1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ طائفہ منصورہ

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جون 22، 2014۔

  1. ‏جون 24، 2014 #41
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    ایمان بالقدر کے ثمرات

    ایمان بالقدر کی وجہ سے مومن کماحقہ اللہ پر توکل کرتا ہے۔ وہ اسباب کو رب کے درجہ پر نہیں لاتا اور نہ ہی ان پر بھروسا رکھتا ہے، بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات ہی پر اعتماد و توکل کرتا ہے، کیونکہ ہر شے تقدیر الٰہی ہی کی بنا پر رونما ہوتی ہے۔

    ایمان بالقدرکی بہ دولت صاحب ایمان کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی وجہ سے پہنچنے والی مشکلات و مصائب پر جزع فزع یا حسرت کا اظہار نہیں کرتا۔ وہ نہ تو محبوب و پسندیدہ چیزوں کے کھو جانے سے ناامید ہوتا ہے اور نہ ہی ناپسندیدہ و تکلیف دہ معاملات پیش آنے پر مایوس ہوتا ہے، کہ ان سب کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔ اس کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس مصیبت میں وہ مبتلا ہوگیا، وہ ٹل نہیں سکتی تھی اور جو اس سے ٹل گئی، اس کا وقوع پذیر ہونا مقدر نہ تھا۔
     
  2. ‏جون 24، 2014 #42
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    توحید اور ارکانِ توحید

    توحید یہ ہے کہ عبادت میں اللہ عزوجل کو تنہا و یکتا قرار دیا جائے۔ توحید کے دو رکن ہیں، جن کے بغیر توحید قابلِ قبول ہے، نہ ہی درست۔

    پہلا رکن یہ ہے کہ طاغوت کا انکار کیا جائے،یعنی طاغوت، اس کی عبادت اور اُس کے پجاریوں سے برأ ت اور بے زاری کا اظہار کیا جائے۔اللہ عزوجل کا فرمان ذی شان ہے:

    قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَ‌اهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَ‌آءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ كَفَرْ‌نَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَ‌اهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَ‌نَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن شَيْءٍ ۖ رَّ‌بَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ‌ ﴿٤﴾ (الممتحنہ )
    ’’ تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمھارے ان معبودوں سے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بے زار ہیں۔ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔‘‘

    طاغوت سے مراد ہر وہ شے ہے، جس کی اللہ کے سوا کسی بھی نوع کی عبادت کی جائے اور وہ اس پر راضی ہو۔پس شیطان طاغوت ہے ۔ اسی طرح جادوگر، کاہن، اٹکل سے غیب کی خبریں بتانے والا، اللہ کی نازل کردہ شریعت کے سوا کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلے کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کے بالمقابل قانون سازی کرنے والا بھی طاغوت ہے۔ اللہ رب العزت کی شریعت کے مخالف دساتیرو قوانین بھی طاغوت ہیں اور پروردگارِ عالم کے احکامات کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو مرجع مان کر فیصلہ کرنے والا بھی طاغوت ہے۔ جسے اللہ کے سوا بہ ذاتہ قابل اطاعت یا لائق محبت سمجھا جائے، وہ بھی طاغوت ہے۔

    طاغوت کی تعریف میں رضا مندی کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ ان انبیا ء علیہم السلام اور صالحین کو طاغوت کے حکم و مسمّی سے خارج کیا جاسکے، جن کی اللہ کے سوا عبادت تو کی جاتی ہے، لیکن وہ اسے ناپسند کرتے، اس سے نفرت رکھتے اور اس سے ڈرایاکرتے تھے۔

    توحید کا دوسرا اہم رکن یہ ہے کہ عبادت میں اللہ عزوجل کو یکتا مانا جائے اور اس امر کا اثبات کیا جائے کہ صرف اکیلا اللہ ہی معبود برحق اور اس لائق ہے کہ اس کی پناہ میں آیا جائے۔ شہادتِ ’لاالہ الا اللّٰہ‘کے بھی یہی معنی ہیں، یہ کلمہ نفی اور اثبات ہر دو ارکان کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔
    رب کریم کے درج ذیل فرمان سے بھی یہی مراد ہے:
    فَمَن يَكْفُرْ‌ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّـهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْ‌وَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٢٥٦(البقرہ )
    ’’ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ ( جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

    اس آیت مبارکہ میں ’العروۃ الوثقی‘ یعنی مضبو ط سہارے سے مراد ’لا الٰہ الا اللّٰہ‘ ہے۔

    جو شخص عبادت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تو ہوا لیکن اس نے طاغوت کا انکار کیا اورنہ ہی اس کی عبادت اور اس کے پجاریوں کی نفی کی، تو اس کی توحید ناقص ہے۔ یہ توحید مقبول ہوگی، نہ ہی وہ موحّد کہلانے کا مستحق ہوگا۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے، جو کوئی کام کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کے منافی امر کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔

    اگر پوچھا جائے کہ طاغوت کا انکار کس طرح ممکن ہے؟

    تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایمان باللہ کا اعتقاد ، قول اور عمل پر مبنی ہونا ضروری ہے، اسی طرح طاغوت کا انکار بھی عقیدہ اور قول و عمل سے کرنا لازم ہے، ان میں سے ایک شے دوسری کی جگہ کفائت نہ کرے گی۔

    پس جو شخص دل میں طاغوت کے کفرو بغض کا اعتقاد رکھتا ہے، لیکن پھر زبان سے اس کے حق میں دعا کرتا، اس سے دوستی کی دعوت دیتا، اس کے باطل افکار و نظریات کو مزین کر کے پیش کرتا، اس کے کفر و شرک اور سرکشی پر نہ صرف خاموش رہتابلکہ اس کا دفاع کرتا ہے، تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے طاغوت کا انکار کیا ہے۔

    اسی طرح جو شخص اعتقاد اور قول کے ذریعے تو طاغوت سے کفر کرتا ہے، لیکن عمل سے اس کے ساتھ دوستی کا اظہار کرتا، اس کی خاطر قتال کرتا، اور اس سے مل کر ہر اس شخص سے برسرِپیکار ہوتا ہے، جو طاغوت سے دشمنی رکھتا ہے، اس نے بھی طاغوت کا انکار نہیں کیا، اگرچہ زبان سے ہزار مرتبہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ طاغوت کا انکاری ہے۔ وہ طاغوت کا انکار کرنے والا اسی صورت میں ہوگا، جب اعتقاد، قول اور عمل سے بہ یک وقت اس کی نفی کرے۔

    انکارِ طاغوت کی عدم قدرت:
    یہاں اس امر کی رعائت رکھنا بھی ضروری ہے کہ بعض حالات میں، مثلاً مجبوری (اکراہ)، خوف اور تقیہ وغیرہ کی بنا پر، انسان طاغوت کے انکار سے عاجز بھی ہوسکتا ہے۔

    ہم نصوصِ شریعت اور ائمہ سلف کے اقوال پر عمل کرتے ہوئے، ایسے جہل کو عذر مانتے ہیں جو انسان کو عاجز کر دے اور اس کا دور کرنا ممکن نہ ہو۔ اسی طرح معتبر تاویل بھی ہمارے نزدیک قابلِ عذر ہے۔
     
  3. ‏جون 24، 2014 #43
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    تکفیر ؛ افراط و تفریط کا اصل سبب

    ضابطہ تکفیر:
    ہمارا یہ منہج نہیں ہے کہ تکفیر کے باب میں جلد بازی سے کام لیا جائے یا بغیر تحقیق و تفتیش کے اس کے احکام لاگوکرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا جائے۔ اس لیے کہ ’موحد اور نمازی، افراد کے خون حلال کرلینا، انتہائی پر خطر اور سنگین امر ہے اور ایک ہزار کافر چھوڑنے میں غلطی ہوجانا، اس سے کہیں ہلکا ہے کہ ایک مسلمان کے خون میں سے چند فاسد قطرے بہانے میں غلطی کی جائے۔

    تکفیر کے سلسلہ میں ہم ’کفر نوع‘ یا ’کفریہ عمل‘ اور ’کفر معین‘ میں تفریق کے قائل ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے ملحوظ خاطر رہتی ہے کہ بعض مرتبہ ایک شخص سے کفر صادر ہوتا ہے، لیکن اس پر کفر کا حکم نہیں لگتا، کیونکہ تکفیر کی کوئی شرط مفقود ہوتی ہے یا موانع تکفیر میں سے کوئی مانع موجود ہوتا ہے۔ ہم کسی معین فرد کو کافر کہنے کے قائل نہیں، مگر یہ کہ اس میں تکفیر کی شرائط پوری ہوں اور موانعِ تکفیر زائل ہوں۔

    ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جو شخص یقینی طور پر اسلام میں داخل ہے، اسے محض شک یا ظن و تخمین کی بنا دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جاسکتا، کہ جو شے یقین سے ثابت ہو، وہ شک سے ختم نہیں ہو سکتی۔

    ہمارا اعتقاد ہے کہ تکفیر کے باب میں ہر قسم کے غلو اور انتہا پسندی کی ابتدا کا اصل سبب یہ ہے کہ جہالت و لاعلمی کو بالکل عذر نہ مانا جائے۔ اسی طرح اہل ارجاء اور خوارج کی اصل بنیاد اور ان کے شبہات میں گرفتار ہونے کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ بغیر کسی تفصیل اور ضوابط کے جہالت کو علی الاطلاق عذر قرار دیا جائے۔

    ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں کے افراد میں اصل اسلام ہے۔ وہ مسلمان ہیں، جب تک کہ ان سے اس کے برعکس اور منافی کوئی امر ظاہر نہ ہو۔
     
  4. ‏جون 24، 2014 #44
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    ایمان

    ایمان، عمل، قول اور نیت سے عبارت ہے یعنی دل کے اعتقاد، زبان کے اقرار اور اعضاء کے عمل کا نام ایمان ہے۔

    اعتقادِ قلب سے مراد دل کا قول اور عمل ہے۔ دل کا قول، اس کی معرفت و تصدیق ہے، جبکہ اعمال قلب میں رضا، تسلیم، محبت، انقیاد اور عجز و انکسار وغیرہ شامل ہیں۔

    قول سے قلب و لسان کا قول مراد ہے۔

    عمل سے دل اور اعضاء کا عمل مراد ہے۔

    تصدیق قلب و زبان سے بھی ہوتی ہے اور اعضاءو جوارح سے بھی۔
     
  5. ‏جون 24، 2014 #45
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    ایمان میں کمی بیشی کا مسئلہ

    ہم ایمان سے متعلق وہی کہتے ہیں، جس کے سلف صالحین قائل تھے اور نصوصِ شریعت جس پر دلالت کناں ہیں اور وہ یہ ہے کہ :

    ایمان اعتقاد، قول او ر عمل سے عبارت ہے۔ یہ طاعات سے بڑھتا اور گناہوں اور معاصی سے کم ہو جاتا ہے۔

    ایما ن کی متعدد شاخیں ہیں، جیسا کہ پیغمبر صادق و مصدوقﷺ نے خبر دی ہے۔ سب سے اعلیٰ شاخ ’لاالٰہ الا اللہ‘ ہے اور ادنیٰ ترین شاخ یہ ہے کہ راستے میں موجود تکلیف دہ اشیا کو ہٹا دیا جائے۔ اسی طرح ایمان کی بہت سی کڑیاں ہیں، جن میں سب سے مضبوط کڑی یہ ہے کہ محبت و نفرت کا معیاراللہ تعالیٰ کی ذات گرامی کو بنایا جائے۔ محض اللہ کی خاطر دوستی کی جائے اور اسی کے لیے کسی سے دشمنی کا اظہار کیا جائے۔
     
  6. ‏جون 24، 2014 #46
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اصل ایمان

    ایمان کی بعض شاخیں اصل ایمان کی حیثیت رکھتی ہیں یعنی عمل کی بعض صورتیں صحتِ ایمان کے لئے شرط ہیں، جن کے زوال سے، ایمان ہی کا خاتمہ ہوجاتا ہے، مثلاً، عقیدہ توحید یعنی ’لاالٰہ الا اللہ‘ کی گواہی اور نماز وغیرہ ، جن سے متعلق شارع نے تصریح کر رکھی ہے کہ ان کے ترک سے ایمان زائل ہوجاتا ہے۔

    نصوص شریعت میں نفیِ ایمان کا تعلق اگر ’اصل ایمان‘ سے ہو، تو ایسا شخص کافر ہوگا،
    مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء65:4)
    ’’نہیں، اے محمد ﷺ، تمھارے رب کی قسم! یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔‘‘

    جو شخص نواقض ِایمان میں سے کسی ناقض کے ارتکاب سے اپنے ایمان کی عمارت کو منہدم کر ڈالے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اِس صورت میں اگر اس کے پاس ایمان کے دیگر شعبے موجود بھی ہوں، تو وہ اس کے لیے مفید ثابت نہ ہوں گے۔
     
  7. ‏جون 24، 2014 #47
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    واجباتِ ایمان

    ایمان کی بعض شاخیں، واجباتِ ایمان کے درجہ پر ہیں۔ ان کے ختم ہونے سے ایمان واجب میں نقص پیدا ہو جاتا ہے، مثلاً: یہ کہ مومن کا پڑوسی اس کی زیادتی سے محفوظ رہے اور اسی طرح کے بعض امور، جن کا تارک، گنہگار شمار ہوتا ہے۔ محرمات، مثلاً: زنا، شراب نوشی اور چوری وغیرہ کا ارتکاب بھی اسی قبیل سے ہے۔ ان جرائم کا مرتکب کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے اصل ایمان کا خاتمہ ہوتا ہے، بلکہ محض اس کے ایمان واجب میں کمی ہوجاتی ہے، پس وہ ناقص مومن ہے اور کامل اہل ایمان میں اس کاشمار نہیں ہوتا۔
    جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
    لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ لَّا یَأْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ. (مسلم:99)
    ’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کا ہمسایہ اس کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ نہیں۔‘‘

    یا آپ ﷺ کا فرمان ہے:
    لا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ. (بخاری:2343؛ مسلم:86؛ ابوداوٗد:4069)
    ’’زانی، جب زنا کررہا ہوتا ہے، تو وہ مومن نہیں ہوتا۔‘‘

    یا یہ ارشاد نبوی ہے:
    لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہٖ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ. (بخاری:13)
    ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا، تاآنکہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی شے پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘

    یہ تفصیل اس بنا پر ہے کہ ایمان کی نفی، ’وعید‘ سے متعلق ہے اور وعید اس شخص کے حق میں ہوتی ہے، جو کسی فعل حرام کا مرتکب ہو یا کسی واجب کو ترک کرے، لہٰذا اس کا تعلق اصل ایمان سے ہوتاہے یا پھر ایمان واجب سے۔

    رہا یہ سوال کہ ان دونوں امور میں تفریق کیونکر ہوگی؟ یعنی یہ امتیاز کیسے ہوگا کہ یہ نفی کفر پر دلالت کناں ہے، جو اصل ایمان کے لیے باعث ِخاتمہ ہے یا اس کا تعلق فسق سے ہے، جس سے محض ایمان واجب میں نقص آتا ہے؟ تو اس کا فیصلہ قرائن کی بنیاد پر ہوگا، جو کبھی تو اسی نص سے معلوم ہو جاتے ہیں اور گاہے دیگر شرعی نصوص سے واضح ہوتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص، ایمان واجب میں کوتاہی کا مرتکب ہوا، تو اس کا معاملہ اللہ کی مشیت کے سپرد ہے۔ وہ چاہے تو اپنے فضل کی بنا پر ان سے بخشش و مغفرت کا سلوک کرے،
    جیسا کہ اس نے فرمایا:
    وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ۰ۚ (النساء48:4)
    ’’اور وہ اس (شرک) کے سوا جو کچھ ہے، اس کو جس کے لیے چاہے گا، بخش دے گا۔‘‘

    اور اگر چاہے تو اپنے عدل و انصاف کی رو سے انھیں عذاب دے، پھر یہ لوگ جہنم سے آزاد کردیے جائیں گے، جس کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، مثلاً: اللہ اپنی رحمت سے انھیں آتش دوزخ سے نکال لے، یا رسول اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوجائے، جو آپ ﷺ نے اپنی امت کے لیے ذخیرہ کررکھی ہے، یا نیک لوگوں میں سے کسی ایسے شخص کی شفاعت بھی کام آسکتی ہے، جسےاللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل ہو۔

    ہم انتہائی فاسق مسلمان سے بھی اسلام کی بالکلیہ نفی نہیں کرتے، جیسا کہ خوارج کا موقف ہے اور نہ ہی اسے ابدی دوزخی قرار دیتے ہیں، جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں۔ ہم ایسے شخص سے نہ تو مطلق طور پر ایمان کی نفی کرتے ہیں اور نہ ہی اسے ایمانِ مطلق یعنی کامل ایمان سے موصوف کرتے ہیں۔ ہم اسے ناقص الایمان مومن کہتے ہیں یا یہ کہ وہ اپنے ایمان کی بنا پر مومن ہے اور اپنے کبیرہ گناہوں کی وجہ سے فاسق کہلائے جانے کا مستحق ہے۔

    ہم وعید الٰہی کے باب میں نہ مرجئہ کی جانب مائل ہیں اور نہ خوارج کی طرف، جیسا کہ اسمائے ایمان و دین کے معاملے میں ہمارا میلان نہ تو حروریہ و معتزلہ کی جانب ہے اور نہ ہی مرجئہ وجہمیہ کی طرف۔
     
  8. ‏جون 24، 2014 #48
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    کمالِ ایمان

    ایمان کی بعض شاخوں کا تعلق، ایمان مستحب کے درجہ کمال سے ہے، مثلاً اذیت رساں چیزوں کو راستے سے ہٹانا لوگوں سے حسن سلوک اور احسان کرناوغیرہ۔ یہ امور، ایمان مستحب کے مُکْمِلات ہیں، چنانچہ ان میں کوتاہی برتنے والا گنہگار نہ ہوگا۔
     
  9. ‏جون 24، 2014 #49
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    نماز کی اقتدا

    ہم ہر نیک و صالح اور فاجر و گنہگار کے پیچھے نماز درست سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایسے امام کی اقتدا میں بھی نماز صحیح ہے، جو مستور الحال ہو، یعنی جس کا حال مخفی اور نامعلوم ہو، جب تک ہم اسے کفرِ بواح کا مرتکب نہ پائیں۔ اس کے پیچھے نماز ادا کرنے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ اس کے عقیدہ یا اعمال کی معرفت حاصل کرنے کی خاطر بہت زیادہ غوروفکر یا تحقیق و جستجو کی جائے۔

    یہ خواہش پرستوں اور اہلِ تکلف کا شیوہ ہے، نیز یہ اس طرزِ عمل کے بھی برخلاف ہے سنت جس پر دلالت کرتی اور علمائے امت کاجس پر اجماع ہے۔
     
  10. ‏جون 24، 2014 #50
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,767
    موصول شکریہ جات:
    6,558
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    حجت میثاق و فطرت

    ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمu اور ان کی ذریت سے جو میثاق لیا تھا، وہ برحق ہے، نیز یہ کہ اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو ’حُنَفَا‘ (موحد اور یکسو) پیدا کیا، پھر شیاطین جن و انس نے اپنے جال میں پھنسا کر انھیں، ان کے دین سے گمراہ کردیا اور ان کے لیے وہ طریقے وضع کیے، جن کا اللہ نے اذن نہیں دیا۔ ہمارا اس پر بھی ایمان ہے کہ ہر مولود، فطرت پر جنم لیتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی، مجوسی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔

    اسی وجہ سے ہمارا اعتقاد ہے کہ ہر وہ شخص کافر ہے، جو دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین و مذہب اپناتا ہے، خواہ اسے پیام رسالت پہنچا ہو یا نہ پہنچا ہو۔ جسے پیغام پہنچ گیا، وہ ’کافر معاند‘، یا ’کافر معارض‘ ہے اور جسے نہیں پہنچا، وہ ’کافرِ جاہل‘ ہے۔ جس طرح ایمان کے مختلف درجات ہیں، ایسے ہی کفر بھی متنوع مراتب کا حامل ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں