1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ظاہری حلیہ، جدید تعلیمی ادارے، حل

'نفسیاتی و اجتماعی مشکلات' میں موضوعات آغاز کردہ از فلک شیر, ‏فروری 10، 2019۔

  1. ‏فروری 10، 2019 #1
    فلک شیر

    فلک شیر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2013
    پیغامات:
    185
    موصول شکریہ جات:
    100
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    ترکی کے ایک عالم شیخ الاسلام عاطف ہوجا ہیں ، ترکی میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد کے دنوں میں، 4 فروری 1926 ء کو انہیں انقلابیوں نے پھانسی دے دی، اس قصور پہ کہ اتاترک کے روایتی ترکی ٹوپی کے خاتمے اور ہیٹ پہننے کے قانون اور دیگر خلاف اسلام پالیسیوں کی انہوں نے مخالفت کی تھی اور اسلامی لباس کے موضوع پہ ایک کتاب لکھی تھی۔ اتاترک کا اسلامی حلیہ اور لباس وغیرہ پہ ایسی قدغنیں دراصل دینی روایت اور اس کے اثر کو عوام کے وذہنوں سے کھرچنے کے بڑے منصوبے کا ایک چھوٹا حصہ تھا -
    ابھی کل ہی احمد جاوید صاحب کے ایک خطبہ کے آخر میں ایک سوال سماعت سے گزرا، پوچھا گیا تھا، کہ جدید تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیاں جاتی ہیں ، پھر وہاں کے ماحول، افراد اور مخصوص 'علمی ڈسکورس' سے متاثر ہو جاتے ہیں ، اور بعض اوقات مرعوب ہو کر اپنی روایت سے کٹنا کامیابی اور راحت کا زینہ جانتے ہیں ، گویا جسے حق جانتے تھے ، مسنون حلیہ، اسلامی لباس، روایت سے جڑت اور اس پہ فخر، اسی سے شرمندہ شرمندہ اور بعض اوقات نفرت کرنے لگتے ہیں اور دوسروں سے بڑھ کر اس سے بھاگتے ہیں ــــــــــ احمد جاوید صاحب سے اس مسئلے کا حل پوچھا گیا ــــــــــ انہوں نے ایک حقیقی مثال دی اور بات سمجھائی، ممکن ہے آپ میں سے بعض احباب کو یہ بات اجنبی لگے، مگر بہت سے لوگوں کے اس ضمن میں ذاتی تجربات انکے اس جواب کی کسی نہ کسی شکل اور درجے میں تائیید کریں گے۔ سوال میں نے بتا دیا، اب ان کا جواب انہی کے الفاظ میں پڑھ لیجیے ، کہتے ہیں :
    " اگر اس کا کوئی علمی جواب مانگا جا رہا ہے، تو مایوسی ہو گی شاید، عملی ایک پہلو بتاتا ہوں ۔
    داڑھی لمبی کریں ، کندھے پہ رومال رکھیں ، عمامہ باندھیں اور کسی بھی انسٹی ٹیوٹ میں چلے جائیں ، آپ غیر متاثر رہیں گے۔ وہ سب آپ سے ڈرے ڈرے رہیں گے۔ تو اسلام میں ایک روحِ فاروقیت بھی چل رہی ہے نا، کہ شیطان عمر رضی اللہ عنہ کے سائے سے بھاگتا ہے۔ بس عمر رضی اللہ عنہ کی سی وضع اختیار کر لیں۔
    وہ لوگ بہت ظلم کر رہے ہیں ، جو ہماری دینی وضعوں کو قانونی بحثوں میں ڈال کر بے کشش بنا رہے ہیں ، غیر ضروری بنا رہے ہیں ۔
    میرے ایک دوست تھے احمد حسن مرحوم، بہت ذہین، ان کا سا ذہین میں نے دیکھا ہی نہیں اور ان کا سا متقی بھی کم ہی دیکھا ہے۔ وہ کینیڈا اور فرانس میں رہتے تھے اور وہاں دعوت کا کام کرتے تھے۔ دعوت کا منہج ان کا یہ تھا کہ کسی بھی شعبے کے کسی بھی بڑے آدمی سے وقت لیتے تھے پہلے اور اس کے بعد وہ پہلی کوشش یہ کرتے تھے کہ اس شعبے کے اس ماہر کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ اپنے discipline میں کچھ نہیں جانتا، تو وہ اس سے یہ اقرار کروا لیتے تھے ۔ فزکس والے سے ملے تو چار چھ ملاقاتیں کرنے کے بعد وہ یہ اعتراف کرنے کے قابل ہو جاتاتھا کہ "احمد حسن ! تم بتاؤ فزکس کیا ہے"
    تو اس طرح انہوں نے اس کلاس کے سینکڑوں لوگ مسلمان کیے کینیڈا اور فرانس میں ، اکیلے کام کرتے تھے ۔ تو ان سے کسی نے پوچھا کہ وہاں آپ survive کیسے کرتے ہیں ،وہ کہنے لگے کہ یہی چپل، یہ اٹنگا پاجامہ، یہ کاندھے پہ دھرا رومال ، یہی مجھے SURVIVAL کے لیے درکار ہے اور یہی میرے کام آ رہا ہے ۔
    جو حقیقت اپنی سٹینڈرڈ فارمز کو چھوڑ دے، وہ حقیقت اپنے dilute ہونے کا سامان کرتی ہے۔ اوضاع مذہبی جوہیں ، ان کے تسلسل میں رخنہ ڈالنا، ان کے تعلق میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے"
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ، اپنے نبیﷺ اور اپنے دین کے ستھ جوڑے رکھے اور اسی پہ ہمارا خاتمہ فرمائے، ہم سب سے راضی ہو اور جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں