1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی الکوفی ابو شیبہ جرح و تعدیل کے میزان میں؟؟؟؟؟؟؟؟

'تاریخ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏اگست 01، 2019۔

  1. ‏اگست 01، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    92
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی پر آئمہ و محدثین کی جرح

    عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی محدثین کے نزدیک سخت ضعیف و مجروح راوی ہے

    1۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) نے کہا " متروک الحدیث "
    [کتاب العلل و معرفة الرجال 286/2 رقم 2278 ]

    نیز امام احمد رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
    [ دیکھیے سنن ابو داود 260/1 تحت حدیث 758]

    نیز ایک جگہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا کہ:
    " لیس بشیئ منکر الحدیث "
    اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ منکر الحدیث ہے
    [الجرح و التعدیل 213/5 ]

    ایک جگہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں کہ:
    " احادیث مناکیر لیس ھو بذاک فی الحدیث "
    [ دیکھیے الضعفاء الکبیر للبیھقی 322/2 ]

    اس قدر شدید اور سخت جروحات کے باوجود بھی کچھ جاہل اور بے علم و بے عقل لوگ کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے یہاں منکر الحدیث سے تفرد مراد لیا ہے حالانکہ افسوس ہے ایسے جاہل لوگوں کی جہالت پر۔ کیوں کہ یہاں منکر الحدیث کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کہ عبدالرحمن بن اسحاق کا تفرد ہے کیوں کہ تفرد راوی میں نہیں بلکہ راوی کی روایت میں ہوتا ہے۔ اور یہاں تو قرینہ یہ ہے کہ امام احمد نے منکر الحدیث سے سخت و ضعیف جرح مراد لی ہے جیسے کہ انہوں نے متروک، لیس بشئی وغیرہ بھی کہا ہے۔

    2۔ امام ابن سعد رحمہ اللہ (المتوفی 230ھ) نے ضعیف الحدیث کہا ہے
    [ دیکھیے الطبقات الکبری لابن سعد 361/6 ط دار صادر ، نیز دیکھیے طبقات الکبری لابن سعد ط دار العلمیہ 343/6 ]

    3۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے کہا:
    " متروک "
    [دیکھیے سنن الکبری للبیہقی 48/2، نیز دیکھیے معرفۃ السنن والآثار 341/2 ]

    4۔ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (المتوفی 233ھ) نے کہا کہ
    " ضعیف"
    [ دیکھیے تاریخ ابن معین رواية الدوري 391/3 ]
    نیز ایک جگہ کہا کہ:

    لیس بشئی
    اس کی کوئی حیثیت نہیں
    [ دیکھیے تاریخ ابن معین رواية الدوري 46/4 ]

    نیز ایک جگہ امام ابن معین نے متروک بھی کہا ہے
    [ دیکھیے الکامل فی ضعفاء والرجال 495/5، دوسرا نسخہ 1614/4 ]
    امام ضیاء المقدسی رحمہ اللہ نے بھی امام یحیی بن معین سے متروک کی جرح نقل کی ہے۔
    [ دیکھیے السنن والاحکام 36/2 ]


    5۔ امام عجلی (المتوفی 261ھ) نے کہا کہ:
    ضعيف جائز الحديث يكتب حديثه
    یہ ( عبدالرحمن بن اسحاق) ضعیف ہے۔ اس سے حدیث لینا جائز ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی
    [دیکھیے الثقات للعجلی صفحہ 287 ترجمہ 930 ط الباز, نیز دیکھیے دوسرا نسخہ الثقات للعجلی 72/2 ط الدار]

    یہاں جائز الحدیث سے کوئی یہ نا سمجھے کہ یہ ثقہ ہے کیوں کہ اگر امام عجلی نے اسے ثقہ بتلانا ہوتا تو اسے ضعیف ہی کیوں کہتے۔ تو یہاں جائز الحدیث کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کی حدیث لکھی جائے گی جیسا کہ آگے پوری وضاحت کے ساتھ الفاظ ہیں یکتب حدیثه کے۔

    6۔ امام ابو ذرعہ رحمہ اللہ (المتوفی 264ھ ) کہتے ہیں کہ:

    "لیس بقوی"
    یہ قوی نہیں
    [ دیکھیے الجرح والتعدیل 213/5 ]

    7۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ(المتوفی 277ھ) فرماتے ہیں کہ:
    ھو ضعیف الحدیث منکر الحدیث یکتب حدیث ولا یحتج به
    وہ (عبدالرحمن بن اسحاق) ضعیف الحدیث منکر الحدیث تھا اس کی حدیث لکھی جائے گی لیکن اس سے حجت نہیں لی پکڑی جائے گی۔
    [ دیکھیے الجرح والتعدیل 213/5 ]

    8۔ امام بزار رحمہ اللہ (المتوفی 292ھ) کہتے ہیں کہ:
    ﻟﻴﺲ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺎﻓﻆ.
    اس کی حدیث حافظ کی حدیث جیسی نہیں ہے
    [ دیکھیے کشف الاستار 406/1 حدیث 859]

    9۔ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ (المتوفی 597ھ) نے ایک حدیث کے بارے میں کہا کہ:
    المتھم به عبد الرحمن بن إسحاق وھو ابو شیبہ الواسطی
    اس حدیث کو گھڑنے والا عبدالرحمن بن اسحاق ہے اور وہ ابو شیبہ الواسطی ہے
    [الموضوعات لابن الجوزی 3/257 ]

    نیز ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ:
    ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻨﺎﻛﻴﺮ ﻗﺎﻝ ﺃﺣﻤﺪ ﻟﻴﺲ ﺑﺸﻲء ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻭاﻟﻨﺴﺎﺋﻲ ﺿﻌﻴﻒ ﻭﻗﺎﻝ ﻳﺤﻴﻰ ﻣﺮﺓ ﻣﺘﺮﻭﻙ
    [ دیکھیے الضعفاء والمتروکون لابن الجوذی 89/2 ترجمہ 1850]

    10۔ امام نسائی رحمہ اللہ (المتوفی 303ھ) کہتے ہیں کہ:
    ضعیف
    [ دیکھیے کتاب الضعفاء والمتروکون صفحہ 66 ترجمہ 358]

    نیز ایک جگہ کہتے ہیں کہ:
    "لیس بثقة"
    یہ ثقہ نہیں ہیں
    [ دیکھیے سنن نسائی 9/6 تحت حدیث 3099 ]

    11۔ امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی 256ھ) کہتے ہیں کہ :
    ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ اﻟﻜﻮﻓﻲ ﻭﻫﻮ ﺿﻌﻴﻒ اﻟﺤﺪﻳﺚ
    [دیکھیے تاریخ الکبیر للترمذی صفحہ 71 ]

    نیز ایک جگہ امام بخاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
    فيه نظر
    اس کا معاملہ محل نظر ہے
    [ دیکھیے تاريخ الكبير للبخاري 258/5 ، تاريخ الأوسط للبخاري تاريخ الأوسط للبخاري 43/2]

    بعض لوگ امام بخاری کے اس قول فیه نظر کی کچھ اور ہی تفسیر پیش کرتے ہیں جبکہ جس راوی کے متعلق امام بخاری فیه نظر کہیں وہ ان کے نزدیک متروک و گھٹیہ درجہ کا ضعیف راوی ہوتا ہے

    چنانچہ امام ذھبی لکھتے ہیں کہ:
    ﻗﺪ ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ، ﻭﻻ ﻳﻘﻮﻝ ﻫﺬا ﺇﻻ ﻓﻴﻤﻦ ﻳﺘﻬﻤﻪ ﻏﺎﻟﺒﺎ
    امام بخاری نے کہا ہے "فیه نظر" اور ایسا امام بخاری ایسا اس راوی کو کہتے ہیں جو ان کے نزدیک متھم (یعنی حدیث گھڑنے والا ) ہوتا ہے۔
    [الکاشف للذھبی 68/1 ]
    امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ:
    ﺃﻥ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﺇﺫا ﻗﺎﻝ، ﻓﻲ اﻟﺮﺟﻞ: " ﺳﻜﺘﻮا ﻋﻨﻪ "، ﺃﻭ " ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ "، ﻓﺈﻧﻪ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﺃﺩﻧﻰ اﻟﻤﻨﺎﺯﻝ ﻭﺃﺭﺩﺋﻬﺎ ﻋﻨﺪﻩ
    امام بخاری جب کسی راوی کے متعلق سکتوا عنہ یا فیه نظر کہیں تو وہ ان کے نزدیک سب کم منزلت والا اور گھٹیہ درجہ کا راوی ہوتا ہے
    [ اﻟﺒﺎﻋﺚ اﻟﺤﺜﻴﺚ ﺇﻟﻰ اﺧﺘﺼﺎﺭ ﻋﻠﻮﻡ اﻟﺤﺪﻳﺚ صفحہ 106 ]

    امام زین الدین العراقی فرماتے ہیں کہ:

    ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ﻭﺳﻜﺘﻮا ﻋﻨﻪ ﻭﻫﺎﺗﺎﻥ اﻟﻌﺒﺎﺭﺗﺎﻥ ﻳﻘﻮﻟﻬﻤﺎ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻓﻴﻤﻦ ﺗﺮﻛﻮا ﺣﺪﻳﺜﻪ
    فیه نظر اور سکتوا عنه یہ دونوں عبارتیں امام بخاری اس راوی کے متعلق کہتے ہیں جو متروک الحدیث ہوتا ہے
    [ دیکھیے التقیید والایضاح صفحہ 163 ]

    امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی 852ھ) ایک راوی کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
    ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ﻭﻫﺬﻩ اﻟﻌﺒﺎﺭﺓ ﻳﻘﻮﻟﻬﺎ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻓﻲ ﻣﻦ ﻫﻮ ﻣﺘﺮﻭﻙ
    امام بخاری نے کہا فیه نظر اور یہ عبارت امام بخاری اس کے بارے میں بولتے ہیں جو متروک ہوتا ہے
    [ دیکھیے القول المسدد صفحہ 10 ]
    امام حافظ سیوطی رحمہ اللہ (المتوفی 911ھ) لکھتے ہیں کہ:
    اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻳﻄﻠﻖ: ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ﻭﺳﻜﺘﻮا ﻋﻨﻪ ﻓﻴﻤﻦ ﺗﺮﻛﻮا ﺣﺪﻳﺜﻪ
    امام بخاری فیه نظر اور سکتوا عنه کا اطلاق اس راوی پر کرتے ہیں جو متروک الحدیث ہوتا ہے
    [ تدریب الراوی صفحہ 410/1 ]

    علامہ عبد الحی لکھنوی (المتوفی 1304ھ ) کہتے ہیں کہ :
    ﻗﻮا اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻓﻲ ﺣﻖ اﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﺮﻭاﺓ ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ اﻧﻪ ﻣﺘﻬﻢ ﻋﻨﺪﻩ ﻭﻻ
    امام بخاری کا کسی راوی کے متعلق فیه نظر کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان کے نزدیک متہم ہے
    [ دیکھیے الرفع والتکمیل صفحہ 388 ]
    ذھبی وقت علامہ معلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:
    ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: «ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ» ﻭﻫﺬﻩ ﻣﻦ ﺃﺷﺪ ﻛﻠﻤﺎﺕ اﻟﺠﺮﺡ ﻓﻲ اﺻﻄﻼﺡ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ
    امام بخاری نے فیه نظر کہا اور یہ امام بخاری کی اصطلاح میں سخت ترین جرح کے کلمات ہیں۔
    [ دیکھیے کتاب التنکیل للمعلمی صفحہ 425/1 ]

    اسی طرح اور بہت سارے دیگر علماء نے وضاحت کی ہے کہ یہ سخت ترین جرح ہے

    لہذا یہ راوی امام بخاری کے نزدیک سخت ترین ضعیف ہے۔

    12۔ امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ نے کہا کہ:
    ضعیف
    [دیکھیے المعرفتہ والتارخ 59/3، دوسرا نسخہ 37/3]

    13۔ امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ
    قد ﺗﻜﻠﻢ ﺑﻌﺾ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻓﻲ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﻫﺬا ﻣﻦ ﻗﺒﻞ ﺣﻔﻈﻪ
    بعض اہل علم نے عبدالرحمن بن اسحاق پر اس کے حافظہ کے لحاظ سے کلام کیا ہے
    [ دیکھیے سنن ترمذی تحد حدیث 2527]

    یاد رہے جن بعض محدثین نے اس پر حافظہ کے لحاظ سے کلام کیا ہے انہوں نے اس پر جرح کرتے کرتے متروک تک کہہ دیا ہے اور ان محدثین کے خلاف دوسری کوئی توثیق ثابت نہیں لہذا ان بعض اہل علم کا کلام متفق علیہ ہے

    14۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اسے ضعیف الحدیث کہا۔
    [التوحید لابن خزیمہ 543/2 ]

    15۔ امام ابو داود رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی الکوفی کے متعلق امام احند ابن حنبل سے اس کی تضعیف نقل کی اور سکوت کے ذریعے اس سے مستدل ہوئے
    [ دیکھیے سنن ابو داود تحت حدیث 758 ]

    16۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ ابو شیبہ الواسطی کے متعلق کہتے ہیں کہ
    ﻛﺎﻥ ﻣﻤﻦ ﻳﻘﻠﺐ اﻷﺧﺒﺎﺭ ﻭاﻷﺳﺎﻧﻴﺪ ﻭﻳﻨﻔﺮﺩ ﺑﺎﻟﻤﻨﺎﻛﻴﺮ ﻋﻦ اﻟﻤﺸﺎﻫﻴﺮ ﻻ ﻳﺤﻞ اﻻﺣﺘﺠﺎﺝ ﺑﺨﺒﺮﻩ
    یہ ان میں سے تھا جو سندوں اور روایات کو الٹ پلٹ کر دیتے تھے اور مشہور لوگوں سے منکر روایات بیان کرتے تھے اس کی روایت سے حجت پکڑنا ہی حلال نہیں۔
    [دیکھیے کتاب المجروحین 54/2 ]

    17۔ امام دار قطنی رحمہ اللہ نے اس راوی کو ضعيف کہا
    [ دیکھیے کتاب سنن الدارقطنی 28/3 ]
    نیز اس کو اپنی کتاب ضعفاء میں نقل کیا
    [ دیکھیے الضعفاء و المتروکین ترجمة 338 ]

    18۔ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے عبدالرحمن بن اسحاق کو ضعیف کہا
    [ دیکھیے التمہید 46/2 ]

    19۔ امام ابن القیسرانی نے ابو شیبہ الواسطی کو متروک الحدیث کہا
    [ دیکھیے ذخیرۃ الحفاظ لابن القیسرانی 1374/3 ]

    20۔ امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
    "ھو ضعیف بالاتفاق"
    اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے
    [ شرح صحیح مسلم 115/4 و شرح المہزب 270/3 ]

    21۔ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
    [ دیکھیے البدر والمنیر 177/4 ]

    22۔ امام ھیثمی رحمہ اللہ نے بھی ضعیف قرار دیا ہے
    [ مجمع الزوائد 127/2 حدیث 2773 ]
    نیز ایک جگہ کہا کہ
    ﺿﻌﻔﻪ ﺃﺣﻤﺪ ﻭﺟﻤﺎﻋﺔ
    اس کو امام احمد نے اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے
    [ مجمع الزوائد للھیثمی 171/1 ، 182/1 ]
    نیز اور بہت ساری جگہ امام ہیثمی نے اس عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی کو ضعیف کہا
    [دیکھیے مجمع الزوائد 140/2 ، 6/3 ، 202/3، 46/4، 61/4، 129/7، 63/8، 263/8، 91/10، 101/10، 135/10 ، 155/10 ، 379/10، 384/10]

    23۔ امام بوصیری رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن الواسطی کی سند سے مروی ایک روایت کے بارے میں اسنادہ ضعیف کہا
    [ اتحاف الخیرۃ والمھرۃ 218/2 ]
    اور اس کے ضعیف ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کو امام احمد اور ابن معین وغیرھما نے ضعیف قرار دیا ہے
    گویا کہ انہوں نے ابو شیبہ الواسطی کے ضعیف ہونے پر استدلال کیا۔

    24۔ امام ذھبی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا
    [ دیکھیے تلخیص المستدرک 415/2 ]

    نیز ایک جگہ کہتے ہیں کہ
    واہ
    سخت ضعیف ہے
    [ تلخيص الموضوعات للذهبي صفحہ 353 ]

    25۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا کہ:
    ما يرويه لا يتابع الثقات عليه
    جو یہ بیان کرتا ہے اس پر ثقات اس کی متابعت نہیں کرتے
    [ الکامل ابن عدی 1614/4 دوسرا نسخہ 496/5 ]

    26۔ امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے متروک کہا
    [ دیکھیے التلخیص الحبیر ط دار علمیہ 650/1 ]
    نیز ایک جگہ ضعیف کہا ہے۔
    [دیکھیے تقریب التہذیب 336/1 ترجمہ 3799 ]

    27۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ
    " ضعیف "
    [ضعیف ابو داود حدیث 157 ]

    28۔ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے کہا " ضعیف " [جامع الترمزی بتحقیق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ حدیث 1984]

    29۔ شیخ ارشاد الحق الاثری نے کہا " ضعیف "
    [مسند ابی یعلی بتحقیق شیخ ارشاد الحق الاثری 171/1 حدیث 262 ]


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏اگست 01، 2019
  2. ‏اگست 01، 2019 #2
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    92
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کے ضعیف ہونے پر علماء احناف کی شہادتیں

    30۔ مفتی تقی عثمانی ایک روایت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
    "اگرچہ اس روایت کا دارومدار عبدالرحمن بن اسحاق پر ہے جو کہ ضعیف ہے"
    [ دیکھیے درس ترمذی 24/2 ]
    [​IMG]

    [​IMG]


    31۔ نیموی تقلیدی حنفی نے بھی کہا
    " عبد الرحمن بن إسحاق وھو ضعیف "
    [آثار السنن ص 111 حاشیہ حدیث 330 ] .

    [​IMG]
    [​IMG]


    32۔ عبدالقیوم حقانی دیوبندی صاحب ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں " اگرچہ اس روایت کا مدار عبد الرحمن بن إسحاق پر ہے , جو ضعیف "
    (توضیح السنن اردو شرح آثارلسنن 1/556)

    20190801_175347.png 20190801_175432.png



    جاری ہے.............
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں