1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عام کا مخصوص ہو کر بھی ظنی نہ ہونا

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از شیخ نوید, ‏جون 17، 2014۔

  1. ‏جون 17، 2014 #1
    شیخ نوید

    شیخ نوید رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    سلام !

    قال اللہ تعالی کتب علیکم الصیام وروی عن عائشۃ فنومر بقضاء الصوم

    سوال یہ ہے کہ

    i) کتب علیکم عام ہے جو فنومر بقضاء سے مخصوص ہوا تو پھر کتب علیکم کو ظنی ہونا چاہئے یعنی روزہ فرض نہیں واجب ہونا چاہئے تو پھر ہم روزہ کو فرض کیوں کہتے ہیں؟

    ii) کتب علیکم قطعی الدلالۃ ہے فنومر بقضاء ظنی الدلالۃ (خبر واحد) ہے اور اگر واقعی خبر واحد ظنی ہوتی ہے تو یقینا قطعی پر ذیادتی کی صالح نہ ہوئی تو پھر اس ظنی کے قطعی کے عام کو مخصوص کیسے کردیا؟

    بینو و تواجرو
     
  2. ‏جون 17، 2014 #2
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    368
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    امام احمد بن حنبل ‘ ابنِ حزم اور بہت سے علمائے حدیث کے نزدیک خبرِ واحد اگر پوری طرح درست ثابت ہو جائے تو اس سے علمِ یقینی حاصل ہوتا ہے ۔۔۔۔امام ابنِ تیمیہ نے اسے متواتر کی ایک قسم قرار دیا ہے اوراسی رائے کو اکثر علمائے حدیث کی طرف منسوب کیا ہے
    وہ کہتے ہیں
    تواتر کے لفظ سے کئی معنی مراد لیے جاتے ہیں کیونکہ متواتر سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس سے علم حاصل ہو۔۔۔لیکن کچھ لوگ ہیں جو متواتر اسی کو مانتے ہیں جسے بہت سے راویوں نے نقل کیا ہو ۔۔۔۔صحیح بات جو اکثر (یعنی اکثر علمائے حدیث) کامسلک ہےوہ یہی ہے کہ علم کا حصول کبھی راویوں کی کثرت سے ہوتا ہے اور کبھی دینداری اور ضبط کی بدولت ان کی صفات سے
    (مجموعہ فتاوی ابنِ تیمیہ)

    یہ بات واضح ہو چکی کہ خبرِ واحد سے علمِ یقینی کا حصول ہوتا ہے لہذا ایک قطعی ویقینی حکم دوسرے قطعی و یقینی حکم کی تخصیص بھی کر سکتا ہے اور تقیید بھی
     
  3. ‏جون 17، 2014 #3
    شیخ نوید

    شیخ نوید رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    29
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    پہلے سوال کا بھی کچھ جواب ارشاد ہو
     
  4. ‏جون 17، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی پہلے تمہیدا کچھ باتیں بتانا چاہوں گا جس پر ہمارے شیخ @رفیق طاہر صاحب میری اصلاح کر دیں گے ان شاءاللہ

    1-قطعی الثبوت یا سند (یعنی سند یا الفاظ کے ثابت ہونے میں یقینی ہونا)

    2-ظنی الثبوت یا سند (یعنی سند یا الفاظ کے ثابت ہونے میں ظنی ہونا البتہ ظنی کو انگلش میں most probable بھی کہ سکتے ہیں اس سے غیر یقینی مراد نہیں ہوتا)

    3-قطعی الدلالۃ (جو الفاظ کے کسی مفہوم پر دلالت کرنے میں یقینی ہو)

    4-ظنی الدلالۃ (جو الفاظ کے کسی مفہوم پر دلالت کرنے میں ظنی یا most probable ہو)

    میرے علم کے مطابق ہمارے اور احناف کے ہاں قرآن اور حدیثِ متواتر قطعی الثبوت ہیں جبکہ خبرِ واحد ظنی الثبوت ہے

    البتہ الفاظ کی دلالت (یعنی قطعی الدلالۃ اور ظنی الدلالۃ) میں اختلاف ہے یہ اختلاف قرآن کے عام کی دلالت میں ہے مثلا احناف قرآن کے عام کو بھی قطعی الدلالۃ مانتے ہیں مگر ہم قرآن کے عام کو ظنی الدلالۃ مانتے ہیں

    کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کی تخصیص جب کرتے ہیں تو وہ اس سے اعلی چیز یا اسکے برابر چیز سےہی ممکن ہے یعنی قطعی چیز کی تخصیص قطعی سے ہی ہو سکتی ہے

    لیکن اس معاملے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ ثبوت کے لحاظ ہم نے نہیں دیکھنا بلکہ دلالت کے لحاظ سے دیکھنا ہے کیونکہ ثبوت کے لحاظ سے خبر واحد بے شک ظنی ہے مگر most probable ہونے کی وجہ سے وہ ہمارے لئے قرآن اور خبر متواتر کی طرح حجت ہے پس ہم قرآن ، خبر متواتر اور خبر واحد کو سند کے لحاظ سے قبول کر لیتے ہیں البتہ دلالت میں جب موازنہ کرتے ہیں تو قرآن کا عموم چونکہ قرآن کا عموم ہمارے ہاں ظنی الدلالۃ ہوتا ہے تو اسکی خبر واحدسے تخصیص کرنا جائز ہے جبکہ احناف چونکہ دلالت کی بجائے ثبوت یا سند کا موازنہ کرتے ہیں اور ان کے ہاں قرآن کا عموم بھی اپنی دلالت میں قطعی ہے پس ایک ظنی چیز (خبر واحد) سے اسکی تخصیص نہیں ہو سکتی البتہ خبر متواتر سے ایسا کیا جا سکتا ہے

    دوسرا احناف کے ہاں فرض اور واجب میں بھی اسی سند کی بنیاد پر فرق کیا جاتا ہے کہ جو چیز قطعی السند سے ثابت ہو (قرآن یا خبر متواتر) تو وہ فرض -مگر جو ظنی السند سے ثابت ہو وہ واجب

    لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہم سند جب صحیح ہو تو اسکا موازنہ نہیں کرتے بلکہ الفاظ کی دلالت میں یقین اور گمان کو دیکھتے ہیں واللہ اعلم


    اب آپ کے سوالوں کی طرف آتے ہیں

    1-پہلے سوال کی مجھے سمجھ نہیں آئی آپ تھوڑی سی وضاحت کر دیں اصل میں عام کے کچھ صیغے ہوتے ہیں جیسے کتب علیکم الصیام میں آگے لفظ آ رہا ہے من شھد منکم الشھر اس میں من عام کا صیغہ ہے اب اگر اسکی آپ تخصیص حدیث سے کر رہے ہیں کہ حدیث نے حائضہ عورت کو قضا کی اجازت دے کر اس من کے عموم سے نکال دیا تو یہ ٹھیک ہے البتہ آپ کے واجب کرنے والی بات سمجھ نہیں آئی دوبارہ سمجھا دیں جزاک اللہ خیرا


    2-دوسرے سوال کا جواب ہماری بہنا نے بھی دے دیا ہے اور کچھ وضاحت میں نے بھی کر دی ہے واللہ اعلم
     
    Last edited: ‏جون 17، 2014
  5. ‏جون 17، 2014 #5
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    وعلیکم السلام

    محترم بھائی! کتب علیکم کا معنی مرادی ہے تم پر فرض کیا گیا۔ اس فرض کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ادا اور دوسری قضا۔ تو یہاں تخصیص کیسے ہوئی؟
    یاد رہے کہ کسی چیز کی قضا اسی چیز کی ادائیگی ہوتی ہے بس وقت کا فرق ہو جاتا ہے۔ ہاں اگر عورتوں کو اس سے خاص کر کے یہ کہا جاتا کہ عورتوں پر روزہ فرض ہی نہیں ہے تو پھر تخصیص ہو جاتی۔
    البتہ یہ سوال نماز کے بارے میں ہو سکتا ہے۔ وہاں اس پر غور کرنا چاہیے۔


    خبر واحد ظنی الدلالہ نہیں بلکہ ظنی الثبوت ہے۔ البتہ تخصیص کی میں نے وضاحت کر دی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں