1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عشر کا حکم ۔۔۔۔۔ اور زکوٰۃ کا ایک مسئلہ

'عشر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 14، 2014۔

  1. ‏نومبر 14، 2014 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عشر کے احکام ۔
    شروع از بتاریخ : 30 May 2013 11:49 AM
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    عشر کے متعلق آپ قرآن و حدیث سے تحریر فرما دیں، گائوں والے پریشان ہیں کوئی ایس انہیں جو حل کر سکے، کچھ لوگ کہتے ہیں، کہ مولانا عبد الرحمن صاحب مبارک پوری یہاں آئے تھے، تو موصوف کے دریافت کرنے پر بیسواں حصہ زکوٰۃ نکالنے کے لیے فرمایا تھا، اب ہم میں سے بعض کہتے ہیں کہ دسواں دیا جائے؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    آنحضرتﷺ نے جس طرح سونے چاندی اور مویشی کا نصاب مقرر فرمایا ہے، اور ہر ایک میں بطور زکوٰہ کے جتنا اور جیسا نکالنا جائز ہے، اس کی بھی تعیین و تصریح فرما دی ہے، اور اس کو ہمارے اختیار میں نہیںدیا، کہ جتنا اور جیسا شاہیں نکالیں، یا اپنی مرضی سے اس میں کمی و بیشی کریں، اسی طرح زمین کی پیداوار سے شرعی حق نکالنے کے لیے بھی نصاب بتلا دیا ہے، کہ جب تک کسی کے ہاں اتنی مقدار میں غلہ کی پیداوار نہ ہو، تو نکالنا واجب نہیں ہو گا، ساتھ یہ بھی بتلا دیا ہے، کہ جب اتنا پیدا ہو تو کتنا نکالنا لازم ہو گا، اور جتنا نکالنا لازم اور فرض ہے، اتنا ہی نکالنا ہو گا، کمی و بیشی کا ہمیں حق نہیں ہے، شریعت نے زمین کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، بارانی اور چاہی، اگر پیداوار بارش کے پانی سے ہو تو اس میں سے عشر دسواں حصہ زکوٰۃ ادا کرنا ہو گا، اور اگر کنویں کے ذریعہ آب پاشی سے پیداوار ہو تو ا س میں سے نصف عشر بیسواں حصہ زکوٰۃ میں ادا کیا جائے گا، اس کے علاوہ شریعت نے بیج گوڑنا، جوتنا، نرانا، آب پاشی کاٹنا، اور ماش کرنا وغیرہ کا اعتبار عشر یا نصف عشر مقرر کرنے میں نہیں کیا، اگر پانی کے علاوہ اور چیزوں کا اعتبار ہوتا تو فرما دیا جاتا، اسلامی حکومت میں جو زمین خراجی ہوتی ہے، اس کو اگر کوئی مسلمان خرید لے یا وہ کافر مسلمان ہو جائے، تو اس کو مقررہ خراج کے علاوہ بارانی میں عشر اور چاہی میں نصف عشر ادا کرنا واجب ہے، پیداوار میں سے خراج وضع کرنے کے بعد عشر یا نصف عشر نکالنے کی اجازت نہیں ہوتی، اورنہ ہی خراج دینے کی وجہ سے دسویں یا بیسویں کی بجائے تیسواں یا چالیسواں نکالنے کی اجازت ہے، ٹھیک اسی طرح غیر مسلم حکومت میں مسلمان کاشتکاروں سے جو پوت مال گذاری لگان لیا جاتا ہے، اس کا اثر آنحضرتﷺ کے مقرر کردہ عشر یا نصف پر نہیں پڑے گا، یعنی نہ تو کل پیداوار سے لگان مال گزاری اور پوت وضع کرنے کے بعد عشر یا نصف عشر نکالنے کی اجازت ہو گی، اور نہ مال گزاری اور لگان کی وجہ سے بارانی زمین کی پیداوار سے دسواں کی بجائے، بیسواں اور چاہی سے بیسواں کی بجائے تیسواں اور چالیسواں نکالنا جائز ہو گا، آنحضرتﷺ کو علم غیب نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ تو جانتا تھا، کہ مسلمانوں پر کبھی غیر مسلم حکمران ہوں گے، اور ان پر طرح طرح کے ٹیکس لگائیں گے پھر کیوں نہ اپنے نبی کے ذریعہ ہم کو یہ بتا دیا کہ پانی کے علاوہ ایسے ٹیکسوں کو بھی لحاظ و اعتبار کرنا ہو گا۔ ((وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِسَیْنَا)) (مریم)
    پانی ٹپا کر غلہ پیدا کرنے کے مصارف ہر جگہ یکساں نہیں ہیں، کہیںکم ہیں کہیں زیادہ، آنحضرتﷺ نے اس کمی و بیشی کا کچھ اعتبار نہیں کیا، کیوں کہ ان کا انضباط مشکل تھا، اس لیے مطلقاً ہر حالت میں قاعدہ کلیہ طور بیسواں مقرر اور لازم کر دیا۔ جس میں اب ہم کو کمی و بیشی کرنے کا حق نہیں، اور بارانی زمین کی پیداوار سے ہر حال میں دسواں ہی نکالنا ہو گا، حضرت مولانا حافظ عبد اللہ صاحب غازی پوری نے اپنے مطبوعہ رسالہ میں، اور ان کے شاگرد رشید اور (میرے استاد و شیخ) حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب مبارکپوری بھی اپنے قلمی غیر مطبوعہ رسالہ میں یہی تحریر فرمایا ہے، او ریہی حق ہے۔ (ترجمان دہلی جلد ۶ شمارہ ۷)


    جلد 7 ص 119۔121


    محدث فتویٰ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 01، 2018 #2
    حافظ یعقوب حیدری

    حافظ یعقوب حیدری مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    اسلام علیکم بھائی صاحب کیا والدین اپنے غریب اور بیمار بیٹے کو جو کہ شادی شدہ ہے عشر دے سکتے ہیں والسلام
     
  3. ‏نومبر 01، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,318
    موصول شکریہ جات:
    2,380
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    الجواب بعون الوہاب ::

    الحمد للہ:
    باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ نہیں دے سکتا، کیونکہ اگر بیٹا غریب ہے، اور باپ صاحب حیثیت ہے تو باپ کیلئے یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے بیٹے پر خرچ کرے، کیونکہ اگر باپ اپنے بیٹے کو زکاۃ دیگا تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اس نے زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

    چنانچہ اس بارے میں امام ابو محمد موفق الدین ابن قدامہ رحمہ اللہ (المتوفی 620 ھ)
    "المغنی" (2/269) میں کہتے ہیں:
    قال ابن قدامة رحمه الله في "المغني" (2/269) : " ولا يعطى من الصدقة المفروضة للوالدين, ولا للولد . قال ابن المنذر : أجمع أهل العلم على أن الزكاة لا يجوز دفعها إلى الوالدين , في الحال التي يجبر الدافع إليهم على النفقة عليهم , ولأن دفع زكاته إليهم تغنيهم عن نفقته , وتسقطها عنه , ويعود نفعها إليه , فكأنه دفعها إلى نفسه .
    وكذلك لا يعطيها لولده . قال الإمام أحمد : لا يعطي الوالدين من الزكاة , ولا الولد ولا ولد الولد , ولا الجد ولا الجدة ولا ولد البنت "

    "فرض زکاۃ میں سے والدین، اور اولاد کو نہیں دیا جا سکتا، امام محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري (المتوفی 319 ھ) کہتے ہیں کہ:
    اہل علم کا اس بارے میں اجماع ہے کہ اولاد والدین کو ایسی صورت میں زکاۃ نہیں دے سکتی جب اولاد پر والدین کا خرچہ واجب ہوتا ہو، کیونکہ اگر اولاد والدین کو زکاۃ دے گی تو اس طرح اولاد کو والدین پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، گویا کہ انہوں نے زکاۃ دے کر اپنے ذمہ واجب خرچہ کو بچا لیا ہے، یا دوسرے لفظوں میں زکاۃ خود ہی رکھ لی ہے۔

    اسی طرح اپنی اولاد کو بھی زکاۃ نہیں دے سکتے، امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: "والدین ، اولاد، پوتے ، دادا، دادی، اور نواسے کو اپنی زکاۃ نہ دے"
    انتہی باختصار

    وسئل الشيخ ابن عثيمين رحمه الله : هل يجوز للإنسان أن يدفع الزكاة لولده ؟

    فأجاب : " فيه تفصيل : إن كان يريد أن يعطيه للنفقة مع وجوبها عليه فهذا لا يجوز ، وإن كان يريد أن يقضي عنه دينا كحادث سيارة مثلا وتكسرت السيارة التي أصابها ، وثُمنت السيارة بعشرة آلاف ، فإنه يجوز لأبيه أن يدفع عنه الزكاة من أجل هذا الحادث " انتهى من "مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين"

    (18/508). وينظر (18/415).
    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
    "کیا انسان اپنی اولاد کو زکاۃ دے سکتا ہے؟"
    تو انہوں نے جواب دیا:
    "اس میں تفصیل ہے، چنانچہ اگر والد اپنی اولاد کو زکاۃ اس لیے دینا چاہتا ہے کہ اسے اولاد کا خرچہ نہ دینا پڑے تو یہ جائز نہیں ہے، لیکن اگر والد اپنے بیٹے کی طرف سے قرض اتارنا چاہے تو قرض اتار سکتا ہے، مثلاً: بیٹے نے کسی کی گاڑی کو ٹکر ماری اور حادثہ ہو گیا، اور دوسری گاڑی کا خرچہ 10000 ہزار ریال بنا تو والد اس حادثے کی وجہ سے 10000 ریال اپنی زکاۃ سے دے سکتا ہے" انتہی
    "مجموع فتاوى الشیخ ابن عثیمین" (18/508) نیز دیکھیں: (18/415)

    اگر صورت حال ایسی کہ والد زکاۃ کے پیسوں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا ، تو
    اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف "الاختيارات" (ص 104)میں ہے کہ:

    " ويجوز صرف الزكاة إلى الوالدين وإن علوا – يعني الأجداد والجدات - وإلى الولد وإن سفل – يعني الأحفاد - إذا كانوا فقراء وهو عاجز عن نفقتهم ، وكذا إن كانوا غارمين أو مكاتبين أو أبناء السبيل ، وإذا كانت الأم فقيرة ولها أولاد صغار لهم مال ونفقتها تضر بهم أعطيت من زكاتهم " انتهى باختصار .
    "والدین اور آباؤ اجداد کو اسی طرح اپنی اولاد ،نیچے تک یعنی پوتے پوتیوں کو زکاۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ لوگ زکاۃ کے مستحق ہوں اور زکاۃ دینے والے کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے ان کا خرچہ برداشت کر سکے، یا ان میں سے کوئی مقروض ہو یا ،مکاتب ہو یا مسافر ہو تب بھی ان پر خرچ کر سکتا ہے، اسی طرح اگر ماں غریب ہو، اور اس کے بچوں کے پاس مال ہو، تو ماں کو بچوں کے مال کی زکاۃ دی جا سکتی ہے"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور اوپر المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ کے حوالے جو ممانعت ہے ، وہ اس صورت میں جب زکاۃ لینے والا بیٹا ہو ،اور اس کے اخراجات ابھی والد کے ذمہ ہوں یعنی وہ خود کمانے کے قابل نہ ہو ،یا حسب حاجت نہ کما سکے ،
    اسی طرح جس بیٹی کے ضروریات والد کےذمہ ہوں یعنی اس کی شادی نہ ہوئی ہو ، اس کو بھی زکاۃ دینا مذکورہ فتوی کے مطابق منع ہے ،
    جب کہ جو صورت آپ نے بتائی کہ بیٹا شادی شدہ اور زکاۃ کا مستحق ہے تو اس صورت میں اس کا والد اسے زکاۃ دے سکتا ہے
    کیونکہ اولاد کی بلوغت کے بعد ان کا خرچ والدین کی ذمہ داری نہیں ،بالخصوص جبکہ اولاد علیحدہ اپنا گھر بسالے اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے۔
     
    Last edited: ‏نومبر 02، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں