1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طلاق کا شرعی فلسفہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏جون 02، 2013۔

  1. ‏جون 02، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    طلاق کا شرعی فلسفہ


    ممکن ہے کہ کوئی شخص طلاق کے شرعی ہونے کے بارے میں اعتراض کرے اور یہ کہے: اگر طلاق کا قانون بنانے والا اسے ناپسند کرتا تھا تو اس نے اسے حرام کیوں نہیں کیا ہے۔؟ یعنی حلال ہونا اور ناپسند ہونا دونوں ایک ساتھ کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اسلام نے طلاق کو کیوں جائز قرار دیا اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟

    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اگرچہ طلاق ایک ناپسندیدہ کام ہے لیکن بعض مواقع پر اس کی واقعاً ضرورت پڑتی ہے اور ہم اسے روک نہیں سکتے ہیں جیسے : انسان کے اعضاءبدن کا بدن سے جدا ہونا ایک دردناک اور ناپسندیدہ کام ہے لیکن بعض صورتوں میں ان اعضاءکو کاٹنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ انسان کی بھلائی اسی میں ہے۔ لہٰذا اگر مشترکہ زندگی کو جاری رکھنا شوہر اور بیوی کے لئے بے حد تکلیف دہ اور دردناک یا ناقابل تحمل ہو اور طلاق کے علاوہ کوئی دوسری راہ موجود نہ ہو تو طلاق اس کا بہترین راہ حل ہے۔

    مثال کے طور پر میاں بیوی کے عشق و محبت کی آگ بالکل ٹھنڈی ہو جائے، شوہر اپنی بیوی کو پسند نہ کرے اور عورت بھی اپنی جاذبیت اور کشش کو اپنے ہاتھ سے دے دے۔ ان کی مشترکہ زندگی بالکل کھوکھلی ہو چکی ہو۔ مختصر یہ کہ وہ گھر جس میں پیار و محبت نہ ہو، وہ ایک تاریک اور وحشت ناک کوٹھری ہے نہ یہ کہ شوہر اور بیوی کے آسائش اور آرام کی جگہ : در حقیقت یہ ایک قید خانہ اور بھٹی ہے جو پورے گھر کو جھلسا کر راکھ کردے گی زوجہ اور شوہر کا رشتہ ایک فطری رشتہ ہے جو شوہر اور بیوی کے درمیان قائم ہوتا ہے اور یہ دوسرے سماجی معاہدہ مثلاً بیع، اجارہ، رہن اور صلح وغیرہ سے بالکل جدا ہے۔ کیونکہ یہ سب ایسے معاہدے ہیں جو صرف سماجی اور قانونی ہیں اور ان میں فطرت ، دل اورجذبات کا کوئی دخل نہیں ہے اس کے برخلاف شادی ایک فطری رشتہ ہے اور اس کی جڑیں انسانی فطرت اور شوہر و بیوی کے قلبی جذبات اور فطری خواہشوں میں پیوست ہیں ۔

    شادی درحقیقت شوہر اور بیوی کے درمیان ایک طرح کی اندرونی کشش ہے جس سے وہ اتحاد کی طرف راغب ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی قربت اور ہم دلی ہی اس کا بہترین نتیجہ ہے، یہ جاذبیت اور کشش مختلف میاں بیویوں کے درمیان الگ الگ انداز میں پائی جاتی ہے۔ مرد کی طرف سے عشق اور پسند کرنے کی صورت میں چاہنا اور عورت کو اپنے اختیار میں لینے کی خواہش کی صورت میں بیوی کو چاہنا او ر عورت کی طرف سے خود کو سجانا، پرکشش ہونا، دل کو تسخیر کرنا اور مرد کے دل کو ہاتھ میں لینا ہے۔ لہٰذا مرد چاہتا ہے اپنی محبوبہ کو قبضہ میں لے لے ، لیکن عورت چاہتی ہے شوہر کی محبوبہ بنی رہے اور اس کے دل کو اپنی مٹھی میں لئے رہے۔

    گھر کی بنیاد ان دوستونوں پر رکھی ہے اور اگر زوجہ اور شوہر اپنی اندرونی خواہش تک پہنچ جائیں تو گھر کا ماحول گرم، بے تکلف اور خوبصورت بن جائے گا، مرد گھر کی طرف دل گرم اور پر امید رہے گا اور ان کے آرام اور سکون کو فراہم کرنے کے لئے کوشش اور فداکاری کرے گا، عورت بھی اپنے کو کامیاب اور خوش بخت سمجھے گی اور شوہر داری ، گھر داری اور بچہ داری میں اپنی کوشش بھرفداکاری کرے گی۔

    لیکن اگر مرد اپنی بیوی کو پسند نہ کرے اور وہ اسے دیکھنا بھی نہ چاہے اور عورت کو بھی یہ احساس ہو کہ وہ اس کی نظروں سے گر چکی ہے اور اس کا شوہر اسے پسند نہیں کرتا ہے تو پھر گھر کے دو بنیادی ستون بالکل منہدم ہو جائیں گے جس سے پورا گھر ویران ہو سکتا ہے۔ ایسے گھروں میں زندگی بالکل بے مزہ اور شوہر بیوی کے لئے بہت دشوار اور درد سر بن جاتی ہے اور اسی شکل میں اسے جاری رکھنا دونوں میں سے کسی ایک کے حق میں بھی بہتر نہیں ہے ، ایسی صورت میں اگرچہ اسلام طلاق کو ناپسند کرتا ہے لیکن ایسی مشکلات میں اسے بہترین راہ حل جانتا ہے اور ایسے ہی مواقع کے لئے اس نے طلاق کا قانون بنایا ہے۔

    دوسرا موقع وہ ہے کہ جب شوہر اور بیوی کا اخلاق ایک جیسا نہ ہو بلکہ دونوں کے اوپر دو طرح کی فکریں مسلط ہوں جیسے : دونوں خود خواہ، کینہ پرور اور ضدی ہوں دن رات لڑائی ، جھگڑا کرتے رہتے ہوں ، کسی کی نصیحت کو نہ سنتے ہوں اور اپنی اصلاح کے لئے کسی بھی طرح راضی نہ ہوتے ہوں ، تو ایسے گھر میں زندگی گزارنا بہت سخت اور مشکل ہے اور ان کا ایک ساتھ رہنا نہ عورت کے فائدہ میں ہے اور نہ ہی مرد کے لئے مفید ہے ایسی صورت کا بہترین راہ حل طلاق ہے اور اسلام نے اسی راہ حل کو تجویز کیا ہے۔

    اسی بناءپر بعض اوقات طلاق سماج کی ضرورت اور ان کا بہترین راہ حل ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ اگرچہ بعض مواقع کے لئے طلاق کو تجویز کیا گیا ہے لیکن طلاق کا قانون تو عام ہے اور یہ بعض ہوسباز مردوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے بہانے کی وجہ سے اپنی مظلوم بیوی کو طلاق دے دیں کہ جس نے اپنی جوانی، طاقت، صحت اور شادابی کو اس بے وفا مرد کے گھر میں قربان کردیا اور اس کے بعد وہ مرد اس کے مانوس گھر سے اسے جدا کردے اور کچھ دنوں بعد دوسری شادی کرلے۔ کیا ایسی طلاق کا جائز ہونا اس عورت پر ظلم نہیں ہے۔

    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے: اسلام بھی ہوس بازی اور اس طرح کی نامردوں جیسی طلاق کا مخالف ہے۔ اس نے اس کے اسباب کا بہت سختی سے مقابلہ کیا ہے۔ اسی لئے اس نے طلاق کے کچھ شرائط اور قوانین بنائے ہیں اور اسے روکنے کے لئے حتی الامکان رکاوٹیں کھڑی کی ہیں ۔

    لیکن اگر کسی بناءپر بھی عورت اپنی محبوبیت، جاذبیت اور پیار و محبت کو گنوادے اور مرد کے لئے قابل نفرت بن جائے تو اس کے لئے کیا کیا جائے اور اس کا راہ حل کیا ہے؟ کیونکہ عورت یہ احساس کرتی ہے کہ وہ مرد کی من پسند بیوی اور اس کے گھر کی آئیڈیل خاتون نہیں ہے اور اس کا شوہر اس سے نفرت کرتا ہے اور اس طرح کا دردناک اختلاف عورت کی بہت بڑی ذلت اور توہین ہے تو پھر کیا یہ مصلحت ہو سکتی ہے کہ ایسی عورت کو قانون مجبوراً گھر میں قید رکھے اور دونوں کو جدا ہونے سے منع کردے؟

    یقینا قانون کے زور پر عورت کو گھر میں رہنے اور مرد کو نفقہ دینے پر تو مجبور کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے درمیان پیار و محبت کا رشتہ پیدا نہیں کیا جاسکتا جو ایک گھریلو زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اس جگہ پر بھی اسلام اگرچہ طلاق کو ناپسند کرتا ہے مگر اس نے اس کے لئے طلاق کو بہترین راہ حل قرار دیا ہے۔

    ممکن ہے کوئی یہ کہے طلاق بعض جگہوں پر ضروری اور بہترین راہ حل ہے تو اس کا حق فقط مردوں کے لئے کیوں ہے؟ کیونکہ بالکل اسی طرح کے احتمالات عورت کے لئے بھی پائے جاتے ہیں ممکن ہے کوئی عورت اپنے شوہر کو پسند نہ کرے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے سے بیزار ہو۔ کیا ایسے مواقع کے لئے بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر انس و محبت نہ ہو تو مشترک گھریلو زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے عورتوں کو بھی یہ حق دینا چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو طلاق دے دیں اور شادی کے اختتام کا اعلان کردیں۔

    اس کے جواب میں ہم کہیں گے عورت کی بے رغبتی کو ہم گھریلو زندگی کے خاتمہ کا سبب نہیں سمجھ سکتے بلکہ یہ مرد کی تقصیر یا ازدواجی زندگی میں بیوی کے حقوق کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ عورت کے انس و محبت کی کنجی درحقیقت مرد کے اختیار میں ہوتی ہے اگر مرد واقعاً اپنی بیوی کو چاہے ، اسے بے حد پسند کرے ، اس کے حقوق کو بھی ادا کرتا رہے اور اپنے اخلاق و کردار کو سنوارلے تو بیوی بھی عام طور سے اس سے مانوس رہتی ہے اور اسے پسند کرنے لگتی ہے اور وہ بھی یہ کوشش کرتی ہے کہ مرد کے دل کو اسی طرح اپنا گرویدہ بنائے رکھے۔مختصر یہ کہ اگر کوئی عورت اپنی مشترکہ زندگی یا اپنے شوہر کو پسند نہیں کرتی تو یہ مرد کے قصوروار ہونے کی علامت ہے۔

    ایسے موقع پر طلاق کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مرد کو اس کے شرعی فرائض اور عورت سے متعلق ان حقوق سے واقف کرائیں جن کا ادا کرنا بہت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی رفتار و گفتار اور اخلاق کے بارے میں نئے سرے سے غور و فکر کرے اور ہر ممکنہ طریقہ سے اپنی بیوی کا دل جیتنے کی کوشش کرے اور اسے ناامیدی سے نجات دلادے۔

    ممکن ہے کوئی سوال کرے اگر مرد اپنی بیوی کو مارتا ہو، اس کا نفقہ ادا نہ کرتا ہو، اس کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہو، اس کو اس کے حق ہم بستری سے محروم کردے یا اس کی جنسی خواہش کو پورا نہ کرتا ہو، اسے اذیت دیتا ہو یا اسے گالیاں دیتا ہو اور پھر طلاق بھی نہ دیتا ہو تو ایسی صورت میں عورت کا کیا حق ہے؟ کیا یہ کہا جائے کہ وہ صبر کرے اور شوہر کے مظالم کی آگ میں اسی طرح جلتی رہے یہاں تک کہ اسے موت آجائے اور ایسے مواقع پر اپنی آزادی کے لئے عورت کو طلاق کا حق کیوں نہیں دیا گیا ہے؟

    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اسلام کی بنیاد عدل و انصاف اور لوگوں کے حقوق کو ادا کرنے پر قائم ہے اور کبھی بھی وہ مرد کی ناشائستہ حرکتوں یا اس کے ظلم کو بیوی کے حق میں تجویز نہیں کرتا، بلکہ وہ شدت سے اس کا مخالف ہے اور عورت کے حقوق کا دفاع کرتا ہے۔

    عورت ایسے مواقع پر فیصلہ کرنے والے لوگوں سے رابطہ کرے گی اور ان سے یہ تقاضہ کرے گی کہ اس کے شوہر کو نصیحت کریں اور اسے عدل و انصاف اور اپنے فریضہ پر عمل کرنے کے لئے مجبور کریں ، اگر وہ اس میں کامیابی حاصل کرلے تو اپنی ازدواجی زندگی کو آگے بڑھائے گی، اور اگر وہ حق ادا کرنے سے منع کرے تو وہ اپنی شکایت کو حاکم شرع اسلامی یا گھریلو کورٹ میں لے جائے گی، اسلامی حاکم شرع ظلم کرنے والے مرد کو بلائے گا اور اس سے کہے گا کہ ظلم و ستم نہ کرے اور اپنے فریضہ پر عمل کرے۔ اگر مرد اس بات کو قبول نہ کرے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کرے گا اور منع کرنے کی صورت میں حاکم شرع خود اس عورت کو طلاق دے دے گا اور اس کے حقوق بھی مرد سے لے گا۔

    لنک
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  2. ‏جون 02، 2013 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاکم اللہ خیرا۔
     
  3. ‏جون 03، 2013 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ‏جون 04، 2013 #4
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    شکریہ غزنوی بھائی
    سرسری طور پر میں آپ کے اس فلسفہ سے متفق ہوں۔
    یقینا یہ فلسفہ آپ نے احناف کو متوجہ کرنے کے لئے شئیر کیا ہوگا۔ لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس فلسفہ میں اہل حدیث حضرات کے لئے زیادہ رہنمائی ہے۔ اور اگر اس شرعی فلسفہ کے اصول کو پورے نظام طلاق پر قابل عمل تسلیم کرلیا جائے تو مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے۔ کاش اہل حدیث حضرات اس اصول کی طرف توجہ فرمائیں۔ شکریہ
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ طلاق بذات خود ایک ناپسندیدہ عمل ہے لیکن بحالت مجبوری ، بوقت ضرورت اسے جائزرکھا ہے۔
    اس ناپسنددیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق آخری حربہ ہے اس سے قبل جہاں تک اصلاح کا امکان ہو تو اس کی کوشش کرنی چاہئے۔
    اسی نقطہ بنیاد اور آپ کے اصول پر میرے تین سوال ہیں۔
    لیکن پہلے قصہ مختصر


    ایک عورت اپنے شوہر کی وفا شعار بیوی ہے، بڑی نیک، پرہیزگار، متقی، خدمت گذار بیوی ہے، شوہر کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو احسن انداز میں پورا کرتی ہے، شوہر کو اس سے کوئی شکایت نہیں وہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ میری بیوی بڑی وفا شعار اور خدمت گذار ہے۔میری ضرورتوں کا خیال کرتی ہے، کبھی کوئی جھگڑا یا ناچاقی نہیں ہوئی۔
    لیکن دل اور عشق بڑا کمبخت ہے، اس کے شوہر کی نظر کسی دوسری عورت پر پڑتی ہے وہ اس سے شادی کے لئے تیار ہوجاتا ہے، اس کی بیوی کو کوئی اعتراض بھی نہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی نیک سیرت وفاشعار بیوی کو طلاق دے دیتا ہے، یا وہ عورت شرط رکھتی ہے اس شرط پر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔


    اب میرا سوال ہے۔
    1 کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی؟
    2 کیا یہ شخص گنہگار کہلائے گا اس سے مواخذہ ہوگا؟
    3 ایسی صورت دی گئی طلاق ، طلاق سنی یعنی سنت اور شرعی طریقہ کے مطابق تصور ہوگی یا طلاق بدعی یعنی بدعت تصور ہوگی؟
    امید کرتا ہوں کہ مجھے ان سوالات کا جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
    شکریہ
     
  5. ‏جون 04، 2013 #5
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    سرسری طور پر کیوں بھائی۔۔ گہری طور پر کیوں نہیں ؟
    1۔ ضروری نہیں ہوتا کہ جو بھی پوسٹ کی جائے، اس میں کوئی ایسی بات ہو، جو مقلدین کے دل ودماغ میں کھٹکتی ہو۔ تو اس سے یہ ہی مراد لی جائے کہ اس یوزر نے یہ بات احناف کو متوجہ کرنے کےلیے کہی ہے۔۔۔ اگر کوئی یوزر آتا ہے اور کہتا ہے کہ رفع الیدین کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔۔ کرنا چاہیے۔۔۔ اب وہ کیا منکرین رفع کو متوجہ کررہا ہے؟ یا سنت نبویﷺ بیان کررہا ہے۔۔۔ ہاں منکرین کو خود کان پڑ جایا کرتے ہیں۔ اور وہ خود بخود متوجہ بھی ہوجایا کرتے ہیں اور سمجھ بھی یہی لیا کرتے ہیں کہ یہ بات ہمیں ہی متوجہ کرانے کےلیے کہی گئی ہے۔
    2۔ اہل حدیث کو اس اصول پر عمل کرانے کی گزارش سے پہلے آپ ان چند لائن کو بھی ساتھ پڑھ لیں۔
    3۔ کاش مقلدین حضرات سرسری طور متفق نہیں بلکہ کلی طور متفق ہوجائیں، اور اس بات کو ماننے کے ساتھ کہ طلاق ناپسندیدہ عمل ہے۔ میں ڈھیل پیدا کردیں۔۔۔ کیونکہ شریعت کبھی یہ برداشت نہیں کرتی، کہ ایک ناپسندیدہ عمل کو فی الفور لاگو کردیا جائے اور اس میں گنجائش وغیرہ کو سرے سے نکال باہر پھینکا جائے۔
    متفق
    بحالت مجبوری ہے، اور پھر ہے بھی ناپسندیدہ عمل۔۔۔ جناب تو عقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ اس ناپسندیدہ عمل (جس کو شریعت نے خود ناپسندیدہ عمل کہا ہے) میں ضرور ڈھیل ہوگی اور ڈھیل کا ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔ اور وہ ڈھیل یہ ہے کہ جب ایک مجلس میں طلاق دینے والا تین طلاق دے دے تو اس کو تین نہیں سمجھا جائے۔۔۔۔ تبھی عقل اس بات کو تسلیم کرلے گی، کہ ہاں واقعی یہ ناپسندیدہ عمل ہے، تبھی تو سوچنے کے مواقع مختلف بنائے گئے ہیں۔۔۔ لیکن اگر سوچنے کے مواقع مختلف نہیں بلکہ ایک ہی مجلس کو قرار دے دیئے جائیں۔۔۔ تو معذرت کے ساتھ عقل بھی اس بات کی انکاری ہوجاتی ہے کہ یہ عمل پھر ناپسندیدہ نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔۔ تبھی تو شریعت فی الفور اس کو ایکسیپٹ کررہی ہے۔۔فتدبر
    متفق
    آپ کا قصہ سن لیا، پڑھ لیا ۔۔۔ اب آتے ہیں سوالات کی طرف
    کبھی کبھی سائل کے سوال پر کوئی سوال کرلیا جائے تو جواب سائل کے سامنے خود بخود آجایا کرتا ہے، اور ہی تعلیم شریعت نے ہی ہمیں دی ہے۔۔۔ سو اسی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ہم آپ سے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ بتائیں
    امید کرتا ہوں کہ مجھے ان سوالات کا جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
     
  6. ‏جون 05، 2013 #6
    ideal_man

    ideal_man رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    258
    موصول شکریہ جات:
    482
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    السلام علیکم!
    ابوالحسن علویکفایت اللہکلیم حیدر@شاکر@غزنوی@انس@رفیق طاھر
    کفایت اللہ
    کلیم حیدر
    شاکر
    رفیق طاھر
    انس
    موجودہ جماعت اہل حدیث کے اہل علم دوستوں کی توجہ اس مسئلے میں لائق تحسین سمجھتا ہوں۔
    میں یہاں یہ وضاحت کردوں کے اس سوال کو میں نے خاص اہل حدیث مکتبہ فکر کے لئے اس لئے منتخب کیا ہے کہ طلاق کی بعض صورتوں میں ان کے ہاں حکم الگ الگ ہے کس صورت میں ایک واقع ہوگی ، کس صورت میں تین اور کس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی اور کس صورت میں واقع ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ،
    لہذا درج بالا سوال کی صورت میں علماء اہل حدیث کا کیا موقف ہے اگر اس سے پہلے ایسا سوال اور جواب موجود ہے تو بڑی اچھی بات ہے اسے شئیر کردیا جائے، یا آپ اہل علم دوستوں کے ہاں اس پر تحقیق ہے تو جاری کردی جائے جس سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا وہاں اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی رہنمائی ہوگی۔
    شکریہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں