1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عدت ، طلاق اور رجوع کا پیچیدہ مسئلہ

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از وہم, ‏اپریل 13، 2019۔

  1. ‏اپریل 13، 2019 #1
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاۃ
    علماء سے انتہائی اہم حقیقی مسئلہ پر سوال کا جواب مطلوب ہے
    ایک عورت اپنے پہلے شوہر سےشرعی وجوہات کی بناء پر طلاق لیتی ہے
    مگر دوسری شادی عدت گزارے بغیر بذریعہ کورٹ عدالت کر لیتی ہے
    اس کےسرپرستوںکو وہ دوسرا نکاح کورٹ سے بغیر عدت والا درست (جائز)معلوم نہیں ہوا ،
    مگر وہ اسی دوسرے شوہرسےدوبارہ(تجدید) نکاح،عدت گزروا کرکروانا ضرورچاہتے تھے مگر حلالہ کی نیت سے تاکہ وہ عورت پہلے شوہر کے پاس واپس چلی جائے ، (یہ حلالہ کی نیت سے طے شدہ نکاح کا پراسس پورا کیا گیا عدت گزروا کر(مگر عورت اور دوسرے خاوند کی نیت میں یہ تھا کہ بغیر عدت والا نکاح ،نئے سرے سے عدت گزار کر تجدید کیا ہے اب ہمارا نکاح درست ہے، ہم گھر بسائیں گے))
    پھر عورت کے سرپرستوں نے دوسرے شوہر کے بڑوں کے ساتھ مل کر دوسرے شوہر کودھمکی(دھمکی کی نوعیت تگڑی تھی) اور ڈرا دھمکا کر طلاق کروا دی ، ایک ہی مجلس میں تین دفعہ طلاق دلوا کر،پیپرز پر بھی ساتھ ہی سائن کئے(شوہر نے اس تگڑی دھمکی اور ڈر کی وجہ سے ایسا کیا، ورنہ دوسرے شوہر کی طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی)
    اب دوسرا شوہر اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہتا ہے(جس دھمکی اور ڈر کے زیر اثر ایسا کیا تھا اس کا کوئی حل اس کے دماغ میں موجود ہوگا) گھر بسانا چاہتا ہے
    سوال یہ ہے کہ
    رجوع ہو سکتا ہے؟
    علماء کرام سےجلد جواب کی گزارش ہے
     
  2. ‏اپریل 14، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    1) عدت میں کیا گیا ، نکاح باطل ہے۔ دوبارہ تجدید نکاح ہوگا۔
    2) حلالہ کی نیت سے نكاح كرنا باطل اور حرام ہے۔ اگر زوجین کی نیت یہ نہیں تھی، تو پھر نکاح درست ہے۔
    2) جبری اور دھمکی وغیرہ دے کر دلوائی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
    یہ چند اصولی باتیں ہیں بقیہ سائل اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات کو کسی مفتی صاحب کے سامنے بیٹھ کر خود بیان کرے، تاکہ وہ صورت مسئلہ کو سمجھ کر اس کے متعلق شرعی رہنمائی کرسکیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 14، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,332
    موصول شکریہ جات:
    2,385
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    عدت میں نکاح اور جبری طلاق
    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    جواب :
    اس صورت مسئولہ میں عدت کے دوران کورٹ میرج کی صورت کیاگیا نکاح جائز نہیں ،
    " اتفق الفقهاء على أنه لا يجوز للأجنبي نكاح المعتدة أيا كانت عدتها من طلاق أو موت أو فسخ أو شبهة ، وسواء أكان الطلاق رجعيا أم بائنا بينونة صغرى أو كبرى . وذلك لحفظ الأنساب وصونها من الاختلاط ومراعاة لحق الزوج الأول ، فإن عقد النكاح على المعتدة في عدتها ، فُرّق بينها وبين من عقد عليها "
    "الموسوعة الفقهية" (29/ 346)

    ترجمہ : فقہائے اسلام کا اتفاق ہے کہ : جوعورت عدت میں ہو اس سے اجنبی (یعنی دوسرا مرد ) نکاح نہیں کرسکتا ،عدت طلاق کی ہو،یا عدت موت کی یا نکاح فسخ ہونے کی ۔
    اور عدت میں دوسرے مرد سے نکاح جائز نہ ہونے سے غرض یہ ہے کہ : نسب محفوظ رہیں ،اور اختلاط نسب نہ ہو ،اور پہلے خاوند کے حق تلف نہ ہو ،
    اور اگرعدت میں نکاح کیا گیا تو دونوں میں تفریق/ علیحدگی کرادی جائے گی ،

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور دوسرے مرد سے دوسرا نکاح جو یعنی کورٹ میرج کے بعد جو نکاح ہوا، اس میں اگر زوجین یعنی نکاح کرنے والے مرد اور عورت کی نیت "حلالہ " کی نہیں تھی ،بلکہ شرعی نکاح کے ساتھ زندگی گزارنے کی تھی ،تو وہ نکاح بالکل صحیح تھا ،اور جبری طلاق یعنی دھمکا /ڈرا کر لی جانے والی طلاق سے اس نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،نہ جبری طلاق واقع ہوتی ہے ۔
    اگر اس شخص سے زبردستی طلاق دلوائی گئی ہے تو یہ طلاق شرعاً کالعدم ہے۔ اس کا وقوع نہیں ہوا۔
    امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے باب طلاق المکرہ والناسی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "إن الله تجاوز لأمتي عما توسوس به صدورها ما لم تعمل، أو تتكلم به، وما استكرهوا عليه "
    (سنن ابن ماجہ 1/659(2044)
    "یقیناً اللہ تعالیٰ نے میری امت کے سینوں کے خیالات و وساس کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ ان خیالات کو عملی جامہ پہنا نہیں لیتے یا بات نہیں کر لیتے اور اس بات کو بھی معاف کر دیا ہے جس پر انہیں مجبور کر دیا گیا ہو۔"

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جبراً طلاق دلوانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اسی طرح عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    (لا طَلاَقَ ولا عِتاقَ في إغْلاقٍ )
    "طلاق اور آزادی زبردستی نہیں ہوتی۔" (ابن ماجہ 1/660،(2046)ابو داؤد1/507)

    امام ابو عبید اور امام قتیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اغلاق کا معنی اکراہ ہے اسی طرح ابن دریداور ابو طاہر نحومین کے نزدیک بھی اس کا معنی اکراہ ہے۔(ملاحظہ ہو ھوامغنی لابن قدامہ 10/351شرح السنہ 9/222)

    صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ:
    "طَلَاقُ السَّكْرَانِ وَالْمُسْتَكْرَهِ لَيْسَ بِجَائِزٍ . "(صحیح البخاری 2/793)
    "نشے والے آدمی اور مجبور کی طلاق جائز نہیں۔"

    امام ابن قدامہ المقدسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
    "أن طلاق المكره لا يقع، روي ذلك عن عمر وعلي وابن عمر وابن عباس وجابر بن سمرة وبه قال عبد الله بن عبيد بن عمير وعكرمة والحسن وجابر بن زيد وشريح وعطاء وطاووس وعمر بن عبد العزيز ومالك والأوزاعي والشافعي وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد" (المغنیٰ 10/350)
    "جبراً طلاق واقع نہیں ہوتی یہ مذہب سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سے مروی ہے اور یہی بات امام عبد اللہ بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ ،امام عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ ،امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ،امام جابر بن زید رحمۃ اللہ علیہ ،امام شریح رحمۃ اللہ علیہ ، امام عطا ء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ ، امام طاؤس رحمۃ اللہ علیہ ،امام عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ،امام ابن عون رحمۃ اللہ علیہ ،امام ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ نے کہی ہے۔"(مزید ملاحظہ ہو شرح السنہ للا مام بغوی رحمۃ اللہ علیہ 9/222)

    کتاب و سنت کی نصوص صریحہ اور ان آئمہ کرام کی تصریحات کے مطابق جبراً طلاق واقع نہیں ہوئی۔ بصورت دیگر اگر خاوند کی رضا مندی سے طلاق دی گئی ہو تو پھر بھی مجلس واحدہ کی متعدد طلاقیں ایک طلاق رجعی کے حکم میں شمار ہوتی ہیں۔صحیح مسلم میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ:
    "عن ابن عباس قال كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم"
    (مسلم 1/433)مسند احمد 1/314مستدرک حاکم 2/196)
    "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالفت کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہو تی تھیں۔پھر سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جس کا م میں لوگوں کے لیے سوچ و بچار کی مہلت تھی اس میں انھوں نے جلدی سے کام لیا اگر ہم ان پر تینوں لازم کردیں تو کیا حرج ہے تو انھوں نے ان پر اسے لازم کر دیا۔"
    اس لئے کورٹ میرج کے بعد جو نکاح کیا گیا اگر واقعی اس میں زوجین کی نیت حلالہ مروجہ کی نہیں تھی ،تو وہ نکاح باقی ہے ،اور یہ مرد اس عورت کا شرعاً خاوند ہے ،اسے واپس لانے کا حق رکھتا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 14، 2019 #4
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    جواب دینے والے دونوں معزز علماء کا میں تہہ دل سے مشکور ہوں ، اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر کثیر سے نوازے اور دنیا و آخرت میں حقیقی کامیابی عطا فرمائے
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 24، 2019 #5
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاۃ
    کراچی میں کہاں پر اس سائل کو تحریری طور پر یہ فتوی میسر آ سکتا ہے؟ برائے مہربانی جواب ضرور اور جلد دیں ، جزاکم اللہ خیرا
    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
  6. ‏اپریل 25، 2019 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کراچی میں جامعہ ابی بکر ہے، شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی صاحب کا ادارہ المعہد السلفی ہے۔
    ڈاکٹر فیض الابرار صاحب بھی کراچی ہوتے ہیں۔
    @محمد فیض الابرار
     
  7. ‏اپریل 25، 2019 #7
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    اللہ تعالی آپ سب کو دونوں جہانوں میں حقیقی کامیابی عطا فرمائے ، جزاک اللہ خیرا کثیرا
     
  8. ‏مئی 21، 2019 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    @وہم
    مجھ سے رابطہ کر لیں ان باکس میں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں