1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاہر القادری کے جھوٹے خواب کا رد (سید توصیف الرحمٰن الراشدی)

'منہاج القرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب علم, ‏مئی 03، 2014۔

  1. ‏مئی 03، 2014 #1
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اس تقریر میں سیدتوصیف الرحمٰن شاہ صاحب نے طاہر القادری کے ایک بہت مشہور خواب کا رد کیا ہے۔ آج اس شخص کو بعض لوگوں نے شیخ الاسلام بنا ڈالا ہے۔ آئیے طاہرالقادری کے متعلق شاہ صاحب کی تقریر اور پھر طاہر القادری کی تقریر کے قابل اعتراض حصہ کا متن پڑھیں اور سوچیں کہ یہ شخص واقعی میں شیخ الاسلام کہلوانے کے قابل ہے؟
    نوٹ:
    اس تقریر میں الفاظ کو چار رنگ دئیے گئے ہیں
    1) نیلا رنگ سید توصیف الرحمٰن صاحب جو تبصرہ کرتے ہیں اسے عام تقریر سے ممتاز کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے
    2) طاہر القادری کے فقرات کو سبز رنگ دیا گیا ہے
    ۳) باقی تقریر سیاہ رنگ میں ہے
    4) میں نے اپنی طرف سے جو لکھا ہے وہ نارنجی رنگ میں ہے
    5) غیر شرعی اور شریعت کی رو سے متنازعہ فقرات کو لال رنگ دیا گیا ہے
    تقریر کے پہلے 31 منٹ
    ساری چیزیں جوآسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ مالک کی پاکی بیان کرتی ہیں جوبادشاہ نہایت پاک ہے۔
    غالب اور حکمت والا ہے
    وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے۔ اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ یقینا یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
    والدین کے لیے اولاد بہت پیاری چیز ہے۔ان کاجینامرنا اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے
    ساری عمر کمائی کرتے ہیں تو ایک غم کے لئے کہ ہماری اولاد اچھی تعلیم حاصل کرسکے، ہماری اولاد نیک بن سکے
    ان کی تربیت اچھی ہوجائے
    اسی لیے اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ یہ مال اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں
    زینت ہیں دنیا کی
    لیکن اولاد گھرمیں کب تک خوش رہتی ہے؟
    جب تک وہ والدین کو والدین سمجھتی رہے،،،
    بیٹا اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بہنوں کے ساتھ کب تک خوش رہے گا؟
    جب تک گھر کے سربراہ والد کے ساتھ اس کے تعلقات ٹھیک رہیں گے
    جو والد اس کے لیے کماتا ہے، اس کو کھلاتا ہے یہ بیٹا اگر اپنے باپ سے ٹکر لے لے، اپنے باپ کی عزت پر ہاتھ ڈال د ے تو پھر اس کو گھر کا سکون نہیں مل سکتا، اس کو والدہ کا پیار والدہ کی محبت نہیں مل سکتی، کیوں اس نے گھر کے سربراہ سے ٹکر لے لی
    اس نے گھر کے سربراہ کی عزت پر ہاتھ ڈالا
    نتیجیتاً اب اس کاسکون تباہ و برباد ہوگیا
    اللہ اس دنیا کا سربراہ ہے
    اللہ زمین وآسمان کا ،کائنات کا شہنشاہ ہے
    ہم کب تک سکون میں رہ سکتے ہیں
    ہمیں سکون کب ملے گا جب اپنی حدود میں رہیں اور جب ہم نے اپنی حدود سے نکل کراللہ کی عزت پرہاتھ ڈالنے شروع کر دیانتیجہ بالکل سامنے ہے پھر ہمیں سکون نہیں مل سکتا
    ہمیں عزت نہیں مل سکتی
    ہمیں امن نہیں مل سکتا
    بلکہ دنیا کے اندر ذلت۔۔ ۔ ۔۔ ۔
    تکبر اللہ کی چادر ہے
    کبر اللہ کی عزت ہے
    اللہ کہتا ہے بندو، میں نے تکبر کو اپنے لیے پسند کیا
    اور عاجزی کو، انکساری کو اپنے بندے کے لیے پسند کیا
    بندہ اللہ سے راضی رہنا چاہتا ہے
    اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہے
    تو اس کی حدود انکساری ہے
    اس کی حدود تکبر نہیں
    اس کی حدود اللہ کا بندہ بننے والی ہے
    اس کی حدود اللہ کا مقابلہ کرنے والی نہیں
    اور اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔
    صحابہ کی جماعت بیٹھی ہوئی
    آپ آئے
    صحابہ آپ کے لئے کھڑے ہوگئے
    آپ نے کہا: لاتقومو لی
    میرے صحابہ میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو
    جیسے عجمی لوگ اپنے امراءکے لیے کھڑے ہوتے ہیں
    کیونکہ یہ قیام اللہ کے لیے ہے
    اور اگر کسی کے لیے کھڑا ہوا جائے توآنے والے کے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے
    کہ میری کوئی اتھارٹی ہے
    میری کوئی عزت ہے میرا کوئی مقام اور معیار ہے کہ جہاں میں جاتا ہوں لوگ میرے لیے کرسی چھوڑ دیتے ہیں
    لاتقومو لی
    یہ کبر اللہ کے لیے ہے
    میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ کی اس عزت کی حفاظت کیسے کی:
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مسئلے پر بات کر رہے تھے
    ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہہ دیا ماشاءاللہ وما شئت
    اے اللہ کے رسول جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں وہی ہوا کرتا ہے
    صحابی رسول کی یہ بات سن کر اللہ کے رسول کانپ گئے
    اور کہا: اجعلتنی للہ ندا
    تو نے مجھے اللہ کا شریک بنادیا
    قل ماشاءاللہ وحدہ
    کہہ جو اللہ چاہے وہ ہوتا ہے جومحمد چاہے وہ نہیں ہوا کرتا
    میں چاہتاتھا میرا چچا مسلمان ہو جائے : کیا ہوا؟
    ارے میں کب چاہتا تھا میری رقیہ کو گھر بیٹھے طلاق کا پروانہ مل جائے: طلاق ملی یا نہ ملی
    میں کب چاہتا تھا طائف کے اندر مجھے پتھر پڑیں
    میری جوتیاں لہو لہان ہوگئیں
    میں نے کب چاہا تھا میرے بلال کو ریت پر گھسیٹا جائے
    ارے میں جب مکے کو چھوڑ کر جارہا تھا میری آنکھوں سے آنسو برس رہے تھے
    بیت اللہ تجھے چھوڑ کے جانے کو دل نہیں کرتا لیکن تیرے رہنے والے محمد کو رہنے نہیں دیتے
    میں نے کب چاہاتھا مکہ چھوڑ کرچلا جاوں
    قل ما شاءاللہ
    میں تو چاہتا تھا دنیا میں کوئی کافر نہ بچے سارے محمد کے دامن گیر ہوجائیں
    اور اللہ نے جواب میںمجھے کیا کہا: اے رسول کیا اپنے آپ کوقتل کر لو گے
    لعلک بخع نفسک الا یکونوا مومنین
    ان کے مسلمان نہ ہونے کے غم میں کیا اپنے آپ کو مار دو گے
    جس کو تم چاہو ہدایت نہیں دے سکتے
    ولکن اللہ یھدی۔ ۔ ۔
    جس کو چاہے ہدایت دے دے
    یہ اللہ کی شان ہے ، یہ اللہ کی کبر ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے
    دو انسان پہنچے ایک نے دور سے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کواور دوڑتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سے مصافحہ کیا، ملاقات کی، وضو کرکے دو رکعتیں ادا کیں، دوسرا آیا اس نے پہلے دورکعتیں ادا کیں پھر نبی کو آکر السلام علیکم کہا
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے یہ جو نماز پڑھ کے میرے پاس آ رہا ہے جس نے دو رکعتیں پڑھیں، ادا کیں، پھر مجھے سلام کہا، اےبندے یہ تجھ سے افضل ہ جو پہلے اللہ کا حق ادا کرتا ہے، پھرمحمد کا حق ادا کرتا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم)
    اور اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جماعت کو اکٹھا کرکے کیا فرمایا: مجھے ایسے نہ بڑھانا جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کوبڑھایا
    مجھے اتنا نہ بڑھا دینا جتنا عیسائیوں نے حضرت عیسٰی کو بڑھا دیا
    میرا مقام جو اللہ نے بیان کر دیا مجھے اس مقام پر رہنے دینا
    ایاکم الغلو
    غلو سے بچنا
    غلوسے اپنے آپ کوبچانا
    کیونکہ جو غلو میں گیا اس کا دین بھی گیا، دنیا بھی گئی
    عیسائیوں نے کیا کیاتھا، عیسائیوں نے حضرت عیسٰی کو
    کہنے والے نے کہا: عیسٰی ابن اللہ
    وہ اللہ کا بیٹا ہے
    کیا وہ حضرت عیسٰی کے دشمن تھے؟
    نہیں وہ حضرت عیسٰی سے محبت کرتے تھے
    حضرت عیسٰی سے پیار کرتے تھے

    اور یہ پیار حد سے اتنا بڑھ گیا کہ نبی کو عبداللہ کو اللہ کا بیٹا بنادیا
    اور آپ نے منع کیا مجھے ایسے نہ بڑھانا
    تو کیا ہم نے اللہ کی اس صفت کو برقرار رہنے دیا؟اپنے دامن میں نگاہ ڈالیں
    اپنے عقیدوں کو پڑھیں
    اپنے نظریات پر نظرثانی کریں
    کیا آج ہم نے غلو کے راستے کو اختیار تو نہیں کرلیا
    عیسائیوں نے کیا کہا تھا:عیسٰی اللہ کا بیٹا ہے
    اور ہم نے اس کے مقابلے میں اپنا عقیدہ گھڑ لیا
    انہوںنے کہا اللہ کا بیٹا
    ہم نے کہا:
    نہیں، محمد الرسول اللہ: نورمن نور اللہ
    الصلوة والسلام علیک یا نور من نور اللہ
    اللہ کے نور میں سے الگ ہونے والے الگ نور۔۔۔۔
    اللہ کے جسم سے الگ ہونے والے ٹکڑے۔۔۔۔ (نعوذباللہ)تجھے پہ اللہ کی سلامتی ہو
    یہی عقیدہ عیسائی گھڑیں تو اللہ کہے
    لقد کفر الذین
    ان لوگوں نے کفر کر لیا، کافر ہوگئے
    جنہوں نے یہ کہا عیسٰی اللہ کا بیٹا ہے
    اور مسلمان سجدے کرنے والا، نمازیں پڑھنے والا، اللہ کے رسول کو اللہ کا نور بنادے، ٹکڑا بنادے

    ہم نے اسی غلو کے راستے پر عمل شروع کیا، نتیجةً حالات آپ کے سامنے ہیں
    آپ نے پاک وہند میں یہ قوالیاں نہں سنیں
    خدا کا پکڑا چھڑاوے محمد
    محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا

    یہ جملے آپ کی سماعت سے نہ ٹکرائے
    خدا کا پکڑا چھڑاواے محمد
    محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا
    جس کو اللہ پکڑ لے آقا آگے بڑھ کے چھڑا کے جنت میں لے جائیں گے
    جس کو محمد پکڑ لے اللہ بھی نہیں چھڑا سکتا
    (نعوذباللہ)
    یہ کیا ہے؟
    یہ کونسا اسلام ہے؟
    یہ کونسی توحید ہے؟
    کہ اللہ جس کو پکڑنے پہ آئے

    اور پھردیوان محمدی کے مصنف اپنی کتاب میں لکھ کر گئے
    گر (مولوی) محمد نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مان لیا تب توسمجھو مسلمان ہے دغاباز نہیں
    اس کا اسلام کب پورا ہوتا ہے: جب نبی کو اٹھائے خدا کر دکھائے
    اماموں کو اٹھائے نبی بنا کر دکھائے
    یہ کیاہے، یہ غلو کا راستہ ہے
    یہ اسلام کے بگاڑ کا راستہ ہے
    اور بدعت کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے
    بدعت کی ابتداءمحبت میں غلو سے ہوتی ہے
    جب محبت کثرت سے بڑھ جائے تو انسان پاگل ہو جاتا ہے
    عقل سے بے بہرہ ہو جاتاہے
    آپ نے نہیں سنا۔ ۔ ۔ ۔
    ابھی یہ آنے والا ہے ربیع الاول آنے والا ہے
    بدعات کے ایسے سلسلے کھلیں گے کہ اگر رسول صلی اللہ وسلم ان کو دیکھ لیں کوئی کہہ سکتا ہے کہ نبی ان سے راضی ہوں گے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کہہ رہے ہیں
    لاتتخذو قبری عید۱
    اے صحابہ کی جماعت میری قبر پر میلے نہ لگانا
    عرس نہ لگانا
    اللہم لا تجعل قبری۔ ۔ ۔۔
    اللہ! میری قبر کی حفاظت فرما، یہاں پر اجتماع نہ ہوں، یہاں پر میلے نہ لگیں ۔ ۔۔
    لوگ آ کر میری عبادتیں نہ کریں
    ہم نے کہا اللہ کو کب راضی کیا جائے گا جب اللہ کے رسول کو اللہ کا مقام دیا جائے گا
    اور اسی غلو میں بڑھتے ہوئے
    دین کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا
    ابھی ربیع الاول آئے گا اور یہ آوازیں شروع ہو جائیں گی
    میٹھے کی آمد مرحبا ۔۔ ۔۔
    پیارے کی آمد مرحبا۔۔ ۔۔
    سوہنے کی آمد مرحبا۔۔ ۔۔

    اور دین کی دھجیاں کیسے بکھریں گی؟؟؟؟؟
    جوتی۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔
    میرے بھائیو غور کرنا۔ ۔۔۔ ۔۔۔
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا نقشہ دیکھا ہے یا نہیں دیکھا ؟؟؟؟
    چھپا ہوا۔۔ ۔۔
    اور اس پر کیا لکھا ہے ؟؟؟؟؟
    الصلوةوالسلام علیک یا رسول اللہ
    ارے جوتی جوتی ہی ہوتی ہے۔ کسی کی ہودرست ہے یا غلط ؟؟؟؟؟
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر کہا آقاآپ کی جوتی پر گندگی لگی ہے آپ نے جوتی دوران نماز اتاردی صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے بھی اتار دی۔۔۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: صحابہ جوتی کو کیوں اتارا ؟؟؟؟
    کہا:آقا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواتارا
    کہا:میں نے اس لیے اتارا کہ جبرائیل نے خبر دی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی پر گندگی لگی ہے
    اور یہ مسلمان کی عقل کہاں تباہ ہوئی ؟؟؟؟؟
    اس مسلمان کی عقل کا کہاں جنازہ نکلا ؟؟؟؟
    کہ جوتی پر اٹھا کر نام کس کا لکھا ؟؟؟؟
    اللہ کااور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا

    ارے میں تیری جوتی پر۔ ۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔
    تیرے باپ کا نام لکھ دوں۔
    برداشت کرے گا؟
    تیری جوتی پر۔۔۔۔۔
    تیرے باپ کا نام لکھ دوں، برداشت کرےگا؟؟؟؟
    تجھے آگ لگ جائے گی کہ میراباپ اور جوتی پر نام۔۔۔۔۔۔
    تیرے ماتھے پر بل پڑجائیں گے۔۔۔
    جتنی تیرے باپ کی عزت ہے کیا میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی عزت بھی نہیں ؟؟؟؟؟؟
    یہ جوتی کے سٹکر چھپے ہوئے۔۔۔۔۔
    یہ جوتی کے جھنڈے چھپے ہوئے۔۔۔۔۔
    اور اللہ کا نام جوتی کے اوپرلکھا ہوا۔۔۔۔۔۔
    محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام جوتی کے اوپر لکھا ہوا۔۔ ۔۔ ۔۔

    کیوں ؟؟؟؟
    ہمارا دین ہندووں سے آیا ہوا اور ہمارے دین کا انحصارجوتیوں کے اوپر
    آپ نے دیکھا نہیں ؟ بڑی خوبصورت گاڑی پاک و ہند کے اندر
    بالکل new corolla نکالی
    اس کے آگے جوتی بندھی ہوئی
    حضرت یہ کیا ہے ؟
    مولانا جس گاڑی کے آگے جوتی باندھ دو اس کا ایکسیڈینٹ ہوتا ہی نہیں
    جس قوم کے عقیدے جوتیوں پر آجائ یں رب اس کےسر میں جوتیاں نہ مارے تو کیا مارے
    اور یہ پیدا کیوں ہوئی کیونکہ عقل کے جنازے نکلے۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور آپ نے سنا ہوگا ہم عاشق رسول!!!!!
    دعوے ہیں یا نہیں؟؟؟؟؟
    آج یہ مسئلہ بھی سمجھا دوں
    عاشق کسے کہتے ہیں
    کوئی عقل والا۔ ۔ ۔۔ ۔
    بڑی نجی مثال دے کر سمجھاتا ہوں
    کوئی عقل والا یہ کہے گا میں اپنے چھوٹے بھائی کا عاشق ہوں ؟؟؟؟
    اپنے دل سے سوچ۔۔۔۔۔۔
    ارے کوئی یہ کہے گا کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہوں۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔
    لوگ کیا کہیں گے ؟؟؟؟
    خبیث ہے ، دقیانوس ہے۔۔ ۔۔ ۔
    سوچیں۔۔۔، اپنے دل میں غور کریں ؟؟؟؟؟
    کوئی اپنی ماں کا عاشق بننے کے لیے تیار نہیں
    اپنی بہن کا عاشق بننے کے لیے تیار نہیں
    اپنے بھائی کا عاشق بننے کے لیے تیار نہیں
    اپنے دوست کا عاشق بننے کے لیے تیار نہیں
    کیونکہ عشق،معشوقی۔۔۔۔۔۔
    یہ بازاری الفاظ ہیں، یہ گندے الفاظ ہیں۔اور عشق کب ہوتا ہے جب عقل فیل ہو جائے

    بیوی سے محبت ہو باپ کا مقام اپنی جگہ پر رہے گا۔۔۔۔
    بیوی سے محبت ہو ماں کا مقام اپنی جگہ پر رہے گا۔۔۔۔
    اور جب لڑکی سے عشق ہوگیا، ماںبھی گئ ی، باپ بھی گیا۔۔۔۔۔
    ماں باپ کہتے رہ جائیں: اس گھر میں شادی نہ کر وہ باپ کی نہیں سنتا،ماں کی
    نہیں سنتا
    کیوں ؟
    مجھے عشق ہوگیا۔۔۔۔۔
    اور عشق دیوانوں کا کام۔۔۔۔
    عشق بے عقلوں کا کام۔۔۔۔۔
    عقل مند کبھی عاشق ہو نہیں سکتا۔۔۔۔
    عقل مند محب ہوا کرتا ہے۔۔۔۔ (محبت کرنے والا)

    ہم نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر بے علمی میں جہالت میں آ کر کیسے ہاتھ صاف کئے ؟؟؟؟
    ہم عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔
    یہ الفاظ تو اپنے گھر کے لیے استعمال نہ کرے
    اور ان گندے الفاظ کو تو میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کرے ؟؟؟
    اور جب عشق آیا عقل گئی
    اور جب عقل گئی دین گیا
    دین کن کے لیے ہے؟
    یا اولی الابصار
    یا اولی الباب
    عقل والو سوچو!
    دماغوں والو سوچو!
    سوچ کون کرے گا؟ جس کی عقل برقرار رہے۔۔۔
    اور جو عاشق ہوگیا اس کی عقل کے جنازے نکل گئےاسی لیے ہم نے دین میں غلو کے رستے کو اپنا لیا اور دین میں وہ چیزیں ایجاد کیں جس کادین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق ہی نہیں۔

    ------ --------- جاری ہے -----------------------------
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 03، 2014 #2
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    آج صرف ایک جملے پر بات کر کے بات ختم کروں گا
    یہ مسلمان جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
    ہمارا اسلام کہاں پر ہے کچھ مجھے بھی دکھلاو
    ہم نے دین کے اندر کون کونسی چیزیں ہیں جو داخل کر دیں
    آپ دیکھ لیں پاک وہند کے اندر سبز پگڑی والے آپ کونظر آئیں گے
    سبز پگڑی پہنی ہوئی
    یہ کیا ہے؟
    یہ عمامہ شریف ہے
    اور
    مدینہ، المدینہ، چل مدینہ، آج نہیں تو کل مدینہ
    المدینہ ، چل مدینہ ، آج نہیں تو کل مدینہ

    نعرے لگ رہے ہیں
    اور اس کی برکتیں اپنی جگہ پر
    ارے کیا میرے رسول نے سبز پگڑی پہنی
    دوحدیثیں سن لو
    نبی نے مکے کو فتح کیا
    آپ کا ماتھا مبارک اونٹ کے کوہان سے لگا ہوا
    آپ کے سر پر کالی پگڑی
    مسلم کی روایت ہے، آپ نے عید کا خطبہ پڑھایا
    عید کا خطبہ دیا، آپ کے سر پہ سیاہ پگڑی تھی
    میرے نبی نے پگڑی استعمال کی، عمامہ استعمال کیا، کونسا ؟ سیاہ
    لیکن ہم نے اس سنت کو چھوڑ کے بدعت کا راستہ نکالا، کیوں؟
    اپنے من کو جو ٹھارنا ہے
    دین کا جو بیڑہ غرق کرنا ہےدین کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے؟
    اور کس طریقے سے؟
    محبت کا نام لے کر
    شیطان نے دین کو تباہ کرنے کے طریقے کونسے اپنائے
    جس سے مسلمانوں کواستعمال کرتا جائے
    محبت کا نام دے دے کر
    اولیا کا نام دے دے کراسلام میں وہ چیزیں داخل کیں جس کا وجود دنیا میں نہیں تھا

    آج کیسٹ میرے پاس موجود ہے، جو بھائی چاہے اسے ملے سکتی ہے
    سن بھی رہا تھا اور رو بھی رہاتھا
    اللہ کیا مسلمان اس دنیا میں نہیں رہ گئے
    اللہ کیا تیرے قرآن کی عزت برقرار نہیں رہ گئی؟
    اللہ کیا دنیا سے اسلام کا جنازہ نکل گیا؟
    طاہرالقادری صاحب ہمارے پاکستان کے بہت بڑا ایک علامہ
    ایک درس دے رہے، اس درس میں کہنے لگے

    میں کراچی میں موجود، کراچی میں موجود
    اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کراچی میں آئے ہوئے

    کاش تم نے اسلام کی حقانیت کو سمجھا ہوتا
    تم اسلام کو جانتے
    تم اسلام کی تعلیم کو جانتے
    آج کوئی تمہارے نبی پر زبانیں دراز نہ کرتا
    تمہیں قرآن کے ترجمے کا علم ہوتا
    تم قرآن کو جاننے والے ہوتے
    تم دین کو پڑھنے والے ہوتےاور کوئی ایسی بات کرتا تم اس کی زبان کو گدی سے کھینچ لیتے
    لیکن چونکہ تم نے قرآن کو جوتیوں پرپٹخار دیا
    دین کو پشت کے بل پھینک دیا نہ تمہیں دین کی وقعت رہینہ دین کی قیمت رہی
    نتیجتاً تمہارے دین پر جو چاہے اٹھے چھری چلادے تمہارے ماتھے پر بل نہیں پڑتا

    کون ہے جو میرے خانوادے کی عزت پر ڈاکے ڈالے ؟؟؟؟؟
    کون ہے جومیری بہنوں پر فقرے کسے ؟؟؟؟
    میں اس کی نگاہوں کو پھوڑ دوں گا
    لیکن دین، دین یتیم ہوگیا
    دین کا بیڑہ غرق ہوگیا
    دین کے سربراہ مر گئے
    دین کے ماننے والے دنیا سے اٹھ گئے
    جوچاہے زبان کو دراز کرے
    اللہ کے بارے میں جو بکنا چاہے بکے
    مسلمان کو کس بات کی ضرورت ہے۔۔۔۔

    مسلمان، دنیا پر راضی دنیا کی زندگی پر راضی، نہ اس کے دل میں یہ قوت ہو
    یہ دین کو سیکھے اور کسی کی زبان کو پکڑ سکے[/color]
    میں کراچی میں ، اللہ کے رسول آئیے ہوئے اورنبی نے مجھے کہا:
    طاہرالقادری مجھے پاکستان کی اسلامی جماعتوں نے دعوت دے کر بلایا
    دعوت دے کر بلایا، میرا استقبال نہیں کیا گیا
    میری شان کے مطابق میرا استقبال نہیں ہوا اور آج محمدالرسول اللہ ناراض ہو کر کراچی سے مدینہ واپس جارہے ہیں

    کچھ اپنے گریبان میں جھانکا ہوتا
    ارے کچھ اپنے ہی عقیدوں کو پڑھا ہوتا جھوٹ بولتے ہوئے
    تمہارا عقیدہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاضر ناضر
    رسول ہر جگہ پر موجود
    ارے جب رسول حاضر ناضر ہیں وہ مدینے سے آئے کیوں وہ تو پہلے وہاں پرتھے !!!!!

    وہ فرمانے لگے:
    میں نبی کے قدموں پر بیٹھ گیا جوتیوں کو میں نے پکڑ لیاچومنا شروع کردیا کہ اللہ کے رسول غلطی ہوگئی معاف کردو
    واپس نہ جاو ¿
    واپس نہ جاو ¿
    واپس نہ جاو ¿
    اور نبی نے سات مرتبہ کہا: نہیں، واپس جاو ¿ں گا، واپس جاو ¿ں گا،واپس جاو ں گا،
    آٹھویں دفعہ نبی نے کہا، ہاں طاہر میری شرطیں ہیں
    ان شرطوں کو تو مان لے میں وعدہ کرتا ہوں
    سات دن تیرے پاس رہوں گا

    کاش ہم میں اسلام کی غیرت ہوتی، کاش ہم میں نبی کی وہ محبت ہوتی
    صحابی کو سولی پرچڑھایا اور کہنے والے نے کہا
    کاش میری جگہ پرآج محمد سولی پر ہوتے
    اس نے کہا ظالمو کس جملے کو زبان سے ادا کیا
    تم یہ کہتے ہو کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے یہ فقرہ کہہ دوں
    اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں چاہتا محمد کے پاو ں میں کانٹا چبھ جائے
    کاش تمہارا ایمان اس عورت کی طرح ہوتا۔۔۔
    اس کے بیٹے جہاد میں، اس کا خاوند جہاد میں، اس کا باپ جہاد میں
    کہنے والے نے کہا:تیرا بیٹا شہید ہوگیا،اس نے کہا: الحمد للہ! مجھے بتاوءمیرا محمد کیسا ہے (صلی اللہ علیہ وسلم)
    اس نے کہا: تیرا خاوند قتل ہوگیا: اس(عورت) نے کہا: الحمدللہ ! مجھے بتاوءمیرا محمد کیسا ہے(صلی اللہ علیہ وسلم)
    اس نے کہا: تیرے دونوں بیٹے قتل کر دیئے گئے: اس(عورت) نے کہا:
    الحمدللہ ! مجھے بتاوءمیرا محمد کیسا ہے(صلی اللہ علیہ وسلم)
    میدان میں پہنچی آقا کے چہرے کی زیارت کی اور کہنے لگی، اللہ کی قسم، میرا خاوند شہید ہوا، بیٹے قتل ہوئے ، باپ قتل ہوا، بھائی قتل ہوئے لیکن نبی تیرا چہرہ دیکھ کردنیا کا ہر غم دور ہو گیا
    کاش تمہارا ایمان بھی ایسا ہوتا۔۔



    وہ کہنے والے نے کہا
    کہ میں آقا کے قدموں کو پکڑ کر بیٹھ گیاآقا نہیں جانے دوں گا، آقا نے کہا ٹھیک ہے،
    میری شرطیں مان لے، کہا حکم فرماوءشرطیں مانتا ہوں
    کراچی میں جس ہوٹل میں قیام کروں گا،
    اس ہوٹل کا خرچہ تو نے ادا کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج صدیاں گزر جانے کے بعد میرے نبی پر یہی الزام لگانا تھا، وہ نبی جو چٹائی پر سویا ہوا، کھجوروں کے بستر پہ، عمر دیکھ کے رونے لگ پڑے، آقا قیصروکسریٰ کے رہنے والے، قیصروکسریٰ کے ظالم، وہ گدوں پہ سوئیں وہ ریشم کے بستر پرآرام کریں، اور میرا آقا چٹائی پرآرام کرے، آقا حکم دو، آپ کے لیے گدا بنایا جائ ے۔ آقا اٹھ کہ بیٹھ گئے کہا عمر تو نہیں چاہتا یہ دنیا والے دنیا میں مزے کریں، تم اور محمد جنت میں مزے کریں (صلی اللہ علیہ وسلم)
    وہ آقا کہ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کی وفات کا وقت آیا، میرے گھر میں اتنا تیل نہیں تھا کہ میں وہ تیل جلا کراپنےمحبوب کے چہرے کوہی دیکھ لیتی
    نبی کی وفات کا وقت آیا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے کہا: کئی کئی مہینے گذر جاتے، محمد کے گھر میں آگ نہ جلتی، چولہے نہ جلتے، پوچھنے والے نے پوچھا، جب چولہے نہ جلتے، آگ نہ جلتی، گذارہ کیسے ہوتا ؟
    کہنے لگیں:
    دو کالی چیزہوں پر پانی پی لیتے،کھجوریں کھا کراللہ کا شکر ادا کرلیتے

    اور آج زبان کیسے دراز ہوئی
    اپنے پیٹ کی جہنم بھرنے کےلیے

    نبی پر الزام کیا لگایا:
    نبی نے کہا:
    کراچی میں جس ہوٹل میں رہوں گا اس کا کرایہ تو نے دینا ہوگا،
    کھانے کا بل تیرے ذمہ ہوگا، سنا ہے تمہارا فیصل آباد میں اجتماع ہو رہا ہے اس اجتماع میں میں بھی تشریف لے جاو ¿ نگا، وہاں آنے جانے کا کرایہ تیرے ذمہ ہوگا اور جب سات دن پورے ہوجائیں گے میں مدینے واپس لوٹوں گا، مدینے کا ریٹرن ٹکٹ تو نے کر دینا ہوگا

    اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے اور اس نے کہا کہ میں مسکین اپنے نبی سے یہ وعدہ کر بیٹھا، اب یہ سارا کام تم نے کرنا ہے
    لوگوں نےاپنی جیبوں کو اس کے قدموں میں خالی کردیا، عورتوں نے اپنی بالیاں اتار کر نبی کے نام پر اس کے قدموں میں قربان کردیں،
    لیکن او!
    اپنے پیٹ کی جہنم بھرنے والے مولویو، تمہیں ہاتھ صاف کرنے تھے، تم نے عزت پر ڈاکہ ڈالنا ہی تھا، تمہی دنیا میں مجھ جیسا برا نہ ملا

    کاش تم یہ باتیں میری طرف منسوب کرتے
    کاش یہ جملے دنیا کے کسی بندے کی طرف منسوب کرتے
    تم نے اس کی طرف منسوب کیں جو دنیا میں دعائیں کرتا تھا:
    اللہ!مجھے مارنا، غربت کی حالت میں، زندہ رکھنا غربت کی حالت میں
    قیامت میں اٹھانا غریبوں کا ساتھ دے کر
    جس نے ساری عمر غربت میں گذاردی اور آج کے یہ مسلمان
    آج کے یہ نام نہاد مسلمان اس نبی کی عزت پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں

    کب اٹھو گے؟
    کب اپنے دین کی طرف پلٹو گے ؟
    کب محمد کی عزت کا خیال کرو گے ؟
    کب نبی کی عزت پر پہرے دو گے
    وہ کونسا وقت آئے گا؟ وہ کونسا دن ہوگا؟
    جب تمہاری غیرت تمہیں جھنجوڑے گی؟
    وقت تو وہ تھا،اسلام تو ان کے لئے تھا، مسلمان تو وہ تھے
    نبی مدینے میں آئے رات کو سوئے ہوئے
    دروازے پرکھٹ کھٹ سنی
    ٓآخری پہر۔۔۔ باہر نکلے ، دیکھا
    ابوایوب انصاری پہرہ دے رہے
    کہا: ابو ایوب تو پہرہ کیوں دے رہا، تجھے کس نے کہا پہرہ دینے کو؟
    کہنے لگے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!
    میں سویا ہوا تھا، میرے دل میں خیال آیا
    کہیں یہ نہ ہو، کہیں یہ نہ ہو۔۔۔۔
    نبی مدینے میں آئے ہوئے،
    نبی میرے مہمان،
    میں سوتا رہ جاوں، میرے سوتے میں کوئی نبی پر وار کر جائے میرا ایمان مجھے سونے نہ دے رہا تھا
    میری نیند میرے ایمان نے بگاڑ کے رکھ دی
    میرے ایمان نے کہا، اسلحے کو اٹھا ، سینے پر تان اور نبی کی جوتیوں پر پہرہ دینا شروع کردے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے واپس لوٹے
    نئی بیوی آپ کے ساتھ، حضرت عمر سوئے ہوئےسوتے ہوئے آنکھ کھل گئی
    اسلحہ اٹھایا، نبی کے خیمے پر آگئے
    اور نبی کریم نے اسلحے کی آواز سنی
    اٹھ کر باہر آئے کہا عمر تمہیں کس نے کہا پہرہ دینے کو ؟
    تمہاری ڈیوٹی کس نے لگائی
    کہا: اللہ کے رسول، میرے ایمان نے میری ڈیوٹی لگائی کہ یہودیوں کی ایک عورت آپ کے گھر کے اندر، آپ کے حجرے کے اندر اور ہم نے ان کے قبیلے کو ختم کردیا کہیں یہ سازش نہ ہو، کہیں آپ پر حملہ نہ ہو۔۔۔
    عمر سوتا رہ جائے ۔۔۔
    اور عمر کے نبی پر حملہ ہوجائے
    عمر کے ایمان کا فائد ہ کیا ہے ؟؟؟؟؟
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 03، 2014 #3
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اس نے اس جھوٹ پر بس نہیں کیا
    پھر کہنے لگا
    میں مدینے میں گیا اور مدینے کی مسجد نبوی پہ
    حج کا موقع ایک شخص آذان دینے کے لئے اٹھا
    اور قبر نبوی سے آواز آئی آذان دینے والے موذن بیٹھ جاو ¿، میری مسجد میں میرا طاہر آذان دے گا
    اور پھر میں نبی کی قبر پر کھڑا ہو گیا
    نبی کی قبر مبار ک شق ہوئی
    آقا ئے نامدار باہر آئے
    باہر آ کر مجھے گلے سے لگایا
    میرا بوسہ لیا، مجھے بھینچا
    بہت محبت کا اظہار کیا اور پوچھا :
    اے طاہر تیرے پاس سفید کاغذ ہے ؟
    میں نے کہا آقا نہیں ۔۔۔ میرے پاس سفید کاغذ نہیں
    کہاجاو ¿: باہر سے سفید کاغذ لے کر آو ¿
    طاہر سفید کاغذ لے کر آیا اور کہنے لگا،
    رسول کے یہاں قلم مبارک لگا ہوا تھا
    آپ نے و ہ قلم مبارک نکالا
    اور نکال کر اپنے دست مبارک سے میر ے لئے جنت کی سند لکھ کر دی
    میرے لئے جنت کا سرٹیفکیٹ لکھ کر دیا
    اور پھر اپنی جیب سے اپنی مہر نبوت نکالی
    مہر مبار ک نکالی اور میرے جنت کے کاغذ پر ختم لگا کر میرے حوالے کر دیا
    اور پھر کہا، طاہر
    پاکستان میں جاو ، پاکستان میں جا کر ادارہ منہاج القرآن بناو ¿ میں محمد وعدہ کرتا ہوں تیرے ادارے کی زیارت کے لئے ضرور آو ں گا

    اگر نبی نے پوچھ لیا:
    جوان تیری جوانی کے لمحات کہاں صرف ہوتے تھے
    جب دین کے حلیے بگاڑے جا رہے تھے ، تیری غیرت کہاں تھی، تیرا ایمان کہاں تھا؟
    تیری جوانی کا فائدہ کیا
    بتا جب دین کے جنازے نکلے تو نے اپنی جوانی سے میرے دین کی کیا حفاظت کی
    اگر نبی نے قیامت کے دن تمہیں پکڑ لیا اس کا جواب آج تیار کرلو۔
    اس کا جواب آج سوچ لو۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 03، 2014 #4
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    سوال : مولانا صاحب آپ نے طاہر القادری کے خواب کے متعلق فرمایا، یہ ضروری تو نہیں جو خواب میں دیکھا ہو وہ حقیقت ہو خواب کی تعبیر کچھ اور بھی تو ہو سکتی ہے،
    جواب: میرے بھائی، خواب اور خیال اس کیسٹ کے دو نام ہیں ایک موقع پر وہ خواب ذکر کرتا ہے،پھر آگے خیال ذکر کرتا ہے اور خواب صرف نبی کے سچے ہوا کرتے ہیں، نبی کے سچے خوابوں کے علاوہ کسی کے خواب کی کوئی گارنٹی نہیں، پھر نبی کی حدیث ہے سچا خواب دیکھو بیان کرو، برا خواب دیکھو خاموش ہو جاو ، کسی کو نہ بتاو
    فرض کیا۔ ۔ ۔ ۔
    ہم تو کہتے ہیں یہ ڈرامہ بازی ہے
    فرض کیا، مولانا نے خواب دیکھا ۔ ۔ ۔
    پھر اس میں نبی کی توہین ہے۔۔۔
    اس خواب میں نبی کی توہین کہ نبی کرایہ مانگے، نبی کھانے کے پیسے مانگے
    نبی ہوٹل کا ٹکٹ مانگے
    نبی واپسی کا مدینے کا ٹکٹ مانگے
    نبی جنت کی ٹکٹ لکھ کر دے
    اگر اس نے یہ برا خواب دیکھ ہی لیا
    اس پر خاموشی لازمی تھی
    اس نے اس کی وڈیو بنوائی ، آڈیو بنوائی،اخبار ات میں چھاپا، دنیا میں نبی کی اس توہین کا اس نے علی الاعلان علان کیا
    یہ بات حرام ہے
    یہ نبی کی توہین ہے
    یہ گستاخی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
    محمد کی گستاخی پر کوئی مسلمان چپ نہیں رہ سکتا
    اس کا رد کرنا فرض عین ہوا کرتا ہے

    ---- یہ پوسٹ مکمل ہوئی ---------------------
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 03، 2014 #5
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اس تقریر کا آڈیو لنک یہاں ہے۔ اس تقریر کے پہلے 31 منٹ سید توصیف الرحمٰن صاحب کی تقریر پر مشتمل ہیں اس کے بعد طاہر القادری کی تقریر بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
     
  6. ‏مئی 03، 2014 #6
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    227
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    آئیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں رکھتے ہوئے طاہر القادری کی اس متنازعہ تقریر میں سے اقتباس پڑھتے ہیں جو کہ ثبوت کے طو رپر پیش خدمت ہے
    ---------------
    ---------------
    ---------------
    واپس جارہے ہیں، میں کھڑا رہتا ہوں
    یہ سن کر کہ کیا ماجراہوا، لوگ واپس جاتے ہوئے
    جاتے رہے، جاتے رہےحتیٰ کہ چند ایک لوگ رہ گئے آخر میں میں بھی ان میں تھا
    اور آقا باہر تشریف نہیں لائے
    باہر تشریف۔۔۔۔۔
    اتنے میں باقی اکا دکا جو کھڑے تھے وہ سارے چلے گئ ے
    کوئی شخص باقی نہیں رہ گیا
    ایک تنہا میں کھڑا ہوں اس دیوار کے سامنے
    میں تک رہا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو۔۔۔
    آپ بستر پر دراز ہیں
    اور لیٹے لیٹے حضور میری طرف تھوڑا سا تکتے ہیں اور مسکرا دیتے ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ کا نعرہ لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس طرح ہورہا ہے
    آرزو آتی ہے دل میں کہ کاش آقا باہر تشریف لائیں
    اتنی دیر میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام باہر تشریف لاتے ہیں
    سامنے سے گزر کر دوسرے کمرے میں تشریف لے جاتے ہیں، دوبارہ وضوفرماتے ہیں
    وضو فرما کہ واپس پھر اس کمرے میں آتے ہیں اور مجھے اندر بلا لیتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سبحان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور صوفہ یا کرسی، کوئی صوفہ پڑا ہوا ہے
    اس پہ آقاتشریف رکھتے ہیں اور میں حضورعلیہ السلام کے قدموں سے لپٹ کر حضور کے قدموں میں زمین پر بیٹھ جاتا ہوں، قدمین شریفین سے لپٹ کے نیچے بیٹھ جاتا ہوں، اور آقا گفتگو کا سلسلہ شروع فرماتے ہیں
    اور فرماتے ہیں مجھے طاہر:
    میں اہل پاکستان کی دعوت پر اور یہاں کے دینی اداروں اور دینی جماعتوں اور علماءکی دعوت پر پاکستان آیا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر۔نعرہ لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اہل پاکستان نے مجھے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی یہاں کہ دینی ادارے دینی جماعتیں اور علماءانہوں نے مجھے دعوت دی تھی ان کی دعوت پر میں یہاں آیا تھامجھے دعوت دے کر انہون نے میری قدر نہیں کی
    میری میزبانی نہیں کی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طاہرالقادری رونے کی ایکٹنگ شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور میں اہل پاکستان سےناراض ہو کر مدینہ واپس جارہا ہوں
    ان دینی اداروں سے، دینی جماعتوں سے علماءسے، ناراض ہو کر
    آپ نے فرمایا انہوں نے مجھے بڑا دکھ دیا ہے
    انہوں نے مجھے
    بڑادکھ دیا ہے
    دعوت پہ بلایا ہے میری میزبانی نہیں کی
    یہاں تک فرمایا کہ۔۔۔۔۔ بڑی تفصیلات بیان فرمائیں، میری قدر نہیں کی، کوئی اہتمام نہیں کیا، کوئی میزبانی نہیں کی اور مجھے بڑا دکھ پہنچایا ہے، میں اب دکھی ہو کر میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اب پاکستان چھوڑ کر واپس جارہا ہوں اس لئے میں لوگوں سے نہیں ملا
    میں اب پاکستان چھوڑ کے واپس جا رہا ہوں
    بس میں یہ بات سن کر حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے قدموں میں گر جاتا ہوں
    قدمین شریفین پکڑ لیتا ہوں چمٹ جاتا ہوں
    چومتا ہوں
    روتا ہوں
    چیختا ہوں
    ہاتھ جوڑتا ہوں اور عرض کرتا ہوں۔۔۔۔
    آقا، خد ا کے لیے فیصلہ بدل لیجئے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر القادری سسکیاں لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رونے کا باقاعدہ آغاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور پاکستان چھوڑ کے نہ جا ئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عوام بھی طاہر کے ساتھ رونے میں شریک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان چھوڑ کے نہ جائیے
    نظر ثانی فرمائیے فیصلے پرآقا فرماتے ہیں، نہیں طاہر تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے مجھے بڑا دکھ دیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ اونچی آواز میں رونا شروع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بار بار ایسا فرماتے ہیں
    کہ انہوں نے دعوت دی تھی
    انہوں نے۔۔۔۔۔
    ان کی دعوت پر آیا تھا
    اور بلا کر میر ی عز ت نہیں کی
    انہوں نے بلا کرمیری عزت نہیں کی
    اور بڑا دکھ دیا ہے۔۔۔
    میںنے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب میں پاکستان چھوڑ کے واپس چلا جاو ¿ں گا
    (بس میں روتا جا رہا ہوں)
    اور التجائیں کر رہا ہوں رو رو کرآقا کرم کیجئے
    پاکستان چھوڑ کے واپس نہ جائیے
    مجھے حکم فرمائیے کہ کیا کوئی صورت ہو سکتی ہے حضور آپ کے یہاں رہ جانے کی
    میں پوچھتا ہوں ۔۔
    بار بار فرماتے ہیں:
    نہیں، میں واپس جانے کا فیصلہ کر چکا ہوں،بڑادکھ دیا ہے
    یہ اصرار کے ساتھ فرما رہے ہیں اور میں روتا جا رہا ہوں
    قدم میں نے پکڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہوں حضور نہیں جانے دیں گے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رونے کی شدت میں اضافہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حضور نہیں جانے دیں گے،
    حضور آپ کرم فرمائیں ، نظر ثانی فرمائیں
    بڑی دیررونے التجا کرنے کے بعد
    آقا کی طبیعت مقدسہ میں کچھ پیار آتا ہے، شفقت آتی ہے، غصہ مبارک ذرا ٹھنڈا ہوتا ہے
    اور فرماتے ہیں طاہر! اگر مزید پاکستان میں مجھے ٹہرانا چاہتے ہو تو اس کی صرف ایک شرط ہے
    مجھے پاکستان میں مزید ٹہرانا چاہتے ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رونے کی ایکٹنگ جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    توصرف ایک شرط ہے
    تم اس شرط کے پورا کرنے کا وعدہ کر لو میں وعدہ کرتا ہوں
    میں نے عرض کیا حضور فرمائیں تو صیح وہ شرط کیا ہے؟
    وہ شرط کیا ہے؟
    جو کچھ ہو سکا ہم کریں گے
    ُآپ فرماتے ہیں کہ طاہر اگر چاہتے ہو میں پاکستان میں رک جاو ¿ں
    تو شرط صرف یہ ہے کہ میرے میزبان تم بن جاو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ طاہر اور audienceدونوں کے رونے کی شدت میں اضافہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے میزبان تم بن جاو
    میں عرض کرتا ہوں: آقا مجھے انکار نہیں
    بڑی سعادت ہے، پر میں اس قابل کہاں؟؟؟
    میں تو بڑا کمزور ا و ر ناتواں آدمی ہوں
    حضور میں میزبانی کیسے کرسکوں گا؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طاہر آہیں بھر بھر کر رو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھ سے کیسے میزبانی ہو گی؟
    فرماتے ہیں: بس شرط ایک ہے، تم مجھ سے وعدہ کرلو
    مجھ سے وعدہ کرلو، میری میزبانی کا
    تم وعدہ کرلو، پھر میں رکنے کا وعدہ کر لیتا ہوں
    میں رو رو کے ہاتھ جوڑ کے عرض کرتا ہوں، حضور میں نے آپ سے وعدہ کر لیا ہے
    میں میزبان بنتا ہوں حضور کا
    فرماتے ہیں طاہر تو نے وعدہ کیا
    تومیں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ میں رک جاتا ہوںاور فرمایا کہ میں مزید سات دن پاکستان میں تمہارے کہنے پر کر لیتا ہوں
    سات دن مزید رہوں گا یہاں۔۔۔
    میں سات دن مزید یہاں رہنے کا وعدہ کر لیتا ہوں
    ۔۔۔۔ اب میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ سات دنوں سے مراد کیا ہے؟
    وہ کتنی مدت ہے ؟
    یہ وہی جانتے ہیں؟
    اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے مجھے
    سات دنوں سے مراد کتنی مدت ہے؟
    فرمایا سات دن میں رکتا ہوںتمہاری میزبانی میں
    میں نے کہا: حضورمجھے منظور ہے
    پر یہ کیسے ہوگا سب کچھ
    فرمایا: تم عہد کر لو بس سب انتظام ہو جائے گا
    سب انتظام ہو جائے گا
    حضور مجھ سے فرماتے ہیں:
    ایک بات اور، وعدہ کرو مجھ سے
    میرے ٹہرنے کا انتظام بھی تم نے کرنا ہو گا
    میرے کھانے پینے کاانتظام بھی تہارے سپرد ہوگا
    پاکستان میں جہاں کہیں آوں گا ، جاو ¿ں گا وہ ٹکٹ اور وہ انتظام بھی تمہارے سپرد ہوگا
    اور جب واپس مدینہ جانا ہوگا تو مدینے تک کا ٹکٹ بھی تم لے کر دو گے
    یہ سارا انتظام تمہارے سپرد ہوگا
    میں یہاں رک جاتا ہوں
    اس وقت آقا نے فرمایا تم ادارہ منہاج القرآن بناو میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہاں آو ¿ں گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ کافی دیر تک روتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حاضرین اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ جو شخص اس طرح وعدہ کر چکا ہو
    اسے سفر تنہا ہی کیوں نہ کرنا پڑے وہ کیسے پھر سکتا ہے ؟ میرا تو ایمان جاتا ہے، ایمان کا مسئلہ ہے
    اور یہ جو کچھ پاکستان میں ہو گیا ہے دین کے ساتھ یہ کیا سب اس امر کی طرف اشارہ نہیں تھا ؟
    آقا نے فرمایا انہوں نے مجھے بڑا دکھ دیا ہے
    دوستو! مبار ک ہو آپ کو کہ ان سب کے کئے کرتے کے بعداب میزبانی حضور نے اپنی آپ کو سپرد کی ہے
    اس منہاج القرآن کو سپرد کی ہے میزبانی
    اور وعدہ لیا ہے، آپ کی طرف سے وعدہ لیا ہے، اس میزبانی کا
    کیا مراد ہے اس میزبانی سے؟
    کیا اسلام کا نفاظ مراد نہیں ہے؟
    کیا اس سے مراد اسلام کا نفاظ نہیں ہے؟
    اسلامی انقلاب نہیں ہے، یا اس کے علاوہ کچھ
    اس لئے دوستو اگر اب اپنا تن من دھن اسلام کے لئے نہیں لٹاتے تواپنا ایمان جاتا ہے
    میں تو آقا سے وعدہ کرچکاہوں آپ وعدہ کرتے ہیں یا نہیں

    ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ لوگ ایک دفعہ پھررونے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دوستو! یہ سات دن کا ارشاد ، اس کا مفہوم میں واضح طور پہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے مراد کتنی مدت ہے؟
    مگر یہ قیام مشروط ہے
    یہ قیام۔۔۔ مشروط فرمایا ہے سات دنو ں سے
    چاہیںتو بڑھا دیں، چاہیں گھٹا دیں
    کیا معلوم،میزبانی بھی پسند آئے یا نہ آئے
    ڈر لگتا ہے کہ بڑا اونچا مہمان ہے کہیں ناراض نہ ہو جائے
    یہ مشروط وعدہ ہے، اس لئے ہم طویل وقت کے انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے
    کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر اس کرم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں
    اس کرم سے ہاتھ دھو بیٹھیں
    پھر منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے
    ہمیں اٹھ کھڑاہونا چاہیے انقلاب لانے کے لئے
    انقلاب کے لئے اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔

    یہاں یہ بات بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ اس نشست کے بعد طاہر القادری نے لوگوں کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو exploitکرکے لاکھوں کروڑوں روپے بٹورے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 22، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,989
    موصول شکریہ جات:
    6,516
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12002199_597709707033961_4449626121497323502_n.jpg


    خوابوں کی داستانیں سنانے والے :

    عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :"إن من أفرى الفرى أن يري عينه ما لم تر "

    (صحیح البخاری: 6636 باب من كذب في حلمه)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں