1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طنز و مزاح

'تمدن' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا ابوبکر, ‏مئی 04، 2011۔

  1. ‏مئی 04، 2011 #1
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,030
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

    طنزو مزاح سیکشن میں ہم اپنی زندگی کے وہ سچے واقعات جو ہم سے اتفاقاً اور اچانک پیش آتے ہیں اور ہمیں محظوظ اور مسرور کر جاتے ہیں فورم کے اراکین سے شیئر کر سکتے ہیں۔ ایسے واقعات اک میٹھی یاد بن کے ہمارے ساتھ رہتے ہیں جب کبھی بھی ہمیں ایسے واقعات یا باتیں یاد آ جاتی ہیں ہم بے ساختہ اور کبھی تو اکیلے میں ہی ہنس دیتے ہیں۔
    ایک دفعہ ہم سات آٹھ دوست جمع تھے اور مغرب کے بعد کا وقت تھا ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے تو عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا میں نماز پڑھنے چلا گیا، جب واپس آیا سارے دوست یک زبان ہی غالباً بول پڑے ’’لو رانا بھی آگیا لاؤ اب‘‘ میری سمجھ میں نہیں آئی بات، ایک دوست نے کہا کہ یار جلدی کرو اب پہلے بہت ابتظار کر لیا ہے، اتنے میں دوسرا دوست ایک شاپر ، جو برفی سے بھرا ہوا تھا لے کے آ گیا، میں نے پوچھا آپ سب لوگ میرا انتظار کر رہے تھے؟ کمال ہے! خیر سبھی دوست تقریباً ایک ساتھ بولے کہ چلو کھانا شروع کریں، میں نے بھی سب کے ساتھ اک پیس اٹھایا اور منہ میں ڈالنا تھاکہ چاروں طرف سے اک زور دار قہقہہ سنائی دیا۔ دراصل وہ کپڑے دھونے والی صابن کے ٹکڑے کیے ہوئے تھے اور روشنی کم ہونے کی وجہ سے بالکل برفی کی طرح کے ہی لگ رہے تھے اور نرم بھی بالکل برفی کی طرح کے ہی تھے یہ ایک دوست کا پلان تھا اور پتہ نہیں اس نے اتنی نرم برفی میرا مطلب صابن کہاں سے ڈھونڈ لی ۔ اور سب سے بڑی بات جو میرے ساتھ ہوئی وہ یہی تھ کہ سبھی جانتے تھے سوائے میرے، کیونکہ ان سب کے ساتھ ہو چکا تھا میرے پیچھے سے، جب بھی مجھے وہ بات یاد آتی ہے مجھے ہنسی آ جاتی ہے کہ میں جان نہ سکا اس دن حقیقت کو ۔ بندے کو صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے جلدی میں نقصان ہو سکتا ہے عزت بھی جا سکتی ہے۔
     
  2. ‏مئی 05، 2011 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,870
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    بہت بڑھیا قصّہ تھا رانا صاحب کا،

    میں بھی اپنا ایک قصّہ سناتا ہوں ایک روز کی بات ہے کی میں اپنے کئی دوستوں کے ساتھ علمی باتیں کر رہا تھا ، اور میرے دوست بھی اس گفتگو میں شامل تھے ، اس میں ٤ افراد دیوبندی تھے ٢ بندے بریلوی تھے اور ایک میں اہلے حدیث موجود تھا ، بات دراصل وسیلے کے ٹوپک پر ہو رہی تھی اور ہم سب (دیوبندی اور میں اہلے حدیث) بریلویوں کو یہ ثابت کر رہے تھے کی مزارو پر وسیلے تلاش کرنا یہ عمل جایز نہیں ہے، یہ بحث بہت دیر چلتی رہی آخر میں ایک بریلوی دوست نے مجھسے کہا عامر بھائی در اصل ہم بہت گناہ گار بندے ہے ان نیک بزرگوں کا وسیلہ لگانے سے ہماری دعا جلدی قبول ہوتی ہے کیونکی یہ بزرگ نیک بندے تھے، اللہ ہماری باتیں direct نہیں سنتا اسلئے ہم ان بزرگوں کا وسیلہ تلاش کرتے رہتے ہے کیونکی ہم بہت گناہ گار بندے ہے، اس بندے کی یہ بات سن کر میں نے کہا بھائی واقعی بریلوی بہت گنہگار ہوتے ہے آج آپنے بھی ثابت کر دیا . یہ بات سن کر تمام دیوبندی ہنس پڑے اوردونوں بریلوی شرمندہ ہو گئے، کبھی کبھی کچھ باتیں ایسے بھی سمجھایی جا سکتی ہے.
     
  3. ‏ستمبر 21، 2011 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    دونوں بھائیوں نے بہت اچھا واقعہ سنایا۔
     
  4. ‏ستمبر 21، 2011 #4
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,447
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    بہت بہت شکریہ جناب

    ھھھھھھھھھھ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں