1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد اللہ بن القاسم،رحمہ اللہ

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جون 20، 2016۔

  1. ‏جون 20، 2016 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    عبد اللہ بن القاسم،رحمہ اللہ کا تعارف:
    آپ عمرفارق رضی اللہ عنہ کے شاگردہیں ،دیکھئے : [اکمال تہذیب الکمال :ج 8ص124 ت 3129، تہذیب الکمال للمزی ج 15 ص 437]۔
    اورابو عیسی سلیمان بن کیسان کے استاذ ہیں دیکھئے:[الجرح و التعدیل لابن أبی حاتم رقم 602]۔

    آپ ثقہ ہیں،کبارتابعین میں سے ہیں ان پرکسی ایک بھی محدث نے کوئی بھی جرح نہیں کی ہے بلکہ:

    پہلی توثیق:
    امام ابن حبان (المتوفی٣٥٤) نے انہیں ثقہ کہا ہے [الثقات لابن حبان:ج5ص46]۔

    دوسری توثیق:
    امام بن خلْفُون رحمہ اللہ (المتوفی ٦٣٦) نے بھی انہیں ثقہ کہاہے [اکمال تہذیب الکمال :ج 8ص 124 ت 3129،]۔

    تیسری توثیق:
    امام ابن الملقن رحمه الله (المتوفى804) نے عبداللہ بن القاسم اور سلیمان بن کیسان والی ایک سند کے بارے میں کہا:
    فإن رجاله كلهم ثقات
    اس کے سارے رجال ثقہ ہیں[التوضيح لشرح الجامع الصحيح لابن الملقن: 11/ 236]

    چوتھی توثیق:
    امام ہیثمی(٨٠٧) نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے [مجمع الزوائد للہیثمی :ج10ص154]۔

    پانچویں توثیق:
    امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے ان کی حدیث کو صحیح کہا ہے۔[صحیح ابن خزیمہ بحوالہ الاحکام الکبری لابن کثیر : ص325]۔


    ایک شبہہ کا ازالہ

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا:
    قال ابن القطان مجهول
    ابن القطان نے کہا یہ مجہول ہے[تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 5/ 359]

    عرض ہے کہ ابن القطان کا یہ قول دو وجہ سے غیرمعتبرہے:
    الف:
    ماقبل میں پانچ محدثین سے اس راوی کی توثیق پیش کردی گئی ہے اس لئے ان پانچ محدثین کے خلاف تنہا ابن القطان کا مجہول کہنا معتبر نہیں ہے۔
    ب:
    ابن القطان رحمہ اللہ کی تجہیل غیر معتبر ہے کیونکہ وہ بھی ابن حزم رحمہ اللہ کی طرح ایسے رواۃ کو بھی مجہول کہہ دیتے ہیں جن سے یہ واقف نہیں ہوتے ۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ابن القطان رحمہ اللہ کی ایک تجہیل پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وَابن القطان يتبع ابن حزم في إطلاق التجهيل على من لا يطلعون على حاله
    ابن القطان جس کی حالت پر مطلع نہیں ہوتے ہیں اس پر تجہیل کے اطلاق میں ابن حزم کی پیروی کرتے ہیں [لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 1/ 533]

    اور دوسری جگہ ابن حزم کے اس طرزعمل پر حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کہا :
    ولم يعرفه ابن حزم فقال في المحلَّى : إنه مجهول وهذا تهور من ابن حزم يلزم منه أن لا يقبل قوله في تجهيل من لم يطلع هو على حقيقة أمره.ومن عادة الأئمة أن يعبِّروا في مثل هذا بقولهم : لا نعرفه أولا نعرف حاله وأما الحكم عليه بالجهالة فقدرٌ زائد لا يقع إلا من مطلع عليه أو مجازف.
    اورابن حزم ان کے بارے میں نہیں جان سکے تو محلی میں کہا : یہ مجہول ہے ۔ اور یہ ابن حزم کی زیادتی ہے اس بناپر واجب ہوجاتاہے کہ یہ جس راوی کی حقیقت پر مطلع نہ ہونے کی بناپر اسے مجہول کہتے ہیں، ان کی یہ تجہیل قبول نہ کی جائے۔ کیونہ ائمہ کی عادت یہ ہے کہ وہ ایسے مواقع پر اس طرح کے الفاظ بولتے ہیں : ہم اسے نہیں جانتے ، یا ہم اس کے حالات نہیں جانتے ۔ رہا جہالت کا حکم لگادینا تو یہ ایک زائد فیصلہ ہے جو اس پر واقفیت رکھنے والا یا بے تکا شخص ہی صادرکرسکتاہے۔[لسان الميزان لابن حجر، ت أبي غدة: 2/ 165]
     
  2. ‏جون 21، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاک اللہ خیر محترم شیخ.
    اللہ آپ کے علم میں اضافہ فرماۓ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں