1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عام مسلمان قرآن و حدیث سے استنباط کیسے کرے ؟ ؟

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از رامش راقم, ‏فروری 16، 2018۔

  1. ‏فروری 16، 2018 #1
    رامش راقم

    رامش راقم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    کوئی عام سا مسلمان ہے جس نے صرف مغربی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ دین کو سمجھنے کے لئے بنیادی عربی سیکھتا ہے۔ کُتب ستہ بھی گھر لے آتا ہے۔ اب وہ کیا کرے؟ یعنی وہ اپنے تمام مسائل نماز کے طریقہ سے لے کر حج کے فرائض تک قرآن مجید اور ان کُتب حدیث سے خود کیسے معلوم کرلے اور اسے کسی بھی کُتب فتاویٰ یا کسی بھی مفتی سے معلوم کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
    نوٹ:- یہ ذہن میں رہے کہ یہ ایک عام مسلمان ہے اس نے بنیادی عربی سیکھ لی ہے، قرآن مجید پڑھ چکا ہے، کُتب ستہ اول تا آخر پڑھ سکتا ہے، لیکن یہ کوئی عالم نہیں ہے۔ یہ اس کے بس میں ہی نہیں ہے کہ وہ درس نظامی کی آٹھ سالہ کُتب اور صرف، نحو، منطق، فلسفہ، فقہ، اصول فقہ، اصول حدیث، اسماء الرجال، جرح و تعدیل، تفسیر، اصول تفسیر، فتاویٰ، تاریخ، سیرت، شروحات کُتب احادیث اور کُتب ستہ کے علاوہ کئی جلدوں پر مشتمل احادیث کی سینکڑوں دیگر کُتب پڑھ سکے۔
    تو ایسا ایک عام شخص براہ راست قرآن و حدیث سے استنباط کیسے کرے ؟ ؟
    براہ کرام جواب اردو میں ارشاد فرمائے گا۔
    جزاک اللہ خیراً۔
     
  2. ‏فروری 17، 2018 #2
    رامش راقم

    رامش راقم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    کیا کوئی بھائی بھی جواب نہیں دے گا ؟
     
  3. ‏فروری 18، 2018 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 19، 2018 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    عامی کو عالم بنے بغیر علماء سے رجوع کیئے بغیر چارہ نہیں!
    اور عامی کو علماء کی طرف رجوع کرنا شریعت نے واجب کیا ہے! جس پر تقلید کرنے والے اور تقلید نہ کرنے والے دونوں متفق ہیں!
    اور اس رجوع کے تقلید نہ ہونابھی مسلم ہے!
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 19، 2018 #5
    رامش راقم

    رامش راقم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بھائی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت برصغیر میں اہلسنت کے تین بڑے مسلک موجود ہیں۔
    بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث ان تینوں مسالک کے علماء عوام کے سامنے ایک دوسرے کا رد قرآن و حدیث سے کرتے ہیں۔
    اب ایسے میں ایک عامی کو جو اصول تفسیر، اصول حدیث اور اصول فقہ سے نا واقف ہے کیسے پتہ چلے گا کہ کونسا عالم صحیح ہے اور کونسا غلط یا پھر اس کا دل جس عالم کی طرف مائل ہو وہ اُسی کی اتباع کرے ؟
     
  6. ‏فروری 19، 2018 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اہل الحدیث علماء تو بریلوی، دیوبندی کا رد قرآن و حدیث سے کریں ، یہ بات تو معقول ہے!
    لیکن دیوبندی بریلوی اہل الحدیث کا رد قرآن و حدیث سے کس بناء پر کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ تو خود اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن و حدیث کو صحیح نہ سمجھنے کے سبب وہ تقلید کرتے ہیں!
    لہٰذا عامی اگر معقول ہے، یعنی کہ صاحب عقل ہے، تو وہ اہل الحدیث علماء کی طرف رجوع کرے گا! الا یہ کہ اسے دوسرے طبقوں نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہو!
    لہٰذا عامی کو علمائے اہل الحدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیئے! نہ کہ مقلدین کی طرف!
     
  7. ‏فروری 19، 2018 #7
    رامش راقم

    رامش راقم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    میرا سوال تو وہیں رہ گیا کہ عامی کو کیسے پتہ چلے گا کہ اہل حدیث صحیح ہیں اور باقی غلط۔
    کیونکہ اُسے دین کا اتنا علم نہیں کہ اگر کوئی روایات توڑ مروڑ کر پیش کرے تو وہ اُس میں فرق کرسکے۔
     
  8. ‏فروری 19، 2018 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    بغور پڑھیں:
     
  9. ‏فروری 19، 2018 #9
    رامش راقم

    رامش راقم مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    69
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بھائی اگر کوئی کسی بھی بریلوی، دیوبندی یا اہل حدیث دارالافتاء سے رفع الیدین کے بارے میں پوچھ لے تو تینوں ہی اپنے حق میں دلائل کا انبار کھڑا کردیں گے، ایسے میں ایک عام مسلمان چاہے وہ کتنا ہی عقلمند کیوں نا ہو دینی علوم کے اصول سے ناواقفی کی بنیاد پر یقیناً کنفیوز ہوجائے گا۔
    تو میرا سوال یہ ہی ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ایک عام مسلمان کس طرح صحیح اور غلط کا فرق پہچانے ؟
     
  10. ‏فروری 19، 2018 #10
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اول تو یہی بات عامی کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ مقلدین کو کہ جنہوں نے قرآن و حدیث کو محض اپنے امام کے لئے دلیل وحجت قرار دیتے ہوئے، خود پر اس کی حجت سے آزادی اختیار کرتے ہوئے اپنے امام کے قول کو خود پر حجت قرار دیا!
    تو ایسے لوگوں سے سوال ہی کیوں کیا جائے؟ کہ وہ تو بہر صورت اپنے تقلیدی مؤقف پر فتوی دینے کے قائل ہیں!
    دوم کہ عامی کو سمجھنا چاہیئے کہ کہ جو خود مقلد ہے، اور تقلید یہ کہہ کر کرتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا، اور نہ ہی مجتہدین کے بیان کردہ مسائل میں صحیح و غلط کو پرکھنے کی لیاقت رکھتا ہے، اس لیئے اس نے خود پر تقلیدی شخصی کو لاز م قرار دے دیا!
    اب ایسے شخص سے قرآن و حدیث کے موافق فتوی طلب کرنا ہی نامعقول بات ہے! کہ اس نے خود کو مقلد قرار دے دیا ہے!
    اب جب کوئی عامی ایسے مقلد کے پاس جائے گا، تو اس مقلد مفتی نے جو خود قرآن و حدیث نہ قرآن و حدیث سے استدلال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور نہ ہی مجتہدین کے استدلال میں صحیح و غلط پرکھنے کی لیاقت رکھتا ہے، اپنے تقلیدی مذہب کے موافق بتلانا ہے، اور اس واسطے لوگوں کو دھوکہ میں بھی مبتلا کرتے ہیں، جس دھوکہ میں وہ خود مبتلا ہیں!
    اور عامی کا مقلد مفتی کی طرف رجوع کرنا ہی غلط ہے! جو عامی اپنی کم علمی یا غلط فہمی یا کسی دھوکہ میں مبتلا ہو کر کرتے ہیں!
    لہٰذا ایک معقول عامی مقلد مفتی کی طرف رجوع نہیں کرے گا!
    اور مقلدین کے بیان کردہ شبہات کے ازالہ کے لئے بھی علمائے اہل الحدیث سے رجوع کرے!
    جب عامی کو یہ بات سمجھ آجائے گی، کہ مقلد کی دلیل قرآن و حدیث نہیں، بلکہ اس کے امام کا قول ہے، تو معقول عامی کو یہ سمجھ آجائے گی کہ مقلدین کی طرف رجوع نہیں کرے گا!
    اگر آپ بھی اس طرح عامی ہیں، جیسا کہ آپ کے سوال میں مذکور ہے، تو معقول ہونے کی صورت میں آپ کو یہ سمجھ آجائے گی، کہ عامی کو کیا کرنا چاہئے!
    اگر عامی قرآن و حدیث سے مسئلہ کے جواب کا قائل ہے تو اہل الحدیث علماء سے رجوع کرے!
    یعنی کہ علمائے اہل الحدیث سےرجوع کرنا چاہیئے! نہ کہ مقلدین سے !
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں