاشت کا کام شروع ہو گيا ہے۔ يہی وہ موقع تھا جب 1 جون 1998 کو جلال آباد کے شہر ميں طالبان نے سرعام ايک ٹن منشيات کو سرعام آگ لگا کر يہ دعوی کيا تھا اس سال منشيات کی تمام پيداوار کو تلف کر ديا گيا ہے۔ ليکن اعداد وشمار کچھ اور حقيققت بيان کر رہے تھے۔ سال 2000 کے آخر تک منشيات کو کنٹرول کرنے کے کسی ايک بھی پروگرام پر عمل درآمد نہيں کيا گيا۔

    http://www.nytimes.com/2000/09/18/world/18AFGH.html?ex=1215748800&en=f470637e39d1c243&ei=5070

    منشيات کی روک تھام کی کئ نجی تنظيموں کی رپورٹوں سے يہ واضح تھا کہ طالبان اور شمالی اتحاد کے بہت سے سينير اہلکار براہراست منشيات کی ترسيل سے مالی فوائد حاصل کر رہے تھے۔ سال 1997 میں طالبان کے ايک اعلی افسر نے يہ تسليم کيا تھا کہ پوست کی کاشت ميں ملوث کسانوں سے طالبان حکومت 10 فيصد "مذہبی ٹيکس" وصول کرتی تھی۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  6. ‏دسمبر 08، 2017 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جب متضاد قسم کی خبریں آنا شروع ہوجائیں ، جیسا کہ یہاں ہے کہ ہمارے ہاں کے بعض معتبر صحافیوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے منشیات کو صفر تک پہنچا دیا تھا ، دوسری طرف امریکی ملازمین کے نزدیک طالبان ہی ان چیزوں کے سب سے بڑے کاروباری ہیں ۔
    ایسی صورت میں ، مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ ہمیں کس کی بات پر اعتماد ہے ؟
    میری نظر میں عالمی دہشت گرد امریکہ ، جس نے ہر انداز سے دہشت گردی مچائی ہوئی ہے ، مسلمانوں کے خلاف اس کی یا اس کے اداروں یا وظیفہ خوروں کی کوئی بھی بات قابل اعتبار نہیں ہے ۔
    ان کا کوئی دین ایمان اور مذہب نہیں ، سب شہرت ، بادشاہت اور دنیاوی لالچوں کے اسیر ہیں ۔ اور اپنے یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہر میدان میں یہ جھوٹ ، مکر ، فریب ، دھوکہ دہی اور دہشت گردی کریں گے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 08، 2017 #7
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

     
  8. ‏دسمبر 08، 2017 #8
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    287
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    60

    یہ بھی ان کے ہی زیر اثر ہیں جیسا آپ اشرف غنی صاحب کی مثال دیتے ہیں وہ ان امریکیوں کے ہی ایجنٹ ہیں بہرحال جو معلومات ہمارے تک آئی ہیں اس کے مطابق اس کاروبار کو ختم کرنے والے وہی تھے اگر امریکہ اتنا ہی بڑا اس کاروبار کا دشمن ہوتا تو سب سے زیادہ ان مغربی ممالک میں یہ نہ بک رہی ہوتی
     
  9. ‏دسمبر 09، 2017 #9
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    551
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    طالبان کو منشیات کی روک تھام کے لئے اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ ان کی حکومت اقوام متحدہ تسلیم کرے کیونکہ طالبان نفاذ اسلام کر رہے تھے اور اسلام میں منشیات کا کاروبار حرام ہے لہٰذا اس سبب سے انہوں نے اپنے مقبوضہ علاقہ میں منشیات کی پیداوار یکسر ختم کی اور زیرہ کردی۔
     
  10. ‏دسمبر 14، 2017 #10
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    طالبان اور داعش – ايک ہی سکے کے دو رخ

    نيکی اور پاسداری کے دعويدار ايک دوسرے کے جرائم بے نقاب کرتے ہوۓ

    http://www.elyomnew.com/news/24hours/107491/بالصورة-جنود-حركة-طالبان-الإرهابية-يتعاطون-الحشيش-في-أفغانستان

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں