1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ ختم نبوت (قرآن واحادیث کی روشنی میں)

'انبیا ورسل' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏دسمبر 14، 2017۔

  1. ‏دسمبر 14، 2017 #1
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    نبی کریمﷺ اللہ کے آخری نبی اوررسول ہیں۔آپ کے بعد کسی قسم کاکوئی تشریعی، غیرتشریعی، ظلی، بروزی یانیانبی نہیں آئے گا۔آپ ﷺ کے بعدجو شخص بھی نبوت کادعویٰ کرے وہ شریعت مطہرہ کی رُوسے کافر، مرتد، زندیق اورواجب القتل ہے۔قرآن مجیدکی ایک سو سے زائدآیات ِ مبارکہ اورنبی کریم ﷺکی دوسودس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اوررسول ہیں۔
    عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔عقیدہ ختم نبوت دین کے ایک جز یا رکن کا نام نہیں بلکہ اسلام کی اساس ہے ۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگراس میں شکوک وشبہات کا ذراسابھی رخنہ پیداہو جائے تو ایک مسلمان اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے ۔
    عقیدہ ختم نبوت قرآن کی روشنی میں قرآن مجیدعقیدہ ختم نبوت کو بڑے واضح اورغیرمبہم الفاظ میں بیان کرتاہے۔قرآن مجیدکی ایک سو سے زائدآیات مبارکہ عقیدہ ختم نبوت کے ایک ایک پہلو کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اورواشگاف الفاظ میں اعلان کرتی ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اوررسول ہیں ، آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کاکوئی نیارسول یانبی نہیں آئے گا۔اس ضمن میں قرآن مجیدکی دو اہم ترین آیات مبارکہ کا ترجمہ وتفسیرپیش خدمت ہے: سورۃالاحزاب کی آیت نمبر40 میں ارشاد باری اللہ ہے :
    مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
    " محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جاننے والا ہے" ۔
    اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو خاتم البنیین کے لقب کے ساتھ متصف فرمایا ہے لہذا آپ ﷺکی بعثت کے بعد سلسلہ نبوت و رسالت منقطع ہو گیا اوراب قیامت تک کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔
    لیکن قادیانی لفظ خاتم کا معنی افضل نبی لیتے ہیں۔
    آئیے ہم لغت اور تفسیر کی روشنی میں خاتم کاجائزہ لیتے ہیں۔
    امام راغب اصفہانی( المتوفی 502ھ( لغت کے امام ہیں اپنی لغت کی کتاب) المفردات۔کتاب الخاء ( میں خاتم کا معنی لکھتے ہیں: - ترجمہ)"حضوﷺ کو خاتم النبیین اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺنے سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا یعنی آپﷺکی تشریف آوری سے نبوت تمام ہو چکی ہے"۔
    امام ابو منصورالازھری ( ؒ المتوفی380ھ) اپنی کتاب التھذ یب فی اللغتہ میں لفظ خاتم کے معنی کی وضاحت میں لکھتے ہیں: - ترجمہ) "لغت میں طبع اور ختم کے معنی ایک ہیں یعنی کسی چیزکو ڈھانپ دینا اورمضبوطی سے باندھ دینا تاکہ اس میں کوئی چیزداخل نہ ہو سکے"۔
    رئیس المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ المتوفی) 28 ھ( اپنی تفسیر ابن عباس ص 262 پرلفظ خاتم کا معنی بیان فرماتے ہیں ۔(ترجمہ)" خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ نبوت حضورﷺکی ذات اقدس پر ختم کر دیا ہے پس آپ ﷺکے بعد کوئی نبی معبوث نہیں ہو گا" ۔
    قرآن مجید چونکہ قلب مصطفی ﷺ پر نازل ہوا ہے اس لیے قرآن کے کسی لفظ ،آیت یا معنی کی تفسیر سب سے بہتر خود حضور اکر م ﷺ فر ما سکتے ہیں تو آئیے ہم بارگاہ رسالت مآب ﷺسے لفظ خاتم النبیین کا معنی پوچھتے ہیں ۔
    ارشاد نبویؐ ہے: - ترجمہ)"میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں" ) سنن ابی دائود جلد نمبر 2ص224 ( سورۃ المائدۃ میں اللہ تعالیٰ نے واضح طورپر بیان فرمادیاکہ دینِ اسلام مکمل ہو چکاہے۔اب قیامت تک اس میں ترمیم واضافہ کی نہ گنجائش ہے اورنہ ضرورت۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: - ترجمہ)"آج میں نے مکمل کردیاتمھارے لیے تمھارادین اورپوری کردی تم پراپنی نعمت، اورمیں نے پسندکرلیاتمھارے لیے اسلام کوبطوردین"۔
    مذکورہ آیت مبارکہ حجتہ الوداع کے موقع پرعرفہ کے دن بروزجمعۃ المبارک نازل ہوئی۔ بعض علماء کے نزدیک یہ آخری آیت تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔جمیع مفسرین کے مطابق یہ آیت ، آیاتِ احکام میں سے آخری آیت ہے اورآئندہ کے لیے وحی ونبوت کے ختم ہونے کی خبر دے رہی ہے۔
    سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 136میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ترجمہ) " (اے مسلمانو)تم کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اوراس(کتاب) پرجو ہماری طرف اتاری گئی اوراس پر جو ابراہیم اوراسماعیل اور یعقوب اورانکی اولاد کی طرف اتاری گئی اوران (کتابوں ) پر بھی جو موسیٰ اورعیسیٰ اورجو دوسرے انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئیں ، ہم ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے ، اورہم اسی(معبودواحد) کے فرمانبردار ہیں"۔
    اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو صرف نزول وحی کی دوقسموں پر ایمان لانے کا حکم دیاگیاہے۔ ایک اس وحی پر جو انکی طرف بھیجی گئی یعنی قرآن مجید جبکہ دوسری وہ جو کہ پہلے انبیاء کی بھیجی گئی ۔آپ ﷺ کے بعد بھی اگر کسی نے آناہوتا تو اس پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا بھی حکم دیاجاتا۔پس آپ ﷺ ہی آخری نبی اوررسول ہیں ، آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا نہ ہی کوئی وحی نازل ہو گی۔ عقیدہ ختم نبوت احادیث کی روشنی میں قرآن مجیدکی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عقیدۂ ختم نبوت ؐنہایت وضاحت اورصراحت کے ساتھ مذکورہے۔ ذخیرہ احادیث میں سے تقریبا دوسودس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اوررسول ہیں۔ذیل میں عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر چنداہم احادیث مبارکہ کاترجمہ پیش کیاجاتاہے۔
    ارشاد نبوی ؐ ہے کہ (ترجمہ)"بے شک میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایک ایسے شخص کی طرح ہے جس نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا مگرایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر کے گرد چکر لگاتے اور ) اسکی خوبصورتی اور عمدگی پر ( اظہار تعجب کرتے اور کہتے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی ؟ ) کاش یہ بھی لگ جاتی تاکہ گھر مکمل ہو جاتا ( آپؐ نے مزید فرمایاکہ میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں" ۔) بخاری کتاب المناقب باب خاتم النبیین جلد 1 ص 501
    ( ۔ حضرت جبیربن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ" میں محمدہوں اورمیں احمدہوں اورماحی ہوں یعنی میرے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کفرکو مٹائے گا اورمیں حاشرہوں یعنی میرے بعدہی قیامت آجائے گی اورحشربرپاہوگااورمیں عاقب ہوں اورعاقب اس شخص کو کہا جاتاہے جس کے بعداورنبی نہ آئے"۔ ) ترمذی شریف جلد نمبر 2 ص 107
    ( نبی کریم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں حکومت پیغمبر کیا کرتے تھے جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا نبی اس کا خلیفہ ہوتا ۔لیکن یاد رکھو میرے بعد ہر گز کوئی نبی نہیں ہے ۔ہاں عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے ۔(صحیح بخاری شریف)
    مزید معلومات کے لئے ماہنامہ محدث لاہور کے درج ذیل مضامین کا مطالعہ فرمائیں:
     
    Last edited: ‏دسمبر 14، 2017
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں