1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عشر­­ۂ ذی الحجہ کے فضائل واعمال

'واجبات و فرائض' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 08، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 08، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشر­­ۂ ذی الحجہ کے فضائل واعمال

    اعداد وترتیب: ابوعدنان محمد طیب السلفی حفظہ اللہ​

    قمری سال کے آخری مہینہ کانام ذی الحجہ ہے یہ مہینہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے جس کو اللہ تعالی نے زمین وآسمان کی تخلیق ہی کے وقت سے محترم بنا رکھا ہے،
     
  2. ‏اکتوبر 08، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    فضائل:
    کتاب وسنت سے عشرۂ ذی الحجہ کی عظمت وفضیلت واضح ہے، فرمان باری تعالی ہے {وَالفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ} (سورۃ الفجر آیت: ۱۔۲) “ قسم ہے فجر اور دس راتوں کی ”
    مشہور مفسر امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر معالم التنزیل میں بحوالہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نقل فرماتے ہیں [ولیال عشر] سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں اور یہی قول مجاہد ، قتادہ، ضحاک، سدی اور کلبی رحمہم اللہ تعالی کا ہے۔
    دوسری جگہ اللہ تعالی کافرمان ہے {وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ } (سورۂ حج آیت: ۲۸)
    “اورمعلوم دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں”
    امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بحوالہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نقل فرمایا ہے کہ ان معلوم دنوں سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، ملاحظہ ہو (صحیح بخاری ،کتاب العیدین)
    فرمان نبویﷺ ہے
    آپﷺ نےیہ بھی فرمای
    مذکورہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے عشرۂ ذی الحجہ کی عظمت وفضیلت روزروشن کی طرح واضح ہے ، اسی بناپر علماۓمحققین فرماتے ہیں کہ عشرۂ ذی الحجہ کےایام مجموعی طور پر عشرۂ رمضان سے بھی افضل ہے، اس لئے کہ اس میں بہت سی بنیادی عبادتیں اکٹھی ہوجاتی ہیں جیسے نماز ، روزہ، صدقہ اور حج وغیرہ اور یہ ان کے علاوہ کسی اور دن میں جمع نہیں ہوتیں، اس لئے اللہ کے نیک بندے ان دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرکے زاد آخرت جمع کرنے کی کوشش کرتےتھے۔
    امام دارمی رحمہ اللہ نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے متعلق نقل کیا ہے کہ جب عشرۂ ذی الحجہ داخل ہوجاتا تو سعید بن جبیر تاحد استطاعت عبادت کرتے تھے۔
     
  3. ‏اکتوبر 08، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اعمال

    کثرت سے تسبیح وتحمید اور تہلیل پڑھنا:
    اس عشرۂ میں تکبیروتحمید اور تہلیل کا بکثرت ورد کرنا مسنون ہے،{ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنْ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ}
    تکبیر کے کوئی خاص الفاظ وصیغے آپﷺ سے ثابت نہیں ہیں بلکہ جتنے بھی الفاظ وصیغے ہیں وہ صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ماثور ومنقول ہیں ۔ ملاحظہ ہو ( ارواء الغلیل ج۳/ ۱۲۵)
    تکبیرات کے صیغے یہ ہیں :
    (1)الله أكبر الله أكبركبيرا
    (2) الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد.
    اور تکبیر دوطرح سے کہنا مشروع ہے۔
    (۱) تکبیر مطلق۔
    (۲) تکبیر مقید۔
    تکبیر مطلق کا مطلب یہ ہے کہ ہر آن اور ہر لمحہ مسجدوں ،گھروں، بازاروں، گلی کوچوں، راستوں، فرض اور نفلی نمازوں کے بعد، اورہر اس جگہ جہاں اللہ کے ذکر کی اجازت ہے تکبیر کہتا رہے ، یہ تکبیر مطلق ہے اور اس کا وقت ذی الحجہ کا چاند نکلنے ہی سے شروع ہوجاتا ہے اور تکبیر مقید یہ ہے کہ عرفہ کے دن فجر کی نماز کے بعد سے تکبیر کہنا شروع کیاجائے اور ایام تشریق کے آخری دن کے نماز عصر تک تکبیر کہتا رہے ۔
    ابن قدامہ المقدسی المغنی میں فرماتے ہیں کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ کس حدیث کی بنیاد پر آپ یہ کہتے ہیں کہ تکبیر مقید عرفہ کے دن نماز فجر سے شروع کیا جائے اور ایام تشریق کے آخری دن تک ختم کیا جائے تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا اس پر حضرت عمر، حضرت علی اورحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع رہاہے۔ انتہی کلامہ، ملاحظہ ہو ( المغنی ۲۸۹۳۳ ، ارواء الغلیل ج۳/ ۱۲۵)
    مرد بآواز بلند تکبیر کہیں گے اور عورتیں آہستہ آہستہ تکبیریں کہیں گی، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ ان دس دنوں میں حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہنا شروع کردیتے، ملاحظہ ہو (صحیح بخاری کتاب العیدین)
    فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم ہے {من أحيا سنة من سنتي قد أميتت بعدي فإن له من الأجر مثل من عمل بها من غير أن ينقص من أجورهم شيئا }’’ جس نے میری سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد چھوڑدی گئ تھی تو اس کے لئےان لوگوں کی مانند ثواب ہے جنہوں نے اس پر عمل کیا بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں سے کچھ کم کیا جائے” ( سنن ترمذی ، یہ حدیث اپنی شواہد کی بناپر حسن ہے )
    اس لئے ہمیں ذی الحجہ کے ان ابتدائ دس دنوں میں کثرت سے اللہ رب العزت کی بڑائ ،بزرگی اور اس کی تحمید وتقدیس بیان کرنی چاہئے۔
     
  4. ‏اکتوبر 08، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    یوم عرفہ کاروزہ رکھنا:
    اس دن روزہ رکھنے کا بڑا اجر وثواب ہے اور یہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے،
    یہ روزہ غیر حاجیوں کے لئے مستحب ہے البتہ حاجیوں کے لئے اس دن کاروزہ رکھنا مسنون نہیں ہے، کیوں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، چنانچہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس جھگڑا کرنے لگے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے عرفہ کو روزہ رکھا ہے یا نہیں کچھ نے کہا آپ روزے سے ہیں اور کچھ نے کہا نہیں آپ روزے سے نہیں ہیں ، پھر ام الفضل نے دودھ کاایک پیالہ آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس بھیجا ،آپ اونٹ پر سوا ر تھے، آپ نے پی لیا۔” (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
     
  5. ‏اکتوبر 08، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عرفہ کے دن دعا کرنا:
    عرفہ کے دن دعا کرنے کی بڑی فضیلت ہے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
    علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ یوم عرفہ کی دعا اکثروبیشتر قابل قبول ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو (کتاب التمہید ج۶/ ۴۱)
    اس لئے جو لوگ حج پر نہیں گئے ہوں انہیں بھی چاہئے کہ اس عظیم دن میں دعا کا اہتمام کریں اور قبولیت دعا کی امید میں اپنے لئے اور اپنے والدین، بیوی، بچے، تمام مسلمانوں اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے دعا کریں۔
     
  6. ‏اکتوبر 08، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حج وعمرہ کرنا:
    اس عشرہ میں کئے جانے والے بہترین اعمال میں سے ایک بہترین عمل اللہ کے گھر کاحج بھی کرنا ہے اور جسے اللہ اپنے گھر کے حج کی توفیق دے اور وہ حج کے اعمال کو بحسن وخوبی انجام دے تو اسے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے فرمان کے مطابق جنت ضرور ملے گی، ارشادنبوی صلى الله عليه وسلم ہے،{الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلا الْجَنَّةُ} ’’حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے‘‘
     
  7. ‏اکتوبر 08، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اعمال صالحہ کا اہتمام:
    اس عشرہ میں نیک عمل اللہ تعالی کو بہت ہی محبوب ہے اس لئے جو شخص حج پر قادر نہ ہو اسے چاہئے کہ کہ اس سنہرے ایام اور مبارک اوقات کو اللہ کی اطاعت میں لگائے، یعنی نما، تلاوت قرآن، ذکر الہی، دعا ، سدقہ ، والدین کی اطاعت، صلہ رحمی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر علاوہ ازیں نیک اور اطاعت کے جوبھی راستے ہوں اس کو انجام دے ۔
     
  8. ‏اکتوبر 08، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    سچی توبہ:
    ویسے تمام ہی اوقات میں مسلمانوں پر توبہ کرنا واجب ہے لیکن سنہرے ایام اور مبارک ساعات و اوقات میں توبہ کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لئے ہمیں اس عشرہ کو باعث غنیمت سمجھتے ہوئے اللہ کے سامنے سچی توبہ کرنا چاہئے اور توبہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ،کیوں کہ کو ئ نہیں جانتا کہ اسے کس لمحہ موت آجائے اور پھر اسے توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اگر کسی مسلمان کو اس سنہرے ایام اور مبارک اوقات میں نیک اعمال کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ توبہ کی توفیق بھی نصیب ہوجائے تویہ اس کی کامیابی کی دلیل ہے ، فرمان الہی ہے {فَأَمَّا مَنْ تَابَ وَآَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنَ المُفْلِحِينَ} ’’ ہاں جو شخص توبہ کرلےایمان لے آئے اور نیک کام کرےیقین ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہوجائے گا ” (سورۃ القصص آیت: ۶۷)
     
  9. ‏اکتوبر 08، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    دس ذی الحجہ کو قربانی کرنا:
    اس دن ساری دنیا کے مسلمان قربانی کرتے ہیں جس کو یوم النحر کہا جاتا ہے، اس دن تمام اعمال سے افضل قربانی کا خون بہانا ہے، فرمان نبوی صلى الله عليه وسلم ہے
    قربانی کا ثبوت قرآن وحدیث اور اجماع امت سے ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالی نے دو مقامات پر نماز اور قربانی کا ایک ساتھ ذکر فرماکر قربانی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ،سورۃ الکوثر میں اللہ تعالی نے واضح طور پر نماز کے ساتھ قربانی کا حکم دیا ہے { فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ } ’’ پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر ” اس طرح ایک دوسری جگہ نماز اور قربانی کا ذکرساتھ ساتھ کیا گیا ہے ، ، ارشاد الہی ہے { قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ العَالَمِينَ } ’’ بیشک میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لئے ہے” (سورۃ الانعام آیت: ۱۶۲ )
    نیز اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی میں باقاعدگی کے ساتھ ہر سال قربانی کی اور اپنی امت کو بھی تاکید فرمائ کہ ان کا ہر گھرانہ ہر سال قربانی دے،
    حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا
    معلوم ہوا کہ قربانی سنت مستمرہ ہے یہ اسلام کا شعار اور اسلامی تہذیب وتاریخ کا ایک بڑا نشان ہے، عہد نبوی صلى الله عليه وسلم سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کااسی پر عمل رہاہے، اور تا قیام قیامت اس پر عمل رہے گا۔ان شاء اللہ
    جانور کی قربانی کرتے وقت ایک مسلمان کے اندر یہ جذبہ زندہ رہناچاہئے کہ گرچہ ہم ایک جانور کو اللہ کی راہ میں قربانی کررہے ہیں لیکن درحقیقت ہم اللہ کے راستہ میں اپنی محبوب سے محبوب ترین شئ کو بھی قربان کرسکتے ہیں ، یاد رکھیں دنیا کا کوئ نظام بغیر ایثار وقربانی کے زندہ نہیں رہ سکتا ، قوموں کے عروج وبقاء کے لئے قربانی ناگزیر اور ضروری ہے، دنیا میں سرداری وسربلندی سے وہی قوم ہمکنار ہوسکتی ہے جس کے اندر ایثار وقربانی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہو۔
    آج بھی ہوجو ابراہیم سا ایماں پیدا
    آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا​

    آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

    مضون کا لنک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں