1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عشاء پڑھانے والے کے پیچھے مغرب کی نماز ادا کرنا

'نماز باجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏مارچ 13، 2019۔

  1. ‏مارچ 13، 2019 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    90
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    تحریر: مولانا رفیق طاھر حفظہ اللہ
    مکمل سوال۔۔۔
    ایک شخص جس کی مغرب کی نماز رہتی تھی مسجد میں اس وقت داخل ہوا جب عشاء کی نماز کھڑی ہو چکی تھی‘ تو وہ اب کیا کرے ؟ پہلے عشاء کی نماز ادا کرے پھر مغرب ؟ یا پہلے مغرب ادا کرے؟ اور پہلے مغرب ادا کرنے کے لیے وہ الگ سے نماز پڑھے یا امام کے ساتھ شامل ہو جائے؟ اور امام کے ساتھ شامل ہونے کی صورت میں وہ کیسے کرے؟ دلائل کے ساتھ واضح فرمائیں؟؟؟

    الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب

    غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر رہ گئی حتى کہ سورج غروب ہوگیا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے بالترتیب نماز ادا فرمائی۔
    عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ، جَاءَ يَوْمَ الخَنْدَقِ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي العَصْرَ، حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا» فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاَةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى العَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا المَغْرِبَ
    سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد آئے ‘ وہ قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے‘ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا حتى کہ سورج غروب ہوگیا۔ نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! میں نے بھی (عصر کی نماز) نہیں پڑھی ۔ تو ہم بطحان کی طرف گئے اور نماز عصر کے لیے وضوء کیا ۔ اور عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اسکے بعد مغرب ادا کی۔ (صحیح البخاری: 596 )
    اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے : وَأَحْسَنَ الهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بہتر ین طریقہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے (صحیح البخاری:7277 )
    اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے: وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ایسے نماز پڑھو جیسا کہ تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (صحيح البخاري: 631 )
    لہذا جب نمازیں قضاء ہو جائیں تو انہیں بالترتیب ہی ادا کیا جائے ۔ بے ترتیب نمازیں ادا کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

    اور جب مسجد میں جماعت کھڑی ہو تو اسکے بعد کوئی بھی نماز الگ سے نہیں پڑھی جاسکتی ۔ جماعت میں شامل ہونا لازم ہے۔ «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ» جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرضی نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔
    (صحیح مسلم : 710)
    بلکہ جماعت میں شامل ہونے کے لیے بھی امام کے اگلے رکن میں منتقل ہونے کا انتظار کرنا منع ہے۔ «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَالإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الإِمَامُ» جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو وہ امام کو جس بھی حالت میں پائے ‘ تو وہ ویسے ہی کرے جس طرح امام کر رہا ہے۔
    (جامع الترمذی : 591 )

    لہذا جب کوئی شخص مسجد میں پہنچے اور اسے عشاء کی جماعت ہو رہی ہو ‘ جبکہ اس نے مغرب کی نماز بھی ابھی ادا کرنی ہے تو وہ فورا امام کے ساتھ مل جائے اور نماز مغرب امام کے اقتداء میں ادا کرے۔

    امام صاحب چار رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیں گے ‘ تو یہ اٹھ کر ایک رکعت مزید پڑھے ۔ اسکی کل پانچ رکعات ہو جائیں گی۔ تین مغرب کے فرض اور دو نوافل۔

    اسکے بعد یہ عشاء کی نماز ادا کرے۔ ایک ہی سلام میں فرض اور نفل ایسی صورتوں میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ سہو والی احادیث میں بھی ہے
    مثلا: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : «إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعْنَ لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى إِتْمَامًا لِأَرْبَعٍ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ» جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شک کرے‘ اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ‘ تین یا چار؟ تو وہ شک دور کرے اور جس بات پر یقین آتا ہے اسی پر بنیاد بنائے۔ پھر سلام پھیرنے سے قبل دو سجدے کر لے۔ تو اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں تو (یہ دو سجدے) اسکی نماز کو جفت(چھ رکعت) بنا دیں گے۔ اور اگر اس نے پوری چار رکعتیں ادا کیں ہیں تو (یہ دو سجدے) شیطان کے لیے رسوائی کا باعث ہونگے۔ (صحیح مسلم: 571)
    تو اگر یہ شک مغرب کی نماز میں ہو اور اس نے چار رکعتیں پڑھ لیں تو یہ دو سجدے اسکی نماز کو طاق بنا کر پانچ رکعت کر دیں گے ۔ جن میں سے دو نفل اور تین مغرب کے فرائض ہونگے۔
    فتدبر! کچھ لوگ امام کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ ایک رکعت پڑھ لے پھر آخری تین رکعتوں میں شامل ہو کر عشاء پڑھانے والے امام کے پیچھے تین رکعت مغرب کے فرض ادا کرتے ہیں جو کہ اس وجہ سے بھی غلط جو اوپر بیان ہوئی اور دوسرا اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ جتنی رکعتیں امام نے پڑھائی ہوں کم از کم اتنی رکعتیں ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: «تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
    موسى بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ میں تھے تو میں نے انہیں کہا: جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے ہیں تو ہم چار رکعت پڑھتے ہیں اور جب اپنے خیموں میں جاتے ہیں تو پھر دو رکعتیں پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا : یہ ابو القاسم صلى اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
    (مسند احمد: 1862, اسکی اصل صحیح مسلم: 688میں ہے)
    مسافر پر فرض تو صرف دو رکعتیں ہی ہے‘ لیکن اگر امام مقیم ہو تو وہ ایک رکعت بھی امام کے ساتھ پالے اسے چار رکعتیں ہی ادا کرنا ہونگی کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اسے ابو القاسم صلى اللہ علیہ کی سنت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح عشاء پڑھانے والے امام کے پیچھے مغرب پڑھنے والے مقتدی کا معاملہ ہے ۔ امام کی رکعتوں سے زائد پڑھنا مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی کے نماز پورا کرنے والے دلائل سے ثابت ہے ۔ خوب سمجھ لیں۔
    پھر اسی طرح کچھ لوگ عشاء پڑھانے والے امام کی اقتداء میں مغرب پڑھنا شروع کرتے ہیں اور پھر جب امام تیسری رکعت سے چوتھی کے لیے اٹھتا ہے تو وہ اٹھتے نہیں بلکہ بیٹھے رہتے ہیں حتى کہ امام چوتھی رکعت کے تشہد میں بیٹھ جائے اور پھر اسکے ساتھ تشہد پڑھ کر سلام پھیرتے ہیں ۔
    اسی طرح کچھ لوگ امام کے چوتھی رکعت کے لیے اٹھ جانے کے بعد خود سے تشہد پڑھ کر خود ہی سلام پھیر دیتے ہیں اور جلدی جلدی دوبارہ عشاء کی نیت کرکے امام کے ساتھ آخری رکعت میں پھر شامل ہو کر عشاء کی نماز شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ دونوں طریقے مذکورہ بالا وجوہات کی بناء پر بھی نا جائز اور غلط ہے اور اس وجہ سے بھی غلط ہیں کہ اس میں امام کی اقتداء نہیں۔
    رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ، فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اسکی اقتداء کی جائے ‘ تو جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو تم بھی نماز میں کھڑے رہو‘ اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو‘ اور جب وہ اٹھے تو تم اٹھو‘ اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو‘ او رجب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو ‘ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی سبھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔
    (صحیح البخاری: 689)

    هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم
    وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘ عفا الله عنه
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں