1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ظالم مسلم حکمران کے خلاف خروج امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی نظر میں

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از القول السدید, ‏مارچ 09، 2013۔

  1. ‏مارچ 09، 2013 #1
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    مسلم حکمران کے خلاف خروج کی ضمن نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک مومن کے لئے شاندار رہنمائی فرمائی ہے، ہم یہاں وہ اقول پیش کریں گے تاکہ جو لوگ اس مسئلے پر افراط و تفریط یا غلو کا شکار ہیں ، ان کی رہنمائی ہو سکے کہ آئمہ سلف کا منہج حق کیا تھا اور آج کل جو روش چل نکلی ہے ، آئمہ سلف اس کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔

    امام ابن تیمیہ نے اس ظالم و فاسق حکمران کے خلاف خروج کی بحث کوبھی خوب اچھی طرح نکھارا ہے۔
    اور جو لوگ اس آیت:
    (فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ)(الحجرات :٩9 )
    (وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا)(الحجرات :9٩ )
    کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ اس آیت میں ظالم و فاسق حکمران کے خلاف قتال کی دلیل موجود ہے، یا تو وہ فہم سلف صالحین سے بالکل لاعلم ہیں یہ کسی نفسانی و دنیائی مفادات پر مشتمل اہداف رکھتے ہیں
    اس آیت سے یہ استدلال بالکل درست نہیں کہ اس میں " ہر ظالم" کے ساتھ قتال کا حکم دیا گیا ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں اس آیت:
    (وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا)(الحجرات : 9٩)
    کہ جن دو گروہوں کی لڑائی ہوئی ہے' ان میں سے بھی تو کوئی ایک ظلم و زیادتی کر رہا تھا لیکن اس سے بوجوہ ابتداء قتال کا حکم نہیں دیا اور فرمایا کہ ان کے مابین صلح کروا دو۔ امام صاحب اس سے دلیل پکڑتے ہیں کہ ہر ظالم' کہ جس کا ظلم اجتماعی بھی ہو' اس سے قتال کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ مختلف حالات کے تحت مختلف حکم ہو گا۔ ظالم حکمران سے قتال کی صورت میں جو ظلم پیدا ہو گا' اس کے بارے میں امام صاحب کا کہنا یہ ہے کہ یہ اس ظالم حکمران کے ابتدائی ظلم سے بڑھ کر ہوگا۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس مسئلے میں صرف فکری بحث نہیں کرتے بلکہ وہ تاریخ اسلام کے حوالے دے دے کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس امت میں فاسق و ظالم حکمرانوں کے خلاف جتنے بھی خروج ہوئے ہیں' ان سے ظلم ختم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہی ہے۔
    وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان' حضرت علی ' حضرت عائشہ' حضرت طلحہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اور بنواُمیہ کے زمانے میں مسلمانوں میں خروج کے نتیجے میں جو باہمی قتل و غارت ہوئی ہے'
    مسلمان اس کے بارے میں یہ تمنا رکھتے ہیں کہ کاش یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا۔
    باوجودیکہ یہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم جنتی ہیں اور اپنے مابعد کے زمانوں کے لوگوں سے افضل ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے باہمی جنگ و جدال کو کسی نے بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ یہی معاملہ صحابہ کے ما بعد آنے والے زمانوں کا بھی ہے۔

    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    آسان فہم اختتامیہ کلمات

    اس بات کو ایک سادہ سی مثال سے یوں سمجھیں کہ ایک تھانیدار نے ایک بے گناہ آدمی زید کو کسی جرم میں اندر کر دیا۔ اس بے گناہ نے جب تھانیدار سے اپنا جرم پوچھا تو اس نے اسے ایک تھپڑرسید کر دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس مثال میں تھانیدار ظالم ہے اور زید مظلوم ہے۔ اب زید کے تین دوست ہیں۔
    ایک دوست کا کہنا یہ ہے کہ زید کو اپنے اوپر کی جانے والی زیادتی کا فوراً بدلہ لیتے ہوئے تھانیدار کو بھی ایک تھپڑ رسید کر دینا چاہیے جبکہ
    دوسرے دوست کا کہنا یہ ہے کہ زید کو صبر کرنا چاہیے کیونکہ اگر اس نے تھانیدار کو تھپڑ رسید کیا تو تھانیدار کی طرف سے اس کا جواب دس تھپڑوں' لاتوں' مکوں' گالیوں اور ڈنڈوں کی صورت میں ملے گا۔
    تیسرا دوست اس بارے میں کسی رائے کا اظہار نہیں کر رہا ہے۔
    زید پہلے دوست کی بات مان لیتا ہے اور جواباً تھانیدار کی طر ف سے وہی رد عمل سامنے آتا ہے جس کی پیشین گوئی دوسرے دوست نے کی تھی۔ زید رد عمل میں پھر تھانیدار کو ایک تھپڑ رسید کرتا ہے اور جواباً مسلسل تھانیدار کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ اب زید کا پہلا دوست اپنے گھر' محلے اور مسجد میں جا کر تھانیدار کے ظلم کی داستانیں عام کرتا ہے لیکن اس سے زید کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ازالہ نہیں ہوتا اور اس پر تھانیدار کا ظلم بڑھتا ہی رہتاہے۔

    سوال یہ ہے کہ زید کا مخلص دوست کون ہے؟؟؟
    اللہ ہمیں قرآن و سنت کا متبع اور فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین ​
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 09، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    جب آپ خود ہی اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ تھانیدار نے ظلم کیا تو باقی کیا بچتا ہے؟؟؟۔۔۔
    دوسری بات کیا ہمیں نہیں معلوم ہمارے تھانیدار ہی آج کل بیشتر جرائم کی پشت پناہی کررہے ہیں۔۔۔
    حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اُن تمام تھانیداروں کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔
    جس کی بنیاد پر اُن تمام تھانیدراوں کو معطل بھی کردیا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی جرم میں ملوث تھے۔۔۔
    اسی طرح سرے عام کی ٹیم پر پولیس نے حملہ کیا ایک ٹریگر چلا تھوڑی دیر بعد اس علاقے کا ایس پی، ایس ایچ او، اے ایس آئی، سب معطل۔۔۔
    دیکھیں بھائی پرانی کہاوت ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔۔۔
    ہم جس دور سے گذررہے ہیں یا جن حالات کا سامنا ہمیں ہے۔۔۔
    اس کی وجہ کیا ہے؟؟؟ یہ ہے بنیادی سوال۔۔۔
    ہمیں اُن علاقوں کے بے گناہ افراد کی شہادت پر کیوں افسوس نہیں ہوتا جو وزیرستان میں ڈران حملوں میں شہد ہوتے ہیں۔۔۔
    اگر ہم دین کے سچے داعی ہیں۔۔۔ جو امن وسلامتی کا مذہب ہے۔۔۔
    تو کیا ہماری پہلی ترجیح ڈران حملوں کی بندش ہونی چاہئے تھی یا نیٹو سپلائی لائن کو بندکروانا؟؟؟۔۔۔
    نیویارک ٹائم کی خبر کے مطابق کے امریکہ نے جنوری سے ڈران حملے نہیں کئے۔۔۔
    تو جنوری سے لیکر پچھلے دنوں تک یہ کام کون کررہا ہے؟؟؟۔۔۔
    العین بالعین۔۔۔۔

    ایک گتھی جس کا سلجھنا بےحد ضروری ہے!۔ سوال کہ طور پر پیش کرتا ہوں!۔
     
  3. ‏مارچ 09، 2013 #3
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    ظالم اور فاسق حکمران کے خلاف خروج کے مخالفین سے ابن حزم رحمہ اللہ کا سوال

    ۔ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں :ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ تم اس حکمران کے بارے میں کیا کہوگے جس نے اپنے اختیارات نصاری کے حوالے کردیئے ہیں نصاری ہی اس کے ساتھی اور فوج ہیں اورمسلمانوں پر جزیہ لگادیا ہے مسلمان بچوں پر تلواریں نکال لی ہیں مسلم عورتوں سے زناکو جائز کردیا ہے ۔جو بھی مسلمان مرد،عورت اوربچہ انہیں نظر آتا ہے اس کو مارتے ہیں جبکہ یہ حکمران خاموش تماشائی ہے اس کے باوجود خود کو مسلمان کہتا ہے نماز پڑھتا ہے ؟اگر یہ کہتے ہیں کہ اس حکمران کے خلاف خروج پھر بھی جائز نہیں ہے تو ان سے کہا جائے گا کہ اس طرح تو یہ تمام مسلمانوں کو ختم کردے گا اوراکیلا ہی رہ جائے گا اور ا س کے ساتھی کافر رہ جائیں گے ؟اگر یہ لوگ اس صورت میں بھی صبر کو جائز کہتے ہیں تو یہ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اس سے خارج ہوتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس حکمران کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تو ہم کہیں گے کہ اگر نوے فی صد مسلمان مارے جاتے ہیں ان کی عورتیں پکڑ لی جاتی ہیں ان کا مال لوٹا جاتا ہے تو؟اگر یہ خروج سے پھر بھی منع کرتے ہیں تو اپنی بات کی مخالفت کرتے ہیں اوراگر خروج کو واجب کرتے ہیں تو ہم ان سے مزید کم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ ہم ان سے پوچھیں گے کہ ایک مسلمان مارا جائے اور ایک مسلمان عورت پکڑلی جائے یا ایک آدمی کا مال زبردستی لیا جائے تو؟اگر یہ فرق کرتے ہیں تو ان کی بات میں تضاد ہے اور یہ بات ان کی بلادلیل ہے جو جائز نہیں اور اگر یہ خروج کو لازم قرار دیتے ہیں تو تب یہ حق کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ اگر ایک ظالم حکمران کسی شخص کی بیوی بیٹی اور بیٹے کو زبردستی اپنے قبضے میں لے کر ان سے غلط اور فسق کے کام کروانا چاہے توکیا ایسے آدمی کو صرف اپنی جان بچانی چاہیے تو یہ ایسی بات ہے جو کوئی مسلمان نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہتے ہیں کہ بیوی بچوں کو بچانے کے لیے لڑنا چاہیے تو یہ ہے حق اور صحیح بات اس طرح دیگر مسلمانوں کے مال وجان کے تحفظ کے لیے بھی حکمرانوں کے مقابلے پر آناچاہیے ۔ابومحمدکہتے ہیں :اگر معمولی سابھی ظلم ہوتو امام سے اس بارے میں بات کرنا واجب ہے اور اسے روکنا چاہیے اگر وہ رک جاتا ہے اور حق کی طرف رجوع کرتا ہے اور زناچوری وغیرہ کے حدود کے تیار ہوتا ہے تو اس کی اطاعت سے نکلنا نہیں چاہیے اور اگر ان واجبات کے نفاذ سے انکار کرتا ہے تواس کو ہٹاکر کسی اور کو اس کی جگہ امام مقرر کرنا چاہیے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:اور تعاون کرو نیکی اور تقوی پر اورگناہ وزیادتی پر تعاون مت کرو۔شریعت کے واجبات میں سے کسی کوضائع نہیں کرنا چاہیے ۔(الملل والاھواء والنحل لابن حزم :۴/۱۳۲-۱۳۵)
     
  4. ‏مارچ 09، 2013 #4
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :جب امام کا تقرر ہوجائے اور اس کے بعد وہ فسق کرے تو جمہور کہتے ہیں اس کی امامت فسخ ہوجائے گی اس کو ہٹاکر کسی اور کو امام بنایاجائے گا اگر اس نے فسق ظاہری اور معلوم کا ارتکاب کیا ہو۔اس لیے کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ امام کا تقرر مقصد کے لیے ہوتا ہے حدود کا نفاذ اور حقوق کی ادائیگی وتحفظ یتامی کے مال کی حفاظت مجرموں پر نظر رکھنا وغیرہ مگر جب وہ خود فاسق ہوگا تو ان امور کی انجام دہی نہیں کرسکے گا ۔اگر ہم فاسق کے لیے امام برقرار رکھناجائز قرار دیدیں تو جس مقصد کے لیے امام بنایا جاتا ہے وہ مقصد باطل ہوجائے گا اسی لیے تو ابتدائً ہی فاسق کا امام کے لیے تقرر جائز نہیں ہے کہ مقصد امامت فوت ہوجاتا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں جب تک امام کفر نہ کرے اسے ہٹایا نہیں جائے گا یا نماز ترک نہ کرے یا اور کوئی شریعت کاکام ترک کردے جیسا عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے:الَّایہ کہ تم اما م میں واضح کفر دیکھ لو جس پر تمہارے پاس دلیل ہو۔دوسری حدیث میں ہے جب تک نماز قائم کرتا رہے ۔ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے تم پر امیر مقرر کیے جائیں گے جن کی کچھ باتیں تمہیں پسند ہوں گی کچھ ناپسند ہوں گی جس نے ناپسند کیا وہ بری ہوا جس نے انکار کیا وہ محفوظ رہا جس نے تابعداری کی اور راضی ہوا ۔لوگوں نے کہا اللہ کے رسول ﷺکیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟آپ ﷺنے فرمایا :نہیں جب تک کہ نماز قائم کرتے رہیں ۔دل سے ناپسند کرنا مراد ہے ۔(قرطبی :۱/۲۸۶-۲۸۷)

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا اس آیت کی تفسیر میں قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :ابن خویزمنداد رحمہ اللہ نے کہا ہے جو بھی ظالم ہوتا ہے وہ نہ نبی بنتا ہے نہ خلیفہ نہ حاکم نہ مفتی نہ نماز کے امام نہ اس کی روایت قبول کی جاتی ہے نہ احکام میں اس کی گواہی قبول کی جاتی ہے ۔جب تک اپنے فسق کی وجہ سے معزول نہ کردیاجائے اہل حل وعقد اس کو معزول کردیں۔(قرطبی:۲/۱۱۵-۱۱۶)
     
  5. ‏مارچ 09، 2013 #5
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اشعری کہتے ہیں ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج بعض اہل سنت کا مذہب ہے جبکہ اہل سنت کی ایک جماعت اور خوارج ،معتزلہ زیدیہ اور بہت سے مرجئہ کہتے ہیں کہ فاسق امام کے خلاف خروج اور قوت کا استعمال واجب ہے۔(مقالات الاسلامیین:۱۴۵)
     
  6. ‏مارچ 09، 2013 #6
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :ابن التین نے داؤدی سے نقل کیا ہے کہ امراءِ ظلم کے بارے میں علماء کی رائے یہ ہے کہ اگر بغیر فتنہ اور ظلم کے اس کو ہٹانا ممکن ہوتو ضروری اور واجب ہے ورنہ صبر واجب ہے بعض نے کہا کہ فاسق کو حکومتی عہدہ دینا ہی جائز نہیں ہے اگر عہدہ حاصل کرنے کے بعد ظلم کیا تو اس کے ہٹانے میں اختلاف ہے صحیح بات یہ ہے کہ بغاوت منع ہے جب تک کہ اس سے واضح کفر صادر نہ ہو۔(فتح الباری:۱۳/۸)
     
  7. ‏مارچ 09، 2013 #7
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنی چاہیے جیسا کہ ابواسحاق الفزاری نے امام ابوحنیفہ سے کہا کہ آپ کو اللہ کا ڈر نہیں ہے کہ میرے بھائی کو ابراہیم (ابراہیم بن عبداللہ بن الحسن ہیں )کی معیت میں بغاوت پر اکسایا ،آمادہ کیا؟امام صاحب نے کہا کہ اگر وہ بدر میں مارا جاتا تو؟اللہ کی قسم میرے نزدیک یہ بدر صغری ہے۔(شذرات الذہب:۱/۴۴،تاریخ بغداد:۱۳/۳۸۴)
    جصاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں :امام ابوحنیفہ کا مذہب مشہور ہے کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف قتال کرنا چاہیے ۔(احکام القرآن:۱/۸۶)
     
  8. ‏مارچ 09، 2013 #8
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنےکے بارے میں علماء کے اقوال

    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج وبغاوت تابعین کے بعد بھی ایک مذہب کی شکل میں باقی رہا جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے احمد بن نصر الخزاعی شہیدرحمہ اللہ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ احمد بن نصر رحمہ اللہ عالم تھا ،دیانتدار ،عمل صالح کرنے والا ، مجتہد تھاان ائمہ سنت میں سے تھا جو امربالمعروف ونہی عن المنکر کرتے قرآن کو مخلوق کہنے والے واثق باللہ کے خلاف خروج کیا ۔

    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنےکے بارے میں امام غزالی رحمہ اللہ کا قول۔
    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنےکے بارے میں ابن الوزیر رحمہ اللہ کا قول ۔
    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے والے کبار صحابہ وتابعین کے نام۔
    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنے والے فقہاء کا قول ۔
    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنےکے بارے میں ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کا قول ۔
    ظالم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنےکے بارےابو محمد امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
     
  9. ‏مارچ 10، 2013 #9
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    خلیفۃ المسلمین زرد آری جیسے اولی الامر کے خلاف واقعی خروج جائز نہیں ہے . اور ہم دل و جان سے اس کے ہر حکم کی اطاعت کے پابند ہیں .

    اگرچہ وہ سود کو ، زنا بالرضا کو ، اور دوسری حدود اللہ میں علی الاعلان دخل اندازی کرے تو وہ مدینہ ثانی کا شرعی ذمہ دار ہونے کے ناطے اس کا حق ہے !

    اگر وہ کفار و مشرکین کی ہر ممکن مدد اپنے پیشرو عطیم جرنیل اسلام ، عصر حاضر کے صلاح الدین مشرف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر طرح سے جاری رکھے ...... یہ تو اس کے ڈر اور خوف سے فطری طور پر لغزش سرزد ہورہی ہے .... آخر اتنی بڑی طاقت سے تو فطری طور پر انسان خوفزدہ ہو ہی جاتا ہے ، اس لیے اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔

    ہم اس کی اطاعت سے بالشت بھر بھی باہر نکلنے کو جاہلیت کی موت خیال کرتے ہیں .

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
     
  10. ‏مارچ 11، 2013 #10
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    حرب بھائی پلیز جواب دینے سے پہلے موضوع کو بغور پڑھ لیا کریں شکریہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں