1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ظلم کا بدلہ

'قصص و واقعات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالحسیب07, ‏جولائی 28، 2018۔

  1. ‏جولائی 28، 2018 #1
    عبدالحسیب07

    عبدالحسیب07 مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2017
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    "ظلم کا بدلہ"
    ان کی شادی کو زیادہ دیر نہیں گزری تھی، بس چند گھنٹے ہی گزرے تھے۔
    میاں بیوی رات کا کھانا کھانے بیٹھے تھے، اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی ۔خاوند کو بڑا طیش آیا کہ یہ کون ہماری خلوت میں مخل ہو رہا ہے؟
    نیک سیرت بیوی نے کہا : کوئی بات نہیں، کوئی ضرورت مند ہو گا، اچھا میں دیکھتی ہوں ۔
    دروازے کی اوٹ سے اس نے پوچھا کون ہے؟ جواب ملا کہ فقیر ہوں ۔بھوکا ہوں کھانا کھلا دو بڑا شکر گزار ہوں گا ۔
    بیوی واپس آئی ۔ خاوند نے غصے سے پوچھا: دروازے پر کون ہے؟
    جواب دیا: کوئی فقیر ہے، کھانے کا طلبگار ہے۔
    خاوند بڑبڑایا: بھلا یہ کون ہے اس وقت ہمارا دروازہ کھٹکھٹانے والا؟ وہ تاءو میں آکر باہر نکلا اور اس فقیر کو مارنا شروع کر دیا ۔وہ بےچارہ معذرت کرتا رہا ۔مگر اس کا پارہ چڑھا ہوا تھا، یہ اس کی پٹائی کرتا رہا ۔فقیر ہانپتا کانپتا واپس چلا گیا ۔
    اس کے جسم پر خراشیں آ چکی تھیں ۔ بھوک بھی بڑی سخت لگی ہوئی تھی ۔ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ کسی کے دروازے پر گیا ہو اور اس کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک ہوا ہو مگر کیا کیا جائے، یہ قسمت کی بات ہے ۔
    خاوند واپس آ گیا ۔اب اسکا موڈ خراب ہو چکا تھا ۔
    وہ بڑبڑاتا ہوا کھانے پر بیٹھ گیا ۔
    اسکی دلہن بھی پریشان نظر آ رہی تھی ۔
    پھر اچانک شوہر کی طبعیت خراب ہو گئی ۔اسے چکر آنے لگے۔
    اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی ان دیکھی قوت نے اسے دبوچ لیا ہے، وہ بری طرح چلا رہا تھا ۔ اسی حالت میں وہ گھر سے باہر نکل گیا ۔ اسکی دلہن نہایت غمگین ہوئی اور پریشانی کے عالم میں خاوند کا انتظار کرتی رہی مگر وہ گدھے کے سینگ کی مانند اس طرح غائب ہوا کہ پھر کبھی نہ آیا ۔ ایک دن نہیں کئی ہفتے گزر گئے، اسکی تلاش جاری رہی ۔رشتہ دار اقرباء سب پریشان ہو گئے ۔
    ہر جگہ تلاش کیا مگر بے سود ! اور پھر مہینے نہیں کئی سال بیت گئے ۔ اس کی بیوی اسکا بےسود انتظار کرتی رہی ۔
    طویل انتظار کے بعد اس نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ میرا خاوند کئی برس سے مفقودالخبر ہے، لہذا میرے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے، چنانچہ عدالت نے شریعت مطہرہ کی روشنی میں اسکا نکاح فسخ کر دیا ۔
    پھر اسکی شادی ایک نیک دل شخص کے ساتھ ہوگئی ۔ شادی کو چند دن گزرے تھے کہ پھر وہی حالت پیش آئی جو اب سے کئی سال پہلے پیش آئی تھی ۔
    عورت نے دسترخوان پر کھانا لگایا۔ خاوند کھانے پر بیٹھا، ابھی چند لقمے ہی لیے تھے کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔
    شوہر بولا یہ کون ہے جو اس وقت ہماری خلوت میں مخل ہوا ہے؟ اچھا میں دیکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
    اسکی بیوی کہنے لگی :آپ بیٹھیں میں دیکھتی ہوں، پھر اس نے دروازے کی اوٹ سے پوچھا: تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ دستک دینے والے نے کہا : میں فقیر ہوں اور، کئی دنوں سے بھوکا ہوں ۔
    کوئی مجھے کھانا کھلا دے۔
    بیوی واپس آئی، خاوند کو بتایاکہ ایک فقیر ہے ، کئی دنوں سے بھوکا ہے اور کھانا مانگ رہا ہے۔
    خاوند نے اسی وقت دسترخوان سے کھانا اٹھایا اور بیوی کو کہا :جاو اسے دے دو اور کہو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھا لے۔
    اگر کھانا بچ گیا تو فبہا، ہم بھی کھا لیں گے ورنہ اور کھانا پکا لیں گے ۔
    بیوی کھانا لے گئی، اس فقیر کو پیش کیا، پھر لوٹ آئی ۔اب اس کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ رو رہی تھی ۔ خاوند نے پوچھا کیا ہوا، کیوں رو رہی ہو؟ کیا اس فقیر نے کوئی سخت بات کہہ دی ہے؟
    بیوی نے روتے ہوئے جواب دیا: نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ یہ فقیر جو اب تمھارے دروازے پر بیٹھا کھانا کھا رہا ہے، درحقیقت یہ وہی شخص ہے جو کئی سال پہلے میرا خاوند تھا ۔ میری اس سے شادی ہوئی، پہلی ہی رات ایک سائل ہمارے دروازے پر آیا ، اس نے کھانا مانگا، میرایہ خاوند غصے میں آکر اٹھا اور فقیر کو خوب مارا حتی کہ اسکا خون نکل آیا وہ فقیر نڈھال ہو کر چلا گیا، پھر اچانک میرے خاوند کو یوں محسوس ہوا کہ گویا کسی نادیدہ طاقت نے اس کے حواس سلب کر لیے ہوں ۔ وہ گھر سے بھاگ گیا ۔ ہم نے اسے بہت تلاش کیا مگر وہ نہ ملا ۔ اب مدتوں بعد اسے سائل کی حیثیت سے دیکھا کہ وہ میرے دروازے پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہے ۔ اسکے خاوند نے یہ بات سنی تو وہ بھی رونے لگا ۔
    بیوی نے حیران ہو کر پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو؟ وہ بولا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ تمہارے سابقہ خاوند نے جس آدمی کو مارا تھا وہ کون ہے؟ وہ کہنے لگی: تم ہی بتاو وہ کون ہے ۔
    خاوند نے بتایا کہ وہ شخص میں ہی تھا جسے اس نے اس دن مارا تھا ۔
    پاک ہے وہ ہستی جس نے ایک متکبر شخص سے ایک فقیر اور مسکین کا بدلہ لے لیا ۔ مجھ سے جو اس نے سفاکانہ سلوک کیا جس طرح میری بے عزتی کی اور مجھ بھوکے پیاسے پر جو گزری اللہ نے یہ سارا ماجرا خوب دیکھا ۔ اس نے اس ظلم کو پسند نہیں کیا اور اس شخص پر اپنا عذاب نازل کیا جس نے انسانیت کی توہین کی تھی ۔

    رب کریم نے مجھے میرے صبر کا پورا بدلہ دیا کہ میں نے مار کھائی...صبر کیا،ہاتھ نہ اٹھایا زبان سے اف بھی نہ کہا اللہ تعالی نے مجھ پر کرم فرمایا اور مجھے اپنے فضل سے غنی کردیا اور اس ظالم شخص کو یہ سزا دی اس کی عقل اور مال کو چھین لیا اب وہ در بدر مارا مارا پھرتا ہے۔اب وہ ایک بھکاری ہے.
    میں اس اللہ رب العزت کے صدقے کیوں نا جاوں جس نے تہمارے صبر کا اتنا میٹھا پھل دیا تمہیں سابقہ خاوند سے نجات دے کر ایک اچھا شوہر عطافرمایا۔
    اللہ تعالی فرماتے ہیں ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیاں بدل کرتے رہتے ہیں
    *ماخوذ سنہرے نقوش*
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں