1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقيده ۔۔ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از Talha Salafi, ‏ستمبر 19، 2018۔

  1. ‏فروری 27، 2019 #11
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    شیخ محترم کی یہ بات بڑی عجیب ہے، مخلوق میں بھی تعدد مکان سے تعدد مکین لازم نہیں آتا، ہم دیکھتے ہیں مخلوق ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہتی ہے لیکن مکیں ایک ہی رہتا ہے جبکہ مکان بدلتا رہتا ہے ہاں یہ بات صحیح ہے کہ جب جب مخلوق ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے اس کی پہلی جگہ اس کے وجود سے خالی ہوتی جاتی ہے لیکن خالق کے متعلق مکان کا خالی ہونا لازم نہیں آتا کیوں کہ مخلوق کے متعلق ہماری بات ہمارے مشاہدے کی بنیاد پر اور جب ہم نے خالق دیکھا نہیں تو ہم اس سے متعلق ایسی بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ در اصل یہ سب باتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ہم خالق کو اپنے اعتبار سے دیکھتے ہیں اور اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں جبکہ خالق کا معاملہ تو "لا تدركه الأبصار" کا معاملہ ہے کہ اس کی حقیقت تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے احادیث کے مطابق اس کی کرسی کے مقابلے آسمانوں کی بس اتنی حقیقت ہے جیسے چٹیل میدان میں کوئی معمولی چھلا پڑا ہو تو جب کرسی کا حال یہ ہے تو عرش کا کیا کہنا جو کرسی سے بھی بڑا ہے!
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد عامر یونس
    جوابات:
    9
    مناظر:
    2,135
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    55
  3. afrozsaddam350
    جوابات:
    2
    مناظر:
    104
  4. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    124
  5. عامر عدنان
    جوابات:
    7
    مناظر:
    207

اس صفحے کو مشتہر کریں