1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طنز و مزاح

'طنز ومزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد حسین, ‏دسمبر 22، 2018۔

  1. ‏دسمبر 22، 2018 #1
    ساجد حسین

    ساجد حسین مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    " شب زندہ دوست "

    علی الصباح میرے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی کہ بھائی اٹھ اٹھ ! دیکھ کہ موسم کس قدر رنگین اور حسین ہے اول اول تو بےیقینی سے اس جانی پہچانی آواز کو نظر انداز کرتے ہوئے رضائی کی لمبائی چوڑائی کا جائزہ لےکر چہرے پر تان لیا ؛ اسلیے کہ جس شخص کو بیس سال گزر جانے کے بعد بھی پتا نہ ہو کہ سورج کب طلوع ہوتا ہے اور طلوع کے وقت روشنی مدھم ہوتی ہے یا بالکل گیارہ بجے دن کی طرح تیز و تپش آمیز وہ شخص نسیم سحر گاہی کی بھینی بھینی خوشبوؤں سے لطف اندوزی کا درس کیسے دے سکتا ہے پھر خیال آیا کہ بھلا یہ پرہول شخص بھی کہیں خواب میں آسکتا ہے ؟ … دفعتاً اٹھ بیٹھا… سامنے سچ مچ وہ دیو پیکر متعفن ڈھیر شخص پوری آب و تاب کے ساتھ بیٹھا نظر آیا … قبل اس کے کہ وہ کچھ کہتا بےتحاشہ بغل گند سے میرا حس شامہ جواب دینے لگا تھا…کھڑا ہوتے ہوئے دریافت کر بیٹھا کہ پاجی! لگتا ہے آپ نے شروع سردی سے اب تک پانی کو تکلیف نہیں دیا ہے… کیا مطلب ؟ سمجھا نہیں یہ کہتے ہوئے اس نے سگریٹ سلگا کر ایک لمبا کش لیا… میرا مطلب ہے آپ کو نہائے ہوئے کتنے مہینے ہوگئے ہیں ؟ ۔ مجھے پتا تھا کہ گرمی کے موسم میں بھی بیوی کے اصرار پر ہی نہاتا تھا اور یہ اصرار کبھی کبھی مہینہ پر محیط ہو جاتا تھا۔ کہنے لگا بات یہ ہےکہ نومبر کی دو تاریخ کو میری چھوٹی سالی کی شادی تھی اسی میں نہانے کا اتفاق ہوا تھا اور چونکہ بیوی شادی کے دن سے اب تک میکے ہی میں ہے اور سردی بھی امسال نومبر ہی سے شروع ہوگئی تھی ، اسلیے اب تک اس کے بارے میں کچھ سوچا نہیں ہے.
    گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے آنے کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگا کچھ دنوں سے نیند نہیں آ پاتی ہے اور وجہ خود بیان کرنے لگا کہ جب جب سونے جاتا ہوں تو نیچے سے پتا نہیں سوئی کی مانند کوئی چیز پورے بدن میں چبھنے لگتی ہے اور آج تو حد ہی ہوگئی… نیند آتے ہی چہرے پر کسی چیز کے بسبسانے کا احساس ہوا.. ہاتھ پھیرا تو کچھ چھوٹے چھوٹے کیڑے نظر آئے.. مارنے کے بعد خون سے میرا ہاتھ لال ہوگیا ہے ۔اور اپنا ہاتھ میری طرف کر دیا جو سچ مچ بالکل لال سرخ تھا ۔ یہ تقریر دلپزیر سنتے ہی فوراً پوچھ بیٹھا کہ بستر کب جھاڑے ہو ؟ مسکراتے ہوئے۔جس سے دانت کی پیلاہٹ عیاں ہورہی تھی ۔ بولا بھلا یہ کام بھی کہیں مردوں کے کرنے کے ہیں ؟ اب دیکھو محترمہ کب تک میکے سے لوٹتی ہے ؟ مجھ میں مزید گفتگو کی سکت باقی نہ رہی اور بازو کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سونے کو جانے کا کہہ کر میں اپنے کمرے کی جانب ہولیا کہ ایک سہمی ہوئی آواز کانوں سے ٹکرائی: وہ سوئی تو یہاں نہیں چبھے گی ناں… میں زیر لب مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا…دن میں پاجی اپنی پرانی عادتوں سے مجبور دو گھنٹے تاخیر سے اٹھے اور سب سے پہلا سوال یہ کیا کہ: میں یہاں کب اور کیسے آیا ؟؟؟​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں