1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

'سیاست شرعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏فروری 12، 2015۔

  1. ‏فروری 12، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    عصر حاضر میں خروج کا مسئلہ اور شبہات کا جائزہ

    زاہد صدیق مغل
    ماہنامہ 'ساحل'سے متعارف ہونے والے کراچی کے فکری حلقے کے نمائندہ جناب زاہد صدیق مغل نے زیر نظر مضمون میں جمہوریت کا تجزیہ وتردید کرتے ہوئے خلافتِ اسلامیہ کے درجات متعین کئے ہیں۔ اُنہوں نے فی زمانہ خروج کی تحریکوں کی وجۂ جواز، اُمت ِمسلمہ پر باطل نظاموں کی حکومت کو قرار دیا ہے کہ جب تک اسلامی نظام قائم نہیں ہوگا،اس وقت تک مسلمان تکفیر و خروج کےاسلامی سیاسی تصور سے استدلال کرکے اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔اس سلسلے میں خروج کے شرعی جواز کے دلائل تفصیلا ً پیش کرتے ہوئے،اُن کی رائے ہے کہ ان پر خروج کی بجائے جہاد کا لفظ بولنا زیادہ موزوں ہے کیونکہ خروج دراصل کسی اسلامی ریاست کے خلاف ہوتا ہے۔فی زمانہ مسلمانوں کی موجودہ ریاستوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اُنہوں نے خروج کے لفظ کو خلط ِمبحث قرار دیا ہے ۔ ایک مستقل طرزِ فکر ہونے کے ناطے ان کا استدلال بہر حال قابل توجہ ہے۔ یہ مضمون تکفیر وخروج پر جاری اس پہلے مذاکرے کا اہم حصہ ہے جس کی نشاندہی ادارتی صفحات میں کی گئی ہے۔مدیر
     
  2. ‏فروری 12، 2015 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    چند روز1قبل ایک این جی او کی طرف سے راقم الحروف کو مکالمہ بعنوان 'عصر حاضر میں تکفیر وخروج' کے موضوع پر شرکت کی دعوت دی گئی جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماے کرام نے شرکت فرمائی۔ چند وجوہات کی بنا پر راقم مکمل پروگرام میں شرکت نہ کرسکا، البتہ پروگرام کی ریکارڈنگ کے ذریعے شرکائے گفتگو کا مقدمہ اور ان کے دلائل سننے کا موقع ملا۔ پوری نشست کا خلاصہ یہ ہے کہ تقریباً تمام ہی شرکاے محفل نہ صرف یہ کہ عصر حاضر میں مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کے اُصولی عدم جواز پر متفق ہیں بلکہ قریب قریب ان کا یہ نظریہ ایک آفاقی قضیہ بھی ہے، یعنی ماسواے کفر بواح ،خروج ہر حال میں ناجائز و حرام ہے۔ رہی یہ بات کہ کفر بواح کی صورت میں کیا کیا جائے؟ تو شرکائے مجلس کے رجحانات ذیل میں سے ایک تھے:
    1. خروج وجہاد کے لئے ایسی سخت شرائط عائد کرنا جن کا مقصد اس جدوجہد کو عملاً ناممکن بنا دینا ہے ۔
    2. ایسے حالات میں اُمتِ مسلمہ کےلئے مروّجہ جمہوری طریقوں سے تبدیلی لانے کی جدوجہد کو بہترین طرز ِعمل قرار دینا، یعنی زیادہ سے زیادہ احتجاج وغیرہ کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ (اس نکتے پر باقاعدہ حدیث سے استدلال بھی فرمایا گیا)
     
  3. ‏فروری 12، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    شرکائے مجلس نے دلائل کے طور پر قرآنی آیات واحادیث سے بھی اپنے استدلال کو مزین فرمانے کی کوشش کی نیز اس سلسلے میں (سیاق و سباق سے کاٹ کر) کتبِ فقہ کی عبارات سے بھی اپنے دعوے کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ممانعتِ خروج کی حکمتوں پر انتہائی شدو مد کے ساتھ زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خروج سے منع کرنے کی وجہ مسلمانوں کو فساد سے بچانا نیز امن و سلامتی پر مبنی ریاست قائم کرنا ہے۔
    حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والے اس مکالمے میں جہاں یکطرفہ طور پر خروج کی ممانعت ثابت کرنے کے لئے اِس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا وہاں حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے خروج کا کلیتاً ذکر تک نہ ہوا کہ جاری بحث کی روشنی میں ان دونوں حضرات کے خروج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
     
  4. ‏فروری 12، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    زیر نظر مضمون کے پیش نظر دو مقاصد ہیں:
    اوّلا ًاپنے موقف کو پیش کرنا (جس کا موقع پروگرام میں نہ مل سکا)، ثانیا دیگر شرکائے محفل کے موقف کا جائزہ پیش کرنا ۔ دھیان رہے نفس مضمون کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ خروج کرنا ہر حال میں واجب ہے یا مصلحانہ اسلامی جدوجہد کرنا باطل ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی مخصوص تحریکِ خروج کو جواز فراہم کرنا ہے، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ جس طرح اصلاحی تحریکات کا دین میں مخصوص مقام ہے اسی طرح انقلابی جدوجہد (خروج وجہاد) بھی ایک جائز حکمتِ عملی ہے اور موجودہ دور میں اصولی طورپر اس کی ضرورت و اہمیت کا انکار کرنے والے حضرات نہ صرف یہ کہ غلطی پر ہیں بلکہ ایک جائز و اہم طریقۂ تبدیلی کے مواقع کو اپنے ہاتھ سے ضائع کردینے والے ہیں۔
     
  5. ‏فروری 12، 2015 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مباحثِ مضمون چار حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں:
    1. بنیادی مدعا یہ ہے کہ دورِ حاضر کی ریاستیں کسی بھی درجے میں خلافت اسلامیہ کے ہم پلہ نہیں بلکہ درحقیقت یہ سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں کے خلاف خروج کی بحث اُصولاً غلط ہے کیونکہ خروج تو فاسق و فاجر مگر'اسلامی ریاست ' کے خلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ موجودہ ریاستوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کا جواز خروج سے بھی آگے بڑھ کر مباحثِ جہاد سے فراہم کیا جا نا چاہئے۔ اس بنیادی دعوے کی تفہیم کےلئے جن اُصولی مباحث کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ان کی وضاحت حصّہ اوّل میں کی گئی ہے ۔ ان مباحث سے اقوالِ فقہا سمجھنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔
    2. موجودہ سرمایہ دارانہ مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا عدم جواز ثابت کرنے والے مفکرین اپنے دعوے میں وزن پیدا کرنے کے لئے فقہاے کرام کے جن خلافِ خروج اقوال کا سہارا لیتے ہیں، ان اقوال کا درست فقہی تناظر حصہ دوم میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
    3. حصہ سوم میں منکرین خروج کے اُن شکوک و سوالات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جنہیں اکثر و بیشتر انقلابی و جہادی جدوجہد کے خلاف بطورِ دلیل پیش کیا جاتا ہے۔
    4. آخری حصے میں تحریکاتِ اسلامی کی خدمت میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی قوت کا بھر پور اظہار کس طرح ممکن ہے۔ وما توفیقی الا باللہ! (آخری دونوں حصے آئندہ شمارے میں شائع کیےجائیں گے۔ ان شاءاللہ)
     
  6. ‏فروری 12، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حصہ اوّل: خروج کے ضمن میں چند اُصولی مباحث

    زیر بحث موضوع پر درست زاویہ نگاہ سے غور کرنے کے لئے چند اُصولی نکات کی وضاحت ضروری ہے، لہٰذا پہلے اُن کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے:
    1) ریاست و حکومت کا فرق : خروج کی بحث کو درست طورپر سمجھنے کے لئے حکومت و ریاست کا فرق سمجھنا نہایت ضروری امر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ریاست کے ہم معنیٰ سمجھنا ہی بے شمار علمی وفکری مسائل کی اصل وجہ ہے۔ درحقیقت جب تک یہ فرق واضح نہ ہو فقہاے کرام کی خلافِ خروج عبارات کا اصل محل سمجھنا نہایت دشوار امر ہے۔ چنانچہ ریاست کا معنی 'نظام اقتدار'یا 'نظامِ اطاعت و جبر' ہوتا ہے جبکہ حکومت محض اس کا ایک جز ہے، نہ کہ کل ریاست ۔ نظام اقتدار کا دائرہ خاندان سے لیکر حکومت تک پھیلا ہوتا ہے جس میں نظام تعلیم، معاشرتی تعلقات کی حد بندیاں ، نظام تعزیر ، قضا، حسبہ اور انہیں نافذ کرنے والے ادارے وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں جن میں سے ایک اہم مگر جز وی ادارہ حکومت بھی ہوتا ہے۔
     
  7. ‏فروری 12، 2015 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    درج بالا فرق کی وضاحت ہم جمہوریت کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ جمہوریت محض تبدیلی حکومت کے ایک مخصوص طریقے ( ووٹنگ) کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ریاستی نظام ہے جس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا جا سکتا ہے:
    جمہوری نظم ریاست کے کلیدی ادارے: مقننہ، بیوروکریسی (انتظامیہ ) وٹیکنوکریسی (سرمایہ دارانہ علوم کے ماہرین )، عدلیہ، کورٹس، پولیس، فوج ، کارپوریشن وفائنانشل ادارے (مثلاً بینک)، تعلیمی نظام، انٹرسٹ گروپس ، آزاد میڈیا وغیرہم
    جمہوری نظم ریاست میں سرمایہ دارانہ عقلیت کے فروغ میں سرگرم کلیدی کردار: دانشور، کلچرل ہیروز (سپورٹس مین، سائنسدان وغیرہ)، ٹیکنوکریٹ ، استعماری ایجنٹ
    جمہوری نظام نمائندگی کے اہم ادارے: انٹرسٹ گروپس، ہیروز کی پرستش، سیاسی پارٹیاں، ایڈمنسٹریشن ، سرمایہ دارانہ تحریکیں
    جمہوری نظام نفاذ کے اہم ادارے: فوج و پولیس، کورٹس اور عدلیہ کا نظام، شمولیت (سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانا)، اخراج (مخالفین کو بے دست وپا کر دینا)، سوشل ویلفیئر، صنعتی تعلقات
    درحقیقت جمہوریت ایک پیچیدہ اور گنجلک ریاستی نظام ہے جس میں طاقت کے بے شمار مراکز ہوتے ہیں 2اور اُن کا مقصد فرد و معاشرے پر سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) و علوم کی فرماروائی قائم کرنا ہے۔ جمہوری 'ریاست' کے اس نقشے کی روشنی میں حکومت اور ریاست کا فرق سمجھنا ممکن ہے، یعنی جمہوری حکومت سے مراد محض مقننہ (وہ بھی محض ایوانِ زیریں) ہے جبکہ جمہوری ریاست (نظامِ اطاعت) سے مراد درج بالا تمام ادارے ہیں۔ اب فرض کریں اگر محض حکومت بدلنے کے طریقے کو تبدیل کرکے کوئی خاندان جمہوری نظامِ ریاست پر قبضہ کرلے اور پھر بعینہٖ انہی جمہوری اداروں کے تحت حکمرانی کرنے لگے تو اسے جمہوری نظام کی تبدیلی نہیں کہا جاتا بلکہ اس قسم کی جمہوریت کو ' آمرانہ جمہوریت' (ill-liberal democracy) کہتے ہیں (جیسے پاکستان میں فوجی مداخلت کے بعد قائم ہونے والی جمہوریت ہوتی ہے)۔ چنانچہ کئی مسلم مفکرین3 کے خیال میں ایسی مسلم ریاستیں جہاں روایت پسند اسلام اور روایت پسند اسلامی تحریکات کا زور بہت زیادہ ہے، وہاں لبرل جمہوریت قائم کرنا سرمایہ دارانہ ریاستی نظم کے لئے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے (مثلاً اگر عوام ایسی پارٹی کو ووٹ دے کر حکومت میں لے آئیں جو آزادی، مساوات، ترقی، ہیومن رائٹس وغیرہ کو ردّ کرتی ہو تو پھر عین ممکن ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی لپیٹ دیا جائے)۔ لہذا ضروری ہے کہ ایسے مسلم اکثریتی علاقوں میں آمرانہ جمہوریتیں (بصورت استعمار دوست بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں کی حکومت) قائم کی جائیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ جس قدر سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوتا چلا جائے گا، اسی قدر اس بات کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ روایت پسندی جدیدیت پسندی میں تبدیل ہوجائے گی، سرمایہ دارانہ علوم و اداروں کا فروغ لوگوں کو اسلام کے بجائے خواہشاتِ نفس کا خوگر بنا دے گا، ساتھ ہی ساتھ اسلامی تحریکیں بھی جمہوری نظام میں اپنی جگہ بنانے کےلئے حقوق کی سیاست کرنے پر آمادہ ہوتی چلی جائیں گی اور جب یہ اطمینان ہو جائے کہ اب جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں تب آمرانہ جمہوریت کو لبرل جمہوریت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (عرب دنیا میں جاری بے چینی کی حالیہ لہر درحقیقت آمرانہ جمہوریتوں کو لبرل جمہوریتوں میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے، اُنہیں اسلامی تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھنا سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں)
     
  8. ‏فروری 12، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    چونکہ جمہوری نظام ریاست جس 'شیطانی انفرادیت'(یعنی ہیومن بینگ) کے وجود کا تقاضا کرتا ہے وہ انسانی فطرت کے کلیتاً منافی ہے، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں آج تک جمہوری ریاست بذاتِ خود جمہوری طریقے سے نافذ نہیں کی جاسکی بلکہ اس کے لئے ابتدائی دور میں قتل و غارت گری اور جبر و استبداد سے کام لینا پڑتا ہے اور جس رفتار سے جمہوریت کے ریاستی ادارے مستحکم ہوجاتے ہیں،اسی قدر جمہوریت کو بھی لبرل بنادیا جاتا ہے۔ اسی طرح فرض کریں اگر کسی جمہوری ریاست میں آزاد میڈیا نہ ہو (جیسے پاکستان میں مشرف کے دور سے پہلے نہ تھا) یا عدلیہ کرپٹ ہو تو اسے جمہوری ریاست کے عدم وجود کے ہم معنی نہیں کہا جاتا۔ حکومت و ریاست کا یہ فرق ذہن میں رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کی روشنی میں ہم فقہاے کرام کے اقوال سمجھنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔
     
  9. ‏فروری 12، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    2) خلافتِ اسلامی کے درجات : خروج کے ضمن میں فقہاے کرام کے اقوال کی درست تعبیر بیان کرنے کےلئے اسلامی خلافت اور اس کے درجات پیش نظر رہنا بھی نہایت اہم امر ہے۔ ذیل میں اس کا مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے:
    اسلامی خلافت وریاست (نظامِ اقتدار) کی بنیاد رسول اللہﷺ کی سیاسی نیابت ہے، یعنی یہ ماننا کہ انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں فیصلے اس بنیاد پر ہونگے کہ شارع کی رضا کیا ہے ، حکمران خود بھی اس پر عمل کرے گا اور عوام کو بھی عمل کرائے گا ۔ اس نیابت میں درجات کی مثال درحقیقت درجاتِ ایمان کی سی ہے ، یعنی جیسے مسلمانوں کے ایمان کے درجات ہوتے ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں ہم ابو بکر و عمر اورصحابہ کہتے ہیں؛ کچھ اس سے کم ایمان رکھتے ہیں، کچھ ہم جیسے کمزور ایمان والے ہیں، ان میں بھی کچھ کم درجے کے فاسق ہیں اور کچھ انتہا ئی درجے کے فاسق، لیکن اس کمی بیشئ درجات کے باوجود سب کے سب مسلمان ہی ہیں۔ گو کہ مطلوبِ اصلی تو صحابہ جیسا ایمان ہی ہے لیکن اس درجہ ایمانی سے کم ایمان والے لوگوں کو ہم مسلمان کہنے کے بجائے کچھ اور نہیں کہتے۔ بعینہٖ یہی معاملہ خلافت کا بھی ہے کہ اس میں ایک درجہ وہ ہے جسے ہم 'خلافت ِراشدہ' کہتے ہیں جو خلافتِ اسلامی کے اظہار کا بلند ترین درجہ تھا جبکہ اس کے بعد گو کہ خلافت تو موجود رہی مگر اس کے اظہار کا وہ معیاری درجہ مفقو دہوگیا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کا آئیڈیل نظام باقی نہ رہا اور مطلوبِ اصلی وہی نظام ہے لہٰذا ہم بعد والے دور کو خلافت کے بجائے کسی اور نام (مثلاً مسلمانوں کی تاریخ) سے پکاریں گے تو یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ آئیڈیل اور مطلو ب ایمان تو صحابہ کا ہی تھا اور اس کے بعد مطلوب ایمان کا درجہ قائم نہ رہا لہذا ہم بعد والے لوگوں کو مسلمان کے علاوہ کچھ اور (مثلاً مسلمانوں جیسے) کہیں گے۔
     
  10. ‏فروری 12، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پھر جیسے ہر ریاست کے ذمے چند اندرونی اور بیرونی مقاصد کا حصول اور اس کے لئے لائحۂ عمل وضع کرنا ہو تا ہے، اسی طرح خلافت کے بھی دو تقاضے ہیں: ریاست کے اندرونی معاملات کی سطح پر اقامتِ دین کے لئے نفاذ شریعت ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد پر نظام اقتدار کی تشکیل اور بیرونی معاملات میں اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جہاد وتبلیغ کا نظام مر تب کرنا۔
    درجاتِ خلافت کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے بیان کی جاسکتی ہے:
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں