1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عشق رسول کے دعویداروں کے اقوال

'غیر اللہ سے مدد مانگنا' میں موضوعات آغاز کردہ از اویس تبسم, ‏مارچ 12، 2015۔

  1. ‏مارچ 12، 2015 #1
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    369
    موصول شکریہ جات:
    133
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    اتنی صریح آیات کے باوجود ان نام نہاد عاشقان رسول نے لکھا
    (۱)اولیا ء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا، ان کے ساتھ توسل کرنا امر مشروع (یعنی شرعاً جائز) وشیء مرغوب (پسندیدہ چیز ) ہے
    جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف ۔ (فتاوی رضویہ از احمد رضا بریلوی:۳۰۰)
    (۲)
    انبیاء و مرسلین ،اولیاء علماء صالحین سے ان کے وصل (فوت ہونے ) کے بعد بھی استعانت (تعاون طلب کرنا) و استمداد
    (مدد طلب کرنا) جائز ہے،اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف (حالات کو پھیرتے ) ہیں ۔ (الامن و العلی از احمد رضا :۱۰)
    (۳)
    احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں:
    میں نے جب بھی مدد طلب کی یا غوث ہی کہا ،ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی سے مدد مانگنی چاہی مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہیں نکلا بلکہ زبان سے یا غوث ہی نکلا۔ (ملفوظات احمد رضا بریلوی ص ۳۰۷)
    (۴)
    جو شخص کسی نبی، یا رسول، یا کسی ولی سے وابستہ ہو گا، تو اس کے پکارنے پر وہ حاضر ہو گا ،اور مشکلات میں اس کی دستگیری کرے گا۔(فتاوی افریقہ از احمد رضا بریلوی ۱۳۵)
    (۵)
    احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں:
    جب تمہیں پریشانی کا سامنا ہو تو اہل قبور سے مدد مانگو۔ (الامن و العلی ص ۴۶)
    (۶)
    احمد رضا بریلوی لکھتے ہیں:
    ہر چیز، ہر نعمت، ہر مراد ،ہر دولت دین میں دنیا میں، آخرت میں ،روز اول سے آج تک،آج سے ابد آباد تک،جسے ملی، یا ملتی
    ہے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس سے ملی اور ملتی ہے ۔ (فتاوی الرضویہ ج ۵۷۷)

    یہ نظریات صریحاً شرک ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے شرک کی کوئی دلیل نازل نہیں کی، وہ دین جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اس میں یہ نظریات نہیں ہیں اور نہ خیر القرون میں سے کسی سے یہ نظریات ثابت ہیں بلکہ ائمہ اہل سنت نے شرک کو نواقض اسلام (اسلام سے خارج کر دینے والا عمل) میں شمارکیا ہے، راستہ وہی حق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اور صحابہ کرام نے سیکھا اور اس پر عمل کیا۔

    فرمان باری تعالیٰ ہے:
    جو چیز رسول تم کو دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔(الحشر)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 13، 2015 #2
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    عشق رسول كى بجاى محبت رسول زىاده بهترهى
     
  3. ‏اپریل 03، 2016 #3
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    ان تمام اقوال کا جواب یہ کہ اعلی حضرت نے خود ان کی وضاحت کر دی کہ استعانت بمعنی توسل ہے (استمداد ص 4)
     
  4. ‏اپریل 04، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    استعانه لغير الله = وسیلہ
    سجدة القبر = سجدہ تعظیمی

    قول کی معانی جو آپکی مرضی
    عمل کا تعین جو آپ کریں
    جنت بهی آپکی
    خوب فکر ہے جو خوابوں خیالوں والی ہے حتی کہ بخشش بهی گارنٹڈ ہے
     
  5. ‏اپریل 04، 2016 #5
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    معذرت کے ساتھ اعلی حضرت کی طرف سے مخالفین کو جواب۔
    تیری جہنم سے تو کچھ چھینا نہیں
    خلد میں پہنچا رضا پھر تجھ کو کیا۔
    باقی استغاثہ کا معنی وسیلہ اس پر فارم پر کافی بحث ہے اس کا جواب دیں۔اس قسم کے کمنٹس کا کیا فائدہ حضرت جی
     
  6. ‏اپریل 04، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جی رانا صاحب
    وہاں آپ سے شروع کردہ باتیں ابهی تک وہیں رکی ہوئی ہیں ۔ شاید آجکل آپ مشغول ہیں ۔ وقت ملے تو اعادہ کر لیں ۔
    کمنٹس پر کمنٹس سے اعتراض کیسا !؟
     
  7. ‏اپریل 04، 2016 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    آپ نے کسی کے شعر سے جواب دیا ، اگرچہ کہا وہی جو ہم نے نثر میں کہا : بخشش بهی گارنٹڈ ۔ اضافہ بهی کیا یعنی ہمیں جہنمی کہدیا ۔ اب ستم یہ کہ شکایت بهی آپ کریں !
    کیا علم ہے ، کیا تعلیم ہے اور کیا تربیت ہے !؟
     
  8. ‏اپریل 04، 2016 #8
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    جناب آپ کو جہنمی نہیں کہا نعوذبااللہ اس لئے ۔
     
  9. ‏اپریل 04، 2016 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جناب شعر تو آپکی خواہش کے مطابق آپکا ہی پیش کردہ ہے ، عربی نا فارسی بلکہ انتہائی عام درجہ کی اردو زبان سے ہے !
     
  10. ‏اپریل 04، 2016 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻋﻠﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ-ﺗﯿﺮﯼ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﯿﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟﺧﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺭﺿﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ-"

    سند بهی اٹیچ هے آپ کے کلام کی۔
    کیا خیال ہے کس سے رجوع کرنا پسند کرینگے آپ ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں